سول سروس امتحان ۔2018 کے ٹاپر جنید احمد کیساتھ خصوصی بات چیت آج
جموں //جہاں پر سول سروس امتحان کی تیاریوں کیلئے خواہشمند طلاب پرسنلٹی کو فراموش کرکے جانکاری حاصل کرنے کیلئے لاتعداد کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔جبکہ اصل میں انہیں کافی جانکاری اور اسے اظہار کرنے کیلئے انہیں اپنے سوچ ااور خیال سے صیح الفاظ کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔اسلئے سول سروس امیدواروں کو بااختیار بنانے اور انہیں تیار کرنے کیلئے چانکیہ آئی اے ایس اکیڈمی سی ایس ای2018 کے 13ویں رینک کے جنید احمد کے ساتھ خصوصی بات و چیت کا اہتمام کیا ہے،جس سے سول سروس امتحان میںتیاری کرنے والے خواہشمند امیدواروں کے لئے صیح روڈ میپ پیش کیا جائے گا۔28 اپریل 2019کو منعقد ہو رہے ٹاپرس ٹاک میں تمام سول سروس امتحان میں شرکت کرنے والوں کو اپنے شکو ک و شبہات دور رکنے کے لئے ایک سنہری موقعہ ہوگا۔سبجیکٹ وار تیاری کرنے ،وقت کا صیح استعمال کرنے اور سیلبس مکمل کرنے کیلئے ٹوٹکے فراہم کرنے کیلئے سی ایس ای2018کا کامیاب امیدوار جنید احمد امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے رہنمائی کریں گے۔پرلیمنری اور مینز کی تیاریوںکے لئے کوششیں، صیح مطالعہ کے وسائل، تیاریوں کے ٹوٹکے اور چالیں اورشکوک و شبہات دورکرنے کے لئے براہ راست خصوصی بات چیت کے سیشن کی خاص بات ہوگی۔چانکیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ آنے والے بہتر بنائے گئے فائونڈیشن کورس جموں میں 25مئی سے شروع ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ کافی نوجوان سول سروس کا امتحان پاس کرنے کی خواہش رکھتے ہیںلیکن چند ایک ہی اسے پاس کرتے ہیں۔سلئے نہیں کہ وہ بہت تعلیم یافتہ ہیں یا انکو کافی جانکاری ہے بلکہ انہیں صیح رہنمائی اور جانکاری ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ یو پی ایس سی فقط آپکی جانکاری کا متحان نہیں ہے بلکہ یہ آپکی کل ہم پرسنلٹی کا ٹیسٹ ہے۔کافی سیلبس ہونے کی وجہ سے طلاب کو ہر ایک جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اسلئے ہم ایسے پروگرام منعقد کرتے رہتے ہیں ،تاکہ خواہشمند امیدواراں اپنے شکوک و شبہات کو دور کرکے امتحان کی جانب راغب ہو جائیں۔چانمکہ کی جانب سے اس سلسلہ میں فائونڈیشن کورس ایک سال، دو سال اور تین سال مدت کے منعقد کئے جا رہے ہیں۔ طلاب کااس سیشن میں خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں بات چیت کے تفصیلات کے لئے موبائیل نمبر 9891762095. پر رابطہ کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔
بھیم سنگھ کی ممبئی میں قومی قانونی سیمنار میں شرکت
جموں//سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے سینئر ایکزکیو رکن پروفیسر بھیم سنگھ ممبئی میں ہوئے سیمنار میں شریک ہوئے جس میںہندستان میں برطانوی وقت کے بینکوں کے دیوالیہ قانون پر بات چیت کی گئی۔سپریم کورٹ کے جک رمنا نے اس سیمنار کا افتتاح کیااور ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پردیپ نندر جوگ نے اس کی صدارت کی۔یہ سیمنار پورے دن چلا جس میں ’دیوالیہ پن کوڈ‘ کی تنقید کی گئی اور اس کے کاروباریوں اور پیسہ قرض دینے والوں پر پڑنے والے اثرات پربحث کی گئی۔پروفیسر بھیم سنگھ نے محسوس کیا کہ اس موضوع اور بینکوں کے دیوالیہ پن کا ہندستان کی 70فیصد سے زیادہ آبادی پر اس عمل کا کوئی اثر نہیں پڑتااور ا س موضوع کا قریبی تعلق ملک کے بڑے کاروباریوں اور بڑے تاجروں سے ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بار ایسوسی ایشن جیسے ادارے کسی جمہوری سماجی نظریات پر پہنچیں گے جو ہندستانی آئین کی روح ہے۔ دو پہیہ گاڑی پر پانچ برسوں تک پوری دنیا کا دورہ کرنے والے اور ایشیا اور افریقہ میں کام کررہی معیشت کا مطالعہ کرنے والے پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ ا س وقت کے حکمرانوں کے ذریعہ بنائے گئے پرانے کالونیل قوانین ہندستان میں جمہوریت کے نفاذ کے بعد بے معنی ہوگئے ہیں اور یہ ہندستانی پارلیمنٹ کی ناکامی ہے جو نظریاتی سوشلزم اور عوام پر مبنی جمہوریت کے نفاذ کی بجائے تاجروں اور سرمایہ داروں کے فروغ کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کام کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ ہندستانی پارلیمنٹ ہندستانی شہریوں کے لئے عام قوانین نہیں لاسکی اور نہ ہی اس نے عوام حامی اقتصادی نظام قانون ساز ی کی ۔ انہوں نے کہاکہ ہندستانی پارلیمنٹ عوام حامی قانون پیش کرنے میں بھی ناکام رہی جبکہ ا س کے بجائے وہ بلیک منی اور مخالف قوانین کا راگ الاپتی رہی۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد میں جے کے داس، پردیپ رائے (سینئر ایکزیکیوٹیو رکن) ، وکرانت یادو ، وکاس بنسل (خزانچی)، روہت پانڈے، اپیندرا نارائن مشرا، سادھنا سندھو ، انجلی چوہان ، اپیندرا مشرا، امریندر کمار سنگھ شامل تھے جنہو ںنے سیمنار میں شرکت کی۔
جموں میں مستقل سول سیکرٹریٹ کھولنے کا مطالبہ
منکوٹیا کا گورنر کے نام مکتوب
اودہمپور//ہر چھ ماہ کے بعد دربار موو کی روایت کو بند کرنے کا اعداہ کرتے ہوئے سابقہ ایم ایل اے و جے کے این پی پی کے صدر بلونت سنگھ منکوٹیہ نے کہا ہے کہ ہر سال دربار موو پر 600 کروڑ روپے کی بھاری لاگت آتی ہے۔ایک بیان کے مطابق منکوٹیہ نے ریاست کے گورنر کے نام ایک مکتوب ارسال کیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ دربار موو کی روایت مہاراجہ رنبیر سنگھ نے 1872 میں شروع کی تھی کیونکہ اُن دنوں ٹرانسپورٹ اور رسل و رسائل کے ذرائع کی کمی تھی لیکن ٹیکنالوجی کے دور میں ایسی بھاری رقم ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ منکوٹیہ نے اسے ٹیکس دہندہ والوں کے رقم پر بھاری لوٹ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ س رقم کو ریاست کی ترقی ، احتجاجی ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی پراستعمال کیا جائے۔انہوں نے مکتوب میں گورنر سے جموں میںمستقل سیکرٹریٹ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کشمیر میں ملی ٹینسی اور انتثار کی وجہ سے کیمپ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے دربار موو کی رواعیت کو جتنا جلد ممکن ہوسکے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ یہ سرکاری خزانہپر بھاری بوجھ ہے۔
جے ایم سی کی انجینئرنگ ونگ کا اجلاس
جموں //جموں میونسپل کارپوریشن کے مئیر چندر موہن گپتا نے جے ایم سی ونگ کے انجینئروں کے ایک اجلاس میںکارپوریشن کی جانب سے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزئہ لیا ۔ جوائنٹ کمشنر ورکس جسپال سنگھ ، ایگزیکٹو انجینئر جے ایم سی ارون گپتا، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر وں اور جے ائیز نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مئیر نے انجینئروں سے تن دہی اور سخت محنت سے کام کرنے کی ہدایت دی کیونکہ ترقیاتی کامیں سست رفتاری سے ہو رہی ہیں، جں میں سرعت لانے کی ضرورت ہے ،تاکہ التوا میں پڑی کاموں کی تکمیل یقینی ہو سکے۔انہوں نے شہر کو سر سبز رکھنے کے لئے مزید پارکوں کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے شہر میں مناسب مقامات پر فوارے نصب کرنے کی ہدایت دی۔ نیز انہوں نے دیگر محکموں جیسے کہ محکمہ صحت عامہ، تعمیرات عامہ ،بی ایس این ایل ،جیو و غیرہ کو جے ایم سی کے داہرہ اختیار میں سڑکیوں اور گلیوں کی کھدائی کیلئے کارپوریشن سے پیشگی اجازت حاصل کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے ان ٹھیکہ داروں کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت دی ،جو مقررہ مدت میں کام پوری نہیں کرتے ہیں، تاکہ آنیوالی شری امر ناتھ جی یاتریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کشمیری پنڈتوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کا الزام
جموں //قوم پرست طبقہ کشمیری پنڈتوں کے ووٹ دینے کے عمل کو مشکل ترین بناکر قوم دشمن عناصر جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں او رجان بوجھ کر انکے نام وادی کشمیر کے انتخابی فہرستوں سے ہٹا ئے جا رہے ہیں، تاکہ ممکنہ کم شرح پولنگ میںبے گھر طبقہ کے ووٹ کو فیصلہ کن نہ بن سکیں۔ آل سٹیٹ کشمیری پنڈت کانفرنس کے صدر ایڈوکیٹ رویندر رینہ نے یہ الزامات لگاتے ہوئے مرکزی سرکار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکا رنے گُذشتہ5 برسوں کے دوران ایک سو سے زائد سکیمیں قائم کی ہیںلیکن ایک بھی سکیم کا اطلاق کشمیری پنڈت طبقہ پر لاگو نہیں کیا گیا ،یہاں تک کہ ایوشمان بھارت سکیم بھی کشمیری پنڈتوں پر لاگونہیں کی گئی۔حالانکہ انتشار کی وجہ سے کشمیری پنڈت طبقہ متعدد بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔انہوں نے مودی سرکا رسے ان عناصر پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کا مطالبہ کیا ،جو پنڈت طبقہ کو جمہوری حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔ASKPC نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے ووٹنگ کے عمل کوا ٓسان بنانے کو کہا بصورت دیگر طبقہ ریاست میں آنے والے اسمبلی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے لئے مجبور ہوجائیںگے۔ایڈوکیٹ رویندر رینہ نے عدالت اعظمیٰ میں اس سلسلہ میں ایک مفاد عامہ معاملہ درج کرنے کا انتباہ کیا ہے۔
جموال گروپ کی طرف سے کیمپس پلیس منٹ مہم کا اہتمام
جموں //جموال گروپ آف ایجوکیشنل انسٹیچوشنوں (JGEI)کی جانب سے اسکے متعدد تعلیمی اداروں جیسے کہ یوگ نندا کالج آف انجینئرنگ ا ینڈ ٹیکنالوجی، انسٹیچوٹ آف منیجمنٹ سائنسز، آئی ای سی ایس پالی ٹیکنیک،توی انجینئرنگ کالگ اور توی پالی ٹیکنیک کے آخری سال کے انجینئرنگ، ڈپلومہ اور منیجمنٹ سٹوڈنٹس کے لئے جموں اور پٹھانکوٹ میں پلیس منٹ مہم کا اہتمام کیا۔ پلیس منٹ مہم 24اپریل 2019کو شروع ہوئی جس میں متعدد کمپنیوں جیسے کہ AjaxFlori پرائیویٹ لمیٹڈ، AK Globa گلوبل مینیجمنٹ سروسز، Dewcomm کیمونکیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ اور DMRK Infocad پرائیویٹ لمیٹڈ نے اس میں شرکت کی اور 33طلاب کو سخت گروپ مباحثہ ، ٹیکنکل انٹرویو اور تحریری امتحان کے بعد 25 اپریل کو منتخب کیا۔منتخب امیدواروں کو26 ۔اپریل کو پیش کش کی لیٹر فراہم کی گئی۔منتخب طلاب لیٹر حاصل کرتے ہوئے بہت ہی خوش دکھائی دئے۔جموال گروپ آف انسٹیچوشنز نے منتخب طلاب کو مبارک باد دی ار انہیں نیک خواہشات پیش کیں۔ اس موقعہ پر سندیپ پنڈتا، ڈاکٹر اروند دیوانگن ،ڈاکٹر اجے شرما ، انجینئر امت شرما ،و فیکلٹی ممبران بھی تھے۔