سنڈے تھیٹر:نٹرنگ نے ’’مجرم فرار ہے‘‘ڈرامہ پیش کیا
جموں//ڈرامہ ’مجرم فرار ہے ‘ایک پولیس سٹیشن جہاں طاقتور ہاتھوں سے معصوم لوگوں کیساتھ پیش آنے والی زیادتیوں اورنظام کے ظلم کو بے نقاب کیا گیا ہے ڈرامہ پیش کیا ۔ڈرامہ میں ایک پولیس سٹیشن کو خوفناک طریقہ سے کام کرنے پر بے نقاب کیا ہے ۔ڈرامہ کا آغاز ایک نو جوان شادی شدہ لڑکی اس پولیس تھانہ میں اپنے پروفیسر شوہر کی گمشدگی کی رپورٹ لکھانے کیلئے آتی ہے ۔ رپورت لکھنے سے پہلے ہی لڑکی کو ہراساں ،ذلیل اور شرمندہ کیا گیا ۔ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے لڑکی پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور لڑکی سے شادی شڈہ ہونے کا ثبوت مانگا۔لڑکی نے بمشکل انہیں شادی شدہ ہونے کا یقین دلایا تو پولیس نے اس پر شوہر کو گھر سے بھگانے کا الزام لگایا ۔پولیس نے لڑکی کو حراست میں لے لیا اور جب تک اس کا شوہر نہ ملے اسے حراست میں رکھنے کے احکامات جاری کئے۔پو لیس نے گمشدہ شوہر کی تشہیر کی تو حالت اس وقت بگڑ گئی جب مختلف چیک پوائینٹوں سے شوہر جیسی پہچان 5لوگوں کو پکڑا گیا۔اس سے پہلے کہ پولیس نے لڑکی پر دبائو بنایا کہ وہ کسی ایک کو اپنا شوہر تسلیم کرے تا کہ عوام کے سامنے پولیس کی عزت رہے ،اصلی شوہر سامنے اتے ہلی معلوم ہوا کہ وہ پولیس چیف کا قریبی دوست ہے ۔یہاں ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے اپنا رخ بدلا اور گرفتار 5افراد کو شوہر کی غیر موجودگی میں خاتون کو حراساں کرنے کا لزام لگایا ۔نٹرنگ کے نوجوان اداکاروں بشمول سوشانت سنگھچاڑک،منوج لولوترہ،چراغ آنند،ادیت ساگر،امنگ شرما، کلدیپ انگرال،سمرن، عادل خان، آکاش وردھان،سمیت رینہ اور چاہت کٹیال نے حصہ لیا ۔
شرناتھی انٹیلیکچول فورم وفد منجیدر سنگھ سے ملاقی
؎جموں//آل جموں وکشمیر مقبوضہ کشمیر کے1947شرنارتھی انٹیکچول فورم کاایک وفد منجیدر سنگھ سِرسہ صدر دہلی گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی وممبر اسمبلی دہلی جوکہ جموں ایک دھارمک پروگرم میں حصہ لینے آئے ہوئے تھے سے ملاقات ہوئی، وفد نے ۱۹۴۷ کے مقبوضہ کشمیر کے آئے ہوئے شرنارتھیوں کے مسائل کے بارہ میں اور جموں وکشمیر میں رہ رہے سکھوں کے مسائل کے بارے میں ان سے تفصیلی بات چیت کی اور ان سے کہاکہ ان مسائل کو حل کروانے کے لئے مرکزی سرکار سے بات کی جائے مرکزی سرکار نے ۱۹۴۷ء کے شرنارتھیوں کے یکمشت ۲۵لاکھ فی کنبہ معاوضہ جاری کرنے کا جو فیصلہ کیاہے اس سے صرف 5.50لاکھ فی کنبہ ابھی تک دیا گیا ہے بقایہ رقم ایک ہی قسط میں جاری کروانے کی گذارش بھی کی گئی ہے سکھوں کو Minorty میں شامل کرتے ہوئے مینارٹی سٹیش دینے کی بھی مانگ رکھی گئی ہے سردار منجیندر سنگھ سرسہ جی نے وفد کی مانگوں کو بڑی ہمدردی سے سنا اور وزیر اعظم نریندر مو دی سے بات کرنے کایقین دلایا ۔ وفد کی صدارت فورم کے صدر سردار امریک سنگھ ایڈوکیٹ کی۔ وفد میں سردار سرجیت سنگھ جنرل سکریٹری ، پرمجیت سنگھ سابقہ کارپوریٹر ، سردارچگھت سنگھ ، ہر محیف سنگھ اور کئی سرکردہ شخصیتیں شامل تھی۔
وجر دیش چیریٹبل ٹرسٹ کے زیراہتمام افطارپارٹی وبچیوں کیلئے انٹریکشن پروگرام
رویدہ سلام ،ریحانہ بشیراوردیگرافسران کا طالبات کے ساتھ خیالات کاتبادلہ
جموں//گوجربکروال طبقہ کی نمائندہ ادارہ ’ گرجردیش چیریٹیبل ٹرسٹ ‘جموں کی جانب سے ٹرسٹ ہذاکے احاطے میں خدابخش میموریل پبلک ہائرسکینڈری سکول کے ایم اے ایم ہوسٹل کی طالبات کے ساتھ ایک ’’افطارپارٹی کم انٹریکشن پروگرام ‘‘کاانعقادکیاگیاجس کامقصدگوجربکروال بچیوں کے اذہان کی تربیت اوران کے کیرئیرکومثبت سمت دینے کیلئے ان کے ساتھ گوجربکروال طبقہ کے اعلیٰ عہدوں افسران کے ساتھ گفت وشنیدکرناتھا۔اس دوران نظامت کے فرائض مشتاق احمدکھٹانہ اور آصف خالق پوسوال نے پیشہ وارانہ اندازمیںانجام دیئے ۔مشتاق احمدکھٹانہ نے تعلیم نسواں، فرضیت رمضان کے موضوعات پربھی سیرحاصل خیالات کااظہارکیا۔اس موقعہ پرریاست جموں وکشمیرمیں مختلف محکمہ جات میں تعینات اعلیٰ عہدوں پرفائزافسران اورطبقہ کے باوقارافرادبشمول ایس ایس پی ریلوے محمدارشاد،ایس ایس پی اسلم چوہدری،ایس ایس پی کرائم مشتاق چوہدری ،ایڈوکیٹ خالدمصطفیٰ بھٹی ،ڈاکٹرشوکت چوہدری، افتخارچوہدری ڈی ایس پی آپریشن ،ارشدچوہدری( ٹرسٹی )محمدیاسر تحصیلدار،ڈاکٹرمشتاق ،چیئرمین گرجردیش چیئریٹیبل ٹرسٹ چوہدری عبدالحمید،کانگریس لیڈرشاہنوازچوہدری،محمدسعید(کے اے ایس)،بی ایم اوڈاکٹرمنظور،اے ای ای سردارخان،اے ای غلام رسول،عبدالرزاق،انسپکٹرخلیل احمد، نائب تحصیلدارباغ علی طاہر، کلیم احمدگرداور،شوکت علی،پرویزاحمدپٹواری وغیرہ پرمشتمل ایک کہکشاں موجودتھی ۔افطارسے قبل مولاناآزادہوسٹل کی بچیوں کے ساتھ انٹریکشن پروگرام کاآغازتلاوت کلام ِ مقدس سے ہوا۔اس کے بعدگرجردیش چیریٹبل ٹرسٹ کے بانی رکن ایڈوکیٹ شاہ محمدچوہدری نے پروگرام میں شرکت کرنے والے تمام معززین کااستقبال کیا۔ انہوں نے ٹرسٹ کے اغراض ومقاصد اوراس کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی شرکاکوجانکاری دی۔انہوں نے کہاکہ آج سے تیس سال پہلے جوخواب ڈاکٹرمسعوچوہدری صاحب اوران کے چنددیگرساتھیوں نے دیکھاتھاوہ آج پوراہوچکاہے ۔انہوں نے کہاکہ ٹرسٹ گوجرقوم کی ترقی اور اس کے بچوں کی تعلیم وتربیت کیلئے ہمہ تن مصروف ہے۔اس کے بعدگوجربکروال طبقہ کی معززشخصیات نے طالبات کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہیںتعلیم نسواںکی اہمیت ،وقت کی پابندی اورزندگی میں اعتماداورصحیح سمت کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی گئی۔اس دوران آئی آرایس اورڈپٹی کمشنرانکم ٹیکس جموں ڈاکٹر رویدہ سلام نے بچیوں سے تلقین کی کہ وہ تندہی سے تعلیم حاصل کریں ۔انہوں نے کہاکہ طالب علمی کاوقت زندگی سنوارنے اورکوئی مقام حاصل کرنے کیلئے کافی اہم ہوتاہے ۔انہوں نے زوردیاکہ وہ وقت کی قدرکریں اوراپنی تمام ترصلاحیتیں تعلیم کے حصول پرصرف کریں ۔انہوں نے کہاکہ محنت ،لگن اورجدوجہدسے کوئی بھی بچہ/بچی کے اے ایس/آئی اے ایس اوردیگرمقابلہ جاتی امتحانات میں کامیاب ہوکرنہ صرف اپنابلکہ پوری قوم نیزریاست کانام روشن کرسکتا/سکتی ہے ۔انہوںنے طالبات سے کہاکہ وہ اپناہدف مقررکرکے اس کے حصول کیلئے دن رات محنت کریں۔اس موقعہ پرگوجرطبقہ سے تعلق رکھنے والی ریاست کی پہلی خاتون آئی اے ایس افسرریحانہ بشیرنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے طالبات سے تلقین کی کہ وہ اپنے وقت کوضائع نہ کریں اورہوسٹل میں رہتے ہوئے تندہی سے اپنی تعلیم پرتوجہ مرکوزرکھیں۔ انہوں نے کہاکہ دُنیامیں تبدیلی لانے کیلئے تعلیم سے بہترکوئی بھی موثرہتھیارنہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ اس وقت ریاست جموں وکشمیر گوجربکروال طبقہ پسماندہ طبقوںکی صف میں شمارہوتاہے اس لیے گوجرقوم کے باشعورافراداوربچوںوبچیوںکی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ گوجربکروال طبقہ کوپسماندگی سے دلدل سے نکال کرخوشحالی اورتعمیروترقی کی راہوں پرگامزن کریں۔ اس دوران ایس ایس پی ریلوے محمدارشاد، معروف گیسٹرولوجسٹ ڈاکٹرشوکت اورڈاکٹرمسرت چوہدری اسسٹنٹ پروفیسراکنامکس اورکے بی سکول کے سابق طلباء کے علاوہ وائس چیئرمین محمدحنیف ، چوہدری حسین علی ہکلہ سابق چیئرمین ،چوہدری فاروق عالم (ٹرسٹی)،محترمہ نگہت سلطانہ (ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وٹرسٹی)،ارشادچوہدری (ٹرسٹی)، چوہدری شوکت جاوید (ٹرسٹی)محمدیوسف کھیپڑ(ٹرسٹی) وغیرہ نے اپنے تجربات اورکامیابی کی کہانی پیش کرکے طالبات کوتحریک بخشی۔اس دوران مقررین نے کہاکہ ہرایک بچے /بچی میں اللہ تعالیٰ نے صلاحیتوں کاخزانہ رکھاہوتاہے لہذاہربچے وبچی کومحنت،لگن اورجدوجہدکے ساتھ تعلیم حاصل کرنی چاہیئے ۔انہوں نے کہاکہ ہماری بچیاںگوجرقوم کامستقبل ہیں اوران کی کامیابی سے ہی گوجربکروال طبقہ کی حقیقی کامیابی مضمرہے ۔انہوں نے اُمیدکی کہ طالبات برادری کے معزز،باشعوراوراعلیٰ عہدوں پرفائزافسران کی باتوں پرعمل پیراہوکرگوجربکروال قوم کامستقبل خوشنمابنائیں گے۔ اس کے بعدگوجربکروال طبقہ کے افسران ومعززین نے دعافرمائی کہ قوم کے طلباء وطالبات کوکامیاب فرماکربرادری کو پسماندگی سے نجات دلائے ۔اس کے بعدچیئرمین گرجردیش چیریٹیبل ٹرسٹ چوہدری عبدالحمیدنے تمام شرکاء کاپروگرام کوکامیاب بنانے کیلئے شکریہ اداکیا۔انہوں نے کہاکہ ٹرسٹ کی کوشش ہے کہ دوردرازعلاقوں کے گوجربچے وبچیاںبھی تعلیم حاصل کرکے گوجرطبقہ کے نام کوروشن کریں ۔ٹرسٹ کے پہلے چیئرمین حاجی ہاشم علی نے بھی خیالات کااظہارکرتے ہوئے ادارے کے بانی ڈاکٹرمسعودچوہدری اورچیئرمین چوہدری عبدالحمیدکی نگرانی میں گرجردیش چیریٹیبل ٹرسٹ کی سرگرمیوں پراطمینان کااظہارکیا۔قبل ازیں پروگرام کے آغازمیں طالبات کے گروپ اور ڈاکٹرنصرین نے نعت رسول مقبول ؐ پیش کی۔دعاکے اختتام پرشرکااوربچیوں نے روزہ افطارکیا۔اس موقعہ پرمقررین نے منتظمین بالخصوص چوہدری عبدالحمید کی کاوشوں کوسراہااوراللہ تعالیٰ سے دعافرمائی کہ موصوف کی گوجربکروال قوم کیلئے انجام دی جارہی مخلصانہ کوششوں کوقبول فرمائے ۔
دفعہ 35 اے 'آئینی غلطی' اور دفعہ 370 'نفرت کی دیوار'
دونوں دفعات کو جانا ہے: رویندر رینہ
یو این آئی
جموں// بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر یونٹ کے صدر رویندر رینہ نے ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 کو بالترتیب 'آئینی غلطی' اور 'نفرت کی دیوار' قرار دیتے ہوئے ان دفعات کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابقہ این ڈی اے حکومت نے وادی کشمیر میں آپریشن آل آوٹ شروع کیا اور فورسز کو کھلی چھوٹ دی جس کے نتیجے میں ملک میں 'راشٹرواد' پیدا ہوا اور نریندر مودی لوگوں کے چہیتے لیڈر بن گئے۔بی جے پی کے شعلہ بیان ریاستی صدر نے اتوار کے روز یہاں ترکوٹہ نگر میں واقع بی جے پی دفتر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'دفعہ370 اور دفعہ 35 اے نے جموں وکشمیر کے ساتھ بہت زیادہ ناانصافی کی ہے۔ دفعہ 370 کی وجہ سے ریاست میں علاحدگی پسندی کی سوچ پیدا ہوئی ہے۔ اس نے جموں وکشمیر کا بہت بڑا نقصان کیا ہے۔ سو ایسے سیاسی خاندان ہوں گے جنہوں نے اس دفعہ کے نام پر جموں وکشمیر کو لوٹ لوٹ کر کھایا ہے۔ لوگوں کے پیسے سے دنیا کے مختلف کونوں میں پراپرٹی بنائی ہے'۔انہوں نے کہا 'دفعہ 370 آئین کے اندر ایک عارضی دفعہ ہے۔ یہ کبھی ہمارا مستقل قانون نہیں رہا ہے۔ اس میں توسیع کرکے یہاں تک پہنچایا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ دفعہ 35 اے ایک آئینی غلطی ہے۔ جب بھی کوئی قانون بنتا ہے تو وہ لوک سبھا، راج سبھا اور پھر صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد نافذ ہوجاتا ہے۔ دفعہ 35 اے کو چوری چھپے قانون کی کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ دفعہ 370 نفرت کی دیوار ہے۔ دونوں دفعات کو جانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان دفعات کو فی الفور ختم کیا جائے'۔رویندر رینہ نے کہا کہ کشمیر میں آپریشن آل آوٹ اور فوج کو کھلی چھوٹ دینے سے متعلق پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں راشٹرواد مضبوط ہوا۔ان کا کہنا تھا 'جموں وکشمیر میں آپریشن آل آوٹ کی بدولت تمام جنگجو تنظیمیں کے کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا۔ فوج کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ نریندر مودی کی ان پالیسیوں کے چلتے ہندوستان میں راشٹرواد مضبوط ہوا۔ نتیجتاً نریندر مودی ملک کے لوگوں کے چہیتے لیڈر بن گئے'۔
مقام شفا۔درگاہ حضرت فیض بخش شاہ بخاریؒ
ریاست جموں وکشمیر جسے جنت ارضی کہاجاتاہے کادوسرانام ’’پیراواڑی ‘‘یاپیروں اورصوفیوں کے رہنے کی جگہ بھی ہے ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ریاست میں جگہ جگہ پر اولیائے اللہ کے مقبرے موجود ہیں جنھوں نے محنت ِ شاقہ کے ساتھ دینِ اسلام کی اشاعت فرمائی ہے ۔ریاست جموں وکشمیر کے اہم اولیاء کرام میں حضرت بُلبل شاہ،حضرت شیخ جلال الدین بخاریؒ ،حضرت سید حسین سمنانی ؒ،حضرت امیرکبیرمیرسیدّعلی ہمدانیؒ (شاہ ہمدان ؒ)،حضرت مولاناپیرحاجی محمدقاریؒ،حضرت سیدبہاء الدین ؒ،حضرت سیدمحمدسراجؒ،حضرت سیدّجعفرؒ ،حضرت سیدمحمدکبیر بیہقیؒ ،حضرت سید محمدعین پوشؒ ،حضرت سید شہاب الدین ؒ،حضرت سید نعمت اللہ ؒ،حضرت بہاء الدین ثانی ؒ،حضرت سادات محمدؒ واحمدؒ ،حضرت سیدمحمدحصاری ؒ،حضرت سیدمحمدکرمانی ؒ ،حضرت سیدفخرالدین ؒ،حضرت سید عبداللہ ؒ ،حضرت سید میرمحمدہمدانی ؒ ،حضرت سید احمدسامانی ؒ ،حضرت سیدقاضی حسین شیرازی،حضرت سید محمدخاوری ؒ ،حضرت سیدعلاء الدین بیقہیؒ،حضرت سیدجلا الدین بخاری ؒ ،حضرت سیدعلی اکبرؒ ۔حضرت سیدنورالدین ،حضرت سید شہاب الدین ،حضرت سیدحضوراللہ ،حضرت شیخ بہاء الدین گنج بخش کشمیری ؒ ،علمدارکشمیر حضرت شیخ العالم شیخ نورالدین نورانی ؒ المعروف نندہ ریشی ،حضرت باباجوہرالدین ریشی ؒ،سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخدوم کشمیریؒ،باباغلام شاہ بادشاہ شاہدرہ شریف راجوری ،باباجیون شاہ ولی گمٹ ،بابابڈھن علی شاہ تے بابافیض بخش شاہ بخاری ؒوغیرہ شامل ہیں۔تمام اولیائے کرام اپنی اپنی کرامات اورمرتبہ رکھتے ہیںتاہم یہاں پربابافیض بخش شاہ بخاری کی کرامات کاتذکر ہ کرنامقصودہے۔جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ روئے زمین پرکئی ایسے بادشاہ ہوگذرے ہیں جنھوں نے کامل فقیروں کے آستانے پرحاضریاں دیںاورمرادیں پائیں۔ کسی فقیرکامل نے مطلب براری کیلئے بادشاہ وقت کے آگے ہاتھ پھیلایاہو ایسی کوئی مثال نہیں ۔ خدارسیدہ فقیرسوائے رب العالمین کے ،کسی اورکے درپرسجدہ کرے یہ ناممکن امرہے ۔پاگل جانوروں کے کاٹے لوگوں کے مسیحا بابا فیض بخش شاہ بخاری ؒ بھی ایسے ہی خدارسیدہ فقیرتھے۔ جن کی متبرک درگاہ مندروں کے شہر جموں سے 30 کلومیٹرکی دوری پراکھنورکے آگے جوڑیاں پلانوالہ سڑک کے کنارے دائیں طرف گوڑہ براہمناں (بل باغ ) گائوں میں مقام شفاکادرجہ رکھتی ہے۔
اس درگاہ میں ابدی نیند آرام فرمارہے ’’حضرت فیض بخش شاہ بخاری ‘‘کی جائے پیدائش ، سن پیدائش یاسن وفات بارے کوئی مصدقہ جانکاری یاکوئی تواریخی ثبوت دستیاب نہ ہے ۔اس فقیر کامل کے خاندان کے کسی فرد، کسی مرید، یادرگاہ کے گدی نشینوں میں سے کسی شخص نے درگاہ میں مدفون درویش بارے کھوج کرنے ،مواداکٹھاکرنے کی طرف دھیان نہی دیاہے جوبھی تحریرکیاجارہاہے سینہ بہ سینہ سنی سنائی یادداشت اوربیان کردہ کہانی پرمنحصر ہے۔
ایک خدارسیدہ دوریش کاکہناہے کہ چارسوسترسال قبل بابا فیض بخش شاہؒ کی پیدائش سعودی عرب میں ہوئی ۔بچپن اُدھرہی گذرا ،خداپرستی کارجحان ورثہ میں ملا ۔جوانی کی دہلیزپر قدم رکھتے ہی بخارہ چلے آئے۔عین جوانی کے عالم میں بخارہ کوخیربادکہہ ،حق کی تلا ش میں افغانستان سے ہوتے ہوئے سرزمین ہندپرقدم رکھے۔
ایک کہاوت کے مطابق لگ بھگ چارسوسال پہلے کچھ مست مولا فقیروں کے ہمراہ ’’فیض بخش شاہ ؒ ‘‘ جموں آئے ۔موجودہ ’’رہاڑی کالونی ‘‘ میں تب ’’رہاڑ‘‘نامی درختوں کاجنگل ہواکرتاتھا ۔اُسی جنگل میں بابافیض بخش شاہ اورساتھی فقیروں نے آن ڈیرہ لگایا۔ اورعبادت الٰہی میں محورہنے لگا۔ ساتھی فقیرنزدیکی دوکاندارسے آٹا دال نمک وغیرہ اُدھارلاکرروکھی سوکھی کھاکر گذراوقات کرتے۔جب کوئی عقیدت مند کچھ چڑھاوا چڑھاجاتاوہ پیسے دوکاندارکودے دیتے۔
خداکی قدرت بہت دنوں تک کوئی عقیدت مندنہ آیا۔ اُدھارمعمول سے زیادہ ہی ہوگیا۔دوکاندارنے آ’’’بابافیض بخش شاہ ؒ ‘‘ سے اپنی رقم کاتقاضاکیا ۔نہایت تحمل سے ’’بابا‘‘ نے کہا۔بھائی دوکاندار اس وقت تجھے دینے کوتوکچھ ہے نہیں، البتہ کل شام تک پائی ۔پائی اداکردی جائے گی۔ ذراتلخی سے دوکاندارنے کہا۔’’اس وقت ہے نہیں،کل کہاں سے آئیگا؟‘‘ ۔فقیرنے جواب دیا۔’’تیری سوچ تیری عقل سے اوپربھی کوئی طاقت ہے،وہ اللہ بڑاکارسازہے ۔وہ بھیج ہی دیگا‘‘۔
اُسی دن چندباوے (پاگل) گیدڑوں نے بستی میں گھُس کرلوگوں اورمویشیوں کوکاٹناشروع کردیا۔ہرطرف ہاہاکار مچ گیا۔لوگ لٹھ لئے اُنہیں مارنے دوڑے ۔ ایک پاگل گیدڑفقیرکی جھونپڑی کی طرف بھاگا آیالوگ لٹھ تھامے اُس کاپیچھاکررہے تھے۔بابافیض بخش شاہ ظہرکی نماز کی غرض سے ’’باڑی ‘‘ تھامے وضوکرنے جھونپڑے سے نکلا۔وہ پاگل جانور’’بابا‘‘ کے قدموں میں آن گرا۔مانو زندگی کی بھیک مانگ رہاہو ۔رحم دِل فقیرنے ’’باڑی ‘‘کے پانی کاایک چھینٹا اُس جانورپرمارا،وہ پاگل جانوردرویش کے پائوں چاٹنے لگ گیا۔
یہ کرامت دیکھ کرلوگ ’’بابا‘‘کے پاس آئے اورکہا۔’’اے فرشتۂ رحمت ! ایسے باولے جانوروں نے بستی میں انسانوں اورمویشیوں کوکاٹ کاٹ کرلہولہان کردیاہے ۔اُن پرکچھ کرم کیجئے ‘‘۔
درویش نے کہا۔’’اِن پاگل جانوروں کاکاٹاجوبھی کل دوپہرتک ادھرآجائیگا،خداکا فضل سے اُس پراِن جانوروں کے کاٹنے کااثرنہ ہوگا‘‘۔یہ خبر سب طرف پھیل گئی ۔دوسرے دن سویرے کچھ گیدڑوں کے کاٹے لوگ اورمویشی اورباباکے عقیدت مند آنے شروع ہوگئے ۔درویش فیض بخش شاہ ؒ نے اُسی مٹی کی باڑی کے پانی کے چھینٹے اُن پرمارے۔شفایابی کی دعارب سے کی۔
ہرشخص نے حیثیت اورعقیدت کے مطابق ایک آدھ سکہ فقیرکے قدموں میں رکھا۔خاصی رقم جمع ہوگئی۔ دوکاندارکوبلواکراُس درویش نے حکم دیا کہ ’’وہ اُدھارکی جملہ رقم معہ سوداُٹھالے جائے ‘‘۔
باقی ماندہ پیسے باقی فقیروں میں بانٹ کرسبھی کواپنی اپنی راہ پکڑنے کوکہااورخودخالی ہاتھ وہاں سے چل کردریائے چناب کے کنارے آبادگائوں گوڑہ پتن میں ڈیرہ لگایا۔
’’بل باغ ‘‘اکھنورکاایک بے اولادارائیں کافی عرصہ تک روزانہ دریائے چناب عبورکرکے اُس درویش کودودھ پہنچاتارہا ۔وہیں ارائیں اُس فقیرکواپنے گائوں لے آیا۔موجودہ مقبرہ والی جگہ ایک جھونپڑی بنوادی جس میں فیض بخش شاہ ؒ وہ درویش عبادت میں مصروف رہتا۔
ایک روزدُودھ کابرتن تھامے جب وہ ارائیں فقیرکے جھونپڑے میں داخل ہوا۔فقیرکو حالتِ عرفان میں پایا ،کئی سالوں سے دِل میں دباکررکھی بات کہہ دی۔’’بارگاہِ الٰہی سے میرے لئے اولادکی دُعاکر‘‘سمادھی ٹوٹنے پرفقیرنے کہا۔دُعامنظورہوئی۔پسرہوگامگرماں باپ کاسایہ ایامِ طفلی میں ہی چھوٹ جائے گا۔‘‘ارائیں نے اولاد کی خاطرخوشی خوشی موت قبول کی۔ ایک سال بعدایک چاندسے بیٹے نے جنم لیا۔ارائیں نے بچہ فقیرکی جھولی میں ڈال دیا۔بچے کے سرپرہاتھ رکھتے ہوئے بچے کولوٹاتے ہوئے بولا ۔’’خداکی اس دین ’’مرادبخش‘‘کوامانت کے طورپرپاس رکھ ،وقت آنے پرسنبھال لوں گا‘‘۔
چارسال ہنسی خوشی سے گذرے ،ایک رات اچانک مکان گرا،ارائیں اوراُس کی بیوی ملبہ میں دب کراللہ کوپیارے ہوگئے۔بچہ ’’مرادبخش ‘‘کوخراش تک نہ آئی ۔کفن دفن کے بعدحضرت فیض بخش ؒ اُس یتیم بچے کواپنے حُجرہ میں لے آئے ۔روحانی دولت سے فیض یاب ہوکر جانشین مقررکیا۔
دوران حیاتِ بابا فیض بخش شاہ بخاری ؒ نے اپنے جھونپڑے کے سامنے ایک کنواں کھدوایا ۔ایک بیری کاپیڑ لگواکردریائے چناب کے کنارے سے ایک بڑاسیاہ رنگ کاگول پتھرلاکربیری کے پاس رکھا۔
بعدازوفات حسب ہدایت اُس کامل فقیربابافیض بخش شاہ بخاری کواُسی جھونپڑے میں دفن کردیاگیا جس میں اُنہوں نے زندگی کابیشترحصہ یادِالٰہی میں گذارہ ۔بنی نوع انسان کوبرابری ،بھائی چارے کادرس دیا۔اُس فقیرکامل کواعزازکے طورپرعالیشان درگاہ،خوبصورت گنبد نماعمارت ،مغلیہ عہدکے فن تعمیر، کاریگری ونقش نگاری کانادرنمونہ ،کب اورکس نے بنوائی دریں بارہ کوئی واضح ثبوت نہ ہے ۔جب پاگل کتے یادیگر پاگل جانورکاکاٹا کوئی فرد شفایابی کیلئے اس درگاہ ’’مقام شفا ‘‘پرآتاتودرگاہ کامجاوراپنا ایک پائوں اس گول پتھرپراوردوسرابیری پر رکھ کراُسے سات بار اپنی ٹانگوں کے نیچے سے گذارکربابافیض بخش سے اُسکی شفاوصحت کی دعاکرتاہے۔اس مقدس درگاہ پرہرسال ماہ مئی کے آخری ویروارکے دن عرس پردوردرازسے ہزاروں عقیدت مندحاضری دیتے ہیں۔خوب رونق ہوتی ہے ۔
ست پال صراف اکھنور