مسلح جھڑپ میں مکان زمین بوس، کولگام کا سابق فوجی اہلکار دو ماہ سے قید

کولگام// کولگام میں جنگجوئوں کو پناہ دینے کے جرم میں ایک سابق فوجی گزشتہ2ماہ سے جیل کی زند گی گزار رہا ہے ۔جس دوران 16سال تک فوج کی سخت نوکری کرنے کے دوران حاصل کی گئی تنخواہ کی رقم سے بنایا گیا کنکریٹ رہائشی مکان بھی زمین بوس ہوا ،جبکہ گھریلو اسباب کے علاوہ جھڑپ میں اہلکار کے تینوں بچوں کی مختلف جماعتوں کی کتابیں اور کئی اہم اسناد بھی راکھ ہوگئیں۔2ماہ سے جیل کی کال کوٹھری میں زندگی گزانے والے سابق فوجی کی اہلیہ دلشادہ بانو کا کہنا ہے کہ جنگجو ہمارے مکان میں رکے تھے تو اس میں ہمارا قصور کیا ہے؟۔12گھنٹے تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں حزب اور لشکر کے5جنگجوئوں کے علاوہ ایک عام شہری بھی پتھراو کرنے کے دوران زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہوا۔ افراد خانہ پر اس وقت ایک اور افتاد نازل ہوئی جب فورسز نے مکان مالک کو جنگجوئوں کو اپنے مکان کے اندر پناہ دینے کے جرم کی پاداش میں گرفتار کرنے کے بعد جیل بیج دیا ہے جہاں مالک مکان16سال تک ملک کے خدمت کرنے کے باوجود2ماہ سے قید کی زندگی گزار رہا ہے جبکہ افراد خانہ انہیں رہا ئی کے لئے تمام کوششوں کو ناکام دیکھنے کے بعد گھر میں خاموش بے یار مدد گار بیٹھے ہیں۔ فوجی اہلکار کے تمام افراد خانہ اس ساری صورت حال کو پر نم آنکھوں سے دیکھ کر خون کے آنسوں رورہے تھے بقول افراد خانہ ان کے والد نے ملک سے باہر سخت ڈیوٹی انجام دینے کے دوران اس مکان کو تعمیر کرنے پر ساری کمائی خرچ کی تھے اور مکان صرف 6سال قبل تعمیر کیاگیاتھا ۔جبکہ ملک کے نام اپنی ساری جوانی صرف کرنے والے فوجی اہلکارنے ڈیڈ دھائی کی سخت ڈیوٹی کی کمائی کو سینکڈوں کے اندر راکھ میں تبدیل ہوتے ہوئے اپنے آنکھوں کے سامنے دیکھا۔ اس دوران افراد خانہ نے بتایا انہوںنے تمام جمح پونجی کو اس مکان کی تعمیرپر خرچ کر کے6سال قبل تعمیر کیا تھا۔تاہم مکان پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود افراد خانہ کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔نمائندے کے مطابق مقید اہلکار کے 3بیٹے ہیں جن میں سب بڑے بیٹے نے پوسٹ گریجویشن کی جبکہ دوسرے نے گریجویشن اور تیسرا لیبارٹری ٹیکنالوجی  میں ڈپلوما کر رہا ہے ۔اس دوران گھریلو سامان ان کے تمام تعلیمی اسناد اور کتابیں بھی مکان میں ہی جل کر خاکستر ہو۔اپنے رہائشی مکان سے محروم ہونے والے افراد خانہ نے بتایا کہ بے گھر ہونے کے بعد پڑوسیوں ،دوست احباب نے انہیں کچھ مدد کیا۔جس کے بعد انہوں نے ایک ٹین کا شد تعمیر کیا جہاں کنبہ سخت سردی کے باووجود اسی شڈ میں زندگی گزار رہے ہیں ۔افراد خانہ نے مزید بتایا ابھی ہم اس صدمے سے باہر بھی نہیں آئے تھے تو ایس او جی اور جموں کشمیر پولیس کی ایک پارٹی نے اسی مکان پردوران شب چھاپہ مار کر اور مالک مکان اور سابق فوجی اہلکار کو اپنے ساتھ اٹھا کر ’آمنوں ‘کیمپ میں بند کر رکھا۔ جہاں انہیں کئی روز تک پوچھ تاچھ کے بعد پولیس نے منظور احمد گنائی کو ضلع جیل مٹن اننت ناگ منتقل کیا ۔جہاں وہ گزشتہ2ماہ سے قید بند کی زندگی گزار رہے ہیں۔ افراد خانہ نے بتایا اگر چہ انہوں نے منظور احمد کی رہائی کے لئے تمام کوششیں کی تاہم اس حوالے سے انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے ۔