مشرقی لداخ میں فوجی تعطل

نئی دہلی// مشرقی لداخ میں گزشتہ تقریباً دو سال سے جاری فوجی تعطل حل کرنے کیلئے ہندوستان اور چین کے کور کمانڈروں کے درمیان بات چیت کا 15 واں دور 11 مارچ کو ہوگا۔ دفاعی ذرائع نے منگل کو بتایا کہ مذاکرات کا 15واں دور ہندوستان کی طرف واقع چوشول مولڈو میں ہوگا۔دونوں افواج کے کور کمانڈرز کے درمیان اب تک مذاکرات کے 14 دور ہو چکے ہیں۔ ان مذاکرات کے نتیجے کے طور پر پینگاگ جھیل، وادی گلوان اور گوگرا گرم چشمہ کے علاقوں کے شمالی اور جنوبی کنارے میں تعطل سے متعلق مسائل حل ہو گئے ۔اب محاذ آرائی کے بقیہ مسائل کے حل کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت ہوگی۔ دونوں فریقین کی جانب سے ان مسائل کا باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرنے کے حوالے سے بیانات حوصلہ افزا اور مثبت ہیں۔واضح رہے کہ مئی 2020 میں چین کی طرف سے مشرقی لداخ میں لائن آف کنٹرول کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوششوں کی وجہ سے یہ تعطل پیدا ہوا۔ ہندوستان نے چین کی اس کوشش کی سخت مخالفت کی تھی۔ اس تعطل کے نتیجے میں 15 جون کو وادی گلوان میں دونوں  ملکوں کے فوجوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی جس میں 20 ہندوستانی فوجی مارے گئے تھے۔اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان وقتاً فوقتاً حکومتی، سفارتی اور فوجی سطح پر تعطل کے حل کے لیے بات چیت ہوتی رہی ہے ۔