اشتیاق ملک
ڈوڈہ//گزشتہ دو ماہ سے ضلع ڈوڈہ میں جاری موسلا دھار بارشوں، متعدد مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات اور ژالہ باری نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ضلع کے ڈوڈہ،بھدرواہ،ٹھاٹھری،گندوہ بھلیسہ،عسر،مرمت،گندنہ،چرالہ،کاہرہاورچلی پنگل سمیت متعدد علاقوں میں فصلیں، سبزیاں،میوہ باغات اور پھلدار درخت بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جس سے کسانوں، زمینداروں اور مزدور طبقے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق مسلسل بارشوں اور ژالہ باری کے باعث اخروٹ، سیب اور دیگر موسمی پھلوں کی پیداوار کو بڑا دھچکا لگا ہے، جبکہ مکی کی فصل، سبزیوں اور دیگر زرعی پیداوار بھی تباہ ہو گئی ہے۔ کئی مقامات پر پھلدار درختوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے رواں سال کسانوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔سیاسی و سماجی کارکن ریاض احمد زرگر نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ قدرتی آفات نے ضلع ڈوڈہ کے زرعی شعبے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں،زمینداروں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی مہینوں کی محنت چند گھنٹوں میں تباہ ہو گئی، جس سے دیہی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلع کے بیشتر کسانوں نے کھیتی باڑی اور باغبانی کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ کے تحت قرضے حاصل کیے تھے، لیکن فصلیں تباہ ہونے کے باعث اب ان قرضوں کی ادائیگی ان کے لیے ممکن نہیں رہی،ایسے حالات میں کسان شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ریاض احمد زرگر نے جموں و کشمیر حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں کا فوری سروے کروا کر نقصان کا صحیح تخمینہ لگایا جائے، کسانوں اور زمینداروں کے لیے خصوصی مالی امدادی پیکیج کا اعلان کیا جائے، فصلوں اور باغات کے نقصان کا مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے، جبکہ کسان کریڈٹ کارڈ کے قرضے معاف یا کم از کم ان کی وصولی مؤخر کی جائے تاکہ متاثرہ کسانوں کو معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔