کپوارہ+شوپیان +بارہمولہ// ہندوارہ میں مندر کی حفاظت پر مامورایک پولیس اہلکار نے اپنے ساتھی پر رات کے دوران مندر میں گھسنے کی کوشش میںجنگجو سمجھ کر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور بعد میں اسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔ادھر شوپیان کے ایک مضافاتی گائوں میں مشتبہ جنگجوئوں نے نوجوان دکاندار پر اسکے گھر میں گھس کر گولیاں چلائیں جس سے وہ شدید زخمی ہوا جبکہ بارہمولہ میں فوجی اہلکار نے ایک آٹو ڈرائیور پر گولی چلائی۔ہندوارہ واقعہ سے متعلق معلوم ہوا کہ پولیس اہلکار اجے دھر ولد مرحوم کرشن لال دھر ساکن لنگیٹ پولیس تھانہ ہندوارہ میں تعینات ہے اور وہ منگل کوچھوٹی پورہ کے مقام پر دن میں ناکہ ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد مذکورہ پولیس جوان رات کے قریب ایک بجے پولیس سٹیشن سے قریب 300میٹر دور مندر میں چلا گیا۔اجے دھر نے کانوں میں ہیڈ فون لگا رکھے تھے اور وہ مندر میں گھسنے کی کوشش کرنے لگا۔اس موقعہ پر یہاں تعینات ایس پی او نے اسے آواز دی لیکن وہ نہیں سن سکا جس کے بعد ایس پی او نے ہوا میں تین فائر بھی کئے۔ اس موقعہ پر پولیس کانسٹیبل کو لگا کہ اس پر شاید حملہ کیا گیا اور وہ بھاگنے لگا، جسے مندر کی حفاظت پر مامور ایس پی او نے جنگجو سمجھا اور اسے گولی مار دی۔ وہ شدید طور زخمی ہو گیا اور اسے فوری طور پرضلع اسپتال ہندوارہ میں دا خل کیا گیا تاہم ڈاکٹرو ں نے انہیں نازک حالت میں صوہ میڈیکل انسٹی چوٹ منتقل کیا جہا ں وہ بدھ کی صبح زخمو ں کی تاب نالاکر دم تو ڑ بیٹھا ۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی ہے ۔ ڈی آئی جی شمالی کشمیر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پولیس اہلکار نے مندر میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی جس کے بعد سنتری نے انہیں گولی مار دی اور یہ حادثہ پیش آ یا ۔معلوم ہوا ہے کہ تھانے کے منشی کو ڈی آئی جی آفس بارہمولہ طلب کرلیا گیا ہے تاکہ اجے دھر کی رات کے دوران مندر میں جانے کی وجہ دریافت کی جاسکے۔دریں اثناء ڈانگر پورہ چتراگام کلاں شوپیان میں مشتبہ جنگجوئوں نے ایک ریڈی میڈ دکاندار22سالہ ضمیر احمد لون ولد عبدالحمید لون کو اسکے گھر سے باہر بلایا اور اسے گولیوں کا نشانہ بنایا۔ گولیاں اسکی ٹانگ کو جالگی ہیں اور اسے پہلے زینہ پورہ سب ڈسٹرکٹ اسپتال اور بعد میں اننت ناگ میڈیکل کالج منتقل کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکا والد پولیس محکمہ میں کام کررہا ہے۔ادھرشمالی قصبہ بارہمولہ کے آزاد گنج علاقے میں بدھ کو اس وقت افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جب فوجی اہلکار کی مبینہ فائرنگ میں ایک نوجوان آٹو ڈرئیور زخمی ہوگیا۔واقعہ کے بعد یہاں دکانیں بند ہوئیں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر آئی اور احتجاج کیا۔مقامی لوگوں کے مطابق آٹو ڈرائیور محسن منظور سالے ولد منظور احمد سالے ساکن اقبال کالونی آزاد گنج بارہمولہ کو ڈیوٹی پر تعینات ایک فوجی اہلکار نے ٹانگوں میں گولیاں چلائیں۔ اس کو زخمی حالت میں جی ایم سی بارہمولہ پہنچایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق فوجی اہلکار کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں آٹو ڈرائیور زخمی ہوا ۔جس کے بعد فوری بعد علاقے میں احتجاجی مظاہرئے بھی ہوئے لیکن پولیس کے اعلیٰ حکام کی مداخلت کے بعد مظاہرین پر امن طورپر منتشر ہوئے۔ ادھر مذکورہ آٹو ڈرئیور کے رشتہ داروں نے بتایا کہ محسن کو کچھ ماہ قبل مذکورہ فوجی اہلکار کے ساتھ کچھ توتو میں میں ہوئی تھی جس کی بنا پر انہوں نے محسن پر گولیاں چلائیں۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی بارہمولہ رئیس محمد بٹ نے بتایا کہ آزاد گنج میں نوجوان کے ٹانگوں میں گولی لگی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ فائرنگ کا واقع کیسے اور کن حالات میں وقوع پذیر ہوا اس کی تحقیقات شروع کی گئی ہے۔
فوج کا بیان
آزاد گنج چوک بارہمولہ میں فوجی اہلکار سے ہتھیار چھیننے کے واقعہ کے دوران محسن منظور زخمی ہوا۔ بیان میں کہا گیا ہے ’’ محسن منظور ہمیشہ غلط راستے پر چلتا رہا ہے اور اسکی لمبی کہانی ہے،اس نے دو ماہ قبل بھی اسی طرح کا واقعہ دہرایا،جسکی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے،فوج نے اسیی کونسلنگ کی تھی اور اسکے اہل خانہ کو سمجھایا تھا‘‘۔بیان کے مطابق’’ مذکورہ نوجوان کا 2012اور 2014میں پتھرائو کرنے کاپولیس ریکارڈ بھی ہے،وہ 21اگست 2019کو لاپتہ ہوا تھا جسے کرالہ ہار کے مقام پر چیکنگ کے دوران 5اکتوبر کو گرفتار کیا تھا اور اسے 22جون 2020کو رہا کیا گیا تھا‘‘۔پولیس نے اس ضمن میں کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی ہے۔