ملہ کھاہ کا شہر خموشاں

شہر  سرینگر کے شمال اور کوہ ماراں کے دامن میں کئی مربع کلو میٹر پر پھیلا جو قبرستان ہے اسے 'ملہ کھاہ کہتے ہیں۔ 'ملہ کشمیری میں ملا یعنی عالم کو بھی کہتے ہیں اور 'ملہ قبریں کھودنے کے پیشہ سے منسلک لوگوں کو بھی کہتے ہیں۔ 'کھاہ کشمیری میں وہ گڑھا کہلاتا ہے جو قلعہ یا شہر پناہ خواہ باغ کے گردا گرد کھود ا کرتے۔ یہ جگہ قلعہ ہاری پربت کے دامن میں ہے اور یہاں قبرستان سے پہلے انگور کے باغات ہواکر تےتھے۔ 'کوہِ ماراں کی پہاڑی پر سانپوں کی کثرت تھی، اس لئے اس کا نام کوہِ ماراں پڑگیا۔یوں تو یہ 'ملہ کھاہ محض ایک قبرستان ہے جہاں آج تک لاکھوں لوگوں کو دفنایا جاچکا ہے۔ دور دور تک یہاں صرف پتھر کے کتبے  اور قبریں حد نگاہ تک آتی ہیں، مگر انسان کچھ دیر بیٹھ کر یہاں کوئی ان قبروں کے نیچے لوگوں اور عالم برزخ زندگیوں پر غور وفکر کرے تو یہ دنیا لطف کی چیز نہیں رہتی۔ اگر ایک انسان اس 'تماشےکا صحیح الفہم جائزہ لے تو اپنی زندگی کا سرمایہ دنیوی داؤ پر لگانا بے وقوفی معلوم ہوگی کہ دنیا سے ہی کراہت پیدا ہونے لگے۔ اسلام کا پیغام ِحق اور پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حزر جان بنانا بھلا لگتا ہے۔
یہ جو بے شمار قبریں ملہ کھاہ کے اس وسیع وعریض میدان میں پھیلی ہیں، یہ محض میتیں دفنانے کی کہانی نہیں بلکہ ان مُردوں کے ساتھ کروڑ کہانیوں کی لا متناہی داستان سرائی کرتی ہے۔ یہاں منوں مٹی نیچے وہ رئیس الروسا بھی خاک ہوگئے ہیں جن کا غرور سر کبھی دنیا میں جھکا ہی نہیں تھا۔ اس میدان کے چاروں اطراف گلی سڑی اور بوسیدہ ہڈیاں ان نازنینوں کی بھی یاد دلاتی ہیں جن کو اپنے بدن کا ناز مستی کے جھولے میں جھلاتا رہتا تھا۔ ایک ایک قبر کے نیچے ہزاروں ہزاروں کہانیاں مدفون ہیں۔ اَن گنت قبروں کے نشانات مٹ بھی چکے ہیں اور میتوں کی مٹی قبرستان کی مٹی سے مل کر میدان ہموار کرگئی ہے۔ نہ جانے کتنے سکندر اور کتنے گورنر یہاں کی مٹی میں مل چکے ہیں کہ اب کسی کو ان کا نام بھی یاد نہیں ! یہ قبرستان پکار رہا ہے کہ اے دنیا کی عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے غافلو!دولت کے انبار جمع کرنے کے جنون میں گرفتار حریص انسانو! اپنے حسن پر نازاں دیوانو!اس شہر خموشاں میں آکر تو دیکھو کہ یہ زندگی اُجڑ جانے کی چیز ہے اور جب اُجڑتی ہے تو پھر کوئی طاقت، کوئی سرمایہ اور کوئی قوت ایسی نہیں جو اسے دوبارہ آباد کرسکے۔
 اس مٹی میں آج تک لاکھوں میتوں کو سپرد کیا گیا ہے ۔ یہ قبرستان ان ہزاروں خاصان ِ خدا کی بھی آرام گاہ ہے جن میں کچھ کو تو ہم جانتے ہیں، کچھ کے نام ماضی کی آغوش میں پوشیدہ ہوگئے، کچھ نے اپنی گم نامی کے لئے مولیٰ سے دعا مانگی تھی، کچھ ہماری یاداشت کی تختی سے ہی اُتر گئے۔ جب دنیا پرستی اور جاہ کے جنون میں دل کالے ہوگئے تو نتیجے میں عقلیں بھی میلی ہوگئیں اور ان سے پاکیزہ لوگوں کا احترام بھی اترتا گیا۔ انسان باؤلا ہوگیا اور اس نے قبرستانوں کی زمینوں کو بھی ہڑپنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ جس مٹی میں وہ خود اپنے ہاتھوں اسلاف کو دباتا رہا، اس کو اپنے جسم کا بھی آخری پڑاو سمجھنے سے غافل رہا اور اپنی موت کو بھلا بیٹھا۔ اس اعتبار سے اس قبرستان میں ایسی عبرتیں بھی دفن ہیں جنہوں نے اپنے پیچھے اس دنیا میں بے ایمانیوں کی ہی کہانیاں چھوڑیں اور اب 'عالم برزخ میں ا س کا خمیازہ بھگت رہے ہوں گے۔بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ لینڈ مافیا نے صرف ڈل پر ہی ناجائز قبضہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے 'ملہ کھاہ کے ایک وسیع رقبے پر بھی ہاتھ ڈالا اور ہڑپ کرڈالا۔ ڈل کے رقبے پر بڑے بڑے ہوٹل اور محل تعمیر ہوئے جب کہ 'ملہ کھاہ کی ہڑپ کی گئیں زمینوں پر بڑی بڑی عمارتیں اور مکانات بنتے گئے۔ تُف ان لوگوں پر جنہوں نے مقبرے ناجائز قبضہ کرکے جائے تدفین بھی نہیں چھوڑیں۔ ان میں جو مرگئے، ان کا حال خدا ہی جانے اور جو زندہ ہیں، خدا اُنہیں توبہ اور کفارے کی تو فیق نصیب عطا فرمائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ :اگر آدم زادے کے لیےایک وادی سونے سے بھری ہوئی موجود ہو تو یہ چاہے گا کہ ایسی دو وادیاں ہو جائیں اور اس کے منہ کو تو مٹی کے سوا کوئی چیز بھر نہیں سکتی۔ ہمارے یہاں تو ایسے لوگ بھی پیدا ہوچکے ہیں جن کی لالچ کا منہ تو مٹی بھی نہیں بھر سکی بلکہ وہ قبرستانوں کی مٹی کو بھی ہضم کرگئے۔ شاید آگ ہی ان کے منہ بھر سکے۔
میرے کانوں تک اکثر یہ خبریں پہنچتی رہتی ہیں کہ کوئی دہائی دے رہا ہے کہ ملہ کھاہ میں ہمارا قبرستان ہی ہڑپ کرلیا گیا ہے، کسی کا الزام ہے کہ ہمارے قبرستان کے نصف سے زیادہ حصے پر ناجائز قبضہ ہوا ہے، کوئی چلًا رہا ہے کہ ہمیں اپنے آبائی قبرستان کا نام نشان بھی نہیں مل رہا ہے، اس کے کتبے تک اڑالئے گئے ہیں، کوئی واویلا کررہا ہے کہ ہمارے قبرستان کا جو تھوڑا سا حصہ باقی رہنے دیا گیا تھا ، اس میں بھی  انجانے لوگوں کی قبریں بنی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ لگتا نہیں کہ ملہ کھاہ میں کسی کا آبائی قبرستان صحیح سالم بچا ہے، کچھ کچھ کا تو بالکل ہی بچا نہیں ہے ۔ اس کے ذمہ دار تو وہ لوگ ہیں ہی جو اس رقبے کو ناجائز طور ہڑپ کرتے رہے۔ اس ضمن میں ہم خود بھی کم قصوروار نہیں ہیں بلکہ تقریباً برابر کے ہی قصور وار ہیں۔ ہم نے اگر باپ دادا کو بھی دفنادیا یا ماں اور نانی کو بھی سپرد خاک کیا، پھر یہ بھول ہی گئے کہ ایک دن ہمیں بھی اسی مٹی کے نیچے جانا ہے۔ ہم اپنی موت کو تو بھول بیٹھے ، حد یہ کہ اپنوں کو مٹی کے حوالے کرنے کے ساتھ ہی اُنہیں بھی بھلا بیٹھتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی یہ عادت بنالی ہوتی کہ ہفتے میں ایک دن نہ سہی مگر مہینے میں کم از کم ایک بار لازماً اپنے آبائی قبرستان جاتے اور اپنے خاندان کے جو لوگ واصل بہ حق ہوئے ہیں ، ان پر فاتحہ پڑھتے، تواس طرح نہ صرف ہمارے آبائی قبرستان بچ گئے ہوتے بلکہ ایصال ثواب سے  اپنی اموات کی روحوں کو بھی راحت پہنچاتے رہتے ۔ اس کے علاوہ ایسے معمولات سے ہمیں ان رشتہ داروں سے ملاقات کا بھی موقع ملتا رہتا ،جن سے ہمارا تعلق صرف شادیوں کی تقریبات اور تعزیتی مجالس تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔یوں قربتیں بھی بڑھ جاتیں اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر بھی عمل کی توفیق ملتی۔ 
کچھ برس پہلے حریت کانفرنس نے بھی ملہ کھاہ کی زبوں حالی پر تشویش اور غم وغصہ کا اظہار کیا تھا۔ حریت کانفرنس نے کہا تھا کہ کشمیر کا یہ سب سے بڑا قبرستان 'وقف بورڈ کے کنٹرول میں ہے مگر یہ بورڈ اس قبرستان کے تحفظ ،رکھوالی اور صحیح طور سنبھالنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے کہ اس قبرستان کے بڑے رقبے پر ناجائز قبضہ جمالیا گیا ہے اور یہ جگہ قماربازوں، منشیات کےعادی لوگوں اور شرابیوں کی بھی محفوظ آماج گاہ بن گئی ہے، جس سے اس قبرستان کا تقدس پامال ہورہا ہے۔افسوس یہ کہ اس متحدہ پلیٹ فارم کی تشویش کا بھی بورڈ نے خاطر خواہ نوٹس نہ لیا بلکہ بورڈ کے ذمہ دار اس طرف برابر تغافل برتتے ہوئے معنی خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جب کہ اس قبرستان سے منسلک لوگ دنیوی مشاغل میں اتنے ڈوب ہوئے ہیں کہ وہ اپنی آخری آرام گاہ کے استحصال اور لوٹ پر بھی فکر مند نہیں۔ ہاری پربت کے جنوب میں واقع ہے اس وسیع وعریض رقبے پر انگور کے باغات تھے۔ جب حضرت شیخ میر سید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ کے دست ِاقدس پر کشمیر کی تقریبا ًساری آبادی نے اسلام قبول کرلیا تو مسئلہ ان کی تدفین کا پیش آیا کیونکہ اسلام لانے سے پہلے یہ لوگ پنڈت تھے اور میتوں کو جلاتے تھے، جیسے عام ہندوؤں کی آخری رسم ہے۔ چنانچہ حضرت امیرکبیر ؒ نے اپنے پیسوں سے یہ باغات خریدے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان کے لئے وقف کردیا۔ تاہم کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ رقبہ سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ،ؒ جنہیں عرف عام میں مخدوم صاحب کہتے ہیں، کے شیخ حضرت شیخ بابا اسماعیل کبروی رحمتہ اللہ علیہ کی ملکیت تھا اور انہوں نے وصیت کی تھی کہ میری وفات کے بعد اس رقبے کو مسلمانوں کے قبرستان کے لئے وقف کیا جائے۔ ان لوگوں کے مطابق اس سے پہلے لوگوں کو زبرون پہاڑی، جسے سلیمان ٹینگ بھی کہتے ہیں، کے دامن میں دفنایا جاتا تھا۔ شیخ بابا اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ کا مقبرہ بھی ہاری پربت کے ڈھلوان پر ہے۔ میں نے اپنے دادا جان سے سنا ہے کہ مولوی رسول صاحب ؒاور مولوی احمداللہؒ صاحب اپنے اپنے وقت کے خاصانِ خدا تھے۔ کہتے ہیں کہ جب کرم چند نامی ایک 'کھتری( 'کھتری وہ امرتسری ہندو تھے جو امرتسر سے تجارت کی غرض سے یہاں آئے تھے اور پھر یہیں پہ آباد ہوئے تھے۔ ان کی دوکانیں اور دفاتر مہاراج گنج میں ہوا کرتے تھے اور یہ لوگ بڑے تاجر مانے جاتے تھے۔ یہ لوگ زیادہ تر ہول سیل کپڑے کا کاروبار کرتے تھے اور وعدے کے پکے اور کاروبار میں دیانت دار مشہور تھے) نے نواب بازار سرینگر میں آٹے کی مل لگائی تو گندم پیسنے کی مشین چلی نہیں۔ ان لوگوں کو مولوی خاندان سے بڑی عقیدت تھی۔ کرم چند کی آٹامل کشمیر میں اپنی نوعیت کی پہلی مل تھی مگر جب انسٹال کرنے کے بعد یہ چلی نہیں تو کرم چند پریشان ہوا۔ انجنٔیروں نے بہت کوشش کی مگر مشین چلی نہیں۔ آخر باہر سے بڑے انجنٔیروں کو بلایا گیا۔ انہوں نے ہر طرح سے مشینوں کو چیک کیا مگر سب کچھ ٹھیک پایا۔ وہ بھی پریشان ہوئے۔ انہوں نے کرم چند کو بتایا کہ مشینوں میں کوئی نقص نہیں اور ہم خود پریشان ہیں کہ یہ مشینیں کیوں نہیں چلتیں؟ان دنوں میرواعظ مولوی رسول صاحب رحمتہ اللہ علیہ، جو اسلامیہ ہائی سکول شہر خاص راجویری کدل سری نگر کے موسس بھی ہیں اور اپنے وقت کے قطب مانے جاتے تھے، کے چھوٹے بھائی مولوی احمداللہ صاحبؒ حیات تھے۔ چنانچہ کرم چند مولوی احمداللہ صاحبؒ کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔ مولوی صاحب نے فرمایا میں کل خود اس مل کو دیکھنے آؤں گا۔ چنانچہ آپ کو اگلے دن ٹانگے پر نواب بازار لے جایا گیا۔ انہوں نے وہاں مٹھی میں گندم لیا اور انجنٔیروں سے کہا کہ مشین کو چالو کردو۔ انجنٔیروں نے مشین کا سوئچ دبایا اور ادھر سے مولوی عمہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کے وہ مٹھی بھر گندم مشین میں ڈال دیا ، یکایک مشین یوں چلی اور میرے بچپن میں بھی آٹا کرم چند مل کا ہی بازار میں دستیاب ہوا کرتا تھا۔ ایسے ہی خرقہ پوش اللہ والے ملہ کھاہ کے شہر خموشاں کے باسی ہیں۔ افسوس ہے کہ ہم اس قبرستان کو ہڑپنے کی لالچ کو بس دیکھتے جا رہے ہیں۔ ہم سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کچھ ناعاقبت اندیش لوگ ہماری ہی آخری 'آرام گاہوںکو لوٹ رہے ہیں، ان کا تقدس پامال کرر ہے ہیںپھر بھی ہم ٖغفلت کی نیند سے بیدار ہونے کو تیار نہیں ۔
میرے خیال میں علی محمد ساگر صاحب نے اپنے دور حکومت میں یہ قابل صد تحسین کام کیا کہ ملہ کھاہ کی جنگلہ بندی کروائی مگر مادہ پرستی میں گم لوگوں کی وجہ سے یہ مضبوط جنگلہ بھی کہیں کہیں ٹوٹ گیا اور ملہ کھاہ پھر سے غیر محفوظ ہو کر رہ گیا ہے۔ ایک کمی جو ساگر صاحب سے پوری نہ ہوسکی وہ ملہ کھاہ کی حفاظت، دیکھ بھال اور نگرانی اور ضروری مرمتوں کے لئے ایک الگ محکمے کا قیام نہ لانا ہے۔ اس نظام کی غیر موجودگی میں سبب قبرستان میں تجاوزات برابر ہورہے ہیں ، قبور کی بے حرمتی ہورہی ہے ، آوارہ کتوں کا گھر بن گیا ہے اور جواریوں اور نشہ بازوں کا اڈہ بھی ۔ قبرستان جانے کا حکم پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی امت کودیا ہے تاکہ ہر باایمان کے دل میں آخرت کی یاد تازہ اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ موجزن رہے اور قبرستان آخرت کے سفر کی پہلی منزل ہے۔ کسی بھی حساس انسان کو یہ  دیکھ کر دلی تکلیف ہوتی ہے کہ جن مرحومین کی آخری آرام گاہ صاف ستھری اور محفوظ ہونی چاہئے تھی ،اس کے بدلے اسی جگہ جب یاتو جانوروں کی گندگی بکھری ہو ، ناجائز قبضہ کرنے کے دھندے میں مشغول مافیا کتبوں اور قبروں کو بھی اکھاڑ رہا ہو، اور روز بروز اس قبرستان کی اراضی نہایت مختصر اور تنگ کی جارہی ہو، توآپ ایسے مدرہ ضمیروں پر کتنا واویلا کر یں گے ۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ 1947 سے پہلے ملہ کھاہ کا رقبہ کتنا تھا اور آج یہ ڈل کی طرح کتنا سمٹ گیا ہے؟ کہاں گئی وہ ساری زمین؟ کوئی سوچے توسہی !سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی​ نے کیا خوب کہا ہے   ؎
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھر مارا​
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر  نقارا​
کیا  بدھیا بھینسا بیل  شتر کیا کوئی  پلا سر بھارا​
کیا   گیہوں  چاول  موٹھ  مٹر، کیا  آگ  دھواں کیا انگارا​
سب  ٹھاٹھ  پڑا  رہ  جاوے  گا  جب  لاد  چلے  گا  بنجارا​
کچھ  کام  نہ  آوے  گا   تیرے،  یہ  لعل  زمرد  سیم  و زر​
جو  پونجی  بات  میں  بکھرے  گی پھر آن بنے جاں اوپر​
نقارے  نوبت  بان  نشان   دولت  حشمت   فوجیں   لشکر​
کیا مسند  تکیہ  ملک  مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھپر​
سب  ٹھاٹھ  پڑا  رہ  جائے  گا  جب   لاد  چلے  گا  بنجارا​
ہر  آن  نفع  اور ٹوٹے میں کیوں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن​
ٹک غافل  دل  میں  سوچ  ذرا ہے  ساتھ  لگا  تیرے دشمن​
کیا   لونڈی  باندی  دائی  دوا   کیا  بند  چیلا   نیک   چلن​
کیا  مندر  مسجد  تال  کنویں کیا گھاٹ سرا کیا باغ چمن​
سب   ٹھاٹھ  پڑا  رہ  جاوے گا  جب  لاد  چلے گا بنجارا​
جب   مرگ  بنا کر  چابک کو  یہ  بیل  بدن کا  ہانکے گا​
کوئی  ناج  سمیٹے   گا  تیرا  کوئی گون سینے اورٹانکے گا​
ہو  ڈھیر   اکیلا  جنگل  میں  تو اک  لحد  کی پھانکے گا​
اس  جنگل  میں  پھر  آھ نظیر اک بھنگا آن نہ جھانکے گا​
سب   ٹھاٹھ  پڑا  رہ  جاوے گا  جب لاد چلے گا  بنجار
