مزید خبریں

گاندربل اور کپوارہ اضلاع میں کورونامثبت معاملات میں کمی:ڈپٹی کمشنر

گاندربل//گاندربل اور کپوارہ اضلاع میں کووِڈ- 19مثبت معاملوں میں نمایاں کمی ہوئی ہیں۔اس بات کااظہار ان اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے میڈیا بریفننگ کے دوران کیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل کرتیکا جوتسنا نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ضلع میں کووِڈ۔ 19 مثبت معاملات کی شرح 11.4 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد ہوگئی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے اِس ہفتہ کے دوران ضلع بھر میں ہونے والے ٹیسٹوں کی صورتحال کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے کہاکہ اس ہفتے 9,500 سے زیادہ ٹیسٹ کرائے گئے تھے اور مثبت معاملات کی شرح میں کمی دیکھی گئی جو ایک مثبت پیش رفت ہے ۔اُنہوں نے ضلع میں ٹیکہ کاری مہم کی صورتحال کے بارے میں تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ 45 برس کی عمر سے زیادہ عمر کے لوگوں کو کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگانے کا ہدف99فیصد مکمل ہوچکا ہے اور باقی لوگوں کو بھی جلد سے جلد کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگانے کی اپیل کی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ضلع میں ویکسی نیشن کی کافی مقدار دستیاب ہے۔کرتیکا جوتسنا نے کورونا کرفیو کے بارے میں کہا کہ کورونا کرفیو میں 31 مئی 2021ء تک توسیع کی گئی ہے اورضلع میں حکم کے مطابق کووِڈ ۔19 ایس او پیز،کووِڈ رہنما اصولوںاور ہدایات پر لوگوں کو من و عن عمل کرایا گیاہے ۔اُنہوںنے کہا ہے کہ لوگوں نے اس پر عمل کر کے ضلع میں مثبت معاملات کی شرح کو کم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔اُنہوں نے سونمرگ میں کارگل سے آنے والے افراد کی سکریننگ اور جانچ کے بارے میں بھی جانکاری دی اور کہا کہ سونمرگ میں ایک چیک پوسٹ قائم کیا گیا ہے اور آج تک 1950 افراد کی سکریننگ کی گئی اور ان میں سے 246 کوکووِڈ ٹیسٹ کیا گیا ہے جن میں سے 4اَفراد کا ٹیسٹ مثبت آیا تھاجن کو گھرمیں قرنطین کیا گیا۔مائیکروکنٹین منٹ حکمت عملی کے بارے میں ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہا کہ وائرس کی روکتھام اور مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے اس ہفتے 15 نئے مائیکرو کنٹین منٹ زون شامل کئے گئے ہیںاور اس طرح ضلع میں مائیکرو کنٹین منٹ زون 454 تک پہنچ گیا ہے اُنہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ لوگوں کی شکایات کے بروقت ازالہ کے لئے ہمیشہ دستیاب رہتی ہے اور معاشرے کے تمام طبقہ ہائے فکر سے اسی طرح کا تعاون کی خواہاں ہے جیسے اُنہوںنے وبائی امراض کو مؤثر انداز میں روکنے کے لئے پہلے تعاون کیا تھا ۔ادھرضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ امام الدین نے کہا ہے کہ عام لوگوں کے فعال تعاون سے ضلع میں دن بدن کووِڈ مثبت معاملات میں تخفیف ہو رہی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ یہاں پریس بریفنگ دے رہے تھے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہاکہ ضلع میں مثبت معاملات کی نشاندہی کرنے اور دوسرے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ رکھنے اوران کو آئیسولیٹ کرنے کے لئے نمونے لینے کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔اُنہوںنے کہا کہ ضلع میں مجموعی طور پر 10,890 مثبت معاملات سامنے آئے ہیں اور ان میں 8,849 اَفراد شفایاب ہوئے ہیں جو 81.25فیصد کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کووِڈ بحران کے خاتمے کے لئے کمر بستہ ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر کہا کہ ضلع میں مثبت معاملات کی مثبت شرح دن بدن کم ہورہی ہے اور عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ کووِڈ رہنما اصولوں اور ایس او پیز پر من و عن عمل پیر ا رہ کر اِنتظامیہ کو اَپنا تعاون جاری رکھیں۔
 

لورمنڈا ٹیسٹنگ مرکز کو 24گھنٹے کھلارکھنے کی ہدایت

عارف بلوچ
 
اننت ناگ //ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر اننت ناگ بشیر احمد وانی نے کووِڈ ٹیسٹنگ سینٹر لورمنڈہ  کا دورہ کیا اور یہاں ہورہے کام کاج کا جائزہ لیا۔اس موقع پر نوڈل آفیسر ایس ڈی ایم ڈورو غلام رسول وانی نے بتایا کہ کووڈ ٹیسٹنگ مرکز پر 11 کیبن قائم کئے گئے ہیں جہاں اب تک  19000 سے زیادہ مسافروں ، ٹرک ڈرائیوروں کے ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ کئے گئے ہیں ، اس کے علاوہ مسافروں کے رش کو مدنظر رکھتے ہوئے جانچ مرکز میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔ اے ڈی ڈی سی نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ مرکز پر تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے اس کے علاوہ مرکز پر چوبیس گھنٹے جانچ کو یقینی بنایا جائے تاکہ کوئی بھی مسافر و ڈرائیور بغیر جانچ کے وادی میں داخل نہ ہو پائے۔  انہوں نے پولیس اور ٹریفک حکام کو بھی ہدایت کی کہ وہ جائے وقوع کے قریب ٹریفک کی نقل و حرکت و پارکنگ کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے۔
 

کووِڈ کی دوسری لہر | جموں کشمیرمیں صحت ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے:میر

سرینگر//جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے دوردراز دیہات میں نامعقول سہولیات پر تشویش کااظہار کیا ہے اورجموں کشمیر میں جنگی بنیادپر صحت کے ڈھانچے کو مستحکم کرنے اور مجموعی طور بہتر بنانے پرزوردیا ہے،تاکہ ہنگامی ضروریات کوپورا کرکے وائرس کے پھیلائو کوروکا جاسکے۔پارٹی کے پردیش صدرغلام احمد میر کی صدارت میں ایک جائزہ میٹنگ کے دوران جموں کشمیر میں کووِڈ- 19کی موجودہ صورتحال  اور حکومت کی طرف سے اس بیماری کو پھیلنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کاجائزہ لیاگیا۔قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے جموں اور کشمیر میں لوگوں خاص طور سے کووِڈ مریضوں اور دیگر مستحقین کی مدد کیلئے کنٹرول روم قائم کئے ہیں۔میٹنگ کے دوران پردیش کانگریس صدرغلام احمدمیر نے شرکاء سے فیڈبیک حاصل کیااوراضلاع میں کووِڈ سے نجات حاصل کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں اضلاع کے صدور سے جانکاری حاصل کی۔میر نے کہااگرچہ لیفٹینٹ گورنرانتظامیہ حالات کو قابو میں کرنے کیلئے موثراقدام کررہی ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ صحت عامہ کے ڈھانچے کو کسی تاخیر کے بنااَپ گریڈکیاجائے اور دوردرازعلاقوں میں بھی طبی اور صحت سہو لیات مہیاکرانے پر توجہ مرکوزکی جائے،جہاں کووِڈ معاملوں میں اُچھال دیکھنے کو مل رہا ہے۔میر نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے لوگوں کو بدترین حالات کاسامنا ہے۔انہوں نے کووِڈ سے بچائو کے رہنما خطوط پرمن وعن سختی کے ساتھ عمل کرنے کی تاکید کی۔اس موقعہ پر پردیش کانگریس صدر نے ٹیکوں کی عدم دستیابی اور قلت پر تشویش کاظہار کیا اور مرکز کی کووِڈ کی دوسری لہر کا مقابلہ کرنے کی تیاریوں پر سوال کیاجس نے ملک بھر میں ہزاروں کنبوں کو تباہ کیاہے۔انہوں نے کہا کہ کاغذی گھوڑے دوڑانے اور ٹیکہ کاری کے بلندبانگ دعوئوں سے اس بحران سے نجات نہیں پایا جاسکتا ہے بلکہ اس کیلئے ریاستوں کو ٹیکوں کی سپلائی کو یقینی بنانا ہوگا۔
 

حیاتیاتی تنوع کا عالمی دن | شیرکشمیرزرعی یونیورسٹی میں آن لائن تقریب کاانعقاد

سرینگر//ارضیاتی توازن برقرار رکھنے میں حیاتیاتی تنوع کااہم کردار ہے ۔یہ ماحولیاتی نظام کی بنیاد ہے جس سے بنی نوع انسان نزدیکی کے ساتھ جڑا ہے ۔ جانوروں کی تمام اقسام، پودے، پھپھونداورحتی کہ آنکھ سے دکھائی نہ دینے والے چھوٹے جرثومے بھی ہمارے قدرتی دنیا کو بناتے ہیں ۔ان باتو ں کااظہار شیرکشمیر زرعی یونیورسٹی میں منعقدہ ایک روزہ آن لاین تقریب کے دوران ’’حیاتیاتی تنوع کے عالمی دن ‘‘کے موقعہ پر مقررین نے کیا۔آج کے دن کا موضوع تھا،’’ہم حل کاحصہ ہیں ‘‘۔اس آن لائن پروگرام کامقصد طلبہ اور فیکلٹی ارکان کو حیاتیاتی تنوع اور اس کے تحفظ کی ضرورت سے آگاہ کرناتھااوراس کااہتمام یونیورسٹی کے زرعی شعبے واڈورہ نے کیاتھا۔اس میں سو سے زیادہ طلبہ نے حصہ لیا۔ایک آن لائن کوئزمیںملک بھر کے 280 طلبہ نے شرکت کی جس میں زرعی شعبے کے تین طلاب سیدسجاعت ابلیغ ،ثانیہ سہروردی اور شیخ فائزہ ریاض نے حیاتیاتی تنو ع کے نقصان اور اس کے تحفظ پر اپنی آراکااظہار کیا ۔
 

فتح کدل میںنانبائی کمرہ میں مردہ پایاگیا

ارشاداحمد
سری نگر//فتح کدل سرینگرمیں ایک نانبائی کواپنی رہائش گاہ پرمردہ پایا گیا۔فتح کدل میںایک52برس کے نانبائی کو اپنی رہائش گاہ پر مردہ پایا گیا۔ محمد امین خان ولدعبدالرحمن کواپنے گھر میں مردہ پایا گیا۔پولیس نے موقعہ پر پہنچ کرقانونی لوازمات پورا کرنے کے بعد لاش پسماندگان کے حوالے کی اور کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔