مزید خبریں

درشناجاردوش نے سرینگر اور اننت ناگ کادورہ کیا | کشمیرکی مصنوعات کو مناسب تشہیر دینے کی ضرورت

سری نگر+اننت ناگ//مرکزی حکومت جموں کے عوامی رَسائی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر مرکزی وزیر مملکت برائے ٹیکسٹائل و ریلوے درشنا  وی  جاردوش نے ضلع سری نگر اور ضلع اننت ناگ کا  تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران مرکزی وزیر مملکت نے سرینگرمیں گورنمنٹ آرٹس ایمپوریم ، راج باغ سلک فیکٹری اور گورنمنٹ بمنہ وولن ملز کے کام کاج کا معائینہ کیا۔اُنہوں نے گورنمنٹ آرٹس ایمپوریم سری نگر کا دورہ کرتے ہوئے اَفسران سے کہا کہ وہ مرکز میں فروخت ہونے والی مصنوعات کے بارے میں ملک بھر میں بیداری پیدا کریں ۔ اُنہوں نے مزیدکہا کہ کشمیر ی مصنوعات دُنیا بھر  میں مشہور ہیں اور انہیں مناسب تشہیر اور مارکیٹنگ کی ضرورت ہے۔مرکزی وزیر مملکت نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ اِی۔ کامرس سائٹس کے ساتھ معاہد ہ کریں تاکہ مصنوعات کی مارکیٹنگ اور فروخت کے علاوہ بذریعہ ویب سائٹ آن لائن فروخت کا بندوبست کیا جائے۔ اُنہوں نے ان سے ریشم کی صحیح جانچ کے لئے ایک طریقۂ کار وضع کرنے کے لئے بھی کہا۔دریں اثناء سلک فیکٹری راجباغ کے دورے کے دوران وزیر مملکت نے پیپر ماشی کلسٹروں ، ولوویکر کلسٹروں اور کریول کرافٹنگ کلسٹروں کے مختلف کاریگروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔اُنہوں نے رنگین اور ڈیزائن کے ورکشاپ اور مارکیٹ ریسر اور بائیر ٹرینڈس ورکشاپ میں حصہ لینے کے لئے کاری گروں میں اَسناد بھی تقسیم کیں۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت نے کہا کہ یہاں کے کاری گر منفر د ہیں اور ان کی انفرادیت فیکٹری کی نمائش شدہ مصنوعات سے ظاہر ہوتی ہے ۔ اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ کاریگروں کے لئے کامن فیسلٹی سینٹر قائم کریں تاکہ انہیں ضروری تربیت کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ کی تکنیک بھی فراہم کی جاسکے۔دورے کے دوران درشنا  وی جاردوش نے مختلف کلسٹروں کے سٹالوں کا بھی معائینہ کیا ۔دورے کے دوران ، محترمہ درشنا نے مختلف کلسٹروں بشمول شاخساز ، بانڈی پورہ بُنائی ، نور آری کرافٹس اور زڈی بل کرافٹ کے سٹالوں کا بھی معائینہ کیا اور ان سے بات چیت کی۔مرکزی وزیر مملکت موصوفہ نے گورنمنٹ وولن ملز بمنہ کا بھی دورہ کیا اور اس کے کام کاج کا معائینہ کیا ۔ اُنہوں نے مل کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور وہاں کے عملے کے ساتھ اِستفسار بھی کیا۔اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے محترمہ درشنا وی جاردوش نے کہا کہ جموں وکشمیر ٹیکسٹائل اِنڈسٹری وسیع صلاحیت رکھتا ہے کیوں کہ یہاں جی آئی نشان رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ ریشم کی پیداوار ہے ۔ اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ جموںوکشمیر کی اِس صلاحیت کو اِستعمال کریں اور اسے ٹیکسٹائل مینو فیکچرنگ اِنڈسٹری کا مرکز بنائیں۔دریں اثنا، اُنہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف سری کلچر کا دورہ بھی کیا اور ککون نیلامی مارکیٹ 2021-22 میں شرکت کی اور ککون بنائیوں سے بھی بات چیت کی۔وزیر مملکت موصوفہ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں ٹیکسٹا ئیل سیکٹر میں تیزی سے اِضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ کسانوں کے علمی وسائل کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ ککون بننے والوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وزیر مملکت نے ان سے حکومت کی تمام سکیموں کا مناسب فائدہ اُٹھانے کو کہا اور انہیں مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔سہ پہر اُنہوں نے سنٹرل سیر کلچر ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس آر ٹی آئی) پانپور کا دورہ کیا۔ وزیرموصوفہ نے شمالی ہند میں سیری کلچر سیکٹر کے ریسرچ اینڈڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) انسٹی چیوٹ کے سائنسدانوں سے بات چیت کی۔اُنہوں نے سائنس دانوں سے کہا کہ وہ ٹریننگ ، ٹیکنالوجی کی منتقلی ، کوآرڈی نیشن اور مارکیٹ ڈیولپمنٹ ، بیجوں میںمدد فراہم کریں تاکہ یہاں روزگار کے فائدہ مند مواقع پیدا ہوں۔ادھر درشا وکرم جار دوش نے ضلع اننت ناگ کا دورہ کیا۔دورے کے دوران مرکزی وزیر مملکت نے کئی تقریبات اور سرگرمیوں میں حصہ لیاجن میں سرکاری اَفسران اور وفود کی شرکت دیکھی گئی ۔اُنہوں نے ہینڈی کرافٹس اور ہینڈ لوم محکمہ کی جانب سے لگائے گئے سٹالوں کا معائینہ کیا اور  متعدد عوامی وفود ، پنچایتی راج اداروں کے ارکان ، ایس ایچ جی کے ارکان ، یوتھ کلبوں اور انٹرپرینیوروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔اُنہوں نے کارپٹ سینٹر سلیگام کا بھی دورہ کیا اور کاریگروں کے ساتھ بات چیت کی۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے وزیر مملکت نے ملک بھر میں دست کاری شعبے کو فروغ دینے کے لئے وزیر اعظم کی سربراہی میں حکومت کی طرف سے اُٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے سیلف ہیلپ گروپوں کے ارکان اور انٹرپرینیوروں کے ساتھ بات چیت کی جنہوں نے اَپنی کامیابیوں کی کہانیاں شیئر کیں۔ اُنہوں نے اُن پر زور دیا کہ وہ اَپنے یونٹوں کو جی ای ایم پورٹل اور دیگر کاروباری سائٹوں پر رجسٹر کریںتاکہ ان کی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی سطح اور کسٹمربیس میں اِضافہ ہو۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس اینڈہینڈ لوم کشمیر محمود احمد ، آرٹی او کشمیر ساجد یحییٰ نقاش ، صدر گرام آرٹ صوفی یوسف اور دیگر اَفسران موجود تھے۔ایس ایچ جی کے ارکان اور کاریگروں نے علاقے کے آرٹ اور دستکاری شعبے کی ترقی سے متعلق مختلف مطالبات گوش گزارکئے۔
 
 
 
 

کالجوں میں عنقریب پیشہ ورانہ کورس متعارف ہونگے : سبھارش سرکار

سری نگر//مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم سبھاش سرکار نے اتوارکو اَپنا پانچ روزہ دورہ کشمیر مکمل کیا۔ وہ مرکزی حکومت کے عوامی رابطہ پروگرام کے ایک حصے کے طور پر وادی کے دورے پر تھے۔مرکزی وزیر مملکت موصوف نے اَپنے تفصیلی دورے کے دوران مختلف تعلیمی اِداروں کا دورہ کیا اور ملازمین اور شراکت داروں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔اَپنے دورے کے اختتام پر میڈیا اَفراد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ دورے کا مقصد وزیر اعظم کی ہدایات پر تعلیمی شعبے کی زمینی حقائق جاننا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم مستقبل میں اَپنی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اَپ گریڈ کرنے کے لئے مشن موڈ پر کام کرے گا۔مرکزی وزیر مملکت نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اعلیٰ تعلیمی محکمہ کی جانب سے اَنڈر گریجویٹ کورسوں  کے پہلے سال کے طلباء میں 75 ہزار ٹیبلٹس تقسیم کی جائیں گی ۔ اِسی طرح سکولی تعلیم محکمہ کی جانب سے قبائلی برداری سے تعلق رکھنے والے طلاب میں 2ہزار ٹیبلٹس تقسیم کی جائیں گی۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ سکل ڈیولپمنٹ کو بطور مضمون متعارف کیا جائے گااور مستقبل قریب میں اِس خطے کے تمام کالجوں میں ووکیشنل کورسز شروع کئے جائیں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے طلباء کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار تلاش کرنے میںمدد ملے گی۔مرکزی وزیر مملکت نے سرکاری سکولوں میں سہولیات کی اَپ گریڈیشن کے بارے میں کہا کہ جموںوکشمیر کے سرکاری سکولوں میں دو ہزار کنڈرر گارٹن کلاس روم قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے سرکاری اور نجی سکولوں کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں مدد ملے گی جب بات پری پرائمری تعلیم اور ابتدائی بچپن کی دیکھ ریکھ کی ہو۔مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم سبھاش سرکار نے وزیر اعظم کی خصوصی سکالر شپ سکیم کے فوائد کے بارے میں بھی بات کی اور تمام اہل پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور اس سکیم سے استفادہ کریں۔مرکزی وزیر مملکت کے ہمراہ ناظم سکولی تعلیم تصدق حسین اور ڈائریکٹر کالجس یاسمین عشائی بھی تھیں۔
 
 
 
 

پنچائتی نظام سے ترقیاتی کاموںکو فروغ ہوگا: گری راج سنگھ  

بِلاور//مرکزی وزیر دیہی ترقی اور پنچایتی راج گری راج سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تین دائروں والے پنچایتی راج نظام ترقیاتی کاموں کو فروغ دے گا جو کہ ان کے منتخب کردہ پی آر آئی نمائندوں کے ذریعے عوامی خواہش کے مطابق ہے۔وزیر نے اِن باتوں کا اِظہار مرکزی حکومت کے جاری عوامی رسائی پروگرام کے تحت کٹھوعہ ضلع کے جی ڈی سی بلاور کے دورے کے دوران کیا۔اُنہوںنے مختلف شعبوں بشمول زراعت ، باغبانی ، آئی سی ڈی ایس ، بینک وغیرہ کے لگائے گئے سٹالوں کا معائینہ کیا۔وزیر نے زراعت اور باغبانی شعبوں کی مختلف حکومتی معاونت والی سکیموں کے فائدہ اُٹھانے والوں میں سولہ ٹریکٹر اور ایک ٹلر بھی تقسیم کیا۔اُنہوںنے 12.74 کروڑ روپے مالیت کے نئے تعمیر شدہ اثاثوں کا اِفتتاح کیا جس میں دو پی ایم جی ایس وائی سڑکیں ، ایک اے این ایم ٹی سکول بلاور ، چار پنچایت گھر کی عمارتین شامل ہیںاورایک ہزار پی ایم اے وائی مکانات مستحقین کے لئے وقف کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے ڈنگا امب، بلاور اور برنوٹی بلاکوں میں تعمیر ہونے والی ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل ، کٹھوعہ بلڈنگ اورا تین بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کی عمارتوں کا عملی طور پر اِی ۔ سنگ بنیاد بھی رکھا۔اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ جموںوکشمیر میں پہلی بار فعال ضلعی اور بلاک ترقیاتی کونسلیں ہیں اور ترقی کی ذمہ داری بنیادی پر ان پر پی آر آئیز پر ہے ۔ اُنہوں نے منتخب پی آر ائی سے اپیل کی کہ وہ اَپنے اَپنے علاقوں کی ترجیح کے مطابق ترقیاتی کاموں کے لئے بجٹ منصوبہ بندی اور مختص کریں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیلف ہیلپ گروپوں کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کے لئے جموں و کشمیر میں خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششوں کو مضبوط بنانے کی خاطر بہتر مارکیٹنگ چینلز استعمال کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں زراعت اور باغبانی کے شعبوں میںہائی ڈینسٹی پودے لگانے کا فائدہ اب چھوٹے کسانوں کے لئے بڑھایا گیا ہے جو چھوٹے کسانوںکی خاطر آمدنی کے راستے کھولیں گے۔وزیر نے ڈی ڈی سی ، بی ڈی سی ، یو ایل بی ، پی آر آئی اور سول سوسا ئٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل اور مطالبات سنے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کے مسائل کا حل مناسب فورموںپر اٹھایا جائے گا۔
 
 
 
 

 سچیت گڑھ میں ’ بیٹ دی ریٹریٹ‘ کا انعقاد خوش آئند: محبوبہ 

سرینگر// پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ہندپاک  کے درمیان بین الاقوامی سرحد پرآر ایس پورہ جموں میں ’’بیٹ دی ریٹریٹ‘‘کو دوبارہ شروع کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ کے این ایس کے مطابق محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ،’’ جموں میں حدمتارکہ پر سچیت گڑھ میں’Beat the retreat‘کی تقریب کے سرنو انعقاد کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔ انہوںنے ٹویٹ میں مزید لکھا کہ میں امید کرتی ہوں کہ اس سے سچیت گڑھ اور سیالکوٹ کے درمیان تجارتی اور سفری راستے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ بی ایس ایف نے گزشتہ روز جموں کے آر ایس پورہ میں سچیت گڑھ سرحد پر’ بیٹ دی ریٹریٹ ‘تقریب منعقد کی ، جس کا افتتاح جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کیا۔ اس  تقریب میں پاکستانی فوج نے شرکت نہیں کی جبکہ ہزاروں سیاح اور اسکولی بچے تقریب میں شامل تھے۔ 
 
 
 
 

شہری ہلاکتوں پر حکیم یاسین کو تشویش | جموں کشمیرمیں بے چینی دور کرنے کیلئے اسمبلی انتخاب ناگزیر

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمد یاسین نے حالیہ ایام کے دوران نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے مٹن میں اقلیتی برادری کے مذہبی جذبات کومبینہ طور ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی بھی زبردست مذمت کی ہے۔ایک بیان کے مطابق وترہیل بڈگام میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حکیم محمد یاسین نے گزشتہ روز سرینگر میں کرن نگراوربٹہ مالوہ میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں دوافراد کو ہلاک کئے جانے پر تشویش کااظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرمیں موجودہ سیاسی وسماجی عدم استحکام اوربے چینی کو ختم کرنے کیلئے اسمبلی انتخابات کافوری انعقادبنیادی اہمیت کاحامل ہے۔حکیم یاسین نے کہا کہ عوامی مسائل کے تئیں موجودہ انتظامیہ کی عدم توجہی انتہائی تکلیف دہ اور پریشان کن ہے۔انہوں نے مرکز پرزوردیاکہ وہ جموں کشمیر میں فوری طور اسمبلی انتخابات کروائیں تاکہ لوگ اپنے نمائندوں کے ذریعے اپنے مسائل ومشکلات کونپٹاراکرواسکیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں انتظامیہ میں جوابدہی اور شفافیت کافقدان پایاجارہا ہے جس کو فوری طور دور کرنے کی اشدضرورت ہے۔پی ڈی ایف چیئرمین نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت جموں وکشمیر میں حالات ٹھیک کرنے کے لئے سنجیدہ ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ یہاں کے لوگوں کی امنگوں اور خواہشات کی قدر کریں ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے دل جیتنے کے لئے لازمی ہے کہ ۵ اگست ۹۱۰۲ کو یکطرفہ طور ان سے چھیننے گیے تمام بنیادی اور آیینی حقوق کو بغیر کسی  پس و پیش  بحال کیا جائے ۔حکیم یاسین نے ضلع انتظامیہ بڈگام پر زور دیا کہ وہ آنے والے موسم خزاں اور سرما کے دوران لوگوں کو بجلی و پینے کے پانی کی معقول سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے پیشگی  ہر ممکن وسائل کو بروئے کار لائیں ۔انہوں نے بازاروں میں اشیا ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں ناکامی پر بھی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ 
 
 
 

بانہال میںدلدوز سڑک حادثہ |  موٹر سائیکل سوار لقمۂ اجل 

محمد تسکین
بانہال//اکڑال پوگل پرستان میں سڑک حادثے میں ایک موٹر سائیکل سوارلقمہ اجل بن گیا۔معلوم ہوا ہے کہ28برس کے محمد امین شیخ ولدمحمد یاسین ساکن کنڈہ پوگل تحصیل اکڑال اپنے گھر جارہاتھا کہ اس دوران اڑھال کے نزدیک وہ اپنے موٹر سائیکل JK-19  8341پر قابو کھو بیٹھا،جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سڑک سے لڑھک کردوسوفٹ گہری کھائی میں جاگرا۔مقامی لوگ اگرچہ فوری طور جائے حادثہ پر بچائو کارروائیوں کیلئے پہنچ گئے لیکن تب تک موٹر سائیکل سوار کی موت واقع ہوچکی ہے۔متوفی جوان کی کنڈہ پوگل میں ادویات کی دکان تھی۔  اس سلسلے میں رامسوپولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔
 
 
 

پولیس یادگاری دن تقاریب کااہتمام | ڈائریکٹر جنرل پولیس نے46لاکھ روپے واگزار کئے

سرینگر//پولیس یادگاری دن  جو21اکتوبر کو منایاجارہا ہے،کے سلسلے میں پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے 23ایس ایس پیز (جن میں تین پولیس ضلع بھی شامل ہیں) کے حق میں46لاکھ روپے واگزار کرنے کو منظوری دی ہے تاکہ اس دن کی مناسبت سے تقاریب کا اہتمام کیا جائے۔صفائی پروگرام کے تحت23اضلاع کے ایس ایس پیز کے حق میں دودولاکھ روپے واگزار کئے گئے تاکہ پولیس یادگاری دن کے سلسلے میںتقاریب کااہتمام کیاجائے ۔یہ پروگرام پولیس یادگاری دن21اکتوبر سے31اکتوبر قومی یکجہتی دن تک منعقد کئے جائیں گے تاکہ قوم اور ملک کیلئے اپنی جانیں نچھاور کرنے والے پولیس اہلکاروں کویادکیاجائے۔وزیراعظم کی پولیس سربراہوں کی کانفرنس میں اس سال کا پولیس یادگاری دن کووِڈ- 19کے دوران اپنی جانیں نچھاور کرنے والے پولیس اہلکاروں کی یاد میں منایا جائے گا ۔
 
 
 

گرفتار پاکستانی شہر ی پولیس کے حوالے 

جاوید اقبال 
مینڈھر //گزشتہ دنوں حدمتارکہ کے نزدیک گرفتار ہوئے پاکستانی شہری کو فوج کی جانب سے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔مینڈھر سب ڈویژن کے سرحدی علاقہ بلنوئی میں سے سرحد عبور کر کے ہندوستانی حدود میں آنے والے شہری کو فوج کی مقامی نفری نے گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد کچھ دنوں تک فوجی حراست میں رکھنے کے بعد مذکورہ شخص کو جموں وکشمیر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔گرفتار شدہ شہری کی شناخت علی حیدر ولد محمد شریف سکنہ عباس پور پاکستان کے طور پر ہوئی ہے ۔پولیس نے اس سلسلہ میں ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے مزید تحقیقاتی عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔
 
 
 
 

میڈیکل کالجوں کی نشستیں مقامی امیدواروں کیلئے مخصوص رکھی جائیں | کل ہند کوٹا میں سیٹیں دینے سے صحت کا شعبہ ابتر ہوگا:قیوم وانی

سرینگر//سول سوسائٹی فورم نے حکومت کی طرف سے ایم بی بی ایس اور پوسٹ گریجویٹ کورسوں کی نشستیں کل ہند پول میں منتقل کرنے کے جموں کشمیرحکومت کے فیصلے کاسنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جموں کشمیر کے امیدواروں کامستقبل متاثر ہوگا اور یہاں کے صحت عامہ کے شعبہ کو ضررپہنچے گا۔ایک بیان میں فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے کہا کہ پولنگ سے جموں کشمیرکے امیدواروں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔وانی نے خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میڈیکل کونسل نے حالیہ نوٹیفیکیشن میں کہا کہ جموں کشمیر حکومت کے کل ہندکوٹے میں حصہ لینے کا امکان ہے اوراس کیلئے تجویز حکومت کو منظوری کیلئے بھیج دی ہے،جبکہ جموں کشمیرمیں تمام میڈیکل نشستیں مقامی امیدواروں کیلئے مخصوص ہوتی تھیں۔وانی نے کہ اب اس قدم سے ایم بی بی ایس کی15فیصد اورپوسٹ گریجویٹ کورسوں کی50فیصد نشستیں کل ہند کوٹے میں جائیں گی۔اس طرح کاقدم مقامی امیدواروں کے نوکریوں کے مواقع میں رکاوٹ بنے گاجس سے جموں کشمیر کے ڈاکٹر بے روزگار ہوجائیں گے۔وانی نے کہا کہ کل ہند کوٹا میں جموں کشمیر کے میڈیکل کالجوں کی نشستیں پول کرنے سے یہاں ڈاکٹروں اور مریضوں کا تناسب بھی بگڑجائے گا جس سے یہاں کا طبی شعبہ ابتری کاشکار ہوگا۔فورم نے حکومت پرزوردیا کہ وہ اس معاملے پرسرنو غورکرکے جموں کشمیرکے میڈیکل کالجوں کی تمام نشستیں مقامی امیدوراوں کے مخصوص رکھیں۔
 
 
 
 

پونچھ میںتیندوے کے حملہ میں بچہ زخمی | عشرت حسین بٹ+جاوید اقبال 

پونچھ// ضلع پونچھ کے منڈی اور مینڈھر کے سرحدی علاقہ میں تیندوے کے حملے میں ایک کمسن شدید زخمی جبکہ ایک گائے بھی لقمہ اجل بن گئی ۔ تحصیل منڈی کے علاقہ بیدار باغاں میں چیتے نے ایک کمسن بچے کو شدید طور پر زخمی کر دیا ہے جسے منڈی سب ضلع ہسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد مزید علاج کیلئے ضلع ہسپتال پونچھ لے جایا گیا۔ پولیس کے مطابق اتوار کی صبح منڈی تحصیل کے علاقہ بیدار باغاں سے تعلق رکھنے والا ایک کمسن اپنے مال مویشیوںکو لے کر چراگاہ کی طرف لے جا رہا تھا کہ اچانک راستے سے ایک تیندوانمودار ہوا جس نے اس پر حملہ کر کے اسے شدید طور پر زخمی کر دیا۔کمسن کی شناخت محمد اسحاق ولد ولی محمد کے طور پر ہوئی ہے بعد ازاں مقامی لوگوں کی مدد سے اسے سب ضلع ہسپتال منڈی لایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے اسے ابتدائی علاج کر کے مزید علاج کیلئے ضلع ہسپتال پونچھ ریفر کردیا جہاں پر اس کا علاج جاری ہے ۔۔سر پنچ بیدار رفیق مدنی نے بتایا کہ محمد اسحاق ولد ولی محمد ساکنہ بیداراتوار کی صبح اپنے مویشیوں کے ہمراہ گھر سے باہر نکلا تو تیندوے نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے شدید طور پر زخمی کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ تحصیل منڈی کے متعدد علاقوں میں اس سے قبل بھی جنگلی جانوروں جو کہ انسانی بستیوں میں اتر آئے ہیں، نے کافی لوگوں کو زخمی کیا ہے مگر انتظامیہ اور محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے عوام کوتحفظ نہیں دیا جارہاہے ۔اسی طرح مینڈھر بالاکوٹ کی حد متارکہ کے قریب تیندوے کے حملے میں محمد خلیل ولد سید محمد کی ایک گائے ہلاک ہوگئی ۔مکینوں نے انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ جنگلی جانوروں پر قابو پانے کیلئے وائلڈ لائف حکام کو متحرک کر کے متاثرین کو معاوضہ فراہم کیا جائے ۔
 
 
 
 

عرش صہبائی پرتصانیف کااجراء |  درخشان اندرابی نے مرحوم کو وطن کا سپوت قراردیا

سرینگر//اقلیتی امور کی مرکزی وزارت کی وقف ترقیاتی کونسل کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشان اندرابی نے انجمن فروغ اردوکے اہتمام سے منعقدہ ایک تقریب پر جموں میں مرحوم عرش صہبائی پر تصانیف اجراء کیں۔اس موقعہ پرانہوں نے انجمن فروغ اردوکو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس انجمن نے جموں میں اردوزبان اور ادب کے فروغ کیلئے بے مثال کام کیا ہے۔ڈاکٹر درخشان اندرابی نے کہا کہ عرش صہبائی کی شاعری کوبین الاقوامی سطح پرپزیدائی حاصل ہوئی ہے اورہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے یہاں ان کے ساتھ کچھ دن گزارے ہیں۔انہوں انجمن فروغ اردو کی،ان کی غیرمطبوعہ تصانیف کو منظر عام پر لانے اوراورعرش شناسی کیلئے پلیٹ فارم مہیا کرنے کیلئے سراہنا کی ۔ڈاکٹر درخشان اندرابی نے کہا کہ عرش وطن کے سپوت تھے اور وہ جوان قلمکاروں اور شاعروں کیلئے مشعل راہ ہوں گے ۔اس موقعہ پر اپنے خطاب میں سہیل کاظمی نے کہا کہ عرش صہبائی جموں میں دہائیوں ادبی تحریک کے روح رواں رہے ہیں اورکہنہ مشق خورشید کاظمی ان کے ادبی کارناموں کے ساتھی رہ چکے ہیں۔تقریب کے دوران سیدخورشید کاظمی کی ’مغان حیات عرش‘تنقیدی تصنیف جاری کی گئی۔ اس کے علاوہ کوشل کرن ٹھاکورکی ’اردوغزل کے عہدسازشاعر ۔عرش‘اوردیگر تصانیف کابھی اجراء کیاگیا۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

نامور ماہر تعلیم پروفیسر نصرت اندرابی انتقال کرگئیں | سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد کا اظہار رنج

سرینگر//نامور ماہر تعلیم،سابق پرنسپل زنانہ کالج سرینگر اور ممبر جے اینڈ کے وقف بورڈ پروفیسر نصرت اندرابی اتوار کی صبح اپنے گھر واقع راجباغ میںانتقال کرگئیں۔وہ بنیادی طور پر ضلع اننت ناگ کے مٹن سے تعلق رکھتی تھیں ۔کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی سابق طالبہ اور نامور اسکالر پروفیسر اندرابی نے زنانہ کالج مولانا آزاد روڈ سریگر سے گریجویشن کی تھی اور 1968 میں اسی کالج میں بطور استادتعینات ہوئیں اور بعد میں پرنسپل کی حیثیت سے اسی کالج کی سربراہی بھی کی۔انہوں نے 30 سال تک جموں و کشمیر میں تین خواتین کالجوں میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔پروفیسر اندرابی نے این سی کانگریس مخلوط حکومت کے دوران ممبر جے اینڈ کے وقف بورڈ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔پروفیسر اندرابی نے تعلیم کے شعبے میں بہت اہم کردار ادا کیا اور لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے علاوہ خواتین کو بااختیار بنانے میں ہمیشہ آواز اٹھائی۔ مرحومہ کئی غیر سرکاری تنظیموں کا بھی حصہ تھیں اور سیکریٹری ریڈ کراس کمیٹی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔انہوں نے خواتین کے مسائل پر کئی کتابیں لکھیں اور کئی قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں بھی حصہ لیا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق مرحومہ کی اجتماعی فاتحہ خوانی 6اکتوبر بروز بدھوارصبح 10بجے اُن کے آبائی مقبرہ واقع مگرمل باغ میں انجام دی جائے گی جس کے بعد مرحومہ کے گھر واقع راجباغ نزدیک پوسٹ آفس میں دن بھر ایصال ثواب کی مجلس آراستہ ہوگی۔دریں اثناء ان کے انتقال پر صحافتی اور ادبی حلقوں سے وابستہ افراد کے علاوہ دیگر طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد نے بڑے پیمانے پر تعزیت کا اظہار کیا ہے اورمرحومہ کی مغفرت کیلئے دعا کی ہے۔ ان کی شادی مرحوم پروفیسر (ڈاکٹر) محمد امین اندرابی سے ہوئی تھی جن کا انتقال 2001 میں ہوا تھا۔ اردو کونسل نے اُن کی رحلت کو اردو زبان و ادب کے لئے ایک بڑا نقصان قرار دیاہے۔انجمن اردو صحافت نے پروفیسر نصرت اندرابی کے انتقال کو اردو کی ترقی،ترویج  اور ترسیل کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ادھر حقانی میموریل ٹرسٹ نے پروفیسر نصرت اندرابی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری بشیر احمد ڈار نے کہا ہے کہ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کی تلافی ناممکن ہے ۔سی پی آئی ایم کے لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر نصرت اندرابی کی رحلت سماج کیلئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔انہوں نے مرحومہ کے بلند درجات کیلئے دعا کی ہے۔
 
 

 قبائلی نوجوانوں کو 800منی شیپ فارم الاٹ :ڈاکٹر شاہد اقبال | 10 ہزار نوجوانوںکو روزگار فراہم کرنے کا ہدف 

سرینگر //قبائلی امور کے محکمے نے ایک مہتواکانکشی منصوبہ شروع کیا ہے جس میں 10 ہزار قبائلی نوجوانوں کو فائدہ مند روز گار کی پیشکش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کئی مہارت کے ترقیاتی کورس اور روز گار کے مواقع ہیں ۔ منی شیپ فارم سکیم کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز بھیڑوں کے پالنے کے شعبے کے زیر اہتمام مختلف اضلاع میں درخواست گذاروں کے درمیان قرعہ اندازی کے ساتھ کیا گیا ۔ بھیڑ فارمنگ سکیم کے تحت پہلے مرحلے میں 1500 نوجوانوں کو منتخب کیا گیا ہے ۔ قبائلی امور کے محکمے کی طرف سے شروع کی گئی منی شیپ فارم اسکیم کا مقصد اس سال 1500 منی بھیڑوں کے فارموں کا قیام ہے ۔ جس کے بعد ہر سال 30 فیصد اضافہ کیا جائے گا ۔ اس اسکیم میں اگلے چار برسوں میں 10 ہزار سے زیادہ بھیڑوں کی کاشت کے یونٹ قائم کئے جائیں گے ۔ فلیگ شپ اسکیم کے تحت مختلف اضلاع میں 6000سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں جو 8 اضلاع میں 835 منی شیپ فارمز کے قیام کیلئے شروع کی گئی تھیں ۔ اس اسکیم کو صد فیصد فنڈ جے اینڈ کے قبائلی امور کے محکمہ نے دیا ہے ۔ سیکرٹری قبائلی امور ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے بتایا کہ لفٹینٹ گورنر جے اینڈ کے کی رہنمائی میں یو ٹی انتظامیہ نے اس سال پہلے 10 ہزار قبائلی نوجوانوں کو فائدہ مند روز گار کی پیش کش کرنے کا ایک مہتواکانکشی منصوبہ شروع کیا تھا۔قرعہ اندازی کے تحت فیز ون کے تحت آنے والے 13 اضلاع میں ہوئی جن میں سانبہ ، کٹھوعہ ، ڈوڈہ ، ریاسی ، پونچھ ، راجوری ، سرینگر ، شوپیاں ، کپواڑہ ، اننت ناگ ، گاندر بل ، پلوامہ اور کولگام شامل ہیں جبکہ باقی اضلاع فیز 2nd میں شامل ہوں گے ۔ واضح طور پر مشن یوتھ کے اسکل ڈیولپمنٹ جزو کے تحت ہر بھیڑفارم کیلئے دو نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی جو کہ ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ لنک کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ 
 
 
 
 

شیپ ہسبنڈری کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر وانی فوت

سرینگر //محکمہ شیپ ہسبنڈی کے سابق ڈائریکٹر اور سٹیٹ ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر غلام نبی وانی اتوار کی صبح مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے ۔مرحوم جموں وکشمیر کے نامی گرامی سرجن اور سابق سربراہ شعبہ جراہی انسٹی ٹوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ ڈاکٹر خورشید عالم وانی اور ڈاکٹر اشرف عالم کے والد تھے ۔ مرحوم نے اپنی ساری عمر دینی اور فلاحی کاموں میں صرف کی ۔لواحقین کے مطابق ان کے گھر شاہ فیصل کالونی بژھ پورہ سرینگر میں تعزیت 3دن رہے گی۔
 
 

آریانز کالج کو | مزید 100بی فارمیسی نشستیںفراہم

سرینگر//فارمیسی کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) نئی دہلی نے بی فارمیسی میں 100 مزید نشستوں کی منظوری دے دی ہے۔ آریانز فارمیسی کالج نے بھی بی فارمیسی کی مزید 100 نشستوں کے لیے اپنی وابستگی دے دی ہے۔ڈاکٹر انشو کٹاریہ ، چیئرمین ، آریانز گروپ نے کہا کہ فارمیسی کا پیشہ لوگوں کی صحت کی ضروریات کے لیے ایک قابل اعتماد پیشہ رہا ہے۔ اب اس وبا کے بعد فارماسسٹ کا کردار زیادہ ہوگا۔ کوویڈ 19 وبائی بیماری نے ملک کے نازک صحت کے نظام کو بے نقاب کردیا ہے۔ اس نے صحت کے شعبے کو درپیش متعدد چیلنجوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ فارما پروفیشنلز کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران نے اس بات کو اجاگر کرنے کا کام کیا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کتنے اہم ہیں۔ کٹاریہ نے مزید کہا کہ بی فارما کی مزید نشستیں شامل کی گئی ہیں کیونکہ کوویڈ 19 کے بعد فارما پیشہ ور افراد کی مانگ ختم نہیں ہوگی لیکن آئندہ برسوں میں حکومتی اور نجی دونوں شعبوں میں اس میں اضافے کا امکان ہے۔
 
 
 

آزادی کا امرت مہا اتسو | ڈورو اننت ناگ اور چرار شریف میںتقاریب

عارف بلوچ
اننت ناگ //آزادی کے امرت مہا اتسو کے تحت میونسپل کمیٹی ڈورو میں اختتامی تقریب منعقد ہوئی جبکہ چراشریف میں بھی ایک تقریب کا اہتما م کیا گیا۔ ڈرومیں ایک تقریب پر ڈورو ویری ناگ میں ہورہی تعمیروترقی ودیگر سرگرمیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ۔اس موقع پر اسکولی بچوں نے رنگا رنگ پروگرام پیش کئے اور مقررین نے صفائی ستھرائی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔صدر میونسپل کمیٹی محمد اقبال آہنگر نے کہا کہ ڈورو میونسپل کمیٹی نے قصبہ میں تعمیروترقی کے حوالے سے کئی اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے قصبہ کو صاف ستھرا رکھنے کی غرض سے کوڑے دان فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ قصبہ ڈورو ویری ناگ میں سوچھ بھارت مشن کے پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے کمیٹی کو اپنا تعاون پیش کریں۔تقریب کے اختتام پر بازار میں ایک بیداری ریلی نکالی گئی جبکہ بہترین کارکردگی دکھانے والے ملازمین و سماجی کارکنان کو اعزاز سے نواز گیا۔تقریب پر پرنسپل ہائیر سیکنڈری اسکول ڈورو، ایس ڈی پی او، ایس ایچ او، ایگزیکٹو آفیسر ڈورو کے علاوہ کئی اہم شخصیات موجود تھیں ۔ادھرگورنمنٹ بائز ہائر اسکینڈری اسکول چرارشریف میں ’آزادی کا امرت مہااتسو ‘بڑے جوش و خروش سے منایا گیا ۔ تقریب میں لوگوں کو صفائی ستھرائی کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا جس میں ایس ڈی ایم چاڈورہ بطورِ مہمانِ خصوصی شامل ہوئے جبکہ تحصیلدار چرارشریف نثار احمد اعوان کے علاوہ زونل ایجوکیشن افسر چرارشریف سید فاروق احمد بخاری بھی موجود تھے۔ میونسپل کمیٹی چرارشریف کے چیئرمین زاہد حسین جان نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کا امرت مہا اتسو ہفتے سے جاری ہے اور میونسپل کمیٹی کی حدود میں آنے والے وارڈوں کی صفائی بھی عمل میں لائی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہدایت پر آزادی کا امرت مہا اتسو ہفتہ کومنایا گیا اور اس کا اصل مقصد یہی ہے کہ آس پاس کے ماحول کو کس طرح صاف رکھیں۔ انہوں نے لوگوں کو’ آزادی کا امرت مہا اتسو‘ کامیاب بنانے میں شکریہ ادا کیا۔انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن اسلئے بھی اہم ہے کہ آج گاندھی جینتی ہے جو مہاتماگاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ اس دوران مہاتما گاندھی کو بھی خراج عقیدت ادا کیا گیا۔
 
 
 
 
 

میرواعظ خاندان کو صدمہ | اہلیہ مولوی غلام مصطفی انتقال کرگئیں

سرینگر// میرواعظ (مرحوم)مولانا محمد یوسف شاہ کے برادر اصغر اور انجمن نصر الاسلام کے سابق جنرل سیکریٹری مولوی محمد شاہ کی بہو اہلیہ مولوی غلام مصطفی ساکن مولوی سٹاپ لالبازار مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ مرحومہ کی وفات پر انجمن نصر الاسلام نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے میرواعظ خاندان کے ارکان خاص طور پر مرحومہ کے فرزند مولوی افتخار احمد، صدر انجمن میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق ، مرحو م مولوی غلام مصطفی کے برادران ، انجینئر نثار احمد، مولوی مظفر احمد اور مولوی بشارت احمد کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور اللہ تعالی سے مرحومہ کی مغفرت اور جنت نشینی کیلئے دعا کی ہے۔خاندانی ذرائع کے مطابق کووڈ19کے پیش نظر کوئی بھی انفرادی یا اجتماعی فاتحہ خوانی کی تقریب نہیں ہوگی۔عوام الناس سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے طور پر ہی مرحومہ کی مغفرت اور جنت الفردوس کیلئے ایصال ثواب کا اہتمام کرکے شکریہ کا موقعہ دیں۔
 
 
 
 

ثریا عبداللہ کے داماد |  ڈاکٹر فیصل خان امریکہ میں فوت

 نیشنل کانفرنس کا اظہارِ تعزیت

سرینگر//نیشنل کانفرنس نے پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی ہمشیرہ ثریا عبداللہ کے داماد اور معروف اسکالر اور مصنفہ ڈاکٹر نائلہ علی خان کے شوہر ڈاکٹر فیصل خان ولد حشمت اللہ خان کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے جملہ سوگواران خصوصاً پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، نائب صدر عمر عبداللہ، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال، ثریا متواور متو و خان خانوادوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر فیصل امریکہ میںاپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم تھے اور وہیں ان کا انتقال ہو ۔ پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران مبارک گل، عرفان احمد شاہ، حسنین مسعودی، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، شمیمہ فردوس، ترجمان عمران نبی ڈار ، صبیہ قادری، احسان پردیسی اور دیگر پارٹی لیڈران نے مرحوم کے گھر واقع راجباغ جاکر سوگواران کے ساتھ تعزیت کی ۔دریں اثناء پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک تعزیتی اجلاس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مرحوم کو خراج عقیدت کیا گیا۔ پارٹی کے سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، پیرزادہ احمد شاہ، چودھری محمد رمضان، دیوندر سنگھ رانا، شمیمہ فردوس، سکینہ ایتو، آغا سید روح اللہ اور ایڈوکیٹ محمد اکبر لون سمیت دیگر لیڈران نے بھی ڈاکٹر فیصل خان کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی ہے۔ ادھر سی پی (آئی )ایم کے لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے سوگوار کنبے سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے دائمی سکون کیلئے دعا کی ہے۔
 
 

 تاجدار بابر کے انتقال پرسوز کا اظہار تعزیت

سرینگر//سینئر کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے پارٹی کارکن تاجدار بابر کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تاجداربابر ریڈیو کشمیر میں پشتو زبان کے نیوز ریڈر تھیاور آنجہانی اندرا گاندھی کے دورمیں ہی کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی اور دہلی میں سکونت اختیار کرلی۔