اشتیاق ملک
ڈوڈہ //جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے رکن اسمبلی ڈوڈہ مہراج ملک کے خلاف عائد متنازعہ پبلک سیفٹی ایکٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے کے ساتھ ہی گزشہ سات ماہ سے جاری ان کی نظربندی کا خاتمہ ہو گیا ہے، جس پر ڈوڈہ کے عوام اور سیاسی حلقوں میں جشن کا ماحول ہے۔مہراج ملک کی جانب سے دائر کردہ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو ناکافی قرار دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی عوامی نمائندے کی شخصی آزادی کو بغیر ٹھوس شواہد کے سلب نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ مہراج ملک کو سات ماہ قبل انتظامیہ نے امن و امان کے قیام میں مبینہ رکاوٹ کے الزام میں پی ایس اے کے تحت حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا تھا۔عدالتی فیصلہ منظرِ عام پر آتے ہی اسمبلی حلقہ ڈوڈہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی۔تحصیل چلی ،کاہرہ ،ٹھاٹھری میں کارکنوں نے ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرایا اور اسے “حق اور سچ کی جیت‘‘ قرار دیا۔ ڈوڈہ کے مختلف چوراہوں پر عوام کا ہجوم جمع ہو گیا، جہاں ڈھول تاشوں کی گونج میں نعرے بازی کی گئی اور پٹاخے پھوڑے گئے۔کئی علاقوں سے عوامی جلوس برآمد ہوئے، جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔مقامی سماجی و سیاسی لیڈروں نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مہراج ملک ہمیشہ عوامی مسائل کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں اور ان کی رہائی سے خطہ چناب کی سیاست میں ایک بار پھر تیزی آئے گی۔ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ “ظلم کے بادل چھٹ گئے ہیں اور عوام کا منتخب نمائندہ اب دوبارہ ان کے درمیان ہو گا،یہ صرف مہراج ملک کی جیت نہیں بلکہ ڈوڈہ کے ہر اس شہری کی جیت ہے جو جمہوریت اور انصاف پر یقین رکھتا ہے‘‘۔انتظامیہ کی جانب سے عدالتی احکامات کی تعمیل کے بعد مہراج ملک کی آج شام یا کل صبح تک باضابطہ رہائی متوقع ہے، جس کے لیے ان کے آبائی علاقے میں بڑے پیمانے پر استقبالیہ تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
معراج ملک کی رہائی کے حکم پرخطہ چناب میں خوشی کی لہر | عوام نے جشن منایا، مٹھائیاں تقسیم اور جگہ جگہ استقبالیہ جلوس