وادئ کشمیر کو پیروارئ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جہاں کی اکثریت دین ِ اسلام سے وابستہ ہے۔ یہاں کئ علماء کرام کا شمار دنیا کے مشہور و معروف عالم ِ دین میں سے ہوتا ہے جو اپنی لگن، جذبہ، کوشش، درد، محبت و خلوص سے امت ِ مسلمہ کو دین کے تئیں خدمات انجام دے کر روشناس کرتے رہتے ہیں۔ یہاں عموماً یہی تاثر ملتا ہے کہ عوام الناس دین ِ اسلام سے خوب تر معلومات رکھتی ہو گی لیکن حال ہی میںاللہ کے حقیقی بندے( True Servants Of Allah ) نامی ایک اصلاح پسند نوجواناں ِ قوم نے اپنے ایک منفرد انداز میں ایک ایسے حوصلہ کن اقدام کو شروع کیا ہے جس کے ذریعے وہ مختلف جگہوں پر جا کر مسلمانوں سے اسلام کے بارے میں مختلف سوالات پوچھتے ہیں ۔اس پروگرام کی باضابطہ عکس بندی بھی کی گئی ہے جس کا مقصد کسی کی تذلیل کرنا قطعاً نہیں تھا بلکہ ایک مسلمان کو اسلام کی طرف توجہ دلانا مطلوب و مقصود تھا۔اس پروگرام میں دِکھایا گیا ہے کہ ایسے چند نوجوان تین سوالوں کے صحیح جواب دینے والوں کو ایک خصوصی دینی کتاب بطورِ انعام دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں جب کہ غلط جواب یا خاموشی اختیار کرنے والوں کی شناخت پردے کے اندر ہی رکھی گئی ہے جن کو کسی بھی قسم کی تذلیل ہونے سے محفوظ رکھا گیا ہے اور وہ اُنھیں بھی مثبت انداز میں حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دکھائی دئے ہیں۔بعض اوقات لقمہ دہی و دیگر اشارات دے کر بھی کافی مسلمان جواب دینے سے قاصر رہے ہیں۔
اس اقدام سے انھوں نے ہماری توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ ہم کس قدر دین ِ اسلام سے روشناس ہیں اور ہمارے دلوں میں اللہ کے آخری نبی سرورکونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس قدر محبت، عقیدت و عظمت موجود ہے۔ ایسے مصلح افراد نے شہر ِ سرینگر اور کشمیر یونیورسٹی کے اندر کئی مسلمانوں سے اسلام کے بنیادی تعلیمات کے متعلق جاننے کی کوشش کی جس سے جتنا زیادہ سراہا جائے اتنا کم ہے۔ یہ واقعی دین ِ حق کی تبلیغ و اشاعت کا غیر معمولی کام ہے۔
حیرانگی کا عالم یہ ہے کہ جب اس اقدام کے ذریعے کشمیر یونیورسٹی سرینگر کے احاطہ کے اندر اعلی تعلیم یافتہ طبقہ سے اسلام کی بنیادی تعلیمات کے متعلق جاننے کی کوشش کی گئی تو اکثر جوابات نفی میں دیکھنے کو ملے ۔جب ایک مسلمان وضو کے فرائض، پہلے چار خلیفۃ المسلمین، چار بڑی نازل کردہ کتابوں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ کی دختر نیک اختران جیسی بنیادی ضروری معلومات سے ناآشنائی ظاہر کرے ، تو خود اندازہ لگائیں کہ ہمارا حال کیسا ہے ؟ ہم کس طرف جا رہے ہیں ؟ ذرا سوچیں تو صحیح ! ہماری باقی اسلامی تعلیمات کا حال کیا ہوگا ؟
اس طرح کے اقدامات سے ان نیک و محسن ملت اور دین پسند نوجوانوں نے ہماری توجہ دین ِ اسلام کی طرف مبذول کرائی کہ ایک عام مسلمان کس قدر اپنے آقا ئےنامدار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔ اور ہم بحیثیت اُمت ِ مسلمہ کس قدر اسلام کی تعلیمات رکھتے ہیں۔ دوم اس سے خوابِ غفلت میں پڑے مسلمانوں کو جگانے کے کی خوب تر کوشش کی گئی ہے۔یہ واقعی ہمارے لیے انفرادی سطح پر تدبر و تفکر پیدا کرنے کے لیے کافی ہے اور اجتماعی سطح پر ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔
اے بندگانِ خدا ! کبھی تدبر و تفکر بھی کیا تو نے، کبھی خالقِ کل، مالک روزِ جزا، رحیم، کریم، واحد القہار رب زوالجلال سے اپنا تعلق بھی جوڑا ہوتا۔ چند لمحہ کے لیے اپنی آنکھیں بند کر کے ذرا یہ سوچ کہ ہماری زندگی اب تک کہاں کہاں گزر گئی ہے ؟ اور اس وقت کہاں گزر رہی ہے ؟ سارے کئے کی تصویر ذہن میں واپس لائیں۔ ایسی حالت رہی تو ہمارا حشر کیا ہوگا۔کل جب ہمارے حسین و جمیل، قوت و جسامت جسم سے روح باہر نکل جائے، دوسروں کے سہارے اٹھائیں جائیں گے، تمام احباب و رفیق دفن کر کے واپس چلے جائیں گے، ہم اور ہمارے اعمال تنہا اندھیری قبر کے اندر ہوں گے، النفسی النفسی کا عالم برپا ہوگا۔ ذرّے ذرّے کا حساب لیا جائے گا اور ہم بے بس و بے یارو مددگار ہو کر یہی آرزو و تمنا کریں گے کہ’’اے کاش ! میں مٹی ہوتا(النبا)،اے کاش ! میں نے اپنی آخری کیلئے کچھ کیا ہوتا(الفجر)،اے کاش ! مجھے نامہ اعمال نہ دیا جاتا(سورۃ الحافۃ)،اے کاش! میں فلاں دوست کو نہ بنانا(الفرقان)،اے کاش ! ہم نے اللہ او را سکے رسول کی فرماں برداری کی ہوتی(الاحزاب)،اے کاش!میں رسول کا راستہ اپنا لیتا(الفرقان)‘‘
چونکہ اسلام میں داخل ہوتے ہی ایک مسلمان کے اندر کم سے کم اس قدر علمی صلاحیت موجود ہو کہ وہ اپنے جسم کی پاکی، وضو، غسل، صلواۃ اور پیغمبر آخر الزمان خیرا الانام سرور کونیں امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے مکمل طور پر روشناس ہو۔
دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں مختلف شعبہ جات کے اندر اگر کسی بھی شخص سے اپنے شعبے میں معلومات پوچھی جائے تو یوں صفحہ در صفحہ لکھتا جائے گا۔ حتی کہ اگر کسی نوّے سال کے ناخواندہ بزرگ سے بھی باغبانی کے متعلق استعمال شدہ دوائی کے نام پوچھا جائے تو یوں زبان پر بِنا کسی ہچکچاہٹ کے کئی دواؤں کے نام بتا دے گا ۔ اِسی طرح اگر ایک عام مسلمان خاتون سے سبزیوں کے اُگانے کے طریقہ کار کے بارے میں پوچھا جائے ، تو یوں پورے سال میں اُگنے والی سبزیوں کے نام معہ طریقہ فر فر کرتی ہوئی بتا دے گی لیکن جب اسلام کی تعلیمات کی باری آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم دین ِ اسلام کے معاملے میں دوہرا معیار اپنائے بیٹھے ہیں۔ اگر ہمارا یہی حال رہا اور اسی طرح موت واقع ہوئی تو خدارا آپ خود بتائں کہ ہم کہاں جائیں ؟ ہمارا دائمی زندگی کا حشر کیا ہوگا ؟ وادئ کشمیر شاید مولانا الیاس ذکریا رح کے ذریعے پائی گئی میوات کی بستی کی حالت کی روش اختیار کیے جا رہی ہے جہاں پھر صرف کام کے بجائے نام کے مسلمان نظر آتے تھے۔
مشہور و معروف عالم دین، مصنف، محقق ڈاکٹر اکرم ندوی صاحب ایسی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اس طرح کا مفید مشورہ دیتے ہیں کہ " جگہ جگہ، مسجدوں میں، مرکزوں میں، تعلیمی اداروں میں اور گھروں میں قرآنِ کریم کے دروس کے حلقے قائم کریں، قرآنِ کریم کی ہر آیت لوگوں تک پہنچائیں، اس پیغامِ آسمانی میں کوئی لفظ زائد نہیں، کوئی ہدایت بے ضرورت نہیں اور کوئی تعلیم غیر متعلق نہیں، یہ کتاب اتنی قیمتی ہے کہ اس نے دنیا کو کسی نئے پیغمبر سے مستغنی کردیا، اس کے نصوصِ اس قدر محکم ہیں کہ اس نے صرف انسانی شرائع و قوانین کو نہیں بلکہ تمام آسمانی صحیفوں اور کتابوں کو منسوخ کر دیا۔"
خلاصہ کلام یہی ہے کہ اس وقت سب سے اہم اور ترجیحی بنیادوں پر ہم اپنی اپنی مقامی بستیوں میں اسلامی تعلیمات کے جاننے و عملانے والوں کے پاس جا کر اپنا تعلق جوڑ دیں ۔منت و سماجت کر کے حُفاظِ کرام کے فارغ الاوقات کے مطابق قرآنی دروس لینا شروع کریں۔اسلام کے بنیادی عقائد و دیگر ضروری تعلیمات کو حاصل کیے بغیر نہ رہیں ۔اپنے بچوں کو نزدیکی مکتب میں درج کریں۔ انہیں بچپن کے ابتدائی مراحل سے ہی اسلام کی تعلیمات کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں ۔خواتین کے لیے کم سے کم ہفتہ وار دینی اجتماع کے منعقد کرنے کی تگ و دو کریں جس میں مختلف دینی اداروں سے فارغ شدہ عالمہ، فاضلہ و دیگر ماہر اسلامیات کی خدمات حاصل کریںتاکہ ہماری بہنوں ، بیٹیوں اور مائوں کے اندر دین ِ اسلام کا مزاج پیدا ہو سکے اور صحیح تربیت حاصل کر سکیں۔ اس کے مزید اپنی اولین فرصت میں زندہ معجزہ قرآنِ کریم اور احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خاص توجہ دیں دیا جائے۔
رابطہ۔ہاری پاری گام ترال
فون نمبر۔9858109109