سرنکوٹ//خطہ پیر پنچال اور وادی کے درمیان واحد راستے مغل شاہراہ پر ابھی تک مواصلاتی نظام دستیاب نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں کو دوران آمد ورفت شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔دونوں خطوں کے درمیان عوام کیلئے فائدہ مند ثابت ہونے والی شاہراہ سے روزنہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ سفر کرتے ہیں لیکن اس شاہراہ کے ایک وسیع حصے میں موبائل نیٹ ورک کا کوئی بندوبست نہیں ہے ۔سرحدی ضلع پونچھ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ دونوں خطوں کے درمیان تعمیر کی گئی شاہراہ پر گاڑیوں کے سفر کر لگ بھگ دس برس کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج تک شاہراہ پر ابھی تک مواصلاتی نظام کے سلسلہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ شاہراہ پر رونما ہونے والے حادثات کی خبر کئی گھنٹوں کے بعد موصول ہوتی ہے جبکہ اگر مواصلاتی نظام دستیاب کیا جائے تو لوگ مشکل وقت میں انتظامیہ و اہل خانہ کیساتھ رابطہ قائم کرسکتے ہیں ۔غور طلب ہے کہ سرنکوٹ کے پوشانہ سے دوبھجیاں علاقہ تک کئی کلو میٹر شاہراہ پر موبائل نیٹ ورک دستیاب نہیں ہے تاہم دونوں خطوںکے سینکڑوں کی تعداد میں مریض ،طلباء و دیگر ملازمین راجوری اور پونچھ سے سرینگر کا سفر کرتے ہیں ۔مسافروں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ شاہراہ کے پہاڑی حصہ میں موبائل نیٹ ورک نصب کیا جائے تاکہ لوگوں کو سہولیت مل سکے ۔