مزید خبریں

ایم راجو نے سرینگر میں دربار موو انتظامات کا جائیزہ لیا | ملازمین کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دینے کی ہدایت

سرینگر//کمشنر سیکرٹری اسٹیٹس اور جل شکتی ایم راجو نے یہاں سول سیکرٹریٹ میں دربار موو 2021 کیلئے کئے گئے انتظامات کا جائیزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک میٹنگ کی صدارت کی ۔ کمشنر سیکرٹری نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام سول اور دیگر وابستہ کام مقررہ مدت میں مکمل کریں ۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ سرینگر میں دفاتر کھلنے سے قبل ملازمین کی تمام رہائشی کالونیوں میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں ۔ ایم راجو نے متعلقہ افسران سے کہا کہ سول سیکرٹریٹ کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں میں پینے کے پانی کے ٹینکوں کو بھی سائینسی طریقے سے صاف کرنے کیلئے خصوصی توجہ دی جانی چاہئیے ۔ انہوں نے  ان پر زور دیا کہ وہ نجی ہوٹلوں کے انتظام کو یقینی بنائیں اور خاص طور پر کووڈ 19 وباء کے پیش نظر کمروں اور گردو نواح کی صفائی ستھرائی کیلئے تمام تر اقدامات اٹھائیں ۔ کمشنر سیکرٹری نے سول سیکرٹریٹ میں جاری کاموں کا معائینہ کیا اور متعلقہ ایجنسی کو کاموں کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت دی ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹس کشمیر ، ایگزیکٹو انجینئر اسٹیٹس ڈویژن سرینگر ، آر اینڈ بی پروجیکٹ سرکل ڈویژن 1 کے نمائندے ، اسٹیٹس آفیسر کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران اس موقعہ پر موجود تھے ۔ 
 
 
 
 

کووِڈ- 19وباء کی روک تھام کاکوئی منصوبہ نہیں | حکومت میلوں کے انعقاد میں محو،عوام کی زندگیاں حالات کے رحم وکرم پر:نیشنل کانفرنس

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے ملک خصوصاً جموں وکشمیر میں کورونا معاملات میں بے تحاشہ اضافے ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وبائی بیماری کی روک تھام کیلئے جنگی بنیادوں پر ٹھوس اور کارگر اقدامات کئے جائیں اور وقت رہتے حالات پر قابو پالیں۔ پارٹی کے اراکین پارلیمان محمد اکبر لون اورحسنین مسعودی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایسا محسوس ہورہاہے کہ مرکزی حکومت کے پاس کورونا وائرس کی دوسری لہر سے نمٹنے کیلئے کوئی بھی منصوبہ بندی نہیں ہے اور ریاستوں نے بھی عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ملک میں روزانہ 90ہزار کے قریب مثبت معاملات سامنے آرہے ہیں ،وہیں جموں وکشمیر میں بھی کیسوں میں زبردست اچھال دیکھنے کو مل رہا ہے اور گذشتہ24گھنٹوں کے دوران 5سو سے زائد معاملات سامنے آئے ہیں لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ انتظامیہ اس جانب کوئی بھی توجہ مرکوز کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اراکین پارلیمان نے کہا کہ کووڈ معاملات میں اضافہ سے لوگ تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں لیکن انتظامیہ کے پاس اس کی روک تھام کیلئے کوئی بھی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ سکول، کالج، دفاتر، کاروبار ، تجارت، سرکاری تقریبات اور دیگر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور کسی بھی قسم کے احتیاطی یا پیشگی تدابیر نہیں کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کورونا وائرس نے پھر ایک بار تشویشناک رُخ اختیار کیا ہے لیکن حکومت اور انتظامیہ فیسٹولوں کا انعقاد کرنے میں لگی ہوئی ہے، جو بے حسی اور غفلت شعاری کی انتہا ہے۔ صرف ذارئع ابلاغ میں SOP'sکے اطلاق کی خبریں پڑھنے اور دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن زمینی سطح پر ایس او پیز کا کہیں پاس و لحاظ نہیں اور نہ ہی انتظامیہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کیلئے کوئی اقدام اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے گذشتہ سال کووڈ کی تشویشناک حد تک ہوئے اضافے سے کوئی بھی سبق حاصل نہیں کیا ہے اور حکومتی سطح پر یہاں نااہلی اور ناکامی کا کھلم کھلا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ کاغذی گھوڑے دوڑانے اور لیپاپوتی کے اقدامات کو بالائے طاق رکھ کر کووڈ کے پھیلائو کو روکنے کیلئے کارگر اور ٹھوس اقدامات اُٹھائیں اور وقت رہتے اس پر قابو پالیں۔ پارٹی اراکین پارلیمان نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ احتیاطی تدابیر اپنا کر وائرس کے پھیلائو کو روکھنے کیلئے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ 
 
 
 

اسکولوں کو وباء کے خاتمے تک بند کیاجائے | سول سوسائٹی فورم کا مطالبہ

 سرینگر//سول سوسائٹی فورم نے وادی میں کووِڈ- 19معاملوں میں اُچھال کے بعد اسکولوں میں درس وتدریس مکمل طور بند کرکے آن لائن تعلیم جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے،ٹیولپ گارڈن اور دیگر سیاحتی باغات کو بھی بند کرنے کی مانگ کی ہے۔ایک بیان میں فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے کشمیر میں کوروناوباء کی دوسری لہر کے اعداوشمار سے حکام کو خبردار کردیا۔ وانی نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے ڈپٹی کمشنروںکو اپنے اضلاع کے اسکولوں میں کلاسوں کے تسلسل پر نظر رکھنے کے لئے کہا ہے لیکن اس وبائی صورتحال میں اسکولوں کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ لینے اور ہماری جانوں کوخطرے میں نہ ڈالنے کیلئے زمینی صورتحال کافی ہے تاکہ بچوں کا مستقبل داؤ پر نہ لگایا جائے۔ وانی نے کہا ،’’جب بہت سی بیرونی ریاستوں نے پہلے ہی بچوں کی حفاظت میں اسکول بند کر رکھے ہیں تو  جموں کشمیر خراب دن آنے کا انتظار کیوں کرے اور پھر مایوسی میں اسکولوں کو بند کرنے کا اعلان کرے؟‘‘ وانی نے کہا کہ جب حال ہی میں عملے اور طلبہ میں کووڈ 19  انفیکشن کی خبروں  کے بعدحکومت کشمیر کے بہت سے اسکولوں کو بند کرنے پر مجبورہوئی تھی تو انسان یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ حکومت بدترین ایام آنے کی منتظر کیوں ہے۔ ضلع بڈگام کے تین اسکولوں میں متعدد واقعات رپورٹ ہوئے جہاں حکام نے تعلیمی اداروں کو پانچ سے دس دن کے لئے بند کردیا۔ جنوبی کشمیر میں صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے جہاں اسکولوں سے متعدد واقعات کی اطلاع ملی ہے۔  اسی طرح شمالی کشمیر بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ وانی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں انفیکشن میں اضافے کا انتباہ یہ ہونا چاہئے کہ اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو مستقبل کی صورتحال کو خراب ہوسکتی ہے۔ وانی نے کہا کہ جے کے سی ایس ایف حکومت سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اسکولوں کو جزوی طور پر کھولنے کا کام جاری رکھنے جس سے طلباء  اور ان کے والدین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے،  کے بجائے وبائی مرض کے خاتمے تک اسکولوں کو مکمل طور پر بند کریں اور اس کے بجائے آن لائن کلاسز کے ذریعے دوبارہ درس و تدریس بحال کیا جائے۔  بچے جو قوم کا مسقبل ہے کی صحت کا تحفظ کرنا اولین فرض ہے۔وانی نے کہا کہ ٹیولپ گارڈن جیسے مقام کو اگر وباء کے وقت کھلا رکھا گیا تو وہ ستم بالائے ستم ہوگا۔
 
 

یوٹی حکومت کو سرکاری اراضی کسی کو الاٹ کرنے کااختیار نہیں:سوز

سرینگر//ترومالاتروپتی دیوستھانم ٹرسٹ کو496کنال اراضی الاٹ کرناغیرقانونی اورغیرآئینی ہے۔اس بات کااظہار سابق مرکزی وزیر پروفیسرسیف الدین سوزنے ایک بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرمرکزی زیرانتظام علاقہ کی حکومت کایہ غلط سمت میں قدم ہے۔یہ مکمل طور غیرقانونی اور غیرآئینی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرکی کثیرآبادی کویہ احساس ہے کہ مرکزی زیرانتظام علاقہ جموں کشمیر کی حکومت کو سرکاری اراضی اس طرح کسی آرگنائزیشن کو الاٹ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔یوٹی حکومت نے اس طرح برتائو کیا ہے جیسے یہ سیکولر نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئینی پوزیشن یہ ہے کہ جموں کشمیرمیں کوئی زمین اس طرح کسی مذہبی ادارے کو قانونی منظوری کے بغیر نہیں دیا جاسکتی۔سوزنے کہا کہ اس طرح کے فرقہ وارانہ اقدامات کے جموں کشمیر کے سیکولراداروں پردوررس منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
 
 
 
 
 
 
 
 

بالی ووڈ فنکار طارق شاہ کی وفات پراپنی پارٹی کا اظہارِ تعزیت

سرینگر//اپنی پارٹی کے صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر نے کشمیر نشین بالی ووڈ فنکار طارق شاہ کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ طارق شاہ اپنی پارٹی ضلع یوتھ صدر سرینگر محسن ظفر شاہ کے چاچا تھے۔موصوف سنیچر کی صبح ممبئی میں انتقال کرگئے۔ تعزیتی بیان میں محمد اشرف میر نے کہا کہ طارق شاہ ایک بہتر اداکار ہونے کے علاوہ فلم ڈائریکٹر بھی تھے ۔انہوں نے کہا’’ اُن کی وفات فلمی صنعت کے لئے ایک بڑا نقصان ہے‘‘۔انہوں نے مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی۔ پارٹی کے ریاستی سیکریٹری اور ضلع صدر بڈگام منتظر محی الدین، میڈیا ایڈوائزر فاروق اندرابی، ضلع صدر سرینگر نور محمد شیخ، ضلع صدر کپوارہ راجہ منظور، ضلع صدر گاندربل جاوید میر، یوتھ جنرل سیکریٹری مظفر ریشی اور یوتھ صوبائی صدر کشمیر خالد راٹھور نے بھی طارق شاہ کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ کنبہ کے ساتھ تعزیت کااظہار کیا ہے۔
 
 

سابق آئی اے ایس افسر میر گوہر فوت | پولیس سربراہ اورمحکمہ اطلاعات کا اظہار تعزیت

سرینگر//سابق آئی اے ایس افسر میر گوہر احمد سنیچر کو انتقال کرگئے۔وہ سی ڈی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ موصوف محکمہ اطلاعات کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن بھی رہ چکے ہیں۔موصوف معروف مولود خوان مرحوم میر احمد اللہ ساکن خانیار کے فرزند تھے۔انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز محکمہ اطلاعات میں انفارمیشن افسر کی حیثیت سے شروع کیا تھا اور بعد اذاں انہوں نے منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے ایگرو انڈسٹریز کارپوریشن ،سیکریٹری ایس ایس آر بی، سیکریٹری ٹریڈ کمشنر نئی دہلی،ایڈیشنل سیکریٹری تعمیرات عامہ،سیکریٹری محکمہ صحت عامہ اور طبی تعلیم اپنے فرائض انجام دینے کے بعد 2009میں ممبر جموں کشمیر سپیشل ٹربیونل کی حیثیت سے سبکدوش ہوگئے تھے۔نوکری سے سبکدوش ہونے کے فوراً بعد وہ سماجی فلاح و بہبود میں مشغول ہوگئے۔ادھر ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے میر گوہر کی رحلت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔اُنہوں نے سوگوار کنبے سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے بلند درجات کیلئے دُعا کی ہے۔پولیس بیان کے مطابق موصوف نے محکمہ پولیس میں پی آر او کی حیثیت سے اپنی خدمات بحسن وخوبی انجام دی ہیں۔ ادھر محکمہ اطلاعات نے اپنے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر (پی آر کشمیر) میر گوہر احمد کے انتقال پر زبردست رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔محکمہ کے بیان کے مطابق موصوف بہت ہی محنتی اور دیانت دار افسر تھے۔ محکمہ اطلاعات کے تمام ملازمین نے سوگوار خاندان کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی ہے ۔خاندانی ذرائع کے مطابق کووڈ کے پیش نظر تعزیت پرسی صرف تین دن تک رہے گی اور کوئی اجتماعی فاتحہ خوانی نہیں ہوگی۔انہوں نے احباب و اقارب سے گزارش کی ہے کہ وہ اُن کے گھر نہ آئیں۔
 
 

 صوفی شاعر رجب حامد برسی پر ترال میںتقریب 

سرینگر// معروف صوفی شاعر رجب حامد کے سالانہ عرس پران کے آبائی گاؤں ستورہ ترال میں ایک تقریب کا اہتمام کیاگیاجس میں عقیدتمندوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔رجب حامد کے جانشین ندیم الطاف نے بتایا کہ رجب حامد جیسے سخن ور نے کشمیری زبان کی ترویج میں اہم رول ادا کیاتاہم ان کو سر کارنے وہ مقام نہیں دیا ، جس کے وہ حقدار تھے۔
 
 

پلوامہ کے سماجی کارکن کو ایوارڈ

سرینگر//جنوبی قصبہ پلوامہ کے زڈورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن محمد الطاف بٹ کوایوارڈ سے نوازا گیا۔اس سلسلے میں  جموں میں ایک تقریب کا انعقاد ہوااور نیشنل ہیومن رائٹس اینڈ سو شل جسٹس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایڈوکیٹ ایم آئی زرگر نے انہیں یہ یوارڈدیا۔
 
 

جامعہ ضیاء العلوم کے مہتمم کا اظہار تعزیت

سرینگر//جامعہ ضیا ء العلوم پونچھ کے بانی ،مہتمم و ممبر کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا غلام قادر نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور امارت شرعیہ کے امیر شریعت مولانا ولی رحمانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ مولانا نے کہا کہ مولانا ایسے وقت میں قوم کو تنہا چھوڑ گئے جب پوری قوم کو مولانا کی خداداد صلاحیتوں کی اشد ضرورت تھی ۔انہوں نے کہا کہ مولانا جہاں علم و عمل کے میدان کے مرد مجاہد تھے وہاں میدان سیاست و قیادت میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔انہوںنے مولانا مرحوم کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت کا اظہار کیا ہے۔