عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//راجوری کے ہائر سیکنڈری اسکول ککوڑہ میں ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے نے تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ چیف ایجوکیشن آفیسر (سی ای او) راجوری نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ استاد کو معطل کر دیا ہے۔سرکاری حکم نامے کے مطابق، ہائر سیکنڈری اسکول ککوڑا کے پرنسپل نے استاد اعجاز احمد کے خلاف سنگین الزامات کی اطلاع دی تھی، جس پر سی ای او نے فوری کارروائی کرتے ہوئے معطلی کا حکم جاری کیا۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ الزامات نہ صرف سرکاری ملازم کے وقار اور کردار پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ ادارے کے ماحول اور طلبہ کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔سی ای او راجوری نے کہا کہ معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ہے اور تحقیقات کے دوران شفافیت برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ استاد کو اسکول سے دور رکھا جائے تاکہ وہ گواہوں پر اثرانداز نہ ہو سکے یا ثبوتوں میں ردوبدل نہ کرے۔ اسی بنا پر انہیں فوری طور پر معطل کرتے ہوئے زونل ایجوکیشن آفیسر خواص کے دفتر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔حکم نامے کے مطابق معطلی کی مدت کے دوران اعجاز احمد کو قواعد کے مطابق صرف سبسسٹنس الاؤنس دیا جائے گا۔ سی ای او نے مزید کہا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ، منصفانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں گی تاکہ نہ صرف ادارے کی ساکھ محفوظ رہے بلکہ طلبہ کے اعتماد کو بھی بحال کیا جا سکے۔اس واقعے نے علاقے میں والدین اور طلبہ کے درمیان بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے بچوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں، لہٰذا اس طرح کے واقعات برداشت نہیں کئے جا سکتے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔ادھر تعلیمی و سماجی تنظیموں نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف ادارے بلکہ پورے محکمہ تعلیم کی شبیہ متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی مثال قائم کی جانی چاہیے جس سے آئندہ کسی کو بھی اس طرح کے عمل کی جرات نہ ہو۔سرکاری سطح پر یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں ہوں گی اور قصوروار ثابت ہونے والے کے خلاف محکمانہ کارروائی سے ہٹ کر قانونی چارہ جوئی بھی کی جائے گی۔