مزید خبریں

چین اورپاکستان ،بھارت کی سلامتی کیلئے خطرہ

سرحدوں پر فوج چوکس، کسی بھی صورتحال کامقابلہ کرنے کیلئے تیار:فوجی سربراہ

سرینگر//پاکستان اور چین کو بھارت کی سلامتی کیلئے ایک مضبوط خطرہ قراردیتے ہوئے فوجی سربراہ نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے بالکل تیار ہے ۔اس دوران انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ چین اور پاکستانی کسی حل تک ضرور پہنچیں گے جس سے سرحدی کشیدگی ختم یا کم ہوجائے گی ۔ایک خصوصی خصوصی انٹرویو کے دوران فوجی سربراہ جنرل منوج  مکندنروانے ،نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین مشترکہ طور پر بھارت کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ اور شمالی علاقے میں چین کے ساتھ لگنے والی سرحد پر فوج چوکنا ہے۔ فوجی سربراہ نے کہا،’’ہم سرحد پر سردیوں کی تعیناتی کی حالت میں ہیں،دونوں بھارت اور چین کسی حل تک پہنچیں گے لیکن ہم کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس فوج کو چیلنجوں کا سامنا تھا اور اْس نے کامیابی حاصل کرلی۔جنرل نروانے کے مطابق سب سے بڑا چیلنج کورونا تھا اور دوسرا چیلنج وہ صورتحال تھی جو شمالی سرحد پر پیدا ہوئی تھی۔فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ فوج کے حوصلے بلند ہیں۔جنرل نروانے کے مطابق حقیقی کنٹرول لائن پر حالات ویسے ہی ہیں ،جیسے گذشتہ سال تھے۔انہوں نے کہا’’ہمیں حکومت سے ہدایات ملی ہیں کہ وہیں تعینات رہیں، جہاں ٹکرائوکے وقت تھے‘‘۔آرمی چیف جنرل ایم ایم ناراونے کہا کہ پاکستان اور چین مل کر قومی سلامتی کے لئے ایک مضبوط خطرہ ہیں اور ان کی بھارت کے ساتھ مشترکہ طرز عمل کی خواہش نہیں کی جاسکتی ہے۔ جنرل ناروانے نے مشرقی لداخ کی صورتحال پر بڑے پیمانے پر تفصیل سے روشنی ڈالی ، اور کہا کہ ہندوستانی فوجی خطے میں کسی بھی قسم کی واقعات سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے بہت اعلی سطح پر جنگی تیاریوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ ہندوستان اور چین باہمی اور مساوی سلامتی کے نقطہ نظر کی بنیاد پر منحرفیت اور ڈی اسیکلیشن کے معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ہندوستانی فوج اپنے قومی مفاد اور اہداف کی بنیاد پر مشرقی لداخ میں اپنے چوکیوں پر قائم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر قومی سلامتی کے چیلینجز ہیں ، آرمی چیف نے کہا کہ بھارت اور چین کے مابین بھارت کی مشترکہ اپروچ زمین پر ظاہر ہورہی ہے۔پاکستان اور چین مل کر ایک مضبوط خطرہ ہیں اور اجتماعی خطرہ ختم نہیں کیا جاسکتا۔انہوںنے کہا کہ ہندوستان کو ’’دو محاذ‘‘خطرے کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے مابین دونوں فوجی اور غیر عسکری شعبوں میں تعاون بڑھتا جا رہا ہے۔ 
 
 
 
 

کھانے میں ملاوٹ کے نمونوں کی جانچ اب وادی میں ممکن

اسلامک یونیورسٹی کی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کومرکزی بورڈ نے تسلیم کیا

نیوز ڈیسک
 سرینگر//ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت کے تحت اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کھانے پینے کے مصنوعات کی جانچ میں ملک کے باوقار اداروں کی فہرست میں شامل ہو گئی ہے کیونکہ اس کی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری ’’ایف ٹی ایل‘‘اب  مرکزی وزارت تجارت اور صنعت کے تحت نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ ( این اے بی ایل ) سے تسلیم شدہ ہے۔’’ این اے بی ایل‘‘ جو’’کوالٹی کونسل آف انڈیا‘‘  کا ایک  بورڈ ہے، نے اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو فوڈ  سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھارٹی آف انڈیا ( ایف ایس ایس اے آئی) کے طریقہ کار کے مطابق کھانے کے نمونوں کے لیے تصدیق شدہ جانچ اور تجزیہ رپورٹ فراہم کرنے کا اختیار دیا ہے اور یہ پہلی بار ممکن ہوا ہے کہ جموں کشمیر میں کسی یونیورسٹی کی لیبارٹری کو اس طرح کی منظوری دی گئی ہے اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ اب باضابطہ طور پر فوڈ سیفٹی ایکو سسٹم کا حصہ بن گئی ہے اور اب اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کے پاس منظور شدہ کھانے کی اشیاء  کی جانچ  کا اختیار ہوگا، جہاں پر انتہائی جدید ترین آلات کا استعمال کر کے کسی بھی ملاوٹ والے چیزوں کا پتہ لگایا جاسکے گا ۔اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کے وائس چانسلر پروفیسر شکیل احمد رومشو نے ایچ او ڈی فوڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ایچ آر نائیک اور ڈاکٹر بی این ڈار (کوآرڈینیٹر)، ڈاکٹر سجاد احمد صوفی (فوڈ انالسٹ) ، ڈاکٹر درخشان مجید (کوالٹی منیجر) کے علاؤہ ڈاکٹر ہلال اے مکرو (ٹیکنیکل منیجر)، معاون عملہ اور یونیورسٹی کے دیگر افسران جو ایکریڈیٹیشن کے عمل سے وابستہ ہیں،پر مشتمل ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ میں قائم فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری "این اے بی ایل"ایکریڈیشن ملنے کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کی فوڈ انڈسٹریز کو ان کے کھانے کے نمونوں کے ساتھ ساتھ  سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ بھیجے گئے کھانے کے نمونوں کی جانچ کرنے میں مدد کرے گی۔
 
 
 
 

 دبئی ایکسپو 2020:’ جموں کشمیر ہفتہ‘ 13جنوری تک منایا جائیگا

  دو طرفہ ملاقاتوں میںعالمی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی جائیگی

نیوز ڈیسک
دبئی//جموں و کشمیر کا ایک وفد آج یعنی پیر کو دبئی میں شروع ہونے والے ہفتہ کے دوران کاروباری رہنماؤں کو سیاحت اور دستکاری جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے اور مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کے مواقع کی نمائش کے لیے آمادہ کرے گا۔ایکسپو 2020 دبئی میں انڈیا پویلین، جو دنیا کی سب سے بڑی تجارتی اور ٹیکنالوجی نمائشوں میں سے ایک ہے، ’جموں کشمیر ہفتہ‘ کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جو 13 جنوری کو اختتام پذیر ہوگا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں یہ وفد روانہ ہورہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر سنہا دیگر سرکاری افسران کے ساتھ مختلف G2B، B2G اور G2G میٹنگیں کریں گے اور عالمی سرمایہ کاروں کو سیاحت، ہینڈلوم اور دستکاری، فوڈ پروسیسنگ جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیں گے۔وفد ہفتے کے دوران مختلف دو طرفہ ملاقاتوں میں شرکت کرے گا۔ 6 جنوری کو 'UT کے بعد کی ترقی' پر ایک خصوصی تقریر کی میزبانی کی جائے گی جہاں سنہا مختلف شعبوں میں ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بات کریں گے۔ایک سیاحتی مقام کے طور پر جموں و کشمیر کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے، وفد 12 جنوری کو حکومت ہند کی وزارت سیاحت کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس میں بھی شرکت کرے گا تاکہ قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور انسانی صلاحیتوں کی ترقی کے ذریعے صنعت اور تجارت کی متوازن ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ایک بیان کے مطابق، اس وژن کے ساتھ، جموں و کشمیر کی حکومت ایک قابل اور کاروباری دوستانہ ماحول پیدا کرنے کی سمت کام کر رہی ہے جو صنعتی اداروں بشمول کاٹیج اور دیہی صنعتوں کی پائیدار ترقی اور ترقی میں سہولت فراہم کرے گا۔UT  ہفتہ منانے کا مقصد صنعتوں میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور نئے کاروباریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ان شعبوں میں ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ، جموں و کشمیر ایسے حالات کی حوصلہ افزائی اور تخلیق کرنے کی طرف بھی کام کر رہا ہے جو انسانی وسائل کی مہارت کو فروغ دینے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ہینڈلوم اور دستکاری کے شعبے میں نئے ڈیزائنوں کی ترقی کے قابل بنائے۔ 
 
 
 
 

ہمہامہ میں زیرتعمیر عمارت سے ترکھان کی لاش برآمد

ارشاد احمد
بڈگام//ہمہامہ میں ایک زیرتعمیر عمارت سے ترکھان کی لاش پراسرار حالات میں پائی گئی۔پولیس کے مطابق ہمہامہ بڈگام میں اتوار کوایک زیرتعمیر عمارت سے 45برس کے رمیز احمد بیگ ولدعارف احمدساکن کنڈی ضلع بارہ مولہ کی لاش پراسرارحالات میں پائی گئی۔اُسے دیگرساتھیوں کی مددسے نزدیکی طبی مرکزمنتقل کیاگیا جہاں ڈاکٹروں نے اُسے مردہ قرار دیا۔اس موقع پر پولیس کو مطلع کیاگیا جس نے موقع کاجائزہ لیکر کیس درج کیا اور قانونی لوزامات پورا کرنے کے بعد لاش آبائی گائوں روانہ کی۔
 
 
 
 

مسلم خواتین کی کردار کشی

مجرموں کو حکمرانوں کی پشت پناہی حاصل:محبوبہ مفتی

نیوز ڈیسک
سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدرمحبوبہ مفتی نے اتوار کو الزام لگایا کہ’’کچھ عناصر‘‘جو آن لائن مسلم خواتین کو نشانہ بناتے ہیں،کو’’سرکاری سرپرستی ‘‘ حاصل ہے۔سابق وزیراعلی نے 100مسلم خواتین کی تصاویرکو نیلامی کیلئے اَپ لوڈ کر نے،جس پر سخت شدیدردعمل سامنے آیا، پر اپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا،’’مسلم خواتین کیخلاف ایسے بیہودہ اور رسواکرنے والی کارروائی کے پیچھے مجرمانہ عناصر کو کھلی چھوٹ دینا،مایوس کن اور شرمناک ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشو نے کہا کہ گٹ ہب پلیٹ فارم نے اس کااستعمال کرنے والے کوبلاک کئے جانے کی تصدیق کی ہے اور پولیس اورCERTحکام مزید کاروائی کیلئے تال میل کررہے ہیں۔محبوبہ نے تاہم الزام لگایا،’’یہ صاف ہے کہ ایسے عناصر کو اُن کی جو اقتدار میں ہیں،کی پشت پناہی حاصل ہے‘‘۔
 
 
 
 
 

سوپور کا3ماہ سے لاپتہ تاجر پلوامہ سے بازیاب

غلام محمد
سوپور// تین ماہ سے گم سوپور کے 48 سالہ میوہ تاجر کو اتوار کے روز پولیس نے پلوامہ قصبے سے برآمد کیا۔ تفصیلات کے مطابق 48 سالہ میوہ تاجر غلام نبی نائیکو ولد غلام قادر ساکنہ اچھ بل رفیع آباد کو اتوار کی دوپہر قصبہ پلوامہ میں پولیس نے برآمد کیا۔ مذکورہ تاجر 22 ستمبر 2021 سے لاپتہ تھا جس کے بعد اس کے اہل خانہ نے بارہا احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت نائیکوکو بازیاب کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات اْٹھائے۔ فروٹ منڈی سوپور میں بطور تاجر کام کرتے ہوئے 22 ستمبر 2021 کو کاروباری مقصد کے لیے جنوبی کشمیر کے شوپیان کے لیے روانہ ہوئے تھے لیکن اْسی دن لاپتہ ہو گئے۔  اس کے لواحقین کا کہنا تھا کہ نائیکو نے اسی شام کو 5 بجکر 45 منٹ پر فون پر ان سے بات کی اور کہا کہ وہ قریب ہی ہے اور وہ جلد ہی گھر واپس آئیںگے،لیکن اس کے بعد اس کا فون بند ہو گیا۔ اہل خانہ کے ایک فرد نے کہا کہ اس کے بعد سے اس کا کچھ بھی اتہ پتہ نہیں ملا۔اس بارے میں پولیس نے پہلے سے ہی کیس، درج کرکے رکھا تھا اور مذکورہ شخص کی تلاش میں لگے ہوئے تھے۔
 
 
 
 
 
 

پولیس سربراہ کاکٹرہ دورہ،زخمی یاتریوں کی عیادت کی

نیوز ڈیسک
سرینگر//پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے اتوار کو نارائنا سپر اسپیشلٹی اسپتال کٹرہ کا دورہ کرکے اُن یاتریوں کی عیادت کی جو دو روز قبل ماتا ویشنو دیوی کے استھاپن میں بھگدڑ کے دوران زخمی ہوئے تھے۔ کے این ایس کے مطابق ڈی جی پی کے ساتھ اے ڈی جی پی جموں شری مکیش سنگھ، ایس ایس پی ریاسی شیلندر سنگھ اور دیگر اعلی پولیس افسران بھی تھے۔دلباغ سنگھ  دیگر افسران کے ساتھ انفرادی طور  تمام زخمیوں کے پاس گئے اور ان کی خیریت دریافت کی جبکہ ڈی جی پی نے زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں سے بھی ملاقات کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے ہر ممکن علاج کی تلقین کی ۔ پولیس  سربراہ نے بھون کے گیٹ نمبر 3 پر واقعہ اُس جگہ کا بھی دورہ اور معائنہ کیا ،جہاں یہ حادثہ پیش آیاتھا۔پولیس افسران نے اس پورے واقعہ کے بارے میں اور واقعہ کے بعد کئے گئے انتظامات بشمول ریسکیو آپریشن کے متعلق انہیں بریفنگ دی۔اس دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ وہ 12 یاتریوں کی ہلاکت پر بہت ہی غمزدہ ہیں اور میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور مرحوم کی روحوں کی ابدی سکون کے لئے ہم دعا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ میں زخمی ہونے والے یاتری بہتر طور پر صحت یاب ہورہے ہیں۔ امید ہے کہ بہت جلد وہ خطرے سے باہر ہو جائیں گے۔ اس واقعہ کے حوالے سے ڈی جی پی نے کہا کہ یہ واقعہ زیادہ الجھن کا باعث رہا جہاں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہوا اور ہر طرف افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر اموات دم گھٹنے یا لوگوں کے ایک دوسرے پر پڑنے کی وجہ سے ہوئی ہیں جبکہ زیادہ تر زخمی بھی اسی وجہ سے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن چیزوں کی وجہ سے کنفیوڑن ہوئی ،ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔پولیس چیف نے مزید کہا کہ وہاں پر تعینات لوگوں نے بھیڑ کو بہت اچھی طرح سے منظم کیا اور انہوں نے تیزی سے یاترا کو بحال کیا۔
 
 
 
 

مائیگرنٹ پنڈتوں سے سند حیات کا مطالبہ نہ کیا جائے:بقایا 

جموں// کشمیرچھوڑ کرچلے گئے پنڈتوں سے سرکاری امدادحاصل کرنے کیلئے کسی گزیٹیڈافسر سے تصدیق شدہ سندحیات(زندہ ہونے کی سرٹیفیکیٹ) طلب کرنے پراپنی پارٹی کے جنرل سیکریٹری وجے بقایا نے تشویش کااظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں بقایا نے اِن ہدایات کو کشمیری مائیگرینٹ پنڈتوں کوغیرضروری طور ہراساںکرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خود تصدیق شدہ اسناد ریلیف آرگنائزیشن تسلیم کرے تاکہ غریب کشمیری مائیگرینٹوں کو غیر ضروری طور پریشان نہ ہونا پڑے۔انہوں نے کہاکہ مائیگرینٹوں کے لئے گزیٹیڈ افسران سے اسناد کی تصدیق کرانا آسان نہیں۔ بقایا نے حکام پرزور دیاکہ طریقہ کار آسان بنایاجائے تاکہ سبھی اہل مائیگرینٹ امداد سے استفادہ حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ خود سرٹیفکیشن سب سے معقول طریقہ ہے۔
 
 
 

لداخ میں کووِڈ- 19کے مزید23معاملے سامنے

لیہہ//لداخ میں اتوار کومزید23افراد کے کووِڈ- 19میں مثبت پائے جانے کے بعد مرکز کے زیرانتظام اس علاقہ میں کورونا متاثرین کی تعداد22207ہوگئی ہے۔حکام کے مطابق لداخ میں اتوار کو20افراد کو کورونا مثبت پایا گیا جبکہ3افراد کرگل میں اس وائرس کا شکارپائے گئے۔علاقہ میں کسی موت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔حکام کے مطابق خطے میں کووِڈ سے مرنیوالوں کی تعداد219تک پہنچ گئی ہے جن میں لداخ میں161فوت ہوئے جبکہ کرگل ضلع میں  58کورونا مریض لقمہ اجل بن گئے۔اس دوران لیہہ میں چار مریضوں کو اتوار کو اسپتالوں سے رخصت کیاگیا۔اس طرح خطے میں کووِڈ سے شفایاب ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد21785ہوگئی ۔حکام کے مطابق لداخ میں مجموعی مثبت شرح3.7فیصد ہے جن میں لیہہ میں5.0فیصد اور کررگل میں1.0فیصد ہے۔
 
 
 
 
 
 

سرینگر اوربڈگام میں 5 تھانوں اور3 چوکیوں کے قیام کو منظوری

 سرینگر// حکومت نے ہفتہ کو سری نگر اور بڈگام ضلع میں پانچ پولیس اسٹیشن اور تین پولیس چوکیاں قائم کرنے کومنظوری دیدی۔  ایک حکم کے مطابق،  ضابطہ فوجداری 1973کی دفعہ2 کی شق (s) کے ذریعے حاصل کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، حکومت نے آٹھ مقامات پر پولیس اسٹیشن اور تمام جرائم کے اندراج اور تفتیش کے مقصد کے لیے پولیس پوسٹیں قائم کرنے کو منظوری دی۔حکم نامے کے مطابق نئے پولیس اسٹیشن احمد نگر، سنگم عیدگاہ، چھانہ پورہ،  بمنہ اور شالٹینگ اور پولیس چوکیاں ٹینگ پورہ، کھمبر اور موچھوا بڈگام میں قائم کی جائیں گی۔اس میں لکھا گیا ہے کہ نئے تھانوں کے قیام کے نتیجے میں سات تھانوں کا دائرہ اختیار تبدیل ہو جائے گا اور ان میں پولیس سٹیشن صورہ، صفا کدل، صدر سری نگر، پارم پورہ، نوگام، بٹامالوہ اور شیرگڑھی شامل ہیں۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

بجلی ملازمین کے مسائل حق بجانب:ایجیک

 احتجاجی کال کی حمایت کا اعلان

سرینگر// جموں کشمیر ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی (ایجیک) نے الیکٹرک ایمپلائز کوآرڈی نیشن کمیٹی (جے کے ای سی سی) کی اپنے جائز مطالبات کے ازالے کے لیے دی گئی احتجاجی کال کی حمایت کی ہے۔ بیان میں EJAC کے صدر محمد رفیق راتھر نے کہا کہ EECC کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل حقیقی اور جائز ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کی بات سنیں اور بغیر کسی تاخیر کے ان مسائل کو حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکام بالا کی عادت ہے کہ وہ ملازمین کے مسائل کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس کا خمیازہ حکومت کے انتہائی غیر منطقی اور غیر منطقی اقدامات کے نتیجے میں عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔صدر ای جے اے سی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ انا پرستانہ رویہ ترک کرے اور ای کے مسائل کو حل کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ tgat EJAC EECC کو ان کی جائز جدوجہد میں غیر متزلزل حمایت فراہم کرتا ہے اور مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی EJAC ان کی حمایت میں احتجاج میں شامل ہونے سے نہیں ہچکچائے گا۔
 
 
 

طلبہ کیلئے ویکسی نیشن مہم ایک ڈھال

 ٹیچرز فورم نے حکومت اقدام کا خیر مقدم کیا

سرینگر//جے کے ٹیچرز فورم نے اسکول جانے والے بچوں کو ٹیکے لگانے کے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایک بیان میں ای جے اے سی کے صدر اور جے اینڈ کے ٹیچرز فورم کے چیئرمین ایم رفیق رتھر نے 15 سے 18 سال کی عمر کے گروپوں کو ویکسی نیشن پروگرام کا حکم دینے پر حکومت کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کا بچوں کو ٹیکے لگانے کا منصوبہ انہیں وائرس سے بچانے، انہیں معمول کی تعلیم حاصل کرنے اور بالآخر اسکولوں کو کھلا رکھنے میں مدد فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ طلباء کے لیے ضروری ہے کہ وہ ویکسین لگائیں جو تیسری لہر کے ممکنہ اثرات سے ایک ڈھال فراہم کرے گا۔ 
 
 
 

بیروہ اور ترال میں 3افرادنشیلی اشیاء سمیت گرفتار

سرینگر// پولیس نے بیروہ اور ترال میں 3افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں ممنوعہ اشیاء برآمد کی ہیں۔بیروہ تھانہ کی پولیس پارٹی نے چیوڈارہ کراسنگ پر قائم ایک چوکی پر 3 مشکوک افراد کو روکا جنہوں نے پولیس پارٹی کو دیکھ کر موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ان کا پیچھا کیا اور 2 افراد کوپکڑ لیا تاہم ان میں سے ایک فرار ہونے میںکامیاب ہوگیا۔ گرفتار افراد کی شناخت غلام قادر ملک ساکن شنگلی پورہ کھاگ اور سمیر احمد وانی ساکن کلہامہ بیروہ کے طور پر کی گئی ہے۔ دوران چیکنگ اہلکاروں نے ان کے قبضے سے 350 گرام چرس برآمد کر لیا گیا۔ابتدائی تفتیش میں ایک اور شخص کی شناخت تنویر احمد گانی ساکنہ سعدی پورہ بیروہ کے طور پر ہوئی ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔اسی طرح ترال تھانہ کو اطلاع ملی کہ فیاض احمد بٹ ساکن بکو ترال نامی شخص منشیات فروشی کا کاروبار کررہاہے اور اس نے اپنے رہائشی مکان میں بھاری مقدار میں نشہ آور اشیاء جمع کر رکھی ہیں۔اس اطلاع پر ایس ایچ او ترال کی سربراہی میں ایک پولیس پارٹی نے ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے ساتھ مخصوص جگہ پر چھاپہ مارا۔ تلاشی کے دوران رہائشی مکان سے 111 کلو گرام پوست کا بھوسا برآمدہوا۔ اسے گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔متعلقہ تھانوں میں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔