اولاد ایک نعمت ہے اور نیک اولاد والدین کی نیک نامی کا باعث ہوتی ہے۔بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی والدین اس کے مستقبل کے سہانے سپنے بننا شروع کر دیتے ہیں، اور انہی سہانے سپنوں کو بنیاد بنا کر والدین اس کی ہر ممکن طریقے سے بہتر پرورش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بچے کو معاشرے میں رہنے کا ڈھنگ سکھاتے ہیں لیکن جب وہ نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو گدھ نمامنشیات فروشوں نے چند سکوں کے عوض مستقبل کے ان معماروں کو اپنی جانب راغب کر نے کیلیے مختلف جال بچھا رکھے ہیں۔ضلع رام بن کے علاقہ گول کا حال بھی ملک کے دیگر شہروں سے کچھ مختلف نہیں بلکہ ابتر ہے۔ مقامی لوگوں کی نوجوان نسل کے تئیں غیر سنجیدگی اور پھر بدقسمتی یہ کہ مقامی لوگوں کا ہی منشایات فروشی کے اس خوفناک دھندے کا اہم حصہ ہونا علاقہ کی نوجوان نسل کے لیے تباہ کن مستقبل کا باعث بنا ہواہے۔ موت کے سوداگروں سے زہر خر یدنے والے نشہ کے عادی بن چکے نوجوان اک اک کر کے تباہ ہو رہے ہیں اور ایک ایک کر کے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں لیکن رہنمائے قوم ابھی بھی خاموشی کا روزہ توڑنا گوارہ نہیں کرتے ہیں۔ قابل ِ رحم ہے علاقہ گول کی نوجوان نسل کہ جن کی فکر پولیس تو کچھ قدرے کر رہی ہیں لیکن والدین اور رہنمائے قوم قطعی طور اس صورتحال کو لیکر سنجیدہ نہیں۔ فلاحی، سماجی وسیاسی تنظیمیںغفلت کی نیندنہ جانے کہاں سوئی ہوئی ہیں یوں تو علاقہ کو تعمیر و ترقی طورآگے لے جانے کی دعویدار فلاحی و سیاسی تنظیموں کا جنون آئے روز اخبارات ،چینلز اور سوشل میڈیاکی زینت بناہواہے لیکن بحیثیت عزیز میں گول کی تمام سیاسی، سماجی و فلاحی تنظیموں کو کہہ دینا چاہوں گا،کوئی بھی سماج تب تک ترقی نہیں کر سکتا۔ جب تک اُن کا مستقبل (نوجوان) ہر بری لت سے محفوظ نہ ہو، اگر اس تباہ کن صورتحال میں آج تک سیاسی، سماجی و فلاحی تنظیموں کا کوئی کردار نہیں رہا ہے تو پھر کیونکر ہم اپنے نوجوانوں کو فلاسفر،ڈاکٹر، انجینئر، قانون دان اور استاد کی صورت میں دیکھنے کی اُمید لگائے بیٹھے ہیں۔
میرے بزرگو،صاحبواور ساتھیو! ایسی صورتحال کے ہوتے ہوئے بہتر اور صحتمند معاشرے کی اُمید لگائے رکھنا ہماری ذہنی پسماندگی اور دیوالیہ پن کا وہ گناہ ہے جسے آنے والے وقت میں ہم خود کو بھی معاف نہیں کر سکتے۔ہمارے سماج کے خوفناک اور تباہ کن مستقل کی مثال اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ جب جب بھی ہمارے سماج میں گدھ نمامنشیات فروشوں پر پولیس نے اپناشکنجہ کسا تب تب ہمارے میں سماج کے ذمہ دارلوگ منشیات فروشوں کوپولیس کے شکنجے سے باہر نکلالنے کا کام بڑے فخرانجام دیتے ہیں۔ ایسے افراد بھی قصوروار ہیں جو منشایات فروشوں کو بچانے کا کام کر کے نسل ِ نو کیلیے تباہی کا پیغام لاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب پولیس منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے قابل ستائش اقدام اٹھا رہی ہے وہیں مقامی لوگوں کوپولیس کابھر پور تعاون فراہم کرنا چاہیے۔بجائے اس کی بڑے پیمانے پر اپروچ لڑا کر موت کے سوداگروں کو بچانے کا کام انتہائی مایوس کن، تباہ کن اور شرمناک ہے۔
پولیس کی جانب سے منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون گول کی نوجوان نسل کو نشہ کی لت سے آزاد کرنے کا اہم موقعہ فراہم ہوا ہے۔ اس لیے تمام سیاسی، سماجی و فلاحی تنظیموں کو آگے آکر پولیس کی اس نشہ مخالف مہم کو آگے بڑھانے میں زمینی سطح پر کام کرنا چاہیے۔تعمیر و ترقی اور باشعورسماج کے اُن دعوئوں کو حقیقت کا روپ دینا وقت کا تقاضا ہے۔ایسے میں صحافی حضرات،شعرأ، ادیبوں اورقلمکاروں کو بھی اپنا کردارنبھانا ہوگا۔ صحتمند اور با شعور سماج کی تکمیل کیلیے سماج کے ہر فرد کا بہتر کردار اشد ضروی ہے۔معذرت کے ساتھ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ علاقہ بھر میں نوجوان نسل کو موت کی آغوش میں دھکیلنے والے ہم خود ہیں۔ موت کے سوداگروں کے خلاف پولیس کی کارروائیوں میں روڑے اٹکانے میں بھی ہمارا ہی ہاتھ ہے اور یہی ہماری تباہی کا باعث بنا ہوا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ متعدد تعلیمی اداروں خصوصا ًسر کاری اداروں میں منشیات فروش اپنانیٹ ورک قائم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ کہیں برائے نام ٹھیکیدار تو کہیں ذمہ دار کسی نہ کسی طرح اس مکروہ دھندے کا حصہ بنے ہوئے ہیں سکولوں اور کالجوں کے باہر موت کے سودا گر شکار کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنے اس ناپاک اور مکروہ دھندے کا نیٹ ورک بڑھانے کے لیے مستقبل کے ان نو نہالوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ انتہائی افسوسناک بات تو یہ ہے کہ منشیات کے اس مکروہ کارو بار میں خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
ہر روز گول سب ڈویژن میں کوئی نہ کوئی منشیات فروش پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوتا ہے ،یہاں تک کہ اِس نیٹ ورک کو پھیلانے میں ہماری خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔یاد رکھئے یہی ہمارے سماج کے کھوکھلے پن کا اک زندہ ثبوت ہے۔ صنف ِ نازک کا منشیات فروشی کے اس دھندے میں ملو ث ہوناہمارے سماج کے لیے باعث ِ شرمندگی ہے، باشعور سماج کے دعوے کرنے سے قبل ہمیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔ جس علاقہ کی خواتین نشہ کو فروغ دینے کا اہم حصہ ہوں وہاں کی ننھی پود کے روشن مستقبل کی کوئی اُمید کرنا محض دیوانگی ہوسکتی ہے۔ جس سماج کی مائیں اوربیٹیاںتک منشیات فروشی میں ملوث پائی جائیں وہ سماج کس قدر بہتری کی راہ پر گامزن ہوگا اِس کی حقیقت سے سماج کا ہر فرد آشنا ہے ،موجودہ صورتحال ہمارے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔
منشیات فروشوں کے گروہ کو بے نقاب کرنے پر یہا ں جس قدر نیک نیتی سے پولیس کے اس اقدام کی کھل کر تعریف کرنے میں کوئی کنجوسی نہیں کرنی چاہیے لیکن یہ اِس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر اس منشیات کو علاقےکیسے پہنچایا جاتا ہے ؟کہیں کسی کو کسی کی پشت پناہی حاصل تو نہیں ، سماج میں رہ رہی جن کالی بھیڑوں کی پشت پناہی منشیات فروشوں کو حاصل ہے اُس کو بے نقاب کرناوقت کا تقاضا ہے ۔ اس لئے پولیس کی نشہ مخالف مہم کو آگے بڑھانے کے لیے سماج کا ہر فرد اپنا مثبت کردار نبھائے تاکہ مستقبل میں نشہ مکت گول کی تکمیل ممکن ہو سکےاورعلاقہ بدنامی سے بچ پائےـ۔
Cell:7780918848/9797110175