مزید خبریں

ضلع بڈگام انتظامی سطح پر نظرانداز  |  مجلس تحفظ اتحاد کا اجلاس،احتجاجی مہم چھیڑنے کا انتباہ

 
سرینگر//ضلع بڈگام کے معزز شہریوں،دینی و سماجی انجمنوں کے نمائندوں، مفکرین ، دانشوروں اور عوام میں اثر و رسوخ رکھنے والے افراد پر مشتمل مجلس تحفظ اتحاد کا ایک ہنگامی اجلاس انجمن شرعی شیعیان کے صدرآغا سید حسن کی صدارت میں جامعہ باب العلم میرگنڈ بڈگام میں منعقد ہوا۔موصولہ بیان کے مطابق اجلاس میں تعمیر و ترقی اور لازمی عوامی سہولیات کے حوالے سے ضلع بڈگام کی مایوس کن صورتحال کو زیر بحث لایا گیا اور اس سلسلے میں حکومت کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا ۔اجلاس میں کہا گیا کہ تعمیر و ترقی کے معاملے میں ضلع بڈگام کے ساتھ ہمیشہ ناروا سلوک روا رکھا گیا یہی وجہ ہے کہ ضلع بڈگام آج بھی وادی کشمیر کا ایک پسماندہ ضلع ہے اور لوگ گوناگوں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔بیان کے مطابق ضلع کے اکثر دیہات ابھی تک رابطہ سڑکوں، بجلی ،پانی ،صحت و صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اجلاس میں ریاستی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دیگر اضلاع کی طرح ضلع بڈگام کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لئے منصوبہ مرتب کریں ۔ اجلاس میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا گیا کہ حکومت نے کئی بار ضلع بڈگام کی تعمیر و ترقی کے لئے منصوبوں کا اعلان کیا لیکن یہ منصوبے صرف اعلانات تک ہی محدود رہے ۔بیان میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی وبا کے پیش نظر ضلع بڈگام کے ریشی پورہ علاقے میں ایک کووڈہسپتال کی تعمیر کا اعلان کیا گیاتولوگوں نے رضا کارانہ طور پر بلا معاوضہ 80 کنال زمین اسپتال کے لئے وقف کئے اور لاکھوں روپئے مالیت کے درخت بھی کاٹ دئے گئے۔بیان میں کہا گیاکہ ہسپتال کی تعمیر کا ابتدائی کام بھی شروع کیا گیا اور اچانک کسی اور جگہ منتقل کیا گیا ۔اجلاس میں گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ہسپتال کی کسی اور جگہ منتقلی کے اسباب وعوامل اور محرکات کے حوالے سے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے تاکہ عوام کوہسپتال کی منتقلی کے حوالے سے مطمئن کیا جائے۔ اجلاس میں طے پایا کہ ضلع بڈگام کی ایک نمائندہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ریاستی انتظامیہ کی توجہ ضلع بڈگام کی پسماندگی اور ضلع کے ساتھ روا امتیازی سلوک کی طرف مبذول کرائے گی۔بیان میں کہا گیا کہ اگرانتظامیہ نے سابق حکمرانوںکی طرح عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا تو ضلع بھر میں ایک موثر احتجاجی مہم کا آغاز کیا جائے گا ۔
 
 

ہندوارہ میں2افراد چرس سمیت گرفتار

ہندوارہ//ہندوارہ پولیس نے ناکہ چیکنگ کے دوران 2افرادکو چرس سمیت گرفتار کرلیا۔ پولیس کی ایک ٹیم نے کرالہ گنڈ علاقہ میں ایک جگہ ناکہ لگایا اوریہاں سے گزرنے والے افرادبشمول گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی تھی کہ اس دوران دوافرادمشکوک حالت میں پکڑے گئے۔دونوںافرادکی تلاشی لی گئی توانکی تحویل سے120گرام چرس برآمد ہوا۔گرفتارکئے گئے افرادکی شناخت اعجاز احمد بٹ اور توصیف احمد ڈار کے طور پر ہوئی ہے ۔پولیس نے دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلیا ہے۔
 

ژالہ باری سے متاثرہ کسانوں کی مالی امدادکی جائے: حکیم یاسین

سرینگر// پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے وسطی ضلع بڈگام کے خانصاحب سمیت وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میںژالہ باری سے ہوئے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مانگ کی ہے کہ متاثرہ کسانوں کو مالی امداد کے ساتھ ساتھ مفت راشن، کیمیائی کھادیں اور بیج فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ژالہ باری سے کسانوں کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اسلئے ان کو فاقہ کشی سے بچانے کے لئے حکومت کو آگے آنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ژالہ باری سے80 فیصد کسانوں کی فصلوں اور میوہ جات کو  نقصان ہوا ہے ۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ کسانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے علاوہ کسان کریڈٹ کارڈ سکیم کے تحت ان کے قرضے بھی معاف کئے جائیں۔
 
 

ڈی ڈی سی چیئرمین بڈگام کی بصیر خان سے ملاقات

سرینگر // ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) بڈگام کے چیئرمین اور دیگر ڈی ڈی سی ممبران نے لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان سے ملاقات کی اور عوامی اہمیت کے متعدد امور زیر بحث لائے۔ڈی ڈی سی چیئرمین نظیر احمد خان نے ڈی ڈی سی ممبران کے ہمراہ ایک یادداشت بھی پیش کی اور اپنے علاقے سے متعلق کئی اہم امور پر روشنی ڈالی جس میں سڑکیں ، صحت کی دیکھ بھال ، رہائش ، ہنگامی فنڈ اور اپنے اپنے علاقوں سے متعلق دیگر امور شامل ہیں۔چیئرمین موصوف نے مشیر سے درخواست کی کہ ان کے ذریعہ اٹھائے گئے معاملات کو جلد از جلد حل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔مشیر نے چیئرمین اور دیگر ممبران کو یقین دلایا کہ ان کے ذریعہ اٹھائے گئے تمام حقیقی امور پر ترجیحی بنیادوں پر غور کیا جائے گا اور ان کو حل کیا جائے گا۔
 

قبائلی طبقہ جات کو راشن سے محروم رکھنا ناانصافی:دلاور میر

سرینگر// اپنی پارٹی کے سینئرلیڈر محمد دلاور میر نے محکمہ خوراک اور شہری رسدات کی طرف سے قبائل اور خانہ بدوش طبقہ کے ساتھ روا امتیاز پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایک بیان میں میر نے کہاکہ قبائلی طبقہ جات، خانہ بدوش اور دیگر پسماندہ طبقہ جات سبھی جموں وکشمیر کے شہری ہیں اور وہ دیگر شہریوں کی طرح یکساں حقوق کے حقدار ہیں لیکن راشن دینے میں اُن کے ساتھ امتیاز برتنا انتہائی قابل ِ افسوس ہے۔ انہوں نے کہا’’صدیوں سے یہ لوگ شہروں ،قصبہ جات اور میدانی علاقوں سے بالائی علاقوں کی طرف موسم گرماکے دوران سفر کرتے ہیں اور سرما میں پھر واپس آتے ہیں لیکن کورونا کے دوران بھی اُنہیں راشن کی قلت کا سامنا ہے جوکہ افسوسناک بات ہے‘‘۔میر نے حکومت جموں کشمیر سے گذارش کی کہ اِس معاملہ کا نوٹس لیکر جلد سے جلد مطلوبہ اقدامات کئے جائیں۔ 
 
 

 حیاتیاتی تنوع کا عالمی دِن | جموں و کشمیربائیوڈائیورسٹی کونسل کی تقریب 

جموں//جموں و کشمیربائیوڈائیورسٹی کونسل نے بایوڈائیورسٹی کونسل نے“We’re part of the solution For Nature”  کے موضوع پر ایک ویبنار ترتیب دے کر حیاتیاتی تنوع کے لئے عالمی دن منایا۔ پروگرام کا اہتمام کشمیر یونیورسٹی اور جموں یونیورسٹی کے ساتھ بطور علم شراکت تھی۔ اِس پروگرام میںسابق آئی اے ایس آفیسر اور چیئرمین ایڈوائزری بورڈ سمارٹ سٹی جموں و سری نگر کیشو ورما مہمان خصوصی جبکہ کمشنرسیکرٹری محکمہ جنگلات و ماحولیات سنجیوورما مہمان ذی وقَار کی حیثیت سے موجود تھے۔کیوش ورما نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے ہم آہنگی اور سمت حاصل کرنے کے لئے شراکت داروں کے اتحاد سے فائدہ اُٹھانے کے بارے میں اَپنا تجربہ پیش کیا۔ اُنہوں نے گلوبل ٹائیگر ریکوری پروگرام کی مثال دی جس میں 13 ممالک ، 65 این جی اوز نے ٹائیگر کنزرویشن کے لئے ہاتھ ملایا۔ اُنہوں نے غیر منصوبہ بند شہریاری کے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے پہاڑی ماحولیات ، ہائی آلٹچیوٹ ویٹ لینڈ کی اہمیت اور ان علاقوں کی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیات کے تحفظ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شہری ترقی کے سنگاپور ماڈل پر بات کی اور اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سبرمتی ریور فرنٹ پروجیکٹ کے اپنے تجربے کا بھی اِظہار کیا۔کمشنر سیکرٹری جنگلات سنجیو ورما نے پائیدار ترقی کی رہنمائی کے لئے بنیاد فراہم کرنے میں بائیوڈائیورسٹی  کونسل کے رول کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے مختلف ایجنسیوں اور محکموں بالعموم اور بائیوڈائیورسٹی کونسل کو بالخصوص کے رول کو واضح کیا جن میں تمام یونیورسٹیوں اور اداروں کو شامل کرنا چاہیئے ۔وائس چانسلر جموں یونیورسٹی، ڈین کشمیر یونیورسٹی اور دیگر معززین نے بائیوڈائیورٹی کونسل کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ اُنہوں نے بائیوڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیوں کے قیام اور لوگوں کے بائیوڈائیورسٹی رجسٹروں کی تیاری اور کونسل کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں جانکاری دی۔پروفیسر شکیل احمد رومشو نے گلیشئر حیاتیاتی تنوع ،پہاڑی ماحولیات کی اہمیت اور تحفظ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔پروفیسر منوج دھر نے ہندوستان کی بائیوڈائیورسٹی کے بارے میں ایک تفصیلی وضاحت پیش کی اور ہر سطح پربائیوڈائیورسٹی تحفظ کے امور اور چیلنجوں پر غور کرنے کے لئے کہا۔ انہوں نے تحفظ میں خامیوں کو دور کرنے ، شعبے کے کام کو اہمیت دینے ، بیداری پیدا کرنے وغیرہ کی وکالت کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جموں یونیورسٹی جامع تنوع میں سینٹر آف ایکسی لینس اور بیج بینک کے قیام کے عمل میں ہے۔اس سے قبل بائیوڈائیورسٹی کونسل نے ’’ جے اینڈ کے کے حیاتیاتی پر مصوری‘‘ کے مقابلوں کا انعقاد کیا۔ایڈیشنل سیکرٹری جنگلات نے بھی اَپنے خیالات کا اِظہار کیا۔اس تقریب میں پرنسپل چیف کنزرویٹر جنگلات ، چیئرمین جموں و کشمیر بائیوڈائیورسٹی کونسل ڈاکٹر موہت گیرا ، روشن جگی اے پی سی سی ایف ، سریش کمار گپتا چیف وائلڈ لائف وارڈن ،ویٹرنرن جنگلات کے افسران لال چند ، سابق پی سی سی ایف ڈاکٹر سی ایم سیٹھی ، سابق چیئرمین پولیوشن کنٹرول بورڈ او پی شرما ، سابق پی سی سی ایف اور ممبر سیکرٹری ایس بی بی ڈاکٹر یش پال شرما ، بوٹینی شعبہ جموں یونیورسٹی کے ڈاکٹر انظر اے کھورو ، اسسنٹ پروفیسر کشمیر یونیورسٹی ندیم قادری ، ماحولیاتی وکیل اور کارکن ، نذیر بی نذیر ، این جی او نے بھی شرکت کی جس نے تقریب کے مرکزی خیال پر اپنے خیالات کا اِظہار کیا۔اس پروگرام میں متعلقہ سینئر افسران اور دیگر معززین کے علاوہ جموں و کشمیر بھر کی آٹھ بائیو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیوں کے ممبران اور محکمہ جنگلات کے فرنٹ لائن سٹاف نے بھی شرکت کی جنہوں نے بائیو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیوں کے کام اور بیداری پیدا کرنے کے بارے میں اپنے خیالات کا اِظہار کیا۔

قاری سید عثمان منصورپوری کے انتقال پر عالم اسلام مغموم

 جمعیت علماء،انجمن علماء اور نیشنل کانفرنس کا خراج عقیدت

سرینگر// جمعیت علماء اہل السنت والجماعت جموں وکشمیر،انجمن علماء وائمہ مساجدجموں وکشمیر اور نیشنل کانفرنس نے دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم ،صدر جمعیت علماء ہند اور معروف عالم دین مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی گرانقدر علمی،دینی،اصلاحی وسماجی خدمات پر انہیںخراج عقیدت پیش کیا۔جمعیت علماء اہل السنت والجماعت جموں وکشمیرکے سیکریٹری مولانا شیخ عبدالقیوم قاسمی( مہتمم دارالعلوم شیری بارہمولہ) نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مولانا کے انتقال سے نہ صرف بر صغیر بلکہ پورا عالم اسلام بالخصوص اہل علم اورارباب مدارس دینیہ وفرزندان وطن غمزدہ ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قاری عثمان کا انتقال ملت اسلامیہ کا بہت بڑا نقصان ہے ۔انہوںنے مرحوم کو ان کی دینی ،علمی،اصلاحی ،ملی و سماجی خدمات کے تئیں خراج عقیدت پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ رب العزت مرحوم کی خدمات کو قبول فرماکرجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور امت مسلمہ بالخصوص دارالعلوم دیوبند وجمعیت علماء ہند کو نعم البدل عطا فرمائے ۔انجمن علماء وائمہ مساجدجموں وکشمیرکے امیر حافظ عبد الرحمن اشرفی اورسرپرست اعلیٰ مفتی محمد قاسم ،نائب امیر مفتی توصیف الرحمن قاسمی،سیکریٹری جنرل مفتی شیراز احمد ، امور مکاتب کے صدر مولانا قاری طارق احمد،سیکریٹری مفتی عرفان الامین ،ترجمان مفتی بلال احمد،مفتی اعجاز احمد،مولانا محمد شفیع ترالی، مفتی شبیر احمد،محمد یوسف چراغ (چیئرمین فلاح دارین) ویلفیئر سوسائٹی اسلام آباد، حافظ اعجاز احمد بلالی،قاری عبدالکریم ،مولانا محمد یونس چراغ ،قاری عبدالرحمن رحیمی ،صوبائی صدر مولانا محمد یونس مظاہری ،مفتی محمد حسین مظاہری،مولانا عبد العزیز صفدر،مفتی عبدالنور، مولانا محمد یعقوب رشیدی،مفتی فیاض احمد،قاضی عبدالرحمن مظاہری ،قاری عبدالولی ،مفتی مشتاق احمد،مولانا عبدالجبار،حافظ بلال الاسلام اورحافظ ریاض الاسلام وغیرہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میںمولاناقاری عثمان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ۔بیان کے مطابق موصوف اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم دین اور شیخ الاسلام علامہ سیدحسین احمد مدنی کے داماد تھے ۔بیان کے مطابق مولانا مرحوم کے پوری دنیا میں ہزاروں شاگرد ،علماء کرام وائمہ مساجد کی شکل میں آپ کے لئے صدقہ جاریہ کا سبب ہیں۔ انجمن نے مرحوم کی جنت نشینی اور لواحقین کیلئے صبرجمیل کی دعا کی ۔ادھر دارالعلوم سید المرسلین چوگام قاضی گنڈ کے نائب مہتمم قاری غلام محمد شاہ ،سیکریٹری جنرل غلام نبی ڈار، مجلس شوریٰ کے صدر ماسٹر عبدالمجید اور تمام مدرسین وملازمین نے بھی مولانا مرحوم کے لواحقین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے رنج و الم کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے مرحوم کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی۔ مولانا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرحوم بلند پایہ عالم دین تھے جنہوں نے دیوبند میں طلباء کو قرآن اور حدیث کی تعلیمات سے منور کیا۔ 
 

کشمیر میںگذشتہ 5 ماہ کے دوران قصورواردکانداروں سے 12.24 لاکھ کا جرمانہ وصول

سرینگر // محکمہ فوڈ سیول سپلائز اور امور صارفین (ایف سی ایس اینڈ سی اے) نے گذشتہ 5 ماہ کے دوران کشمیر میں طرح طرح کی خلاف ورزیوں کے الزام میں دکانداروں ، تھوک فروشوں اور دیگر ڈیلروں سے 12.24 لاکھ روپئے کا جرمانہ وصول کیا۔ایف سی ایس اور سی اے نے مختلف شعبوں کے ذریعے تمام 10 اضلاع میں بڑے پیمانے پر بازاروں کا معائنہ کیااوربہت سارے تاجروں کو خلاف ورزیوں کا مرتکب پایا گیا۔اس دوران تقریبا 137 اداروں کو بھی سیل کردیا گیا ہے جبکہ غلط کام کرنے والے دکانداروں کے خلاف مختلف تھانوں میں 40 رپورٹ درج کئے گئے۔رواں ماہ کے دوران 39 دکانوں پر جرمانہ عائد کیا گیا اور 3.47 لاکھ روپئے کا جرمانہ برآمد کیا گیا جبکہ 28 کو خلاف ورزی پر سیل کیا گیا۔
 

گاندر بل میں پنچائت سطح پر |  کووڈ کئیر مراکز کے قیام کیلئے تبادلہ خیال 

گاندر بل//دیہی علاقوں میں کووڈ 19 کے بہتر انتظام کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنر گاندر بل کریتیکا جیوتسنانے متعلقہ افسران کی ایک میٹنگ طلب کی جس میں لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایات کے مطابق  5 بستروں پر مشتمل کووڈ کئیر سنٹروں کے قیام پر تبادلہ خیال کیا ۔ ڈی سی گاندر بل نے کہا کہ ہر پنچائت میں کووڈ کئیر سنٹروں میں 5 آئسولیٹڈ بیڈ ، کووڈ کٹس جس میں دوائیں ، آکسیمیٹر ، گلو کو میٹر ، تربیت یافتہ طبی عملہ اور ضرورت کے مطابق دیگر ضروری ساز و سامان دستیاب رکھا جائے ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ اس بنیادی ڈھانچہ کو پنچائتی سطح پر آئسولیشن کی سہولیات کی فراہمی کیلئے تشکیل دیا جائے گا ۔ یہ سہولیات مثبت مریضوں کو اپنے گھروں میں آئسولیشن کی سہولیات میسر نہ ہونے کی صورت میں دستیاب رکھی جا رہی ہیں ۔ میٹنگ کے دوران نشاندہی شدہ عمارتوں جن میں کووڈ کئیر سنٹر قائم  کئے جائیں گے اُن میں طبی ساز و سامان ، رسد ، پانی کی دستیابی ، بیت الخلاء اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول کیلئے ٹیمیں تشکیل دینے پر تبادلہ خیا ل کیا گیا ۔ میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ ضلع کی تمام 126 پنچائتوں میں سی سی سی کے قیام کیلئے پہلے سے موجود مقامات کی نشاندہی کی جا رہی ہے علاوہ ازیں متعلقہ سامان کی خریداری کا عمل بھی جاری ہے ۔ ڈی سی نے تمام متعلقہ افسران سے کہا کہ وہ کوارڈی نیشن کے ساتھ کام کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جلد سے جلد مطلوبہ آلات کی خریداری سمیت تمام سہولیات کو بروئے کار لایا جائے تا کہ ہر پنچائت میں مقررہ مدت کے اندر آئسو لیشن سہولیات قائم کی جا سکے ۔ انہوں نے بی ایم اوز سے کہا کہ وہ مقامی پی آر آئی کے ساتھ آپسی تال میل اور مزید لگن و تندہی کے ساتھ کام کریں۔ اس کے علاوہ دیہی سطح پر کووڈ کے انتظام پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی جائے جس میں کووڈ 19 انتظامیہ اور طرز عمل میں تبدیلی پر نگرانی ، اسکریننگ ، آئسولیشن اور آگاہی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ میٹنگ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گاندر بل ، فاروق احمد بابا ، اسسٹنٹ کمشنر پنچائت بلقس جان ، چیف پلاننگ آفیسر ، سی ایم او اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔ 
 
 
 
 
 
 
 

بھرتی بورڈ کی تردید

 
جموں//جموں وکشمیر سروس سلیکشن بورڈ نے گزشتہ یوم کشمیر کے ایک روزنامہ میں شائع کردہ ’’جے اینڈ کے ایس ایس بی دو مہینے کے بعد بھی درجہ چہارم اَسامیوں پر تیزی سے بھرتیوں کے نتائج کا اعلان کرنے میں ناکام‘‘کے عنوان سے شائع ہونے والے خبروں کی بھرپور تردید کی۔ آج واضح کیا گیا کہ یوٹی ، صوبائی اور ضلعی کیڈر درجہ چہارم کے لئے تحریری امتحانات 27 ، 28؍ فروری اور یکم مارچ 2021ء کو متعدد بیچوں میں منعقد ہوئے جس میں 3.28 لاکھ اُمیدوارشریک ہوئے۔بورڈ نے ان عناصر کی شدید مذمت کی ہے جو سروسز سلیکشن بورڈ کے خلاف غلط اور گمراہ کن معلومات کی تشہیر کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور دیگر ڈیجیٹل طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ بورڈ اور اس کے افسران کو کسی غیر یقینی ، جھوٹی ، گمراہ کن اور توہین آمیز معلومات کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے۔ 
 
 

 اہم تنصیبات کو چوبیسوںگھنٹے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں :بصیرخان

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے یہاں سول سیکرٹریٹ میں پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ( پی ڈی ڈی ) کے کام کاج کا جائیزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ منعقد کی ۔ میٹنگ میں چیف انجینئر کے پی ڈی سی ایل کشمیر ، چیف انجینئر کے پی ٹی سی ایل کشمیر اور چیف انجینئر پروجیکٹس اینڈ پرکیورمنٹ کشمیر نے شرکت کی ۔ مشیر بصیر خان نے مرکزی تعاون سے چلنے والے مختلف سکیموں جیسے آر اے پی ڈی آر پی ، آئی پی ڈی ایس ، ڈی ڈی یو جے جے وائی اور پی ایم ڈی پی کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائیزہ لیا ۔ سی ایس ایس پر فزیکل اور فائنانشل پیش رفت کا جائیزہ لیتے ہوئے مشیر نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام رکاوٹوں اور آر او ڈبلیو معاملات کو دور کریں تا کہ پروجیکٹوں پر عمل درآمد کو تیز تر بنایا جا سکے ۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ کاموں کو ترجیح دیں اور ان پروجیکٹوں کی جلد تکمیل کیلئے مقررہ ٹائم لائینز مرتب کریں ۔ میٹنگ کے دوران مشیر کو بجلی کی فراہمی کی موجودہ صورتحال اور صارفین کو بجلی کی مناسب فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے بجلی کی صورتحال کو بہتر بنانے اور بڑھانے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ۔ مشیر نے افسران کو ہدایات دیں کہ وہ  اہم پروجیکٹوں خاص کر رسیونگ سٹیشنوں کو موسم سرما کے آغاز سے پہلے مکمل کریں ۔ مشیر نے اہم اداروں خصوصاً ہسپتالوں اور آکسیجن پلانٹوں کو چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ مناسب بیک اپ کی فراہمی کو بھی عمل میں لایا جائے ۔ مشیر نے بجلی چوری اور غیر قانونی کنکشنوں پر قدغن لگانے کیلئے تمام اضلاع میں معائینہ تیز کرنے کی ہدایت دی ۔ چیف انجینئر ٹرانسمیشن نے مشیر کو بتایا کہ ٹرانسمیشن کی گنجائش کو600 ایم وی اے سے بڑھانے کیلئے محکمہ کام کر رہا ہے جو سال کے آخر تک مجموعی طور پر 2800 ایم وی اے ہو جائے گی ۔ 
 
 
 

ڈی آئی جی شمالی کشمیر کاسوپوردورہ | پولیس اہلکاروں کی شکایات کاازالہ کیاجائے گا

سوپور//بارہ مولہ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ،سجیت کمار نے سنیچروار کوسوپور کادورہ کرکے یہاں پولیس حکام سے تبادلہ خیال کیا۔پولیس ڈویژن سوپور میں سینئر پولیس حکام کے ساتھ تبادلہ خیال میں انہوں نے حفاظتی صورتحال،جنگجومخالف کارروائیوں اور کووِڈ سے بچائوکے اقدامات کاجائزہ لیا۔مابعد ڈی آئی جی شمالی کشمیرنے پولیس لائینزسوپور کا دورہ کرکے وہاں ایک سادہ تقریب کے دوران بہادری کیلئے جموں کشمیر پولیس اعزازات سے نوازے گئے پولیس حکام اور اہلکاروں کی عزت افزائی کی ۔اس موقعہ پرڈی آئی جی شمالی کشمیراور ایس پی سوپورسدانشوروما نے اعزازپانے والے اہلکاروں اور حکام کویہ میڈل عطاکئے۔سجیت کمار نے پولیس دربار میں جوانوں سے خطاب کیااوران کی شکایات کوبغور سُنا۔اس موقعہ پرانہوں نے سوپور پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔انہوں نے پولیس حکام اور اہلکاروں کو مستقبل کی مشکلات کا پیشہ ورانہ طورمقابلہ کرنے کیلئے چوکنا رہنے کی تلقین کی۔انہوں نے اہلکاروں کو یقین دلایا کہ ان کی شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے ہرممکن اقدام کئے جائیں گے۔
 
 
 

ڈی ڈی سی ممبروں کو بند رکھنا انتخابی مقصد کے منافی: محبوبہ مفتی

یواین آئی
سری نگر// پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ وسطی ضلع بڈگام کے ڈی ڈی سی ممبروں کو سیکورٹی کے نام پر بند رکھنا انتخابات کے مقصد کے منافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں مرضی کے برعکس بند رکھ کر اپنی اپنی انتخابی نشستوں کا دورہ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کو اپنے ایک ٹویٹ میں کیا ہے ۔ ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کیا ہے جس میں مذکورہ ممبران کو ایک بیان دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ۔ محبوبہ مفتی کا اپنے ٹویٹ میں کہنا تھا، ’’بڈگام کے ڈی ڈی سی ممبروں کو سات ماہ سے بند رکھنا انتخابات کے مقصد کے منافی ہے ۔ اپنی مرضی کے برعکس بند رکھ ان کو اپنی اپنی انتخابی نشستوں کا دورہ کرنے سے بھی باز رکھا جا رہا ہے ۔ وہ اس قدر تنگ آئے ہیں کہ مستعفی ہونے کی پیشکش کر رہے ہیں‘‘۔ٹویٹ کے ساتھ پوسٹ کئے جانے والے ویڈیو میں ان ممبران کے ایک گروپ کو دیکھا جا سکتا ہے جن میں سے ایک ممبر کو کاغذ سے یہ پڑھتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ،’’'افسوس کا مقام ہے کہ ہم سات ماہ سے قید و بند کی زندگی گذار رہے ہیں، ہم اپنے اہل خانہ سے دور ہوچکے ہیں اور ہمارے بچوں کا تعلیمی مستقبل بھی خراب ہوچکا ہے کیونکہ سرکار نے آج تک ہماری کوئی تنخواہ واگذار نہیں کی‘‘۔ویڈیو میں ان کا کہنا ہے ،’’'سرکار کے پاس اگر ہمارے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے تو وہ ہمارا استعفیٰ منظور کرے اور ہم سرکار سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ہماری سیکورٹی واپس لے ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ‘‘۔وہ مزید کہتے ہیں،’’سرکار نے ہم سے ضلع ترقیاتی فنڈ کا ورکس پلان مانگا ہم نے وہ دیا لیکن ہم اپنی اپنی نشستوں میں جا نہیں پا رہے ہیں‘‘۔
 
 

بارہمولہ،پلوامہ اور شوپیان کے ضلع کمشنروں کی بریفنگ | کووِڈوباء کا مقابلہ کرنے کے اقدامات اور حصولیابیوں کی جانکاری دی

پلوامہ //بارہ مولہ،پلوامہ اور شوپیان اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے سنیچروار کو میڈیا نمائندوں کو کووِڈ19کی دوسری لہر سے نمٹنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی جانکاری دی۔ ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ بصیر الحق چودھری نے ضلع انتظامیہ کی جانب سے ضلع میں کووڈ ۔19 وباء کی دوسری لہر سے نمٹنے کیلئے حاصل کی گئی کامیابیوں اور تیاریوں کے بارے میں جانکاری دی۔ کووڈ۔ 19 وباء پر قابو پانے کے سلسلے میں اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں مختصر بیان دیتے ہوئے ڈی سی نے کہا کہ اس وقت ضلع میں 2700 مثبت معاملات ہیں جن میں کووڈ کٹس تقسیم کی جا رہی ہیں اور اب تک 1200 کٹس تقسیم کی جا چکی ہیں جبکہ باقی کٹس اگلے دو یا تین دن میں تقسیم کی جائیں گی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع میں تمام 190 پنچائت حلقوں میں 5بستروں پر مشتمل کووڈ کئیر مراکز قائم کئے جا رہے ہیں جو آکسیجن ، کونٹریٹرس ، آکسیمیٹرز ، ماسک ، بیڈز وغیرہ کی سہولیات سے لیس ہوں گے ۔ منی سیکرٹریٹ ارہامہ شوپیاں میں میڈیا کو بریف کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شوپیاں سچن کمار واشیا نے یہ واضح کیا کہ ضلع انتظامیہ کووڈ 19 وبائی امراض کی دوسری لہر سے نمٹنے کیلئے بہتر طور کام کر رہی ہے اور انتظامیہ ضلع میں کورونا وائیرس کی چین کو توڑنے کیلئے پیش پیش ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع انتظامیہ کووڈ 19 کے بڑھتے معاملات سے پیدا شدہ صورتحال پر بھی کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے ۔ ہسپتال میں داخل مریضوں کے ساتھ ساتھ گھروں پر کورنٹین ہوئے مریضوں کو میڈیکل کٹس مہیا کی گئی ہیں اور ایک فزیشن کے ساتھ ڈاکٹروں کی ٹیم بھی روزانہ  ان کی جانچ پڑتال کیلئے ہر وقت تیار رہتی ہے اور انہیں بہتر علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔ ادھرکووڈ ۔19 وباء کی تازہ ترین صورتحال اور ضلع انتظامیہ کے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بارہمولہ بھوپندر کمار نے بتایا کہ مریضوں کی صحتیابی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ مثبت شرح میں کچھ دنوں سے کمی واقع ہو رہی ہے ۔ ڈی سی نے کہا کہ یہ عوامی تعاون سے ممکن ہوا ہے جس نے حکومت کی جانب سے جاری رہنما خطوط پر سختی سے عمل کیا ہے ۔ انہوں نے کووڈ وباء کی روکتھام کیلئے عوام کے مزید تعاون کی اپیل کی ۔ مختلف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ڈی سی نے بتایا کہ جی ایم سی میں حال ہی میں قائم 62 بستروں پر مشتمل اضافی وارڈ میں وینٹیلیٹروں کو کیس ٹو کیس بنیاد پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے سے موجود مراکز کے علاوہ 5 اضافی کووڈ 19 صحت مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں تا کہ بڑھتے ہوئے چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ 
 
 

کووِڈ- 19ٹیکہ کاری میں سست رفتاری کیوں؟کمال | ویکسی نیشن کے اعداد و شمار حکومتی دعوئوں کے برعکس

سرینگر//نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر خصوصاً وادی میں کووڈ مخالف ٹیکہ کاری میں سست رفتاری پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف ویکسین کو کورونا کیخلاف جنگ میں واحد ہتھیار قرار دیا جارہاہے لیکن دوسری جانب یہاں حکومت ویکسینوں کی دستیابی اور ٹیکہ کاری کی سرعت رفتاری میں سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کورونا مخالف ٹیکہ کاری کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے لیکن حکومتی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تشویشناک امر یہ ہے کہ عید کے بعد 7دن تک جموں وکشمیر میں ٹیکہ کاری لگ بھگ صفر کے برابر رہی ہے ۔ اگرچہ 19مئی کو ٹیکہ کاری دوبارہ شروع کی گئی لیکن دونوں صوبوں میں اس کی رفتار انتہائی سست ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ جموں میں کے اعداد و شمار اگرچہ قدرے بہتر ہیں لیکن وادی کی رفتار انتہائی سست ہے۔ 20مئی کو جموں میں 13760لوگوں کو ویکسین لگائے گئے جبکہ وادی میں صرف 2590لوگوں کو ہی ٹیکہ لگایا گیا۔اسی طرح 21مئی کو بھی جموں میں 11910لوگوںکو ویکسین لگائے گئے جبکہ وادی میں صرف2561لوگوں کی ٹیکہ کاری ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ جموں کے تمام اضلاع میں ابھی تک 30لاکھ کے قریب کورونا مخالف ٹیکے لگائے گئے لیکن وادی میں ابھی تک اس 50فیصد بھی مکمل نہیں کی گیا ہے۔یہاں ابھی تک ساڑھے13لاکھ ٹیکے ہی لگائے گئے ہیں۔  ڈاکٹر کمال نے کہا کہ وادی میں ٹیکہ کاری کی سست رفتاری کی کیا وجہ ہے ، عوام کو حکومت سے اس سوال کا جواب طلب کرنے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کافی بلند بانگ دعوے کررہی ہے اور عوام کو کووڈ مخالف ٹیکہ لینے کیلئے کہا جارہا ہے لیکن زمینی سطح کے اعداد و شمار ان تمام دعوئوں کی قلعی کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جن لوگوں نے پہلا ٹیکہ لگایا ہے وہ دوسرے ٹیکے کیلئے رجسٹریشن سے قاصر ہیں اور بیشتر لوگ پہلے ٹیکے کیلئے بھی ترس رہے ہیں۔ اکٹر کمال نے حکومت پر زور دیا کہ ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات کئے جائیں اور آن لائن رجسٹریشن جیسے مشکل مراحل کا خاتمہ کرکے بڑے پیمانے پر براہ راست ٹیکہ کاری شروع کی جائے۔
 
 

ژالہ باری سے کسانوں اورمالکان باغات کونقصان | الطاف بخاری کا متاثرین کوامداد دینے کا مطالبہ

سرینگر//اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے سنیچروارکو واد ی کشمیر میں حالیہ موسلادھار بارشوں اور ژالہ باری سے ہوئے بھاری نقصانات کے لئے باغ بالکان کو بالخصوص اور کسانوں کو بالعموم خصوصی مالی پیکیج دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک بیان میں بخاری نے جنوبی اور شمالی کشمیر میں خاص طور سے میوہ کاشتکاروں اور کسانوں کو ہوئے بھاری نقصان پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور حکومت سے گذارش کی ہے کہ نقصانات کا تخمینہ لگاکر متاثرین کو معقول معاوضہ دیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پریشان حال باغ مالکان اور کسانوں کی مشکلات حل کی جائیں جوکہ زراعت وباغبانی پر منحصر جموں وکشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بخاری نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ مال، باغبانی اور زراعت محکمہ جات کے فیلڈ حکام کو کشمیر کے اطراف واکناف کے متاثرہ علاقوں میں بھیجاجائے اور وہ کسانوں وباغ مالکان کو ہوئے نقصانات کا موقع پر تخمینہ لگائیں۔ انہوں نے کہا’’میوہ کاشتکار اور کسان حالیہ ژالہ باری سے ہوئے نقصانات کی وجہ سے سخت پریشان حال ہیں، میری لیفٹیننٹ گورنر سے گذارش ہے کہ وہ متاثرہ کسانوں کیلئے جامع ریلیف پیکیج کا اعلان کرے تاکہ اُن کا بوجھ کچھ حدتک کم ہوسکے‘‘۔بخاری نے اپیل کی ہے کہ ، کویڈ کی بحرانی صورتحال اور اُن کو ہوئے نقصانات کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے ژالہ باری متاثرہ کسانوں اور میوہ کاشتکاروںنے جوزرعی قرضہ جات لئے ہیںاُ ن کی مدت کا دوبارہ سے تعین کیاجائے۔بخاری نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’قرضہ جات کے بوجھ کی وجہ سے میوہ کاشتکاروں اور کسانوں کی صورتحال مزید خراب ہوگی کیونکہ اِمسال اُنہیں توقع کے مطابق فصل یا میوہ جات ہونا کا یقین نہیں۔ حکومت کو انسانی بنیادوں پر سماج کے اِس اہم طبقہ کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے بینک قرضہ جات کی مدت کا دوربارہ تعین کرنا چاہئے اور قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے مدت کار میں توسیع کی جائے‘‘۔ انہوں نے باغ مالکان اور کسانوں کو مالی امداد دینے پر بھی زور دیا ہے تاکہ وہ بچی فصلوں کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات اُٹھاسکیں۔انہوں نے مزید کہاکہ جموں وکشمیر حکومت کو چاہئے کہ تمام طرح کے ضروری اقدامات کئے جائیں جس سے کسان اور باغ مالکان موجودہ بحران سے باہر نکل سکیں۔ حکومت فصل بیمہ اسکیم کو بھی لاگو کرے اور متاثرہ کسانوں اور باغ مالکان کی مدد جائے جوکہ اپنی فصلوں کا رواں برس ناسازگار موسم کی وجہ سے بیشتر حصہ کھوچکے ہیں۔
 
 

ترال میں ژالہ باری سے فصلوں کو نقصان |  کانگریس کااظہار افسوس

سرینگر//جموں کشمیر پردیش کانگریس کے جنرل سیکریٹری سریندرسنگھ چننی نے ترال میں ژالہ باری سے فصلوں اور میوہ باغات کو ہوئے نقصان پر افسوس کااظہار کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے ترال اور پلوامہ ضلع کے دیگر علاقوں میں بھاری ژالہ باری سے فصلوں اور میوہ باغات کو ہوئے نقصان پرسخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نقصان کا اندازہ لگانے کیلئے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائے ۔انہوں نے متاثرین کو معقول معاوضہ فراہم کرنے کی بھی مانگ کی تاکہ متاثرین کھیت باڑی کی سرگرمیاں پھر سے انجام دے سکیں۔
 
 

’کمزصورہ میں تمام وارڈوں کو قابل کاربنایا جائے‘

سرینگر//بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئر رہنماڈاکٹر درخشاں اندرابی نے شیر کشمیرانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس صورہ میں  تمام وارڈوں کو عوام کی سہولیات کیلئے قابل کار بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس دوران مرکزی وزیرمملکت ڈاکٹر جتندرسنگھ نے جموں کشمیر کے عوام کو یقین دلایا ہے کہ مرکزی حکومت جموں کشمیرکے لوگوں کو اس وائرس سے نجات دلانے کیلئے تمام اقدام کرے گی۔ایک بیان کے مطابق مرکزی وزیرڈاکٹر جتندرسنگھ کی سربراہی میں بھارتیہ جنتاپارٹی کشمیریونٹ کی ایک ورچیول میٹنگ منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم کے دفتر میں وزیرمملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کشمیروادی میں کووِڈ کی دوسری لہر سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں بھاجپا کے تمام عہدیداروں نے شرکت کی۔میٹنگ کے دوران بھارتیہ جنتاپارٹی کی ترجمان ڈاکٹر درخشان اندرابی نے مرکزی حکومت کے کورونا وائرس کی وباء کو قابو کرنے کیلئے،کئے گئے اقدامات کی سراہنا کی اور جموں کشمیر کے لوگوں تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے ڈاکٹر جتندرسنگھ کا شکریہ اداکیا۔انہوں نے یوٹی انتظامیہ کابھی شکریہ اداکیا جووہ کشمیر وادی میں کووِڈ کی عالمگیر وباء کو روکنے کیلئے کررہا ہے۔ڈاکٹر اندرابی نے ہرپنچایت میں کورونا مریضوں کیلئے پانچ پانچ بستر مخصوص رکھنے کیلئے لیفٹینٹ گورنر کے فیصلے کی بھی ستائش کی۔انہوں نے کہاکہ شیرکشمیرانسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسزصورہ میں کووِڈ مریضوں کی بہترین نگہداشت ہورہی ہے لیکن کووِڈ سے نمٹنے کے دوران ہمیں دیگرنازک مریضوں کا بھی خیال رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپتال میں کووِڈ مریضوں کیلئے اگرچہ مزید جگہ رکھنے کی ضرورت ہے لیکن دیگرنازک مریضوں کو نظراندازبھی نہیں کیاجاسکتا۔ ڈاکٹر اندرابی نے کہا کہ نازک مریض وادی سے باہر نہیں جاسکتے اور ہمیں اس اہم اور باوقار ادارے میں تمام ہنگامی اورکرٹیکل کیئر طبی سہولیات کوکسی تاخیر کے بغیربحال کرنا ہوگا۔انہوں نے مرکزی وزیر کو عوام کو درپیش مشکلات سے بھی باخبر کیا۔ڈاکٹر جتندر سنگھ نے انہیں یقین دلایا کہ مرکزی حکومت کشمیر کے لوگوں کو کووِڈ سے نجات حاصل کرنے کیلئے سبھی ممکنہ سہولیات بہم رکھے گی۔ڈاکٹر اندرابی نے مابعد جدید ترین کووِڈکیئرسہولیات جموں اور کشمیرمیں قائم کرنے کیلئے فوج کا شکریہ اداکیا۔
 
 

اسٹیرائیڈس کااندھادھند استعمال | ’کالی پھپھوند‘کی وجہ:ڈاک کاانتباہ

سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ بلیک فنگس’’کالی پھپھوند‘‘ کووِڈ  -19مریضوں کو زیادہ مقدار میں اسٹرایڈز ادویات دینے سے ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد ، بہت زیادہ اور بہت طویل اسٹیرائڈز دینے سے کوویڈ مریضوں کو کالی پھپھوند کا شکار بن سکتا ہے۔ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر نے ہفتہ کو کوڈ 19 مریضوں میں غیر منطقی اسٹیرایڈز کے استعمال کے خلاف متنبہ کیا۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن صدر اور انفلوئنزا ماہر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہااسٹیرائڈز کا اندھا دھند استعمال مہلک پھپھوندانفیکشن کو متحرک کرسکتا ہے ، جسے’ مائکورمائکوسس‘ کہا جاتا ہے جو ملک کی متعدد ریاستوں میں وبائی تناسب تک پہنچ چکا ہے۔ڈاکٹر  نثارالحسن نے کہا کہ اسٹیوئڈز شدید کوویڈ مریضوں کیلئے زندگی بچانے والی دوائیں ہیں جنھیں سانس کی تکلیف ہوتی ہے یا انہیں آکسیجن یا وینٹیلیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میںکی گئی ایک سروے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹیوڈائڈ شدید کووڈ 19 کی اموات کو کم کرتے ہیں۔ جب وہ معمولی بیماری والے مریضوں کو دی جائیں تو وہ اموات میں اضافہ کرتے ہیں۔ڈاکٹر نثار نے کہاہم دیکھ رہے ہیں کہ ہلکے کووِڈ مرض کے مریضوں کو اسٹیرائڈز دیئے جارہے ہیں۔جب ان لوگوں کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی ہیں تو لوگ خود ہی اسٹیرائڈس استعمال کر رہے ہیں۔ڈاک صدر نے کہا کہ کوڈ۔19 ایک بائیفاسک بیماری ہے۔ کوڈ کا پہلا ہفتہ وائرس نقل کا مرحلہ ہے۔ ایسا نہیں جب آپ اسٹیرائڈز کا استعمال کریں۔انہوں نے کہا یہ جسمانی ہائپر سوزش والے ردعمل کا مقابلہ کرنے کے لئے دوسرے مرحلے میں (دوسرے ہفتے) اسٹیرایڈز دیئے جائیں گے ، جسے بڑے پیمانے پر سائٹوکائن کہا جاتا ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہالیکن بیماری کے آغاز پر ہی مریضوں کو اسٹیرائڈز دیئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد ، بہت زیادہ اور بہت طویل اسٹیرائڈز دینے سے کوویڈ مریضوں کو کالی پھپھوند کا شکار بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کوویڈ مریضوں میں کئی انفیکشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جو ذیابیطس کے مریض ہیں اور اسٹیرائڈز لے رہے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ فنگل انفیکشن کے امکان کو روکنے کا ایک طریقہ یہ یقینی بنانا ہے کہ کوویڈ مریضوں کو صحیح خوراک پر اسٹیرائڈز دیئے جائیں۔ صحیح وقت اور صحیح مدت کے لئے۔ ڈاکٹر نثار نے کہابھارت میں اب تک  8800سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں جن میں سے 200افراد جان لیوا بیماری سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
 
 

ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ کاکووِڈ کنٹرول کامعائینہ 

کپواڑہ// ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ اِمام الدین نے یہاں ڈی سی آفس میں ’ڈیزاسٹر کم کووِڈ کنٹرول روم‘ کا معائینہ کیا۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنرنے کنٹرول روم کے کام کاج کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ فون کالوں اور شکایات کا بروقت اَزالہ یقینی بنانے کے لئے مزید تند دہی اور لگن سے کام کریں۔جانکاری دی گئی کہ کنٹرول روم کا ہیلپ لائن نمبر 01955-253522 ہے ۔اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ کووِڈ کنٹرول روم پہلے ہی سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کپواڑہ میں ہیلپ لائن نمبر 01955-253658پر مشتمل ہے۔مزید بتایا گیا کہ کووِڈوَبائی امراض کی وجہ سے پیداشدہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلع کے تمام بی ایم او دفاتر میں علاحدہ کنٹرول روم بھی کام کر رہے ہیں۔
 
 

بیروہ میںکرنٹ لگنے سے ترکھان لقمۂ اجل

گاندربل //ارشاد احمد// ضلع بڈگام کے سونہ پاہ بیروہ گائوں میں ہفتے کے روز کرنٹ لگنے سے ایک 48 سالہ مزدور کی موت ہوگئی اور اس کا ساتھی زخمی ہوگیا۔ یہ دونوں ایک مقامی جوائنری مل میں کام کررہے تھے۔دونوں مذکورہ کارخانے میں کچھ تزئین و آرائش کا کام کررہے تھے اور انہوں نے ایک ٹین کی چادر پکٹری ہوئی تھی جس کے دوران اسے ایک بجلی کی تار نے چھو لیا۔ٹین کی چادر کو کرنٹ لگنے سے دونوں کو شدید کرنٹ لگ گئی اور فاروق احمد نجار (48) ولد محمد صادق ساکن بون زانگم بیروہ اور غلام محمد (56) ولد محمد صدیق سکنہ کھٹریلا نجان ، شدید زخمی ہوئے۔دونوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ، تاہم فاروق راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا جبکہ غلام محمد کو سرینگر منتقل کیا گیا،جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے۔
 
 

سرینگرمیںآکسیجن کی پیداوار | 20 روزمیں9375فی منٹ اضافہ 

سری نگر//یواین آئی// ضلع مجسٹریٹ سری نگر محمد اعجاز اسد کا کہنا ہے کہ ضلع میں گزشتہ 20 دنوں کے دوران آکسیجن کی پیداواری صلاحیت میں 9375 لیٹر فی منٹ کا اضافہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سری نگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں ایک ہزار لیٹر فی منٹ والے دو نئے آکسیجن پلانٹوں کو نصب کیا گیا ہے ۔موصوف نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کو اپنے ایک ٹویٹ میں کیا ہے ۔ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا،’’سری نگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں ایک ہزار لیٹر فی منٹ کی پیداواری صلاحیت والے دو نئے آکسیجن جنریشن پلانٹوں کو نصب کیا گیا ہے ۔ ضلع میں گزشتہ 20 دنوں کے دوران آکسیجن کی گنجائش میں 9375 لیٹر فی منٹ اضافہ کیا گیا ہے ‘‘۔بتادیں کہ جموں و کشمیر میں بھی کورونا کی دوسری لہر کا قہر جاری ہے ۔انتظامیہ نے اس لہر کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے یونین ٹریٹری کے سبھی بیس اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے ۔
 
 

لاک ڈائون خلاف ورزیاں | 941افراد سے 145360روپے جرمانہ وصول

سرینگر//گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پولیس نے کووِڈ لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں 214افراد کو گرفتار کرکے 102ایف آئی آر درج کئے  اور941افراد سے ایک لاکھ پنتالیس ہزار تین سوساٹھ  روپے جرمانہ وصول کیا۔اس کے علاوہ بڈگام میںایک گاڑی کو ضبط اور دودکانداروں کے خلاف کیس درج کیاگیاجنہوں نے کورونا رہنما خطوط کی خلاف ورزی کی تھی۔ کووِڈ لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پولیس کی یہ مہم جاری رہے گی۔پولیس نے عوام سے کووِڈ لاک ڈائون کی پاسداری کرنے کیلئے تعاون طلب کیاہے۔
 
 

 پٹن میںچھُراگھونپنے والا24گھنٹوں کے اندر گرفتار

بارہمولہ//بارہمولہ پولیس نے چھراگھونپنے والے ایک مجرم کو چوبیس گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا۔21مئی کی شام کو تری کول بل کے ایک شہری منظور احمدوانی ولدعلی محمد وانی کویاسین حجام نامی ایک شخص نے چھراگھونپ کرزخمی کردیا۔ملزم موقعہ واردات سے اس کے بعد فرار ہوا۔مقامی لوگوں نے زخمی کو فوری طور اسپتال لیجایا جہاں سے اُسے مزید علاج کیلئے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس نے اس سلسلے میں ایک ایف آئی آر زیرنمبر135/2021درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کی۔پولیس حکام نے ایس ڈی پی اوپٹن کی نگرانی اور ایس ایچ اوپٹن کی سربراہی میں ایک ٹین تشکیل دی تاکہ ملزم کو گرفتار کیا جائے۔پوچھ تاچھ کے دوران پولیس نے کئی مقامات پر چھاپے مارے اورآخر کارسنیچروار صبح کوملزم کو پکڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہے۔
 
 

ائر پورٹ پر فوجی اہلکار کا انتہائی اقدام

سرینگر //سرینگرکے مضافاتی علاقہ رنگریٹ میں قائم اولڈ ائر پورٹ میں تعینات ایک فوجی اہلکارنے خودکوپھانسی دیکر خودکشی کرلی ۔ کوٹلی کلاں ہریانہ کے رہنے والے ایک فوجی جوان نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر ائرفورس اسٹیشن رنگریٹ میں خودکوپھانسی پرلٹکایا،جسکے نتیجے میں اُسکی موت واقعہ ہوگئی ۔پولیس نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اس سلسلے میں معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ۔
 
 

قاضی گنڈ میں نوجوان کی لاش سڑک کنارے پائی گئی

قاضی گنڈ//قاضی گنڈ کے کیواگائوں میں ایک نوجوان کی لاش پراسرارحالات میں پائے جانے کے بعد سراسیمگی پھیل گئی۔معلوم ہوا ہے کہ مقامی لوگوں نے27برس کے حذیف احمدخان ولدعطامحمد خان ساکن چک وانگنڈکی لاش کو سڑک کنارے دیکھااور پولیس کو مطلع کیا۔اس دوران وہاں لوگوں کی بھیڑ جمع ہوئی اور مقامی پولیس بھی موقعہ پر پہنچ گئی۔پولیس نے نوجوان کی لاش کونزدیکی اسپتال منتقل کیا۔ایس ایچ اوقاضی گنڈریشی ارشاد نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ نوجوان کی موت پراسرار حالات میں ہوئی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد باضابطہ ایف آئی آر درج کرکے مزیدتحقیقات شروع کی جائے گی ۔جے کے این ایس کے مطابق پوسٹ مارٹم اوردیگرلوازمات مکمل کرنے کے بعدپولیس نے نوجوان کی میت کوآخری رسومات کی ادائیگی کیلئے لواحقین کے سپردکردیا ۔ایس ایچ ائو نے بعدازاں کہاکہ ابتدائی طور پرسی آرپی سی 174کے تحت معاملہ درج کیاگیا ہے اورپوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعدباضابطہ طورپرایف آئی آردرج کرکے کیس کی تحقیقات کوآگے بڑھایا جائیگا۔
 
 

 سائیکوسوشل کونسلنگ | کشمیریونیورسٹی میں یک روزہ آن لائن ورکشاپ

سرینگر//کشمیریونیورسٹی میں ایک آن لائن سائیکوسوشل کونسلنگ ورکشاپ کااہتمام کیا گیا۔’’گائیڈنس فارسائیکوسوشل کونسلنگ اینڈ کووِڈہیلپزاسکل‘‘موضوع کایہ ورکشاپ مہاتماگاندھی نیشنل کونسل فار رورل ایجوکیشن اور کشمیریونیورسٹی کینیشنل سروس اسکیم کے دفتر نے مشترکہ طور کشمیرخطے کے این ایس ایس پروگرام افسروں کیلئے کیاتھاتاکہ وہ طلبہ رضاکاروں کو درپیش مشکلات کوسمجھ سکیں اورکووِڈ – 19متاثرین کی مدد کو پہنچ سکیں۔ مہاتماگاندھی نیشنل کونسل فار رورل ایجوکیشن کے ریسورس پرسن ڈاکٹر پلوی کول اور ڈاکٹرپریاورت شرما نے کہا کہ ورکشاپ کا مقصد شرکاء کورضاکاروں کو سائیکوسوشل ہنروں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ وباء کے دوران متاثر لوگوں تک پہنچ کراپنی خدمات انجام دے سکیں ۔  کشمیرخطے کے مختلف کالجوں کے طلبہ نے اس دوران اپنے تجربات کااظہار کیا اورکووِڈ- 19سے جڑے معاملات جن میں ذہنی تنائو،سماجی بٹہ،غلط معلومات،ٹیکہ کاری کاخوف وغیرہ شامل ہیں،کواُجاگر کیا۔
 
 

ایندھن ٹینکر ایسوسی ایشن کی لداخ کوسپلائی بند کرنے کی دھمکی

جموں//جموں میں تیل ٹینکروں کی یونین نے لداخ انتظامیہ کے ذریعہ 'ہراساں کرنے' کا الزام لگایا ہے ، اور یوٹی کو سپلائی  بند کرنے کی  دھمکی دی ہے۔یونین کے صدر رنجیت سنگھ راینہ کے مطابق ، ڈرائیوروں کو ہراساں کرنے کے خلاف کوئی مثبت کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔سنگھ نے دعوی کیا کہ اس وقت "لداخ میں جموں سے تعلق رکھنے والے تین