آج کل ایک بہت دلچسپ کتاب ہر باشعور قاری کے زیرمطالعہ ہے، جو زمین پر زندگی کے بارے میں سوچنے کے کچھ نئے رخ سامنے لارہی ہے۔ اسرائیلی ماہرِ تاریخ و سماجیات یووال نوح ہراری کی کتاب ’Homo Deus (انسانی خدا۔۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ) اپنی پہلی اشاعت کے بعد سے اب تک لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئی ہے اور اس کی وجہ اس کتاب میں پیش کیے گئے انسانوں کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں غیر روایتی اور غیرمعمولی تصورات ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان خیالات کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ تو بالکل سامنے کی بات تھی، اس طرف ہمارا دھیان کیوں نہیں گیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ۲۰۱۱ء میں وہ ایک کتاب بعنوان ’سیپینز۔۔۔ انسانوں کی مختصر تاریخ‘ لکھ چکے ہیں، جسے اس دوسری کتاب کا مقدمہ کہا جاسکتا ہے۔ مستقبل کی ممکنہ تاریخ کے موضوع پر پیشگوئی کرتی ہوئی دوسری کتاب کا آغاز اس سوال سے ہوتا ہے کہ اصل میں انسان کا مستقبل کا ایجنڈا ہے کیا؟
کتاب کےمصنف کا کہنا ہے کہ صدیوں سے تین بڑے مسائل انسان کے ایجنڈے میں سرفہرست رہے ہیں اور ان تینوں مسائل کا تعلق اس کی بقا سے ہے، یعنی قحط ، وبا اور جنگ۔ دوسرے لفظوں میں بھوک، بیماری اور آپس کا جنگ و جدل۔ یہ وہ تین آفات ہیں جو ہمیشہ سے لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کا خاتمہ کرتی آئی ہیں۔ یہ وہ بلائیں ہیں جنہوں نے پورے پورے خطوں سے انسانی زندگی کا صفایا کیا ہے، انسانوں کی پوری نسلوں کو ملیا میٹ کیا ہے اور یہ مسائل ہمیشہ انسانیت کا سب سے بڑا چیلنج رہے ہیں۔ لیکن تیسرے ہزاریے کے آغاز تک انسان ان تینوں آفات پر قابو پانے میں کامیاب ہوچکا ہے اور اب وہ بقائے دوام کے ایجنڈے پر گامزن ہوچکا ہے۔ مثال کے طور پر تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ اب لوگ بھوک سے زیادہ نہیں مرتے بلکہ زیادہ کھانے سے مر جاتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ بیماریوں سے نہیں بلکہ بڑھاپے سے مرتے ہیں۔ اب لوگ جنگوں، دہشت گردوں اور مجرموں کے ہاتھوں مجموعی طور پر اتنے نہیں مرتے جتنے لوگ خود کشیاں کر کے مر جاتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں ایک عام انسان کو قحط ، وبا یا القاعدہ وغیرہ کے حملوں میں مرنے سے زیادہ خطرہ یہ ہے کہ کہیں وہ میکڈونلڈ کے ریستوران میں بسیار خوری سے نہ مر جائے۔ اگرچہ اب بھی عالمی رہنماؤں اور ماہرین معیشت و سیاست کے ایجنڈوں کا غالب حصہ اقتصادی بحرانوں اور دنیا میں جاری جنگی تنازعات سے نمٹنا ہے لیکن تاریخ کے کائناتی پیمانے پر دیکھا جائے تو اب انسان اپنی نظریں اٹھا کر نئے افق تلاش کر سکتا ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ اب جب کہ ہم نے قحط ، وبا اور جنگ پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے تو ہماری اگلی منزل کیا ہوگی؟ اکیسویں صدی میں ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال کیا ہے؟ ایک ایسی دنیا میں جہاں صحت ، خوشحالی اور امن کی منزل حاصل کی جا چکی ہے۔(یا جب ہم اس منزل کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں ، جس کی تفصیل کسی آئندہ مضمون میں پیش کی جائے گی) تو کیا چیز ہے جو ہماری توجہ اور ذہانتوں کا امتحان لے گی؟ بایو ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں یہ سوال اور بھی اہم اور فوری جواب طلب ہے کہ ہم نے جو طاقت حاصل کر لی ہے اس کا ہم کریں گے کیا؟
سچی بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جو افراتفری ، مسابقت ، جنگی تنازعات ، غربت اور بھوک ہمیں نظر آتی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ دعویٰ کہ ہم نے قحط ، بیماری اور جنگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے ایک بہت بڑی جسارت معلوم ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ دعویٰ بے وقوفی کی حد تک سادگی اور دنیا کو درپیش ان بڑے بڑے مسائل سے آنکھیں چرانے کے مترادف محسوس ہوگا۔ مطلب کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ابھی بھی دنیا میں اربوں لوگ روزانہ دو ڈالر سے کم پر یا اس سے بھی نیچے کی غربت کی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیا اس سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ افریقا میں ایڈز کی وبا نے انسانوں کی زندگیوں کو بے انتہا تکلیف اور معدومیت کے خطرے سے دوچار کر رکھا ہے؟ کیا شام اور عراق میں ہونے والی جنگیں قصے کہانی کی بات ہے؟ دہشت گردی وہ آسیب ہے جس سے ہم انفرادی طور پر اپنے گھر، دفتر، اسکول، مسجد ، بازار ہر جگہ خوف زدہ ہیں اور قومی اور عالمی سطح پر جس کے سدباب کی کوئی تدبیر عالمی طاقتوں اور انسانی مشاہیر کو نہیں سوجھ رہی اور دنیا کی ہر حکومت اس کے مقابلے کے لیے حکمت عملیاں اور موزوں پالیسیاں بنانے میں مصروف ہے، اور پھر بھی ناکام ہے۔ کیا یہ ایک ایسی دیومالائی کہانی ہے، جو ہم اپنی دادی اماں سے سنتے سنتے سو گئے ہیں اور پریوں کے ایک ایسے دیس میں پہنچ گئے ہیں جہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے اور حسن و لطافت کی دیویاں ہمیں پنکھا جھل رہی ہیں؟ کیا اس بات میں کوئی منطق ہے کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی انسانوں کی تذلیل ، اور ان کی جان ، مال، عزت و آبرو کو درپیش خطروں سے آنکھیں چراتے ہوئے قحط ، بیماری اور جنگ پر قابو پالینے کا دعویٰ کریں اور اپنی ان بے مثال انسانی کامیابیوں پر جشن منائیں؟مصنف کا خیال ہے کہ ان سوالوں کا جواب موجود ہے لیکن اس کے لیے ہمیں اوائل اکیسویں صدی کی دنیا پر ایک گہری نظر ڈالنی ہوگی اور پھر ہم آنے والی دہائیوں میں انسانوں کے ممکنہ مستقبل کا جائزہ لے سکیں گے۔
کیا ہم نے قحط پر قابو پا لیا ہے؟
صرف چند صدیاں قبل دنیا میں قحط ایک بہت بڑی آفت تھی۔ ۱۶۹۴ء میں فرانس کے شہر بیواس میں ایک فرانسیسی افسر نے اس وقت فرانس میں جاری قحط کے اثرات اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں لکھا کہ اس پورے ضلع میں لاتعداد لوگ اتنے غریب ہیں جنہیں مسلسل بھوک نے لاغر اور ضرورتوں نے مرنے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی کام ہے نہ وہ کوئی خوراک خریدنے کی سکت رکھتے ہیں۔ اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اور شدید بھوک مٹانے کے لیے وہ بلیوں اور کوڑے کے ڈھیروں سے اٹھا کر مرے ہوئے گھوڑوں کا گندا گوشت کھا رہے ہیں۔ یا وہ پودوں کی سوکھی جڑیں ابال کرجسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔صرف ایک شہر میں نہیں پورے فرانس میں یہی صورت حال تھی۔ ۱۶۹۲ء سے ۱۶۹۴ء کے درمیان تقریبا اٹھائیس لاکھ فرانسیسی (پوری آبادی کا ۱۵؍فیصد) بھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرگئے۔ اگلے سال ۱۶۹۵ء میں ایسٹونیا میں قحط پڑ گیا اور آبادی کا پانچواں حصہ (۲۵ فیصد) ہلاک ہوگیا۔ اس سے اگلے سال ۱۶۹۶ء میں فن لینڈ کی باری آگئی جہاں ایک چوتھائی سے ایک تہائی لوگ قحط سے مر گئے۔ ۱۶۹۵ء سے ۱۶۹۸ء کے درمیاں سکاٹ لینڈ میں بدترین قحط سے کچھ اضلاع میں ۲۰ فیصد کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ ایک وقت کا کھانا چھوٹ جائے تو کیا محسوس ہوتا ہے، یا رمضان میں ایک دن کے روزے کے بعد شام تک کیا حالت ہوجاتی ہے۔ یا چند دن صرف سبزی کے سوپ پر گزارا کرنا پڑے تو طبیعت پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔ لیکن اس بات کا اندازہ کرنا مشکل ہے کہ اگر کئی روز تک مسلسل کچھ کھانے کو نہ ملے اور یہ بھی پتا نہ ہو کہ کھانے کا اگلا نوالہ کب تک دستیاب ہو سکے گا تو کیا حالت ہوتی ہے اور کس طرح جان لبوں پر آتی ہے۔ ہم سے پہلے گزرنے والی نسلوں کو اس کا اچھی طرح اندازہ تھا۔گذشتہ سو سالوں میں ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے اور اتنی معاشی اور سیاسی پیش رفت ہو چکی ہے کہ دنیا میں اس طرح کی قحط کی صورت حال پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ ابھی بھی دنیا کے بعض خطوں میں وقتاً فوقتاً بھوک اور قحط جو تباہی لاتی ہے وہ استثنائی ہے اور اس کی وجہ کسی قدرتی آفت سے زیادہ انسانی سیاست ہے۔ اب جو قحط موجود ہیں وہ قدرتی نہیں بلکہ سیاسی ہیں۔ اگر شام، سوڈان اور صومالیہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ سیاستدان ایسا چاہتے ہیں۔
فرانس میں آج بھی غربت اور بھوک ہے۔ لاکھوں لوگ غذا کی کمی کا شکار ہیں، جنہیں دو وقت کا مکمل کھانا ملنے کا یقین نہیں ہوتا۔ لیکن اب اکیسویں صدی کے فرانس میں اور ۱۶۹۴ء کے فرانس میں بہت فرق ہے۔ اب لوگ اس وجہ سے نہیں مرتے کہ انہیں ہفتوں تک کچھ کھانے کو نہ ملا ہو۔ اور بھی کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں۔ آج کی عالمی طاقت اور سب سے زیادہ آبادی کے ملک چین کی مثال لے لیں۔ ہزار سالوں تک قحط نے زرد بادشاہتوں سے لے کر سرخ کمیونسٹوں تک چین کی ہرحکومت کا پیچھا کیا ہے۔ کچھ دہائیاں پہلے تک چین کا نام خوراک کی کمی کے مترادف تھا۔ ۱۹۵۸ء میں چیئرمین ماؤ زے تنگ نے چین میں صنعتی ترقی کے لیے ’دی گریٹ لیپ فارورڈ‘ کے نام سے پانچ سالہ منصوبہ بنایا تھا جس نے چینیوں کو پانچ ہزار خاندانوں کی چھوٹی آبادیوں یا کمیونیٹیوں میں تقسیم کر کے صنعتی ترقی کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگا دیا۔ نتیجے میں زراعت نظر انداز ہوگئی اور چین نے اگرچہ صنعتی پیداوار میں کسی حد تک لیکن غیر معیاری اضافہ کیا تو دوسری طرف فصلیں نہ ہونے کے باعث غذا کی شدید کمی کا شکار ہوگیا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق صرف ۱۹۶۰ء کے ایک سال میں دو کروڑ سے زیادہ چینی بھوک، خوراک کی کمی اور اس سے متعلقہ بیماریوں سے مر گئے۔۱۹۴۷ء میں پہلی ورلڈ فوڈ کانفرنس روم میں منعقد ہوئی تو دنیا کے سامنے خوراک کی کمی کے خوفناک منظر نامے پیش کیے گئے۔ پیشگوئی کی گئی کہ چین کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ اپنے ایک ارب لوگوں کو خوراک مہیا کر سکے۔ ایک بڑی تباہی ان کی منتظر تھی۔ لیکن درحقیقت یہی وہ وقت تھا جب چین تاریخ کے سب سے بڑے اقتصادی معجزے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ۱۹۷۴ء کے بعد سے کروڑوں چینیوں کو غربت کے گہرے کنویں سے نکال لیا گیا ہے۔ اگرچہ ابھی بھی یہاں کروڑوں لوگ خوراک کی کمی اور غربت کا شکار ہیں لیکن معلوم تاریخ میں پہلی بار چین کو قحط سے آزاد خطہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج بہت سے ملکوں میں بسیار خوری، بھوک اور قحط سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اٹھارویں صدی میں فرانس کی آخری ملکہ نے فاقوں سے مرتے عوام کو سمجھایا تھا کہ اگر انہیں روٹی نہیں ملتی تو وہ کیک کھا لیا کریں۔ آج زیادہ تر غریب لوگوں نے ان کی اس نصیحت کو پلّے باندھ رکھا ہے۔ آج جب بیورلے ہل پر رہنے والے دنیا کے امراء سلاد، چٹنی اور سوپ پر گزارا کرتے ہیں، چھوٹی آبادیوں اور کچی بستیوں میں رہنے والے غریب کیک، برگر اور پیزے اڑاتے پھرتے ہیں۔ ۲۰۱۴ء میں ۸۵۰ ملین لوگ دنیا میں خوراک کی کمی کا شکار تھے جبکہ ان کے مقابلے میں دو ارب سے زیادہ لوگ موٹاپے، یعنی وزن کی زیادتی کا شکار تھے۔ اندازہ ہے کہ ۲۰۳۰ء تک دنیا کی آدھی آبادی موٹاپے کے آزار میں مبتلا ہوجائے گی۔ ۲۰۱۰ء میں قحط اور غذا کی قلت سے لگ بھگ ایک ملین (دس لاکھ) لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ اسی سال موٹاپے سے مرنے والوں کی تعداد تین ملین (تیس لاکھ) تھی۔
وباؤں کا عذاب:
قحط کے بعد انسانوں کا دوسرا سب سے بڑا دشمن وبائی امراض تھے ،جو کسی ایک علاقے میں پھیلتے تو انسانوں کی نسلوں کی نسلیں تباہ کردیتے۔ وہ گنجان آباد شہر جہاں تاجروں اور سیاحوں کی بہتات ہو ،وہ اگر ایک طرف انسانی تہذیب و ثقافت کا مرکز بن جاتے تو دوسری طرف جان لیوا وبائی امراض کی آماج گاہ ہوتے۔
(بقیہ جمعرات کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)