جموں //آل جموں و کشمیر نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز ایسوسی ایشن جموں کے بینر تلے ملازمین نے اپنا احتجاج ساتویں دن بھی جاری رکھاجبکہ اس دوران ملازمین نے اپنے احتجاجی کلینڈر میں مزید توسیع کرتے ہوئے ہڑتال کو 23جنوری تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔NHMاسکیم کے تحت ریاست میں تعینات ملازمین کی مستقلی ،ساتویں پے کمیشن کی سہولیات ،سوشل سیکورٹی ودیگر مانگوں کو لے کر ملازمین جموں پریس کلب حالیہ سات دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں جبکہ اس احتجاج کو 72گھنٹوں تک مزید بڑھا دیا گیا ہے ۔۔احتجاج کے دوران ملازمین نے اپنی مانگوں کے حق میں نعر ے بازی کرتے ہوئے ریاستی انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ان کی مانگوں کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو مجبور ہو کر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ کئی عرصہ سے ملازمین اپنی جائز مانگوں کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں لیکن ریاستی انتظامیہ کی جانب سے اس طرف کو ئی توجہ نہیں دی جا رہی ملازمین نے حکومت پر امتیازی سلوک روارکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مارچ 2017میں ان کی پندرہ روز ہڑتال کے بعد حکومت کی طرف سے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جسے دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرناتھی تاہم آج دو سال ہونے کوہیں مگر یہ رپورٹ پیش نہیں ہوسکی ۔ان کاکہناتھاکہ اس کمیٹی نے ان کے ساتھ انصاف کرنے کے بجائے تاخیری حربے اپنائے اور کوئی مثبت کام نہیں کیا ۔ این ایچ ایم ملازمین نے مزید بتایاکہ بیس دسمبر 2017سے پھر سے انہوں نے ریاست گیر ہڑتال شروع کی جو 22جنوری کو اس وقت کے وزیر صحت اور شعبہ صحت کے پرنسپل سیکریٹری کی اس یقین دہانی پر ختم کی گئی کہ ان کے مطالبات پورے کئے جائیں گے لیکن ابھی تک ریاستی انتظامیہ کی جانب سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ اس سلسلہ میں بدھ کو ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے ملازمین کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان کی جائز مانگوں کو جلداز جلد حل کیا جائے گا لیکن اس کے بعد ملازمین نے کسی بھی عملی کارروائی تک اپنی ہڑتال کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ہڑتال کو پہلے20 جنوری تک بڑھایا تھا لیکن اس احتجاجی کلینڈر میں اب مزید اضافہ کردیا گیا ہے ۔