مغل شاہراہ کھولنے کا فیصلہ ادھورا:چوہدری ذوالفقار | مکمل طور پر ٹریفک کی نقل و حمل کیلئے کھولا جائے

راجوری//اپنی پارٹی کے نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے مغل شاہراہ کھولنے کا فیصلہ ادھورے من سے لیاگیا۔ ایک بیان میں ذوالفقار علی نے کہاکہ مغل شاہراہ کو مکمل طور جموں اورکشمیر کے دونوں اطراف ٹریفک نقل وحمل کے لئے کھولنا چاہئے۔ انہوں نے کہا’’ہم حکومتی فیصلے کا خیر مقدم اور سراہنا کرتے ہیں ، البتہ ایسا لگ رہا ہے کہ پیر پنچال کے لوگوں کو درپیش مشکلات کو ملحوظ ِ نظر رکھے بغیر یہ فیصلہ ادھورے من سے لیاگیا ہے کیونکہ شاہراہ کوکھولنے اور بند کرنے پر چند شرائط لگائی گئی ہیں‘‘۔انہوں نے کہاکہ پیر پنچال سے بیشتر مریض علاج ومعالجہ کے لئے سرینگر کے اسپتالوں کو ترجیح دیتے ہیں اور اُن کو یہ فیصلہ لیتے وقت خاطر میں نہیں لایاگیا۔ انہوں نے کہاکہ خانہ بدوشوں کو کشمیر کی طرف نقل وحمل کی اجازت دی گئی جوکہ حکومت کی طرف سے لیاگیا جو حوصلہ کن قدم ہے کیونکہ خانہ بدوش کشمیر اورلداخ کے بالائی علاقوں کی طرف موسمی نقل مکانی کو لیکر کافی فکر مند تھے ، اسی طرح میوہ جات سے لدے ٹرکوں کو بھی چلنے کی اجازت دی گئی ۔ چوہدری ذوالفقار نے کہا’’بدقسمتی کی بات ہے کہ مریضوں اور عوام کو مغل شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے، حکومت کو چاہئے کہ اس کو عام آدمی کے لئے بھی کھولاجائے تاکہ ضرورتمند اس پر سفر کرسکیں‘‘۔ انہوں نے مغل روڈ انتظامیہ کی ناکامی پر سخت تشویش ظاہر کی ہے جوشاہراہ کو سال بھر قابل ِ آمدورفت بنانے کے اہل نہیںہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ مغل شاہراہ کو سال بھرآمدورفت کے قابل بنایاجائے ، یہ کشمیر کو براستہ پونچھ بفلیاز جوڑنے والی اہم شاہراہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ نقل وحمل بنیادی حق ہے اور خطہ پیر پنچال کے عوام کو اِس سے محروم نہیں کیاجاسکتا، جب سبھی ذرائع آمدورفت سڑکیں، فضائیہ اور ریل جوبین ریاستی، بین صوبہ اور بین ضلعوں کو جوڑتی ہیں، وہ کھلی ہیں، ایسے میں اِس شاہراہ کو عام آدمی کے لئے بند رکھنے کی کوئی جوازیت بنتی نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت کو اُن افسران پر ذمہ داری عائد کرنی چاہئے جوکہ ابھی تک شاہراہ کو کلیرنہیں کرپائے جبکہ دیگر سبھی سڑکیں سرینگر، لداخ، گریز اور سنتھن ٹاپ پہلے ہی کھل چُکی ہیں۔