مزید خبریں

محکمہ بجلی کی من مانی سے پنچائتی اراکین ناخوش 

ڈوڈہ کی تحصیل چلی پنگل میں صارفین کو ہراساں کرنے کا الزام 

اشتیاق ملک 
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع جہاں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں محکمہ کے ملازمین کی کارکردگی سے بھی اکثر پنچائتی اراکین ناخوش ہیں۔ڈوڈہ کی تحصیل چلی پنگل سے پنچائتی نمائندگان کے ایک وفد زیر قیادت سرپنچ پنچائت تلوگڑہ سکینہ بیگم نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ کے ملازمین اپنی من مانی سے کام کرتے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ آر جی جی وی وائی فیز دوم کے تحت جاری مختلف کاموں کے ٹھیکے محکمہ کے ملازمین اپنے رشتہ داروں کے نام لے کر زمینی سطح پر غیر تسلی بخش کام کررہے ہیں۔وفد میں شامل سماجی کارکن نثار حسین ملک نے کہا کہ محکمہ کے ملازمین بجلی کنکشن کے نام پر غریب لوگوں سے پیسہ وصول کر کے انہیں ہراساں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری حکمنامہ کے تحت ماہانہ بنیادوں پر صارفین تک بل پہنچانا محکمہ کی ذمہ داری ہے لیکن ان کی لاپرواہی سے غریب عوام وقت پر بل حاصل نہ کرنے کی وجہ سے زیادہ کرایا ادا کرنا پڑتا ہے۔سرپنچ پنچائت تلوگڑہ نے مزید کہا کہ سرکار پنچائتی اداروں کو بااختیار بنانے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن زمینی سطح پر تعینات ملازمین اپنی من مانی و تانا شاہی سے کام کرکے غریب و مستحق لوگوں کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ و سب ڈویڑنل انتظامیہ سے بھلیسہ و باالخصوص چلی پنگل میں محکمہ بجلی کے ملازمین کی طرف سے مچائی گئی لوٹ پر تحقیقات کرکے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
 
 
 

کشتواڑ میں خواتین کی گھریلو ہراسانی کے معاملات

خواتین سیل، مہیلا شکتی کیندرا و پولیس کی سرد مہری پر کمیٹی ممبر سیخ پا

عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ میں خواتین پر گھریلوتشدد کے بڑھتے واقعات پر پولیس ، خواتین سیل و مہیلا شکےی کیندر ا پر لیت و لعل کا الزام عائد کرتے ہوئے خواتین ہراساں کمیٹی کی ممبر و ایڈوکیٹ انجلی نے مطالبہ کیا کہ خواتین کی ہراسانی کے معاملات میں فوری اور سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔کشتواڑ کے ڈاک بنگلہ میںایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے الزام لگا یا کہ پولیس خواتین پر گھریلو تشدد کے معاملات میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ان کا کہناتھا”جمعہ کی شام ایک خاتون نے مجھے فون کرکے بتایا کہ اُس کاشوہر اسکے ساتھ زیادتی کررہا ہے جبکہ گزشتہ 10برسوں سے وہ زیادتی کا شکار ہے۔میں نے ایس ایچ او تھانہ کشتواڑ کو جانکاری دی اور انھیں زنانہ پولیس بھیجنے کو کہا لیکن کوئی کاروائی نہ ہوئی“۔ایڈوکیٹ انجلی نے کہا کہ جب پولیس کواس بات کی علمیت ہوئی کہ معاملے کو میڈیا میں لایاجارہا ہے تو اب پولیس کاروائی کرنے کی حامی بھرچکی ہے۔انھوں نے کہا”خواتین ہیلپ لاین نمبرات پر متعدد مرتبہ فون کئے گئے لیکن کوئی جواب نہیںملتا ہے جس کے نتیجہ میں ہراسانی کے واقعات کا کوئی نوٹس نہیں لیاجارہا ہے اور یوں ایسے واقعات میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے“۔واقعہ کی نسبت اُن کا مزید کہناتھا” نومنتخب سرپنچ و مہیلا شکتی کیندرا کو بھی مطلع کیاگیا لیکن اس کے بعد ستم رسیدہ خاتون کی مدد کو کوئی نہیں آیا“۔ انہوں نے سبھی افراد کے خلاف کارروائی کی مانگ کی جنھوں نے گھریلو تشدد کے اس معاملہ میںکاروائی کرنے میں تاخیر کی۔
 

 کوترنہ نالہ پل کی تعمیر کے 5سال بعد بھی معاﺅضہ کی ادائیگی باقی

عاصف بٹ 
کشتواڑ// چھاترو کے مضافاتی علاقہ کوترنہ میں نالہ پر بنائے گئے پل کی تعمیر میں استعمال ہوئے مواد کا معاﺅضہ 5سال بعد بھی واجب الادا ہے ۔مقامی لوگوںنے بتایا کہ 2016-17میں اس نالہ پر ایم جی نریگا کے تحت کام ہوا جس میں مقامی لوگوں کو مزدوری دی گئی تاہم پانچ برس کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی انہیں استعمال ہوئے مٹیریل کا معاﺅضہ ادا نہیں کیا گیا۔موہن لال نامی مقامی شہری نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ 2016میں مقامی لوگوں نے اپنے اپنے جاب کارڑوں کے تحت اس پل پر کام کیا جس دوران دیواروں کی تعمیر مکمل کی گئی،اگرچہ کام کے عوض کچھ رقومات فراہم کی گئیں لیکن مٹیریل کا پیسہ ااج تک ادا نہیں کیا گیا۔موہن لال نے کہا کہ ایک لاکھ بیس ہزار روپے کا کام ہوا ہے جس میں سے محض چالیس ہزار کے قریب رقم ملی ہے جبکہ باقی رقم ہنوز واجب الادا ہے۔انہوںنے کہا کہ اگرچہ ان معاملات کو بیک ٹو ولیج پروگراموں کے دوران بھی اٹھایا گیا لیکن آج تک عملی طور کوئی مداوا نہیں ہوا۔انھوں نے بی ڈی اندروال تسلیم جاوید سے اپیل کی کہ انہیں تعمیراتی مواد کا پیسہ واگزار کیاجائے تاکہ وہ قرضہ چکا سکیں۔
 

 اوبی سی طبقہ کی حقوق واگزارکرانے کی مانگ

زاہد بشیر
گول//گول میں اوبی سی طبقہ نے حکومتوں پر ان کے حقوق سلب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پسماندہ طبقہ کے بنیادی حقوق واگزار کرنے کی مانگ کی ہے ۔گول میں اوبی سی طبقہ کے اجلاس میں مقررین نے کہا کہ ان کے حقوق کو ہمیشہ سے ہی سلب کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ او بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے آدھ سے زیادہ ووٹران ہیں اوران پر ہی یہ حکومت کرتے ہیں لیکن اس کے با وجود انکے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ1982سے انکے حقوق التواءمیں پڑے ہوئے ہیں لیکن کسی سرکار نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ انہیں یقین ہو گیا تھا کہ یو ٹی بننے کے بعد مرکزی سرکار باقی ریاستوں کی طرح جموںو کشمیر میں مقیم اوبی سی طبقہ کو بھی سرکار حق دے گی لیکن ایسا کچھ نہیں لگ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ” ہمیں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ایک ساتھ لڑنا ہو گا اور اس کے لئے اگر ہمیں سڑکوں پر بھی آنا پڑے گا تو گریز نہیں کیا جائے گا “۔ انہوںنے گورنر انتظامیہ سے مانگ کی کہ جلد از جلد او بی سی طبقہ کو ملنے والے حقوق واگزار کئے جائیںتا کہ اس دبے کچلے طبقے کو بھی اوپر اُٹھنے کا موقعہ میسر ہو سکے ۔
 

ڈوڈہ میں لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن کا اجلاس 

آنگن واڑی ،آشا ورکرز و عارضی ملازمین کو مستقل بنانے و مہنگائی بھتہ کی واگزاری کا مطالبہ 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ//لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن نے آنگن واڑی و آشا ورکرز و مختلف محکموں میں کام کر رہے عارضی ملازمین کو باقاعدہ طور پر مستقل بنانے و ان کے ماہانہ مشاہرہ میں اضافہ کرنے کا سرکار سے مطالبہ کیا ہے۔ضلع صدر نیاز احمد راہی کی صدارت میں منعقد لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن و پنشنرز ایسوسی ایشن کے مشترکہ اجلاس کے دوران حکومت سے ملازمین کے حق میں گیارہ فیصد بقایا مہنگائی بھتہ کی قسطوں کی ادائیگی کی مانگ کی گئی۔انہوں نے آنگن واڑی، آشا ورکرز و ڈیلی ویجر ورکروں کے ماہانہ مشاہرہ بڑھانے و انہیں باقاعدہ طور پر مستقل کرنے کا مطالبہ کیا۔اجلاس کے دوران ضلع صدر پنشنرز ایسوسی نذیر احمد شیخ نے پنشنرز کے ساتھ دفاتر میں اخلاقی برتاو¿ کرنے و ان کے جائز کاموں کو وقت پر مکمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی پنشنرز کے ساتھ ناانصافی کی گئی تو وہ اس کو انصاف فراہم کرنے کے لئے ہر ایک دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے تیار ہیں ۔
 

ڈوڈہ میں کووڈکے 6 نئے مثبت معاملات 

۔1 مریض صحتیاب ،577973 ٹیکے لگائے گئے 

اشتیاق ملک 
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں ایک بار پھر سے کوو¿ڈ 19 کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز ڈوڈہ ضلع کے مختلف مقامات پر ہوئی کووڈ جانچ کے دوران 6 نئے افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور ایک مریض صحتیاب ہوا ہے۔اس طرح سے ضلع میں فعال کیسوں کی بڑھ کر 32 و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 7782 پہنچ گئی ہے۔ضلع میں اب تک کوو¿ڈ 19 سے 133 افراد فوت ہوئے ہیں اور 577973 ٹیکے لگائے گئے ہیں۔
 

کووڈ ایس اوپیز کی خلاف ورزی پر28ہزار کا جرمانہ

 رام بن میں1236 ٹیکے لگائے گئے، 2465 نمونے جمع 

رام بن// ضلع رام بن میں کووڈ پروٹوکول کو نافذ کرنے کے لیے نفاذ کی مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے خلاف ورزی کرنے والوں کو چہرے کے ماسک پہنے بغیر گھومنے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر جرمانہ عائد کیا۔انفورسمنٹ ٹیموں نے اپنے اپنے دائرہ کار میں معائنہ کے دوران 28,000 روپے جرمانہ وصول کیا۔انفورسمنٹ افسران نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے کے علاوہ اپنے قریبی CVC پر کوویڈ ویکسی نیشن کی خوراک لیں۔ضلع امیونائزیشن آفیسرڈاکٹر سریش نے بتایا کہ سنیچر کو رام بن ضلع میں تقریباً 1236 افراد کو پہلی اور دوسری کووِڈ ویکسین کی خوراکیں دی گئیں۔چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد فرید بھٹ کی طرف سے جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق محکمہ صحت نے 2465 نمونے اکٹھے کیے ہیں جن میں 630 ،RT-PCR اور 1835 RAT نمونے شامل ہیں جبکہ اس کے علاوہ ضلع میں مخصوص ٹیکہ کاری مراکز میں 1236 افراد کو کووڈ ویکسین دی گئی ہے۔
 

سردیوں کے پیش نظر جموں ہوائی اڈے پر شبانہ پروازوں کا شیڈول تبدیل 

جموں//جموں ہوائی اڈے پر موسم سرما کے پیش نظر ہوائی ٹریفک کے شیڈول کو دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ جموں کے گھریلو ہوائی اڈے پر 23 جولائی 2021 سے شبانہ پروازیں شروع ہو چکی ہیں۔ حکام نے بتایاکہ موسم سرما میں رات کے وقت کم بصارت کی وجہ سے پروازوں کے لیے مشکل رہتی ہے اور اس لیے رات کے لیے شیڈول کو دوبارہ ترتیب دیا گیا ۔ایک عہدیدار نے کہا”آج Go-Air کی پرواز کی روانگی شام 6 بجکر5منٹ پر جموں سے دہلی کے لیے آخری پرواز کے طور پر طے کی گئی ہے“۔انہوں نے مزید کہا کہ کم روشنی کی وجہ سے رات کی پروازوں کو سردیوں میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم یہ پروازیں موسم گرما میں دوبارہ چلیں گی۔ان کا کہناتھا”گرمیوں میں آخری پرواز کی روانگی رات 8بجکر10منٹ پر جموں سے دہلی کے لیے ہوگی“۔انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈے سے پروازیں چلانے کے لیے ایئرپورٹ اچھی طرح سے لیس ہے لیکن موسمی حالات اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 
  

ایل جی سنہا کے ریڈیو پروگرام”عوام کی آواز“کو وسیع پذیرائی حاصل

 جموں//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ماہانہ ریڈیو ٹاک شو کو لوگوں اور خاص طور پر جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی طرف سے خوب پذیرائی مل رہی ہے اس طرح سامعین کے درمیان مقبول ہو رہا ہے کیونکہ ان کی تجاویز اور آراءسامعین کیلئے ایک بڑا پلیٹ فارم تلاش کرتے ہیں ۔ بہت سے لوگوں نے خاص طور پر جموں و کشمیر کے نوجوانوں نے پروگرام کے ذریعے اپنی تجاویز پیش کی ہیں اور آخر کار ان کاذکر ایل جی سنہا کے ماہانہ ریڈیو ٹاک ” عوام کی آواز “ میں دیکھنے کو ملا ۔ کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے فیصل یوسف گلکار ان سینکڑوں نوجوانوں میں شامل ہیں جن کی تجاویز کو ایل جی سنہا نے خود تسلیم کیا ۔ گلکار کا خیال ہے کہ اس طرح کے پلیٹ فارم جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو اعتماد دیتے ہیں اور خطے کی بہتری اور ترقی کیلئے کام کرنے کیلئے ہمارے حوصلے کو بڑھاتے ہیں ۔ 21 نومبر کو لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے اس مہینے کے ” عوام کی آواز “ ریڈیو پروگرام کی قسط میں عام لوگوں سے موصول ہونے والی قیمتی بصیرت اور تجاویز کا اظہار کیا تھا ۔ پروگرام کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں سے رابطہ قائم کیا اور اس ماہ کی قسط کو ان تمام شہریوں کیلئے وقف کیا جو معاشرے کی بہتری کیلئے کام کر رہے ہیں اور دوسروں کیلئے رول ماڈل بن کر ابھرے ہیں ۔ خود روز گار کا ماحول پیدا کرنے ، نوجوان اور ہونہار کاروباری افراد کو گیسٹ لیکچرز کیلئے اسکولوں میں مدعو کرنے کے بارے میں گلکار کی جانب سے موصول ہونے والی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا تھا کہ طلبا کے ساتھ اس طرح کے تعاملات سے کاروباری سرگرمیوں کے جذبے کو تقویت ملے گی ۔ اپنی بصیرت کا ذکر کرنے کیلئے گلکار نے ایل جی سنہا کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں انٹر پرنیور شپ کو فروغ دینے کیلئے ان کی تجاویز کو تسلیم کیا ۔ 
 
 

ساتھ پروگرام خواتین کاروباریوں کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرے گا : ڈاکٹر سحرش 

ریاسی//انڈیا ایس ایم ای فورم کی زیر صدارت جموں و کشمیر کی منتخب خواتین کاروباریوں کے ساتھ پروگرام ” ایس اے اے ٹی ایچ “ کے تحت ایک روزہ بات چیت جموں کشمیر دیہی روزی روٹی مشن ( جے کے آر ایل ایم ) کے ریاستی دفتر میں منعقد ہوئی ۔ بات چیت کے پروگرام میں ہاتھ سے بنی اور دستکاری کے شعبے سے تعلق رکھنے والی 30 سے زائد خواتین صنعت کار شامل تھیں جن کے پاس برآمدی مصنوعات ہیں ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جے کے آر ایل ایم کی مشن ڈائریکٹر سید سحرش اصغر نے کہا کہ آج کی ورکشاپ کے انعقاد کا بنیادی مقصد نہ صرف پہلے سے شناخت شدہ سیلف ہیلپ گروپ کے ممبران کی رہنمائی کرنا تھا بلکہ انہیں بین الاقوامی ڈیزائین کی طلب کو پورا کرنے کیلئے ضروری پروڈکٹ اور ڈیزائین میں مداخلت کی پیش کش کرنا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ایس اے اے ٹی ایچ کے ممبران کو رنگ سکیموں ۔ خام مال کی سورسنگ ، دستکاری کی مصنوعات پر ویلیو ایڈیشن ، کوالٹی مارکس اور ان مصنوعات کی فیرست سازی سے آگاہ کیا گیا ۔ ڈاکٹر سحرش نے مزید کہا کہ ایس اے اے ٹی ایچ پروگرام جموں و کشمیر کی خواتین صنعت کاروں کو بین الاقوامی منڈی کی ضروریات کے بارے میں بصیرت اور نمائش کی پیش کش کر کے ان کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرے گا ۔ ڈاکٹر سحرش نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد خواتین کو اس طرح کے ہُنر سکھانا اور ان کے کاروبار کو اعلیٰ درجے کے کاروبار میں تبدیل کرنا ہے ، یہ دیہی خواتین کاروباریوں کے لئے ایک منفرد تجربہ ہو گا جہاں خریداروں کا بین الاقوامی خریداروں /ڈیلروں کے ساتھ براہ راست رابطہ ہو گا جس کے نتیجے میں اسے فروغ ملے گا ۔