مزید خبریں

جموں میں مزید21کورونا سے متاثر

۔23افراد شفایاب،149معاملات ابھی بھی متحرک

نیوز ڈیسک
جموں//حکومت نے کہا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران جموں صوبہ میں کورونا وائرس کے 21معاملات سامنے آئے ہیںجبکہ 23افراد شفایاب ہوگئے ہیں۔حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ جموں میں 149معاملات ابھی بھی متحرک ہیں۔بلیٹن کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ضلع جموں میں14،ضلع راجوری01، ضلع ڈوڈہ 03اورضلع رام بن میں 03 نئے معاملات آج سامنے آئے ہیں ۔اودھمپور ،کٹھوعہ ،سانبہ ، کشتواڑ ،پونچھ اوررِیاسی اضلاع سے کسی مثبت معاملے کی کوئی رِپورٹ نہیں آئی ہے۔ بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 2,36,09,405ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے08؍مارچ 2022کی شام تک2,31,56,082نمونوں کی رِپورٹ منفی اور 4,53,323 نمونوں کی رِپورٹ مثبت پائی گئی ہے۔علاوہ ازیں اَب تک61,81,749افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ اِن میں32,712اَفراد کو گھریلو قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔320فراد کوآئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ4,53,916اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اِسی طرح بلیٹن کے مطابق56,89,363اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔ کووڈ ٹیکہ کاری کے بارے میں بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 13,385کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں جس سے ٹیکوں کی مجموعی تعداد 2,16,13,171تک پہنچ گئی ہے ۔اِس کے علاوہ جموں و کشمیر میںزائد اَز 18 برس عمر کی صد فیصد آبادی کو ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔
 

 ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز‘‘ میں تجویز کا ذکر 

راجوری کی دو بہنوں نے لیفٹیننٹ گورنر کا شکر یہ ادا کیا

جموں///ضلع راجوری کے نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی دوبہنوں ودھوسی شرما اور نندنی شرما نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کا طلبا ء کو نفسیاتی سماجی نگہداشت فراہم کرنے کے بارے میں ان کی تجاویز پر غور کرنے کے لئے شکریہ اَدا کیا ہے۔اُنہوںنے کہا کہ وہ لیفٹیننٹ گورنرکے بے حد شکرگزار ہیں جو مختلف مسائل پر لوگوں کے خیالات کو سنتے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔وِدوشی شرما جو سوشل ورکس میں پوسٹ گریجویٹ ہیں اور ایک سماجی کار کن بھی ہیں ، نے کہا کہ ان کی تجویز یہ تھی کہ طالب علموں کو ابتدائی مرحلے میں نفسیاتی سماجی سپورٹ شامل کیا جائے تاکہ وہ ذہنی صحت کو اہمیت دے سکیں اور اَپنے جذبات کو منظم کرنا اور اَپنی زندگی میں ذہنی صحت کے حوالے سے مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرنا سیکھ سکیں ۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ان کی تجاویز کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت ذہنی تندرستی کو خاص اہمیت دیتی ہے اور طلباء کو نفسیاتی سماجی مدد فراہم کرنے کی ضرورت کو پوری طرح سمجھتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے 20 ؍ فروری کو ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز‘‘ کو جموںوکشمیر کے نوجوان کامیابی حاصل کرنے والوں کے لئے وقف کیا تھا۔
 
 

باغبانی شعبے کو جموں وکشمیر کے اِقتصادی منظر نامے میں ریڈ ھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل

سری نگر//باغبانی جموں وکشمیر کے اہم شعبوں میں سے ایک ہے اور یہاں کی معیشت میں بہت زیادہ حصہ رکھتی ہے۔یہ شعبہ اِس سے وابستہ لوگوں کی مالی حالت کو مضبوط کرتا ہے اور غربت کے خاتمے ، روزگار پیدا کرنے اور جموںوکشمیر یوٹی کے دیگر ترقیاتی پہلوئوں میں بھی مدد کرتا ہے۔جموںوکشمیر کی باغبانی مصنوعات کی مختلف قسمیں اَپنے اچھے معیار اور ذائقے کی وجہ سے دُنیا بھر میں شہرت حاصل کرچکی ہیں ۔ یہاں اُگنے والی پھلوں کی فصلیں جیسے سیب ، بادام اخروٹ ، ناشپاتی ، چیری اور خوبانی معتدل علاقوں میں اور آم ، لیموں ، لیچی ، پپیتا ، اَمرود وغیرہ دُنیا بھر میں مشہور ہیں۔ جموں و کشمیر میں زعفران کی کاشت دنیا میں منفرد ہے کیوں کہ یہاں دُنیا کا بہترین زعفران پیدا ہوتا ہے۔جموںوکشمیر کی باغبانی ترقی کر رہی ہے کیوں کہ نیچرل پروڈکٹس کی صنعت کی طرف سے تیار کردہ سالانہ 10,000 کروڑ روپے سے زیادہ حاصل کیا ہے جو مجموعی سٹیٹ گھریلو پیدا وار (جی ایس ڈی پی )میں 8فیصد کا حصہ ہے۔اِس شعبے سے پبلک اَتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 35 لاکھ نفوس کے 7.5 لاکھ کنبے وابستہ ہیں۔یہ شعبہ جموںوکشمیر کے نوجوانوں کے لئے خود روزگارکے مواقع پیدا کرنے کے لئے ایک اہم شعبے کے طور پر اُبھرا ہے۔جموںوکشمیرمیں پیدا ہونے والے پھلوں کے بھرپور معیار سے متاثر ہو کر اور باہر نارکٹس میں بڑی مانگ ہے ۔ ضلع کٹھوعہ سے تعلق رکھنے والے اِنڈین نوی کے ایک سابق فوجی دھیرج کمار نے زرعی کاروبار میں تبدیل کیا ہے ۔ کمار ہیرا نگر لائن سب ڈویژن میں واقع اَپنے مقامی ہری پور قصبے میں 22 کنال (2.75 اراضی کے حصے)پر کھیتوں میں شہتوت کی تین اقسام کیماروسا ، ونٹر ڈان اور نوبیلا تیار کرتا ہے ۔ شہتوت کی ترقی یہاں کاشت کرنے والے مقامی علاقے کے لئے ایک فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔کمار کٹھوعہ ایگری کلچردفتر کا شکر یہ اداکرتاہے کہ وہ مالیاتی اور خصوصی مدد اور رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ اِس کے علاوہ اسے ٹیلر۔ میڈ پلانس سے واقف کیا جاتا ہے ۔کمار مشکلات پر قابو پانے کی اَپنی مثال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 10 اَفراد کو لیولنگ ، چننے ، پیکنگ اور ٹرانسپورٹ مقاصد کے لئے ملازم رکھا ہے ۔ وہ پٹھان کوٹ اور پنجاب کے مضافات میں کٹھوعہ کو جوڑنے والے علاقوں میں شاپنگ سینٹروں اور اہم دکانوں کوشہتوت سپلائی کرتا ہے۔اُنہوں نے کہا ،’’ میں آن لائن فروخت کے آپشن کو بھی تلاش کر رہا ہوں ۔ میں چند ۔ اِی کامرس پلیٹ فارموں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہوں۔‘‘ اِس طرح سے اس کی آمدنی میں اضافہ ہوگا ۔ سبسڈی کی رقم کو 13,000 روپے فی کنال تک بڑھا دی گئی ہے جبکہ پہلے 3,125 روپے فی کنال تھی جو ان جیسے نئے آنے والوں کے کے لئے ایک بڑی مشکل تھی۔باغبانی میں زرعی صنعتوں کے قیام اور روزگار پیدا کرنے کے کافی مواقع موجود ہیں ۔ مرکزی اور جموںوکشمیر حکومتیں باغبانی شعبے کی ترقی کو وسعت دینے کے لئے پُر عزم ہے۔یہ شعبہ روزگار کے مواقع پیدا کر کے ، پیداوار کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی ترقی ، ماحولیاتی ترقی اور جموںوکشمیر یوٹی میں غربت کے خاتمے سے اگلی دہائی کے دوران معیشت میں زبردست تبدیلی لاسکتا ہے۔2020-21ء میں3.33 لاکھ ہیکٹرکے رقبے پر پھلوں کی کاشت 20.35 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی ہے۔ہارٹی کلچر جموںوکشمیر میں ایک اہم حصہ ہے اور معیشت میں بنیادی طور پر حصہ رکھتی ہے اور 33 لاکھ لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے ۔ باغبانی کی ترقی ایک اہم شعبہ ہے اور اس کی ترقی کے لئے متعدد پروگراموں کو عملایا جارہا ہے  جس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں زیادہ آمدنی پیدا ہو رہی ہے ۔ اِس طرح دیہاتوں میں معیار زندگی بہتر ہو رہا ہے ۔ جموں و کشمیر کی باغبانی مصنوعات کی مختلف قسمیں اپنے اچھے معیار اور ذائقے کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کر چکی ہیں۔مختلف فصلوں میں سیب اور اخروٹ اہم معتدل پھلوں کی فصلیں ہیں جو بالترتیب کل رقبہ کا تقریباً 75 فیصد اور پھلوں کی پیداوار کا 65 فیصد ہے۔ ہندوستان میں سیب کی کل پیداوار تقریباً 28 لاکھ میٹرک ٹن ہے اور اِس میں سے 20 لاکھ میٹرک ٹن جموں و کشمیر سے پیدا ہوتی ہے۔ پہلی بار جموں و کشمیر سے سبزیوں کے 2000 ٹرک ملک کے مختلف حصوں میں برآمد کئے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر نے دھان کی ہر ہیکٹر پر 70 کوئنٹل پیداوار سے پورے ملک میں سرفہرست مقام حاصل کیا ہے۔ ہم باسمتی کی کاشت کے 60,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبے کو اعلیٰ پیداواری زمین میں تبدیل کر رہے ہیں۔ایپل مارکیٹ بھی 8000 کروڑ تک پہنچ گیا ہے اور اس شعبے سے جڑے 30 لاکھ لوگوں کی زندگی بدل رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں پھلوں کی کاشت کا علاقہ 2001 میں 2.21 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 3.33 لاکھ ہیکٹر ہو گیا جس کے بعد بیس برسوں میں 1.22 لاکھ ہیکٹر کا اضافہ ہوا۔ایک طرف زراعت کے لئے زمین میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے لیکن دوسری طرف باغبانی کے رقبے میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے معیشتی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے۔جموںوکشمیر یوٹی میں پھلوں کی پیداوار میں اِضافہ ہوا ہے ۔ 2001ء میں پھلوں کی پیداوار10.9 لاکھ میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی تھی جواَب بڑھ کر 24.44 لاکھ میٹرک ٹن ہو گئی ہے ۔ سیب کا پھل پھلوں کی پیداوار میں زیادہ حصہ ہے ۔ اِسی عرصے میں سیب کی ترقی 9 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 18لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے ۔جموںوکشمیر کی ترقی میں اہم شراکت دار کے طور پر اُبھرتے ہوئے آنے والے برسوں میں باغبانی شعبہ پورے جموںوکشمیر کے معاشی منظر نامے کو بد ل دے گا۔
 
 

میڈیکل سپر ا ٹینڈنٹ پر ہراساں کرنے کا الزام 

عاصف بٹ
کشتواڑ //رضا کار تنظیم ’کال فار ہیلپ کے چیئر مین نے میڈیکل سپر ناٹینڈ نٹ کشتواڑ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ موصوف ان کو غیر ضروری طورپر ہراساں کررہے ہیں ۔فلاحی تنظیم کے چیئر مین مدثر اہنگر نے بتایا کہ چند روز قبل سڑک حادثہ میں زخمی ہوے افرد کے اہل خانہ نے انھیں فون پر آگاہ کیا جسکے بعد وہ ہسپتال انکے پاس گئے جس کے دوران ان کو بتایا گیا کہ 2روز سے زخمیوں کو کسی بھی ڈاکٹر نے نہیں دیکھا جس کے بعد انہوں نے شعبہ کے متعلقہ منتظمین سے رجوع کیا لیکن میڈیکل سپر نا ٹینڈ نٹ نے ان کو دفتر میں بلا کر ان کے ہراساں کیا جبکہ اس سلسلہ میں ایک آڈیو بھی وائر ل ہوئی ہے جس میں مذکورہ آفیسر ان کو کارروائی کی دھمکی دے رہے ہیں ۔موصوف نے بتایا کہ وہ غریب مریضوں کی مدد کے سلسلہ میں ہسپتال گئے ہوئے تھے لیکن ہسپتال انتظامیہ نے زخمیوں کیساتھ ساتھ ان کیساتھ تعاون نہیں کیا بلکہ ان کو ہراساں کرنے کی کوششیں کی گئی ۔دوسری جانب میڈیکل سپر نا ٹینڈنٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سبھی الزامات بے بنیاد ہیں ۔موصوف نے بتایا کہ زخمیوں کے رشتہ داروں کی کسی سے بھی کوئی با ت نہیں ہوئی اور وہ از خود مریضوں کا معائینہ کررہے ہیں ۔میڈیکل سپر نا ٹینڈنٹ نے بتایا کہ اس کیساتھ ساتھ ہسپتال کی وارڈو ں میں مریضوں کی مشکلات و عملے کی ڈیوٹی کیلئے بھی وہ ہر ممکن کوششیں کررہے ہیں ۔موصوف نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ این جی او کے نام پر ہسپتال کے کام میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ اس عمل کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس سلسلہ میں اعلیٰ حکام کو بھی آگاہ کیاگیا ہے ۔
 
  

’اپنی پارٹی ‘کا یوم تاسیس ،گاندھی نگر میں تقریب کا انعقاد 

مایوسی کے عالم میں اپنی پارٹی اُمید کی کرن بن کر اُبھری:غلام حسن میر

جموں//اپنی پارٹی سنیئر نائب صدر اور سابقہ کابینہ وزیر غلام حسن میر نے کہا ہے کہ اپنی پارٹی جموں وکشمیر میں مایوسی کے عالم میں اُمید کی کرن بن کر اُبھری ہے۔ پارٹی کے دوسرے یوم ِتاسیس پر گاندھی نگر دفتر جموں میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پارٹی لیڈران اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی کی بنیاد اُس وقت رکھی گئی جب یہاں مکمل سیاسی خلاء تھی اور تمام روایتی سیاسی جماعتیں خاموش تھیں، کوئی لوگوں کے حق میں بول کر راضی نہ تھا۔ 8مارچ2020کو پارٹی صدر سعید محمد الطاف بخاری نے جس پارٹی کی بنیاد رکھی تھی وہ آج تحریک بن چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری لڑائی فرقہ پسندی، تشدد، مذہبی اور علاقائی تعصب کے خلاف ہے اس لئے سماج کے سبھی طبقہ جات کی ہمدردی پارٹی کو مل رہی ہے۔ انہوں نے حکومت ِ ہند سے اپیل کی کہ جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ جلد بحال کیاجائے کیونکہ لوگ یونین ٹیراٹری کا درجہ ملنے سے خود کو مکمل طور بے اختیار محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے  جلد اسمبلی انتخابات کرانے کی بھی مانگ کی۔اپنی پارٹی نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی نے کہاکہ جموں وکشمیر علاقائی وسب ڈویژنل سطح پر لوگوں کی آواز بن کر اُبھری ہے، یہ جماعت لوگوں کے حقوق کا محافظ ہے۔اس پروگرام میں ریاستی جنرل سیکریٹری وجے بقایہ، جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ، منجیت سنگھ، ایڈووکیٹ نرمل کوتوال، صوبائی سیکریٹری ڈاکٹر روہت گپتا، شنکر سنگھ چب، کلونت سنگھ، رمن تھاپا، اعجاز کاظمی، بودھ راج بھگت، مدن لال چلوترہ، سلیم چودھری، رقیق احمد خان، ابہے بقایہ،پرتاپ سنگھ جموال، شبیر کوہلی، راج کمار شرما، وکرم راٹھور، وپل بالی،اشرف چوہدری، محدم آصف، جوگیندر سنگھ، ویشال جوشی، انیرودھ وسیست، شیوم چوہدری، تنویر اقبال وغیرہ بھی موجود تھے۔
 
 

پی ایچ ای ڈیلی ویجروںکا احتجاج، مستقلی کا مطالبہ

جموں//پی ایچ ای ڈیلی ویجروںنے اپنے مطالبات کے حق میں بی جے پی صدر رویندر رینہ کی رہائش گاہ کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا۔وہ اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے ریگولرائزیشن کا مطالبہ کر رہے تھے۔جب مظاہرین احتجاج کرنے گاندھی نگر پہنچے تو عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس کی دستے بھی موقع پر پہنچ گئے۔میڈیا والوں سے بات کرتے ہوئے پی ایچ ای یونائیٹڈ فرنٹ کے ایک رکن نے کہا کہ وہ بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر رویندر رینا کو اپنے مطالبات کے حوالے سے میمورنڈم سونپنے آئے تھے ۔ وہ خدمات میں ریگولرائزیشن، دہلی یو ٹی کے برابر جموں و کشمیر میں کم از کم اجرت ایکٹ کے نفاذ اور زیر التواء اجرتوں کو جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔اس دوران رویندر رینا بھی اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے اور مظاہرین سے خطاب کیا۔انہوں نے 12000 پی ڈی ڈی یومیہ اجرت والوں کو ریگولرائز کرنے کی ستائش کی۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اسی طرح پی ایچ ای یومیہ اجرت والوں کو بھی باقاعدہ بنایا جانا چاہئے،