جموں//جموں و کشمیر کیجول لیبرز یونائٹیڈ فرنٹ (جے کے سی ایل یو ایف) نے اپنے مطالبات کے حق میں جموں و کشمیر میں تین دن کی کام چھوڑ ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کیاہے۔فرنٹ کے کشمیر صوبہ کے صدر عمران پرے نے کہا’’آج ہم نے دونوں خطوں میں جموں اور پرتاپ پارک (سرینگر) میں 20 سرکاری محکموں کی نمائندگی کرنے والے کارکنوں کی میٹنگوںکا انعقاد کیا جہاں ہم نے 25 اگست سے 27 اگست 2020 تک تین دن کی کام چھوڑ ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کیا ‘‘۔انہوں نے کہا ’’حکومت کو ایک ہفتہ کے اندر مطالبات تسلیم کرنا چاہئے بصورت دیگر ہم اپنی جدوجہد کو مزید تیز کرنے کے لئے مزید اقدامات کا آغاز کریں گے‘‘۔پرے نے کہا ’’61000 عارضی ملازمین کی ملازمت کی باقاعدہ پالیسی کے سلسلے میں حکومت سے واضح جواب نہیں ملا‘‘۔انہوں نے کہا’’ہم نے مختلف سرکاری محکموں میں مصروف ہزاروں یومیہ مزدوروں کے مطالبات پر فیصلہ لینے کے لئے حکومت کو کافی وقت دیا ، لیکن حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ سابق لیفٹنٹ گورنر گریش چندر مرمو نے ایک ہفتے کے اندر اندر زیر التوا اجرتوں کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم حکومت کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا۔ان کاکہناتھا’’ہم نے تین دن تک کام کا بائیکاٹ کرنے اور مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اگر تین دن کے اندر ہمارے مطالبات کو قبول نہیں کیا گیا تو ہم نے 27 اگست کے بعد لال چوک پر اپنے کنبہ کے افراد کے ساتھ دھرنا دیں گے‘‘۔انہوں نے کہاکہ تمام محکمہ جات کے کام کاج کو بند کردیاجائے گا۔فرنٹ کے جموں صدر تنویر حسین نے کہا کہ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں کم سے کم اجرت ایکٹ نافذ کرے اور ان کیلئے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے جبکہ بروقت اجرتوں کی ادائیگی کو یقینی بنایاجائے۔انہوں نے کہا’’اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو ہم جدوجہد کو تیز کردیں گے‘‘۔