معراج میں انبیائے کرام ؑکے خطبے

 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ترجمہ :’’پاک ہے وہ جو اپنے بندے کو رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے ۔ اِس لئے کہ ہم اُسے اپنی آیات (نشانیاں) دکھائیں، بے شک وہ (اللہ) ہی سننے والا دیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء (بنی اسرائیل) آیت نمبر 1)اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اُس نے  سیدالاانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں مسجد اقصیٰ لے گیا اور اُسی رات میں واپس بھی لے آیا۔ مسجد اقصیٰ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو نماز پڑھائی اور اُس کے بعد تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کئے۔ جگہ کی کمی کی وجہ سے پورا ’’واقعۂ معراج‘‘ نہیں پیش کیا جارہا ہے بلکہ انبیائے کرام علیہم السلام کے خطبے مختصراً یہاں پیش ہیں۔   
 حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خطبہ
سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیائے کرام سے ملاقات کی۔ اس کے بعد تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے کھڑے ہو کر ایک کے بعد ایک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور تقریر کی۔ یہاں ہم مختصر میں کچھ انبیائے کرام علیہم السلام کی حمد و ثنا اور تقریر ذکر کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہم السلام نے ان الفاظ میں اللہ کی حمد و ثنا اور تقریر کی :’’ تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کی ہیں جس نے مجھ کو اپنا’’ خلیل ‘‘بنایا اور مجھ کو ’’ملک عظیم ‘‘عطا فرمایا اور ’’امام اور پیشوا ‘‘بنایا اور آگ کو میرے حق میں گلزار اور سلامتی والی بنایا۔‘‘

 حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خطبہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی :’’ تمام تعریفیں اُ س اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھ سے بلا واسطہ کلام فرمایا اورقومِ فرعون کی ہلاکت اور تباہی اور بنی اسرائیل کی آزادی میرے ہاتھوں سے ظاہر فرمائی اور میری امت میں ایسی قوم بنائی جو حق پر ہے اور ہدایت اور عدل کرتی ہے۔‘‘

حضرت دائود علیہ السلام کا خطبہ 

حضرت دائود علیہ السلام نے اس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی :’’ تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ جس نے مجھ کر ملک عظیم عطا فرمایا اور زبور سکھائی اور لوہے کو میرے لئے نرم کیا اور پہاڑوں اور پرندوں کو میرے لئے مسخر کیا کہ میرے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کریں اور مجھ کو علم و حکمت اور تقریر دل پذیر عطا فرمائی۔‘‘

 حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطبہ

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی:’’ تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ جس نے ہوا اور شیاطین اور جنات کو میرے لئے مسخر کیا کہ میرے حکم پر چلیں اور پرندوں کو بولی مجھ کو سکھائی اور جن و اِنس اور چرند و پرند کا لشکر میرے لئے مسخر کیا اور ایسی سلطنت عطا کی کہ میرے بعد کسی کے لے مناسب نہیں ہوگی اور مجھ سے اس پر کوئی حساب کو کتاب نہیں ہوگا۔‘‘

 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خطبہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی:’’ تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھ کو کلمہ بنایا اور حضرت آدم علیہ السلام کی طرح مجھ کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور پرندوں کو بنانے اور مُردوں کو زندہ کرنے اور پیدائشی ( مادرزاد) اندھے کو اچھا کرنے کے معجزے عطا فرمائے اور توریت اور انجیل کا علم عطا فرمایا اور مجھ کو اور میری والدہ کو شیطان کے اثر سے محفوظ رکھا اور مجھ کو آسمان پر اٹھایا اور کافروں کی صحبت سے پاک کیا۔‘‘
 سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کاخطبہ
اس طرح تمام انبیائے کرام یکے بعد دیگرے کھڑے ہوتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان فرماتے رہے۔ ان میں سے کچھ مخصوص انبیائے کرام کا ہم نے مختصراً ذکر کیا ۔ سب سے آخر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا:’’ تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے مجھے’’ رحمت اللعالمین‘‘ بنا کر بھیجا اور تمام عالم کے لئے بشیر و نذیر بنایا اور مجھ پر قرآن پاک نازل فرمایا۔ جس میں تمام  امور ِ دینیہ کا صراحتہً یا اشارہ بیان فرمایاہے اور میری امت کو’’ بہترین امت‘‘ بنایا ہے اور میری اُمت کو’’ اوّلین اور آخرین‘‘ بنایا۔ یعنی ظہور( ظاہر ہونے میں) میں آخری امت اور مرتبہ میں اوّل بنایاہے اور میرے سینہ کو کھول دیا اور میرے ذکر کو بلند کیا اور مجھ کو’’ فاتح‘‘ اور ’’خاتم‘‘ بنایا۔ یعنی وجود ِ نطفی اور روحانی میں سب سے اول اور بعثت اور ظہور ِ جسمانی میں سب سے’’ آخر نبی‘‘ بنایاہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے خطبۂ تمہید سے فارغ ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے مخاطب ہو کر فرمایا:’’ ان ہی فضائل و کمالات کی وجہ سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے بڑھ گئے۔ ‘‘