مزید خبریں

کولگام میں کئی ترقیاتی کاموں کا ہاتھوں افتتاح | سماجی انصاف اوربااختیاری کے مرکزی وزیر مملکت کی متعدد وفود سے ملاقات

کولگام//مرکزی حکومت کے جاری عوامی رَسائی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر مرکزی وزیر مملکت سماجی انصاف وبااختیاری اے نارائن سوامی نے ضلع کولگام کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران وزیر موصوف نے کئی تقریبات اور سرگرمیوں میں حصہ لیا جس میں اَفسران اور قبائلی وفود نے شرکت کی۔اُنہوں نے ترقیاتی منصوبوں کا اِفتتاح کیا اور متعدد عوامی وفود ، پنچایت راج اِداروں کے اَرکان ، ایس ایچ جی کے اَرکان اور قبائلی وَفود کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔مرکزی وزیر مملکت سوشل جسٹس و امپاور منٹ اے نارائن سوامی نے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری کولگام میں سکولی اِضافی بلاک جس کی تخمینہ لاگت 61.58 لاکھ روپے ہے ، کا افتتاح کیا۔اتل انوویشن لیبارٹری کا اِفتتاح بھی وزیر موصوف نے اِسی سکول میں کیا۔ سکولی بچوں نے رنگارنگ ثقافتی پروگرام اور حب الوطنی کے گیت بھی پیش کئے۔اِن طلاب نے اَپنے کارناموں ، اختراعات اور ثقافتی ااقدار کو ظاہر کرتے ہوئے سٹا ل بھی لگائے تھے جن کا وزیر نے معائینہ کیا۔اُنہوں نے سکول کے مختلف حصوں کا بھی معائینہ کیا جن میں جڑی بوٹیوں کا باغ ، ماہی تالاب بھی شامل ہیں ۔مرکزی وزیر مملکت نے سکول کے احاطے میں دیودار کا پودا بھی لگایا۔اِس موقعہ پر ڈی ڈی سی چیئرپرسن محمد اَفضل پرے، ضلع ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ ، ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر بشیر احمد ڈار ، ایس ایس پی جی وی سندیپ ، بی ڈی سی عابد حسین خان اور دیگر اَفسران موجود تھے۔مرکزی وزیر مملکت سوشل جسٹس و امپاور منٹ اے نارائن سوامی نے منی سٹیڈیم کولگام کے دورے کے دوران یہاں کرکٹ ، والی بال ، کبڈی اور کھوکھو میں لڑکیوں کے لئے بین زون ضلعی سطح کے مقابلے کا اِفتتاح کیا۔اُنہوں نے کھلاڑیوں سے بھی بات چیت کی اور اِس موقعہ پر وزیر موصوف نے وزیر اعظم کی سربراہی میں حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کھیل ثقافت کو فروغ دینے کے اِقدامات پر روشنی ڈالی ۔اُنہوں نے مقامی کھلاڑیوں کی بھی تعریف کی جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے زُمرے میں اَپنی جگہ بنائی ہے ۔بعد میں مرکزی وزیر مملکت نے ڈرگ ڈی ایڈکشن سینٹر کا اِفتتاح کیا جس پر 1.44 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت آئی ہے ۔ایک تقریب کے دوران وزیر موصوف نے موٹر سائیکل ، ٹرائی سائیکل ، وہیل چیئر، آلات سماعت اور منظور نامے مستحقین میں تقسیم کئے۔وزیر موصوف نے متعلقہ افراد سے کہا کہ وہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کے لئے استفادہ کرنے والوں اور سماجی بہبود سکیموں کے بارے میں عوامی بیداری میں اَپنا کردار اَدا کریں تاکہ ان کے فوائد زمینی سطح پر دیکھنے کو ملے۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کوروزی کمانے کی خاطر اَپنے یونٹ قائم کرنے کے لئے قرض اور خود روزگار پیدا کرنے کی سکیمیں متعارف کرائی ہیں۔اِس سے قبل وزیر نے این آر ایل ایم کے سیلف ہیلپ گروپوں کے اَرکان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جنہوں نے وزیر کے ساتھ اَپنی کامیابی کی کہانیاں شیئر کیں۔وزیر موصوف نے ٹیکہ کاری سینٹر کا بھی دورہ کر کے ویکسی نیشن عمل کا جائزہ لیا ۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر نے وزیر کو جانکاری دی کہ ضلع تمام اہل آبادی میں صد فیصد ٹیکہ کاری کا ہدف حاصل کرچکا ہے جس پر وزیر موصوف نے سراہا۔بعد میں وزیر نے ڈی ڈی سی ، بی ڈی سی اور دیگر پی آر آئیز ، میونسپل کمیٹیوں کے صدور اور دیگر یو ایل بی ممبران اور کونسلروں کے ساتھ ایک اِستفساری میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ میں چیئرپرسن ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل ، ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر ، سینئر سپراِنٹنڈنٹ پولیس اور دیگر ضلعی اور سیکٹورل اَفسران نے بھی شرکت کی۔
 
 
 
 

ہندپاک کے درمیان مذاکرات،اقوام متحدہ پُرامید

اقوام متحدہ//اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلا س میں ہند وپاک کے ایک دوسرے پر الزامات کے باوجود اقوام متحدہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ہونے کیلئے پراُمید ہے۔اس بات کااظہار اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹونیوگوئیترس کے ترجمان نے کیا ہے ۔بھارت نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے76ویں اجلاس سے خطاب کے دوران جموں کشمیر کامسئلہ اٹھانے پر برہمی کااظہار کیا۔اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجرک نے کہا،’’ہم نے ریمارک سنے اور مجھے لگتا ہے کہ ان ریمارکس کے مواداورلہجہ کے باوجود ،ہم ہمیشہ پراُمید رہتے ہیں کہ مذاکرات ہوسکتے ہیں،ہوسکتا ہے کہ ایسی جگہ جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو۔‘‘دوجرک میڈیا کے ایک سوال کے جواب دے رہے تھے ،جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں ہند پاک کے درمیان گرم گفتاری کے پس منظر میں ان سے پوچھا گیاتھا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے جواب دینے کے حق کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کی فرسٹ سیکریٹری سنیہ دوبے نے کہا کہ پاکستان جہاں دہشت گردکو آسان رسائی حاصل ہے ،ایک ’’آگ لگانے والا‘‘ہے اورخود کو’’آگ بجھانے والے کے طور‘‘ پیش کرتا ہے اور پوری دنیا نے اُس کے پروردہ خطرناک دہشت گرداُسامہ بن لادن کی وجہ سے بہت نقصان اُٹھایا ہے۔دوبے نے کہا کہ  پاکستان کی طرف سے اس باوقار فورم میں ہماری شبیہ متاثر کرنے کیلئے ہمارے داخلی معاملات اُٹھارہا ہے، کاجواب دینے کا حق ہم محفوظ رکھتے ہیں۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں5اگست2019کے بھارتی حکومت کے فیصلوں جن کے تحت 370کومنسوخ کیاگیاتھا،کاذکر کیا۔
 
 
 
 

کوکرناگ سب ضلع اسپتال میں آکسیجن پلانٹ کاافتتاح

نیوز ڈیسک
اننت ناگ //مرکزی حکومت کے  وادی کے عوام تک رسائی پروگرام کے تحت مرکزی وزیرٹرانسپورٹ ونیشنل ہائی ویزڈاکٹر وی کے سنگھ نے منگل کو سب ضلع اسپتال کوکر ناگ کے400لیٹر فی منٹ صلاحیت والے اکسیجن پلانٹ کا افتتاح کیا۔ آکسیجن پلانٹ کی کامیاب تنصیب کیلئے مبارک باد دیتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ یہ عوامی ضروریات عام دنوں اور ہنگامی حالات میں کافی کام آتے ہیں۔ انہوں نے کورونا وائرس کے دوران طبی اور نیم طبی عملہ کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ ا س موقعہ پرضلع ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر پیوش سنگلہ، سی ای ایم ای ڈی، اے ڈی ڈی سی،سی پی او، اے سی آر، ایس ڈی ایم کوکر ناگ، سی ایم او اور انتظامیہ اور محکمہ صحت کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ مرکزی ویز ر نے بعد میں عوامی نمائندوں اور وفود سے بات چیت کی جن میں بی ڈی سی ممبران، پی آر آئی اور یو ایل بی ممبران اور کونسلرز بھی شامل تھے۔ عوامی نمائندوں نے وزیر کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ۔وزیر نے کہا کہ انتظامیہ اور محکمہ جات اور عوامی نمائندوں کی ہم آہنگی ، مثبت تبدیلی ہے جوجموں کشمیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔
 
 
 
 

 ترال میںمبینہ فوجی زیادتیوں کیخلاف لوگوں کا شبانہ احتجاج | محبوبہ مفتی اوراپنی پارٹی ضلع صدر کی مذمت،فوج نے الزامات ردکئے 

سید اعجاز 
ترال //سیر جاگیر ترال میں فوج کے ہاتھوں مبینہ طورایک چوپان کنبے کو زود کوب اور ہراساں کرنے کے خلاف کنبے اور دیگر لوگوں نے شبانہ احتجاج کیا ۔واقعہ کی پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور اپنی پارٹی ضلع صدرپلوامہ نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ادھر فوج نے واقعہ کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے لوگوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے کسی کو نہیں مارا ،نہ ہی کسی کے گھر میں داخل ہوئی۔ قصبہ ترال سے7کلو میٹر دور سیر جاگیر گائوں میں رہائش پزید ایک چوپان کنبے کے مرد وزن کی ینگونی فوجی کیمپ کے ایک افسرکے ہاتھوں مارپیٹ کرنے کے خلاف کنبے اور دیگر لوگوں نے پیر اور منگل کی رات دیر گئے احتجاج کیا ۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ فوج بلاجواز علی محمد چوپان ساکن سیر کے گھرمیںداخل ہوئی اور بلاجواز افراد خانہ کی مارپیٹ کی، جس کے نتیجے میں علی محمد کی بیٹی عشرت زخمی ہو گئی جس کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال ترال میں دوران شب ہی منتقل کیا گیا ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے عشرت نے بتایا ، ’’گزشتہ رات نماز عشاء کے بعد اچانک فوج ہمارے گھر میں داخل ہوئی اور ہماری ہڈی پسلی ایک کر دی اور مجھے زخمی کیا‘‘۔اس نے کہا ہم گھر میں تھے اور ہمارے مویشی(بھیڑ بکریاں) جو ہمارا ذریعہ معاش ہے، کے ساتھ کچھ مرد نزدیکی نالے میں تھے جہاں انہیں فوج نے مارپیٹ کی اور انہیں گھر جانے کے لئے کہا  اور ایک پارٹی  ان کے پیچھے پیچھے تھی ،جس دوران انہوں نے مذکورہ دو شیزہ کولات مار دی جس کو بعد میں ترال ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اُسے رات کے ایک بجے طبی امداد کے بعد رخصت کیاگیا ۔ احتجاج میں شامل کنبے کے لوگوںنے بتایا وہ زبردست تنگ آئے ہیں۔انہوں ینگونی کیمپ میں تعینات فوجی افسر پر طرح طرح کے الزامات لگائیں۔انہوںنے کہا ان کے ایک بیٹے کو بھی جیل میں بند رکھا گیا ہے ۔اس احتجاج کا ایک ویڈیو دوران شب ہی وائرل ہوا تھا جس کے بعد پی ڈی پی سربراہ اور سابق وزیر اعلی جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے واقعہ کی مذمت کی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں قائم فوجی کیمپ نے اسے قبل بھی عام شہریوں کی مارپیٹ کی ہے۔ اس دوران اپنی پارٹی کے ضلع صدر غلام محمد میر نے بھی واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔تاہم فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں عام لوگوں کی طرف سے فوج پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔ فوج کے مطابق علاقے میں ایک فوجی پارٹی معمول کی گشت پر تھی جس دوران مقامی نالے پر بیٹھے دو نوجوانوں کو پوچھ تاچھ کے لئے بلانے پر مقامی شہری علی محمد چوپان کے افراد خانہ گھر سے باہر آئے اور شور مچانے لگے جس دوران مذکورہ شہری کی بیٹی بیہوش ہو گئی جس کے بعد انہوں نے چیخ پکار کی جسکی وجہ سے مقامی لوگ گھر وںسے باہر آئے اور احتجاج کر کے فوج کے خلاف احتجاج کیا۔فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ علی محمد چوپان شبیر احمد چوپان کے والد ہیں ، جو اس وقت ملی ٹنٹوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کی پاداش میں پی ایس اے کے تحت جیل میں ہیں۔بیان میں بتایا گیا ہے اس خاندان کا تعلق مقتول جیش جنگجوئوں عبدالحمید چوپان لور سے بھی ہے جو 21 اگست 2021 کو ناگہ بران میں ایک آپریشن کے دوران مارا گیا تھا۔
 
 
 
 

چار گلیاروں والی سرینگرجموں شاہراہ کامنصوبہ | معینہ مدت میں مکمل کیاجائے:الطاف بخاری کا مطالبہ

جموں//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے جموں سرینگر شاہراہ کو چار گلیاروں والی سڑک میں تبدیل کرنے کے منصوبے کی معیاد بند تکمیل کا مطالبہ کیا ہے جس کی وجہ سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ مرکزی وزیر سڑک ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نتن گڈکری کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے الطاف بخاری نے 3612کروڑ روپے کی  لاگت سے چار شاہراؤں کے پروجیکٹ بشمول سرینگر رنگ روڈ پروجیکٹ کا سنگ ِ بنیاد رکھنے کی سراہنا کی۔ بخاری نے کہا ہے کہ سد مہا دیو کھیلنی سڑک کے ساتھ ساتھ کشتواڑ میں سنگھ پورہ وائیلو ٹنل کے تعمیری کام میں سرعت لائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ سنگھ پورہ وائیلو ٹنل کی تعمیر سے امرناتھ یاتریوں، سیاحوں اور عوام کو فایدہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی خطہ کی سماجی واقتصادی ترقی کے لئے سڑک رابطہ انتہائی اہم ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح جموں وکشمیر میں سڑک ڈھانچے سے مقامی آبادی کو روزی روٹی کے نئے مواقعے ملیں گے اور سیاحتی وکاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ سرینگر لہہ شاہراہ پر زیڈ موڑ اور زوجیلا ٹنل کی تعمیر میں گڈکری کی گہری دلچسپی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں کچھ باقی رہ گئے پروجیکٹ جوکہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، پر حکومت ِ ہند کو توجہ دینی چاہئے تاکہ بروقت اِن کی تکمیل ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ وادی کشمیر کاملک کے ساتھ واحد زمینی رابطہ جموں سرینگر شاہراہ کی خستہ حالت ، خطہ کے لوگوں کیلئے خاص طور سے موسم سرما کے دوران سخت مشکلات ، تکالیف کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اِس شاہراہ کا بڑا حصہ لینڈ سلائڈ ، پھسلن اور پر خطر ہے ، لہٰذا جموں سرینگر شاہراہ کو چار گلیاروں والی سڑک میں تبدیل کرنے کے منصوبے میں سرعت لائی جائے اور مقررہ مدت کے اندر تکمیل یقینی بنائی جائے۔ چار گلیارہ سرینگر رِنگ روڈ کے کام میں بھی تیزی لائی جائے تاکہ مقررہ مدت کے اندر پروجیکٹ کی تکمیل ہو۔شہرِ سرینگر میں زمین کی قلت کے پیش نظر اُنہوں نے مشورہ دیا ہے کہ کثیر اراضی حصولیابی معاملات میں اُلجھنے کے بجائے متبادل کاری ڈور کی تعمیر کے امکانات کوبروئے کار لایاجائے۔ جموں وکشمیر بھر میں بین خطہ رابطہ بہتر بنانے میں گڈکری کی گہری دلچسپی کی سراہنا کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہاکہ تاریخی مغل شاہراہ، کشتواڑ۔ اننت ناگ، گریز۔ بانڈی پورہ اور کپواڑہ ٹنگڈار سڑکیں تب تک موثر نہیں ثابت ہوسکتی، جب تلک یہاں پر ٹنل تعمیر نہیں کئے جاتے۔ انہوں نے کہا’’اگر ٹنل تعمیر کئے جاتے ہیں، اِس سے نہ صرف خطوں کے درمیان مسافت کم ہوگی بلکہ  یہ شاہرائیں سال بھر آمدورفت کے قابل بن جائیں گی‘‘۔ انہوں نے کہاکہ تاریخی مغل شاہراہ پونچھ براستہ شوپیان ضلع کشمیر کو جوڑتی ہے، اگر ٹنل تعمیر کیاجاتا ہے تو یہ سرینگر جموں شاہراہ کا متبادل بن سکتی ہے جوکہ موسم سرما کے دوران پسیاں گر آنے اور چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے اکثر بند رہتی ہے۔ دہائیوں قبل سڑک کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا لیکن 84کلومیٹر شوپیان ۔ پونچھ سڑک صرف موسم گر ما کے چند ماہ میں کھلی رہتی ہے اور پیر کی گلی میں متعدد مقامات پر بھاری برف باری کی وجہ سے بند ہوجاتی ہے۔ انہوں نے مغل شاہراہ پر چھتہ پانی تادبجیاں ٹنل کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کشتواڑ ۔ اننت ناگ سڑک پر 10.2کلومیٹر سنگھ پورہ۔ وائیلو ٹنل کی تعمیر کے بھی ابھی تک کوئی نتائج سامنے نہیں آئے۔ یہ سڑک بھی کشمیر کے لئے متبادل ثابت ہوسکتی ہے ، یہ سڑک صرف گرما میں چند ماہ کھلی رہتی ہے اور سرمائی ایام کے دوران سنتھن پاس سمیت متعدد مقامات پر بھاری برف باری کی وجہ سے آمدورفت کے لئے بند ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا’ٹنل جو کہ اننت ناگ کے کوکرناگ کے وائلو علاقے کے احلان سے شروع ہوگی ، جس سے سڑک کا پر خطر راستہ جو کہ سردیوں کے دوران برف کے نیچے دب کر رہ جاتاہے، کو بائی پاس کرے گی تاکہ کشتواڑ میں چھاترؤ سے رابطہ قائم ہو اور دو اضلاع کے درمیان فاصلہ بھی کم ہو جائے۔انہوں نے کہاکہ ٹنل سرینگر جموں شاہراہ کا متبادل ہوگا اور ساتھ ہی وادی چناب میں تسلسل سے ہونے والے سڑک حادثات میں کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے گریز۔ بانڈی پورہ میں بھی ٹنل کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے جس سے بانڈی پورہ ضلع اور قصبہ گریز کے درمیان 38کلومیٹر مسافت کم ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ کپواڑہ۔ٹنگڈار سڑک پر سادھنا ٹاپ ٹنل کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بارہمولہ۔ گلمرگ سڑک کے تعمیری کام میں تیزی لانے کا بھی مطالبہ کیا۔
 
 
 
 
 

حسنین مسعودی مرکزی وزیرٹرانسپورٹ سے ملاقی | کلیدی سڑک و ٹنل پروجیکٹوں کی جانب توجہ مرکوز کرائی

تفصیلی میمورنڈم بھی پیش کیا

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے مرکزی وزیر برائے سڑک و ٹرانسپورٹ نتن گڈکری سے ملاقات کی اور اُن کی توجہ مختلف معاملات کی جانب مرکوز کرائی۔ حسنین مسعودی نے وزیر موصوف سے کہاکہ یہاں کی کثیر آبادی میوہ صنعت سے جڑی ہوئی ہے اور اس وقت سیب تیار ہوکر بیرونی منڈیوں میں فروخت ہونے کیلئے جارہا ہے لیکن بدقسمتی سے سرینگرجموں شاہراہ پر میوہ بردار ٹرکوں کو مختلف بہانے بنا کر کئی کئی دنوں تک روکا جارہاہے جس سے منڈیوں تک پہنچنے سے قبل ہی یہ سب خراب ہوجاتا ہے اور اس صنعت سے منسلک لوگوں کو زبردست نقصان اُٹھانا پڑرہا ہے۔  نتن گڈکری نے معاملے کا سخت نوٹس لیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ میوہ بردار ٹرکوں کی بلاروک ٹوک نقل و حمل کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ حسنین مسعودی نے دیسا کپرن ٹنل سے کاستی گڑھ اور ذیزنار چھتاپانی مغل روڑ ٹنل کے علاوہ ولرہامہ ترال، پستن (ترال)، شار شالی (پانپور)، لیتہ پورہ کھریو پانتھ چوک بائی پاس اور دیگر انتہائی اہمیت کے حامل پروجیکٹوں کو ہاتھ میں لینے پر زور دیا ۔ اس کے علاوہ مسعودی نے وزیر موصوف سے اپیل کی کہ سرینگر جموں شاہراہ پر اُن مقامات پر کوئی متبادلہ راستہ ڈھونڈا جائے، جہاں پسیاں گر آنے سے سڑک آئے روز بند ہوجاتی ہے۔وزیر موصوف نے حسنین مسعودی سے کہا کہ سرینگر جموں شاہراہ پر جن مقامات پر پسیاں گر آنے سے شاہراہ بند ہوجاتی ہے وہاں یا تو سڑک کو مزید بلندی پر لیا جائے گا یا پھر پُل تعمیر کئے جائیںگے۔ اس کے علاوہ وزیر موصوف نے کہا کہ جموں وکشمیر کے تمام کلیدی سڑک پروجیکٹوں کو مرکزی سکیم بھارت مالا کے تحت لایا جائیگا ، تاکہ ان کیلئے فنڈس کی دستیابی آسان بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سکیم کے تحت جموں وکشمیر کے سڑک پروجیکٹوںکو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ حسنین مسعودی نے وزیر موصوف کو جموں وکشمیر کے مختلف سڑک رابطوں، ٹنلوں اور شاہراوئوں کی تعمیر سے متعلق ایک تفصیلی میمورنڈم بھی پیش کیا۔
 
 
 

مرکزی وزراء کے بیانات گمراہ کن : سوز

سرینگر//سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزنے بھاجپارہنمائوں بشمول مرکزی وزراء کے اُن بیانات کوگمراہ کن قراردیا جن میں انہوں نے جموں کشمیرمیں دفعہ370کی تنیسخ کے بعدحالات کے ٹھیک ٹھاک ہونے کے دعوے کئے ۔ایک بیان میں پروفیسر سوزنے کہا،’’جموں وکشمیر کے لوگوں خصوصاً کشمیر کے لوگوں نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ مرکزی سطح پر بی جے پی کے لیڈروں نے غیر آئینی طور منسوخ شدہ دفعہ 370 کے بارے میں گمراہ کن پروپگنڈا کیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کس طرح ملک کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں،سب کو معلوم ہے۔ ان لیڈروں کا یہ کہنا کہ دفعہ 370 کی غیر آئینی منسوخی کے بعد کشمیر میں سب کچھ ٹھیک حالت میں ہے، سفید جھوٹ اور بہتان ہے۔اس غیر جمہوری کام میں بی جے پی کے سینئر لیڈر بشمول کابینہ وزیر سمرتی ایرانی، انوراگ ٹھاکر اور جیتندر سنگھ جیسے لوگ رات دن غلط بیانی سے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ حقیقت یہ ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 370 کو غیر جمہوری طور کالعدم کر نے کے بعد جموں وکشمیر کے لوگوں اور مرکز کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا ہو گئی ہے ،جس کو کسی طرح بھی پاٹانہیں جا سکتا۔اس دوران یہ بات یقینی طور طے ہو گئی ہے کہ جموںوکشمیر کے عوام نہایت ہی مضبوطی سے جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنی داخلی خود مختاری کی بحالی کیلئے جہدوجہد جاری رکھیںگے۔سوزنے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ بالآخر عوام ہی کی بالادستی ہوتی ہے اور جموںوکشمیر کے لوگ داخلی خود مختاری حاصل کر کے ہی دم لیںگے۔
 
 

ماور ہندوارہ کا کمسن بچہ | گھر میں بنے تالاب میںغرقآب

اشرف چراغ
ہندوارہ//ماور ہندوارہ میں ایک کمسن اپنے ہی گھر کے سامنے بنائے گئے تالاب میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیا۔پنگروماور میں منگل صبح 11بجے4برس کا حیدراقبال میر ولد محمداقبال میر اپنے گھر کے صحن میں کھیل رہاتھا کہ اس دوران وہ صحن میں ہی بنائے گئے پانی کے تالاب میں گرگیا جس میں کافی پانی جمع تھا،اگرچہ مقامی لوگوں نے اُسے فوری طورپانی سے باہر نکال کر نزدیکی ہیلتھ سینٹر قلم آبادپہنچایا تاہم ڈاکٹروں نے اُسے وہاں مردہ قرار دیا۔
 
 
 
 

حریفوں پر آر آر ایس لیبل لگانے والے فاروق عبداللہ | خود بھاجپا لیڈروں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر جھکتے ہیں :پیپلزکانفرنس

سرینگر//نیشنل کانفرنس اور اُ س کی قیادت کو ان ہی اخلاقی اصولوں پرچلناچاہیے جن کاووہ اپنے سیاسی حریفوں پرمسلط کرناچاہتے ہیں۔ا س بات کااظہار پیپلز کانفرنس ترجمان عدنان اشرف میر نے ایک بیان میں کیا ہے ۔انہوں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے ایک سخت گیر آر ایس ایس رہنمااورکابینہ وزیر کے سامنے ہاتھ جوڑنے پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ ان کیلئے آئینی طور یہ لازمی نہیں تھا کہ وہ رکن پارلیمان کی حیثیت سے کسی پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب میں حاضررہتے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اورنیشنل کانفرنس ہرروزاپنے سیاسی حریف آر ایس ایس کے خلاف فتوے جاری کرتے ہیں ۔وہ لوگ جو فاروق عبداللہ کو ایک لیڈرنہیں مانتے ہیں ان پر آر ایس ایس کی مہر لگائی جاتی ہے ۔اس کے باوجود اپنے خصلت سے مجبور وہ بھاجپا کے سینئررہنما اورکابینہ وزیرنتن گڈکری کے سامنے جھکتے ہیں۔یاتو نتن گڈکری آر ایس ایس سے نہیں ہے یا فاروق عبداللہ نے اخلاقیات اورراست بازی کے تمام اصولوں کو خیرباد کہا ہے۔کیا فاروق عبداللہ اس کی وضاحت کرسکتے ہیںکہ کیا ان کی نظر میں نتن گڈکری ایک آر ایس ایس رہنما ہے ؟  پیپلزکانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جب سے فاروق عبداللہ کے اقتصادی غلط کاریوں کی تحقیقات شروع ہوئی ہے ،نیشنل کانفرنس اوراُس کی قیادت آر ایس ایس اور بھاجپا کے ساتھ خفیہ مذاکرات کررہے ہیں تاکہ یہ تحقیقات جاری نہ رہے ۔عبداللہوں جنہیں نئی دہلی کی طرف سے سینکڑوں حفاظتی گارڈ فراہم کئے گئے ہیں ،کو آر ایس ایس رہنمائوں کے سامنے جھکنے میں کوئی  بدنامی محسوس نہیں ہوتی۔کابینہ وزیر کے ساتھ کندھاملاکراپنی غلط کاریوں پر بھاجپا قیادت سے معافی طلب کرنے میں انہیں شرم نہیں آتی۔پیپلزکانفرنس ترجمان نے کہا کہ کشمیرکے لوگ جانتے ہیں کہ یہ فاروق عبداللہ کاذاتی مفاد ہے جس کے لئے وہ کشمیریوں کے وقار کو روند رہا ہے ۔ پیپلزکانفرنس ترجمان نے مزیدکہا کہ نیشنل کانفرنس اپنے سیاسی حریفوں کو آر ایس ایس کی لیبل لگارہی ہے اور اس  شرارت آمیزلیبل لگانے سے نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت اپنے سیاسی حریفوں  کو قتل کرانے کیلئے زمین زرخیزبنارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ وہ ہمارے لیڈروں اور ورکروں کو قتل کرانے کیلئے دانستہ طور اس کی بنیاد بنارہے ہیں تاکہ ہم خوفزدہ ہو۔انہوں نے کہا کہ وہ قبرستان بھیج کرسیاسی حریفوں کو خاموش کرانا چاہتی ہے۔عدنان نے نیشنل کانفرنس سے کہا کہ وہ ان اخلاقی اصولوں پر خود بھی چلے جنہیں وہ اپنے سیاسی حریفوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
 
 
 
 

’ہندی دِوس ‘ کشمیریونیورسٹی میں تقریب | وائس چانسلر کا طلاب پر زبانیں سیکھنے پرزور

سرینگر//کشمیریونیورسٹی میں منگل کو ’’ہندی دِوس‘‘منایا گیا۔اس تقریب پر کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرطلعت احمد مہمان خصوصی تھے۔اپنے خطاب انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ہندی شعبے سے فارغ التحصیل طلاب تعلیمی اورتحقیقی میدان میں نمایاں کام انجام دے رہے ہیں ۔انہوں نے طلاب پرزوردیا کہ وہ جتنی ممکن ہو ،اتنی زبانیں سیکھ لیں۔انہوں نے کہا کہ ہندی زبان کی ترویج اور فروغ ہماری ترجیح ہے اور ہندی زبان کی ترقی اورادب کی طرف معقول توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے ہندی شعبے پرزوردیا کہ وہ ہندی زبان سیکھنے کے قلیل مدتی کورس متعارف کرائیں تاکہ اس زبان کو فروغ حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اس کیلئے ہندی شعبہ کو ہرقسم کی سہولیات بہم رکھیں گی۔
 
 
 

پولیس اہلکاروں کے ہونہار بچے | ڈی جی پی نے13لاکھ روپے وظیفہ منظورکیا

سرینگر//پولیس اہلکاروں کے بچوں کو تعلیمی میدان میں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے کیلئے مالی مدد فراہم کرنے کی پہل کے تحت پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے 202بچوں کے حق میں وظیفہ منظور کیاہے۔ایک بیان کے مطابق پولیس سربراہ نے13لاکھ47ہزارروپے کی رقم پولیس میں کام کررہے اہلکاروں کے اُن بچوں جنہوں نے بارہویں جماعت کے امتحان میں80فیصد سے زیادہ نمبرات حاصل کئے ہیں ،کے حق میں منظور کئے ۔113طلاب کے حق میں6000روپے کی رقم منظور کی گئی جنہوں نے90فیصد سے زیادہ نمبرات حاصل کئے ہیں جبکہ85طلاب جنہوں نے80فیصدیااس سے زیادہ نمبرات حاصل کئے ہیں ،کے حق میں 6000روپے کی مالی مددمنظورکی گئی۔ 
 
 
 
 

لداخ میں کووِڈ- 19کے5نئے کیس 

لیہہ//لداخ میں کورونا وائرس نے 5نئے معاملات سامنے آئے ہیں اور اس طرح مرکزی زیرانتظام خطے میں اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد20786ہوگئی ہے جبکہ یہاں فعال معاملات کی تعداد148ہوگئی ہے۔گزشتہ سال اس عالمگیروباء کے پھوٹ پڑنے کے بعد لداخ میں207لوگ فوت ہوئے جن میں لداخ میں 149اور کرگل میں58شامل ہیں ۔لداخ میں کوروناسے متاثرہ13افراد شفایا ب بھی ہوئے ہیں اورانہیں اسپتال سے رخصت کیا گیا اوراس طرح شفایاب ہونے والوں کی تعداد20431ہوگئی ہے ۔نئے سارے کورونا مریض لہہ سے سامنے آئے ہیں۔لداخ میں 1050نمونے حاصل کئے گئے،جن میں583لیہہ سے اور477کرگل سے شامل ہیں اوران کا کورونا وائرس ٹیسٹ  منفی آیا ہے۔ 
 
 
 

جسمانی طور خاص طلاب میں آلات تقسیم

سرینگر//کشمیر یونیورسٹی جسمانی طور خاص طلاب کواپنے شعبوں میں بہتر کارکردگی کامظاہرہ کرنے کیلئے ہرممکن سہولیات بہم رکھنے کی وعدہ بند ہے۔ا س بات کااظہار یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے جسمانی طور خاص طلاب میں انہیں ضروری آلات وسازوسامان تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یہ ایک خاص موقعہ ہے اور ہم اس بات کو دہراتے ہیں کہ ہم جسمانی طور خاص طلاب کی ہرممکن مدد کریں گے تاکہ وہ کسی طورخود کو کم تر نہ سمجھیں۔انہوں نے کہا کہ جسمانی طور خاص بچوں کا ہاتھ تھامنے سے وہ برابر کی شرکت کر سکیں گے اورانہیں برابر مواقع بھی دستیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو جسمانی طور خاص طلاب کی مختلف نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں میں شرکت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔اس موقعہ پر یونیورسٹی کے رجسٹرار جو مہمان ذی وقار تھے،نے کہا کہ یونیورسٹی شعبہ سماجی بہبود کے اہتمام سے منعقدہ سرگرمیوں کی مکمل مدددے گی،خاص کر جو سرگرمیاں جسمانی طورخاص طلاب کی بہبودی کیلئے کی جارہی ہو۔
 
 
 
 
 
 
 
 

  لوگ اپنے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی چاہتے ہیں:غلام حسن میر

 جموں//اپنی پارٹی سنیئرنائب صدر غلام حسن میر نے منگل کے روز کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ اپنی کھوئی ہوئی شناخت اور وقار کی بحالی چاہتے ہیں۔وہ صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ کے زیر اہتمام پارٹی دفتر گاندھی نگر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بول رہے تھے ۔ میر نے کہاکہ ’’جموں وکشمیر کے لوگ اپنی پارٹی ایجنڈے کو تسلیم کر رہے ہیں اور اس ارادے سے اِس جماعت کا حصہ بن رہے ہیں کہ یہ واحد جماعت ہے جوکہ نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بناسکتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ لوگ دیگر سیاسی جماعتوں سے اُکتا چکے ہیں اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ اپنی پارٹی ہی جموں وکشمیر کو امن، ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جاسکتی ہے۔ اُن کا کہناتھاکہ’’دفعہ 370اور35Aکی منسوخی کے بعد لوگ اپنی شناخت اور وقار کھوچکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اِس کو بحال کیاجائے‘‘۔ اُن کے مطابق دیگر سیاسی جماعتوں نے ہوس ِ اقتدار کی خاطر عوام کے جذبات کا استحصال کیا ہے۔ 
 
 
 

پی سی سی ایف نے ڈبلیو بی آئی پر ساتویں ایس ایل سی میٹنگ کی صدارت کی

سری نگر//پرنسپل چیف کنزرویٹر جنگلات (پی سی سی ایف) ڈاکٹر موہت گیرا نے  فارسٹ کمپلیکس شیخ باغ میں لکڑی پر مبنی صنعتوں ( ڈبلیو بی آئی) سے متعلق ساتویں سٹیٹ لیول کمیٹی ( ایس ایل سی ) میٹنگ کی صدارت کی۔دورانِ میٹنگ ووڈ بیسڈ اِنڈسٹریز کے 108 معاملات کی جانچ پڑتال کی گئی اور لائسنس جاری کرنے کی منظور دی گئی ۔ایس ایل سی نے موجودہ ساملز کی استعداد بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا او ران کے خام مال کی کھپت کی تشخیص کے بعد اِس مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔دورانِ میٹنگ کنزرویٹروں کو ہدایت دی کہ وہ اِن یونٹوں کے ذریعہ خام مال کی کھپت کا تخمینہ ان کے متعلقہ دائرہ کا ر میں اکتوبر 2021ء کو صوبہ وار بنیاد پر اگلی ایس ایل سی میٹنگ رکھنے سے پہلے فراہم کریں۔ایس ایل سی میٹنگ میں ایڈیشنل پی سی سی ایف ( سی )سی ڈی سنگھ ،ایم ڈی  ایس ایف سی واسو یادو، ایڈیشنل پی سی سی ایف کشمیر ٹی۔ ربی کمار ، سی سی ایف جموں کے رمیش کمار، سی ایف نارتھ سرکل عرفان رسول وانی،سی ایف سائوتھ سرکل توحید دیوااور سی ایف سری نگر سرکل زُبیر احمد شاہ نے ذاتی طور پر اور بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ شرکت کی۔
 
 
 

محکمہ قبائلی امور وزیر اعظم ون دھن اسکیم کا آغاز کرے گا | تمام اضلاع کو 3 مراحل میں شامل کیا جائے گا

سرینگر//ٹرائبل کوآپریٹو مارکیٹنگ ڈیولپمنٹ فیڈریشن آف انڈیا(ٹرائفڈ) حکومت ہند اور جموں و کشمیر کے قبائلی امور کے محکمہ نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے قبائلی کوآپریٹیو سپورٹ اسکیم کے آغاز کے طریقوں کو حتمی شکل دی ۔ 5 اضلاع میں مرحلہ اول جس کے بعد بقیہ اضلاع دو مراحل میں ہوں گے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی مداخلت پر حکومت ہند نے پہلی بار اسکیم کے فوائد کو جموں و کشمیر تک بڑھانے کا عمل شروع کیا ہے۔ اس سے جنگل پر انحصار کرنے والے قبائلی طبقے کو بے حد فائدہ ہوگا۔قبائلی امور کے محکمے نے وزیر اعظم کی وان دھن اسکیم کو جموں و کشمیر تک بڑھانے کی تجویز تیار کی تھی جس کا مقصد قبائلی آبادی بالخصوص خواتین کو روزی روٹی کی مدد فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم میں قبائلی سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کے کلسٹر کو قبائلی حراستی جیبوں میں قائم کرنے کا تصور کیا گیا ہے تاکہ طبقوں کو روزگار کے مختلف مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ 20 ممبروں پر مشتمل ایس ایچ جی تشکیل دئے جائیں گے اور 15 ایس ایچ جی کے ہر کلسٹر کو ابتدائی سپورٹ کے طور پر 15.00 لاکھ روپے کی گرانٹ فراہم کی جائے گی جبکہ ہر کلسٹر کو 20.00 لاکھ روپے کابنیادی ڈھانچہ بھی فراہم کیا جائے گا۔ ہجرت کرنے والی آبادی کے SHGs کے قیام پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔سیکریٹری قبائلی امور کے محکمہ کے ساتھ اسپیشل سیکریٹری ہارون ملک ، ڈی سی اندر جیت ، ڈی سی راجوری راجیش شابن اور ڈی سی ریاسی چرندیپ سنگھ ، ڈائریکٹر قبائلی امور جے اینڈ کے مشیر احمد مرزا ، جے ڈی پی شمعن احمد اور دیگر سینئر افسران نے جموں وکشمیر حکومت کی جانب سے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ امیت بھٹناگر جی ایم ایم ایف پی ڈویژن ، سندیپ پہلوان ڈی جی ایم ، کلدیپ کول سینئر منیجر ، شانتو سہارن ریجنل منیجر نارتھ انڈیا ، حلیمہ صدف ، سنجیو – پروگرام ایسوسی ایٹس نے ٹریفڈ اور وزارت قبائلی امور کی نمائندگی کی۔پہلے مرحلے میں یہ اسکیم اضلاع راجوری ، پونچھ ، ریاسی ، گاندربل اور شوپیان میں نافذ کی جا رہی ہے جس کا مقصد 10000 سے زائد قبائلی نوجوانوں ، خواتین اور کاروباری افراد کو مالی مدد ، کاروباری ترقی ، پیکیجنگ اور ویلیو ایڈیشن سپورٹ ، مارکیٹنگ اور انفراسٹرکچر سپورٹ پر محیط ہے۔ دوسرے مرحلے میں ڈوڈا ، کشتواڑ ، اودھم پور ، رام بن ، کٹھوعہ ، اننت ناگ ، پلوامہ ، بانڈی پورہ ، کولگام اور کپواڑہ کا احاطہ کیا جائے گا۔ TRIFED نے نفاذ کرنے والی تنظیموں اور اضلاع کی مدد کے لیے تکنیکی معاونت کی ایجنسی کو فہرست میں شامل کیا ہے۔ اس اسکیم کو اضلاع JKSRLM اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر نافذ کرنے کی تجویز دے رہا ہے۔محکمہ نے پہلے ہی معمولی جنگلات کی پیداوار کے نوٹیفکیشن کے لیے عمل شروع کر دیا ہے جس کے لیے J&K کے لیے TRIFED کی جانب سے کم از کم امدادی قیمت کا اعلان کیا جائے گا۔ کوآرڈینیشن میکانزم کا مقصد ایک ویلیو ایڈیشن چین اور مارکیٹنگ روابط قائم کرنا ہے۔ ٹریفڈ آؤٹ لیٹس جموں ، سرینگر اور دیگر ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں قائم کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قبائلی کوآپریٹو ایس ایچ جی کی مصنوعات بھی ملک بھر کے مختلف ٹریفڈ آؤٹ لیٹس پر آویزاں کی جائیں گی۔ٹرائفڈ کی طرف سے تعینات کردہ ٹیکنیکل ایجنسی قبائلی ایس ایچ جی کی صلاحیتوں کی تعمیر ، آمدنی پیدا کرنے کی سرگرمیوں کا مطالعہ کرے گی جو کہ ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ کے ذریعے مزید ترقی یا جمع کی جا سکتی ہے۔ ایجنسی کی طرف سے قبائلیوں کے ذریعہ تیار کردہ MFP ، ہینڈلومز ، دستکاری ، فوڈ پروسیسنگ وغیرہ کی نقشہ سازی بھی کی جا رہی ہے۔
 
 
 

 ایس ڈی آر ایف کے56 اہلکاروں کو ترقی دی 

سرینگر//ایچ جی/سی ڈی اور ایس ڈی آر ایف جے اینڈ کے کے حال ہی میں منعقدہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (ڈی او سی) کے اجلاس میں ایس ڈی آر ایف کے 56 اہلکاروں کو ترقی دی گئی ہے۔اس حوالے سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 23 ستمبر 2021 کو HG/CD & SDRF ، J&K کے ہیڈ کوارٹرمیں ایک ڈیپارٹمنٹل پرموشن کمیٹی کا اجلاس ہوا ، جس کے نتیجے میں 56 ایس ڈی آر ایف اہلکاروں کو ان کے اگلے رینک پر ترقی دی گئی۔نوٹس میں مزید کہا گیا کہ 56 اہلکاروں میں سے ایک کو سب انسپکٹر ، دس کو اے ایس آئی ، پانچ کو ہیڈ کانسٹیبل اور چالیس کو سلیکشن گریڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ڈی جی پی-کمانڈنٹ جنرل ، ایچ جی/سی ڈی اور ایس ڈی آر ایف ، جے اینڈ کے نے ترقی پانے والے عہدیداروں کو مبارکباد دی ہے اور انہیں مستقبل میں بھی اسی طرح کے جوش اور جوش کے ساتھ کارکردگی دکھانے کی ترغیب دی ہے۔
 
 
 

ممبئی کے اعلیٰ سطحی وفد کا دورئہ پلوامہ |  باغبانی شعبہ کو فروغ دینے کیلئے حکومت پُرعزم :ڈائریکٹر جنرل ہارٹی کلچر 

سرینگر//ممبئی سے آئے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ضلع پلوامہ کا دورہ کیا اورو ہاں باغبانی کے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہاٹی کلچر نے وفد کو بتایا کہ ہارٹی کلچر شعبہ میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی خاطر جموںوکشمیر انتظامیہ نے اقدامات کئے ہیں۔ پالیسی ریسرچ سینٹر ممبئی سے آئے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی وفد جس کی سربراہی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر وکرم کر رہے تھے، نے ڈائریکٹر جنرل ہارٹی کلچر کے ہمراہ ضلع پلوامہ کا دورہ کیا اور وہاں ہارٹی کلچربنیادی ڈھانچے کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ کسانوں اور باغ مالکان کو میسر سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ بتادیں کہ جموں وکشمیر انتظامیہ نے پہلے ہی مذکورہ ادارے کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اْنہیں وادی کشمیر میں ہاٹی کلچر شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اعلیٰ سطحی وفد نے پلوامہ میں سیب کے باغات ، کولڈ سٹوریج ، سیب کے مختلف پروجیکٹوں کا جائزہ لیا۔ لاسی پورہ انڈسٹریل ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد شفیع ، صدر ماجد وفائی کے ساتھ ساتھ وہاں دوسرے عہدیداروں نے گروپ کے ساتھ میٹنگ کی۔ ڈائریکٹر جنرل ہاٹی کلچر نے وادی کشمیر میں ہاٹی کلچر شعبے کے بارے میں وفد کو آگاہی فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ کی جانب سے مختلف سطحوں پر اس شعبے کو بڑھاوا دینے کی خاطر اقدامات اْٹھائے جارہے ہیں۔ اس موقع پر وفد کے سربراہ نے بتایا کہ ہاٹی کلچر شعبے میں سرمایہ کاری کی خاطر ہم پہلے ہی فیصلہ لیا ہے۔ کولڈ سٹوریج کے ساتھ ساتھ مالکان کو مارکیٹ فراہم کرنے کی خاطر بھی ہم کاربند ہے۔
 
 
 

متوازن غذا کا قومی مہینہ | جموں و کشمیر کے 31قبائلی علاقوں میں نکڑ ناٹک ہونگے

پرویز احمد 
سرینگر //قبائلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں متوازن غذا کی کمی کو اجاگر کرنے کیلئے قابلی امور کا محکمہ، نیشنل ہیلتھ میشن اور محکمہ اطلاعات و نشریات کے اشتراک سے جموں و کشمیر کے 31قبائلی علاقوں میں ’’نکڑ ناٹکوں‘‘ کا اہتمام کرنے جارہا ہے۔ پیر سے شروع ہونے والے نکڑ ناٹکوں کے دوران قبائلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں متوازن غزا کی افادیت کو اجاگر کیا جائے گا جبکہ ان نکڑ ناٹکوں میں محکمہ انفارمیشن کے کلچرل افسران اور نیشنل ہیلتھ میشن کے ماہرین بھی شامل ہونگے۔ نکڑناٹکوں کا اہتمام جموں صوبے کے 10اضلاع کے  23قبائلی علاقے اور کشمیر وادی کے 8اضلاع  8قبائلی علاقوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ میشن کی جانب سے جوائنٹ ڈائریکٹر محکمہ قبائلی امور کے نام لکھے گئے مکتوب میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے 31قبایلی علاقوں میں نکڑ ناٹکوں کا اہتمام راشٹریہ پوشن ابھیا ن کے تحت کیا جائے گا۔ مکتوب میں لکھا گیا ہے کہ نکڑ ناٹکوں کیلئے کشمیر صوبے کے 8اضلاع کے 8علاقے شامل کئے گئے ہیں جن میں کرنا ہ کپوارہ،خانصاحب بڈگام، دیوسر کولگام، بونیار بارہمولہ، کنگن گاندربل،ترال پلوامہ، شوپیان اور پہلگام اننت ناگ شامل ہیں جبکہ جموں صوبے کے 10اضلاع میں 23قبائلی علاقوں میں نکڑ ناٹکوں کا اہتمام کیا جائے گا جن میں ڈوڈہ میںچلی پنگل اور گندوہ،کشتواڑ، پونچھ ضلع کے 5علاقوں میں لسانہ،منکوٹ،ننگلی صاحب سائی بابہ،سرنکوٹ اور منڈی،راجوری میں6 علاقوں میں بدھال،کھوس،پنچگرین، قلہ درہال،درہال اور کالہ کوٹ ، ریاسی کے 3قبائلی علاقوں میں جج بگلی،تھرو،گول گلاب گڑھ،بانہال رام بن،  ادھمپور کے 2علاقوں میں رام نگر اداورمجلٹا،جموں میں دھنسل،سانبہ اور کٹھوعہ میں ہیرا نگر کو شامل کیا گیا ہے۔ 
 
 
 

اپنی پارٹی بلاک صدر کی بھاجپا میں شمولیت کی تردید 

سرینگر// اپنی پارٹی ضلع صدر کپوارہ نے پارٹی بلاک صدر کے بی جے پی میں شامل ہونے کی تردید کی ہے۔ ایک بیان میں راجہ منظور نے کہاکہ سیاسی اخلاقیات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جھوٹ بولنے سے سیاسی میدان حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بلاک ٹیٹوال کے پاردہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے عبدالرشید مغل اپنی پارٹی کا بنیادی رکن بھی نہیں ہے لیکن یہ جھوٹ پھیلایاجارہا ہے کہ وہ بلاک صدر تھے اور اپنی پارٹی میں شامل ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی ضلع کپوارہ کے اندر زمینی سطح پر بہت مضبوط ہے اور اِس کو معزز شخصیات اور سماج کے ہر طبقہ کا تعاون حاصل ہے اور اِس طرح کی حرکات صرف پرجوش پارٹی کارکنان کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ اپنے منفی اور جعلی پروپگنڈہ سے لوگوں کو بیوقوف بناسکتی ہیں ، وہ احمقوں کی دنیامیں رہتے ہیں۔ لوگ سیاسی صورتحال سے بخوبی واقف ہیں اور وہ مخلصانہ کوششوں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے درمیان فرق کرنا جانتے ہیں۔
 
 
 

غیر حاضر رہنے پر ملازمین کی ایک ماہ کی تنخواہ روکنے کا حکم

محکمہ اطلاعات کے ملازمین کا احتجاج ،حکمنامہ ناانصافی سے تعبیر کیا

سرینگر//محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر کی جانب سے ڈیوٹیوں سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کی ایک ماہ کی تنخواہ روکنے کے حکم کے بعد محکمہ کے ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی ملازمین نے اس حکمنامہ کو ناانصافی سے تعبیر کیا۔ڈائریکٹر انفارمیشن نے ایک حکم جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اُن ڈی ڈی اوز سے ملازمین کی تنخواہیں روکنے کے لیے کہا ہے جو ستمبر میں اپنی ڈیوٹیوں سے غیر حاضر رہے۔اس سلسلے میںآڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ ضمیمہ میں درج عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کو 2 دن کے اندر مثبت طور بیان کریں ، اگر ایسا نہیں ہوا تو قواعد کے تحت کارروائی کی جائے گی۔حکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ کے ملازمین کی یونین کے نائب صدر بلال احمد نے کہا ’’ہمیں15گھنٹے کام کرنے کا شیڈول ہے ، ہمارے ملازمین مرکزی وزیر نتن گڈکری کے پروگرام کیلئے سونہ مرگ میں تعینات کئے گئے ہیں،جو صبح ساڑھے5 بجے سرینگر سے روانہ ہوئے اور شام کو دیر سے واپس آئیں گے۔ اس کے باوجود ہمیں کم تنخواہ دی جا رہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر صوبہ کے 52 ملازمین اورجموں  کے17ملازمین کی تنخواہیں نامعلوم وجوہات کی بنا پر روک دی گئی ہیں۔ملازمین نے محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ کے رام باغ دفتر پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے محکمہ کا تمام کام روک دیا ہے جب تک کہ حکمنامہ منسوخ نہیں کیا جاتا۔احتجاجی ملازمین نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور کمشنر سیکریٹری انفارمیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملہ کو دیکھیں اور حکمنامہ کو منسوخ کرنے اور تنخواہوں کو جلد از جلد جاری کرنے کو یقینی بنائیں۔اس حوالے سے جوائنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن انعام الحق نے کہا کہ ملازمین چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں اور وہ پریشان ملازمین کا معاملہ ڈائریکٹر کے ساتھ اٹھائیںگے تاکہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے۔ (کے این ایس/جے کے این ایس)
 
 

اونتی پورہ میں پولیس کی کارروائی

خشخاش پوست کی سمیت شہری گرفتار

اونتی پورہ//اونتی پورہ پولیس نے ریشی پورہ کاونی علاقے کے نزدیک ناکہ چیکنگ کے دوران ایک مشتبہ شخص کی تلاشی کے دوران20کلو گرام خشخا ش پوست کی پائوڈر برآمد ہوئی۔مذکورہ شخص کی شنا خت شیراز احمد بٹ ساکن کاونی اونتی پورہ کے بطور ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے اونتی پورہ تھانے میں ایف ائی آر نمبر169/2021 کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔
 
 
 

آزادی کا امرت مہااتسو 

پولیس کی جانب سے سائنس ورکشاپ کا اہتمام 

سرینگر//جموں و کشمیر پولیس کا سویک ایکشن پروگرام کے تحت’ ـ آزادی کا امرت مہااتسو‘ کی جاری تقریبات کے ایک حصے کے طور پرجے کے اے پی5ویں بٹالین پی سی آر سرینگر نے گورنمنٹ ڈگری کالج عیدگاہ سرینگر کے اشتراک سے کالج میں ’خلا اور دیگر تکنیکی کامیابیوں‘کے موضوع پر ایک روزہ سائنس ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام کے موقع پر مختلف نامور ماہرین تعلیم موجود تھے۔ پروگرام کے افتتاحی سیشن میںپروفیسر ڈاکٹر یاسمین عشائی ، ڈائریکٹر کالجز نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کمانڈنٹ جے کے اے پی5ویں بٹالین پی سی آرسرینگر شیخ جنید نے اپنے خطاب کے دوران نوجوانوں میں سماجی اقدار کی نشوونما میں شہری ایکشن پروگرام2021کے کردار پر زور دیا اور نوجوانوں میں ذمہ داری اور جستجو کا احساس پیدا کرنے کیلئے وقتا فوقتا مختلف پروگراموں کے انعقاد میں جموں و کشمیر پولیس کے کردار پر زور دیا۔اختتامی سیشن کے دوران ڈپٹی کمانڈنٹ شبیر احمد نے مختلف سکولوں کے شریک طلباء کواسناد پیش کیں اور اس تقریب کو کامیاب بنانے میں کالج کے پرنسپل اور عملے کا شکریہ ادا کیا۔
 
 
 
 
 

 انجمن شرعی شیعیان کی اربعین پر مجالس عزا

سرینگر// انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے اربعین پرمجالس عزا منعقد ہوئیںجن میں عزاداروں نے شرکت کی۔ایک بیان کے مطابق  اربعین کے مرکزی جلوس بڈگام اور زیلدار محلہ سعدہ کدل سرینگر سے برآمد کئے گئے ۔ان مواقع پر آغا سید عقیل اور آغا سید مجتبیٰ نے اربعین کے تاریخی پس منظر اور تحریکی اہمیت پر مفصل روشنی ڈالی۔ بیان کے مطابق تنظیم کے صدرآغا سید حسن ناساز گار صحت کے باعث کسی بھی تقریب میں شرکت نہیں کرسکے ۔انہوں نے اربعین کی مناسبت سے اپنے پیغام میں اسیران کربلا کے کردار و عمل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اربعین شہادت کی فکراور پیغام کی ترویج کے حوالے سے ایک تاریخ ساز دن ہے۔
 
 
 

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا اظہارِ تعزیت

سرینگر//نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سوگام لولاب کی سماجی شخصیت غلام محی الدین لون کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس سانحہ ارتحال پر مرحوم کے جملہ سوگواران خصوصاً ضلع صدر قیصر جمشید لون کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی۔ مرحوم سابق وزیر مشتاق احمد لون کے والد نسبتی تھے اورسابق کمشنر منظور احمد لون کے والد تھے۔ دریں اثناء پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے مرحوم کے گھر سوگام جاکر سوگوارکنبے کے ساتھ تعزیت کی ۔ انہوں نے پارٹی قیادت کی طرف سے بھی تعزیت کا اظہارکیا ۔پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، سینئر پارٹی لیڈران چودھری محمد رمضان، میر سیف اللہ، جاوید احمد ڈار، کف?