ٹیچر بھون میں شجرکاری اور صفائی مہم کا اہتمام
جموں//ناظم سکولی تعلیم جموں ڈاکٹر روی شنکر شرما کی ہدایات پر اُستاد بھون گاندھی نگر میں شجرکاری اور صفائی مہم کا اہتمام کیا گیا ۔چیف ایجوکیشن آفیسر جموں سورج سنگھ راٹھور کی رہنمائی اور دیویندر سنگھ منہاس ، ڈپٹی چیف ایجوکیشن آیسر (نوڈل آفیسر ، ٹیچر بھون ) کی نگرانی میں پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔اِس مہم میں ضلع جموں کے الیکٹورل لٹریسی کلب کے ضلعی سطح کے ماسٹر ٹرینروں اور ٹیچر بھون کے عملے نے بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔بھون کی خوبصورتی اور دیکھ ریکھ کی مہم کے لئے ٹیچر بھون ٹیم اور سویپ ٹیم نے پودے عطیئے کئے۔
محکمہ تعلیم پہاڑی زبان کے ساتھ امتیاز برت رہا ہے
بطور مضمون ’پہاڑی زبان ‘کوسکولوں میں متعارف نہیں کیاگیا:رقیق احمد خان
جموں //محکمہ تعلیم پر پہاڑی زبان کے ساتھ امتیاز برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی پارٹی جموں وکشمیر یوتھ ونگ نائب صدر اور میڈیا کارڈی نیٹر رقیق احمد خان نے حکومت سے گذارش کی ہے کہ پہاڑی زبان کو بطور مضمون تعلیمی اداروں میں عملی طور متعارف کیاجائے۔ یہاں جاری ایک بیان میں خان نے کہاکہ پہاڑی زبان جس کے بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، کو بطور مضمون اسکول میں متعارف کرنے کے تئیں محکمہ اسکول کا رویہ انتہائی مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہاکہ پہاڑی زبان کی نصابی کتابیں تیار ہوچکی ہیں لیکن اِنہیں تعلیمی اداروں میں رائج نہیں کیاجارہاہے۔ یوتھ ونگ جموں وکشمیر نائب صدر نے مادری زبان کو اسکولوں میں پڑھانے سے متعلق عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کی ہدایات پر جموں وکشمیر یوٹی میں من وعن عمل کرنے پرزور دیا۔ انہوں نے کہا”یہ تشویش کن امر ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بھی پہاڑی زبان بطور مضمون نافذ نہیں ہوسکی۔ اِس زبان کو بولنے والوں کا تعلق کسی ایک مذہب سے نہیں بلکہ یہ راجوری اور پونچھ اضلاع اور صوبہ جموں کے دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ کشمیر صوبہ میں بولی جانے والی زبان ہے۔ تقریباً30لاکھ آبادی کو نظر انداز کیاگیاہے ، محکمہ اسکول تعلیم نے آج تک پہاڑی زبان کو بطور مادری زبان سبجیکٹ تعلیمی اداروں میں متعارف کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ اُٹھائے۔ رقیق احمد خان نے بتایاکہ پہاڑی مضمون کو متعارف کرنے میں دو مشکلات درپیش ہیں۔ جموں وکشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے پہاڑی میں نصابی کتابیں تیار کی ہیں اور شائع بھی ہوئی ہیں لیکن محکمہ اسکول تعلیم انہیں اسکولوں تک پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے لئے ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن، چیف ایجوکیشن افسران، زونل ایجوکیشن افسران اور اسکول انتظامیہ ایکدوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ یہ کہاجارہا ہے کہ چیف ایجوکیشن افسران اور زونل ایجوکیشن افسران پہاڑی زبان کی کتابیں فراہم کرنے کے لئے مطلوبہ سفارشات ناظم اسکول کو نہیں بھیج رہے ہیں۔ وہیں دوسری اور چیف ایجوکیشن افسران اور زونل ایجوکیشن افسران کا دعویٰ ہے کہ اُن کو ایسی کوئی تحریری ہدایات اعلیٰ حکام سے جاری نہیں کی گئیں ہیں۔نتیجہ کے طور خزانہ عامرہ سے لاکھوں روپے خرچ کر کے تیار کی گئی پہاڑی زبان کی درسی کتابیں اسٹوروں میں پڑی دھول چاٹ رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ آل انڈیا ریڈیو جموں اور دور درشن جموں نے بھی پہاڑی زبان بولنے والی آبادی کو نظر انداز کر رکھا ہے، یہاں سے آج تک نہ پہاڑی میں خبریں اور نہ ہی پروگرام نشر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پہاڑی مادری زبان میں خبریں /پروگرام نشر ہوتے تو لوگ حکومت کی پالیسیوں اور فلاحی پروگراموں سے واقف ہوسکتے تھے۔
یوم آزادی سے قبل سرحدی حفاظت مزید مستحکم :ایس ایس پی جموں
جموں// گزشتہ ایک ماہ سے سرحد پار سے ڈرون سرگرمیوں میں تیزی کے درمیانجموں و کشمیر پولیس کے ایک سینئر افسر نے اتوار کو کہا کہ سرحدی گرڈ کو کسی بھی مہم کو روکنے اور پرامن تقریبات کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط کیا گیا ہے۔جموں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس چندن کوہلی نے بین الاقوامی سرحد کے ساتھ آر ایس پورہ سیکٹر کا دورہ کیا اور موجودہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔کوہلی نے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا ، "ہم نے دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر بارڈر گرڈ کو مضبوط کیا ہے اور خصوصی چیکنگ پوائنٹس قائم کیے ہیں ، رات کے گشت کو تیز کیا ہے اور کسی مشتبہ شخص کو حراست میں لینے کے لیے زمین پر تصدیق بھی کر رہے ہیں"۔انہوں نے کہا کہ ڈرون کی سرگرمیوں نے سیکورٹی گرڈ کے لیے چیلنج کھڑا کیا ہے لیکن اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔سرحد کے اس پار سے ہتھیاروں اور منشیات کی سمگلنگ کے لیے ڈرون کی سرگرمیوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران تیزی آئی ہے لیکن ایک اور بڑا چیلنج اس وقت آیا جب 27 جون کو بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) اسٹیشن جموں پر بمباری کے لیے اس طرح کی دو اڑنے والی اشیاءکا استعمال کیا گیا۔ہم نے کئی مواقع پر ڈرون ڈراپنگ (ہتھیار) برآمد کیے ہیں اور یہاں تک کہ گولی مار کر ڈرون برآمد کیے ہیں۔ ایس ایس پی نے کہا کہ ہم خطرے کے لیے زندہ ہیں اور چیلنج کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے لیے پراعتماد ہیں۔پچھلے مہینے ، پولیس نے ایک پاکستانی ڈرون کو مار گرایا تھا اور جموں میں کاناچک کی سرحدی پٹی میں پانچ کلو گرام امپروائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (آئی ای ڈی) برآمد کی تھی۔کئی دیگر دھماکہ خیز آلات اور دیگر ہتھیار بشمول اسالٹ رائفلیں ، پستول اور چپچپا بم سیکورٹی فورسز نے گزشتہ کئی مہینوں میں بین الاقوامی سرحد کے پار سے ڈرون کے ذریعے گرائے جانے کے بعد برآمد کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ 15 اگست کو یوم آزادی کے پرامن جشن کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔افسر نے کہا ، "لوگوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یوم آزادی کو حب الوطنی اور جوش و جذبے کے ساتھ منانا چاہیے لیکن اپنی حفاظت اور دوسروں کی حفاظت کے لیے کوویڈ کے مناسب رویے کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔"
پینتھرس پارٹی نے ہیروشیما۔ ناگاساکی پر
ایٹم بم گرانے کی 76 ویں برسی منائی
جموں//پینتھرس پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے جموں، نئی دہلی اور کئی دیگر مقامات پر ہیروشےما اور ناگاساکی پر ایٹم بم دھماکوں کی 76 ویں برسی کے موقع پر یادگاری اجلاس منعقد کیے، جس میں تقریبا تین لاکھ جاپانی شہریوں کو خراج عقےدت پیش کیا گیا۔ پینتھرس پارٹی کے کارکنوں نے ان لوگوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ تازہ ترین اندازوں کے مطابق 6 اور 9 اگست 1945 کو ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹمی دھماکوں میں2.92,325افراد ہلاک ہوئے تھے۔جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر پروفیسر بھےم سنگھ نے پینتھرس کے کارکنوں سے بات کرتے ہوئے 76 سال قبل انسانیت کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے پر امریکہ کی مذمت کی۔انہوں نے عالمی طاقتوں سے مانگ کی کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں، ایٹم بموں یا کسی دوسرے ہتھیاروں کو بنانا بند کردیں، تاکہ دنیا امن، وقار اور ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکے۔ انہوں نے ممالک پر الزام لگاےا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ کرکے انہےں ترقی پذیر ممالک کو صرف اپنی تجارت کو بڑھا نے کے لئے فروخت کررہے ہےں اورایشیا، افریقہ یا دوسرے مقامات پر پوری دنیا کے بے گناہ لوگوں کے خون سے پیسہ کما تے ہےں۔انہوں نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ خونی لڑائیاں اور خوفناک جنگیں صرف نفرت چھوڑتی ہیں، صدیوں سے لوگوں کے ذہن اور روح میں تنازعات اور زخم پیدا کرتی ہیں۔ جنگوں کی تاریخ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جنگوں نے تنازعات کو حل نہیں کیا بلکہ انسانی روح پر مستقل زخم چھوڑے ہیں۔ جنہوں نے تلواروں، بندوقوں اور ایٹم بموں کی طاقت سے انسانیت کو تباہ کرنے کی کوشش کی وہ غائب ہو گئے، اس کے باوجود قوموں کا خون بہہ رہا ہے۔ اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کو یہ سبق لینا چاہیے اور اپنی عارضی شان کو برقرار رکھنے کے لئے بندوقےں، ہتھیاروں اور ایٹمی طاقت کا استعمال بند کرنا چاہے خواہ مشرق ہو یا مغرب۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں طاقت کے بھوکے سیاستدان ملک کو ایٹمی ہتھیاروں اور بموں سے مالا مال بنانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کا استحصال کرکے دولت لوٹ رہے ہیں جبکہ ہر ملک میں استحصال، امتیازی سلوک، بیماری اور کئی طرح کے مسائل ہیں۔ اقوام متحدہ کو دنیا کی قوموں کے رہنما کے طور پر ہر قسم کی جنگوں اور لڑائیوں کے خلاف لوگوں کو متحد کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ معاشرہ عزت و احترام کے ساتھ لمبی عمر پائے۔