مزید خبرں

 دو مہینوں میں لوک سبھا انتخابات کرانے کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا جانا چاہئے

جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے، جنہوں نے خود پہلے مرحلہ (11اپریل ) کوجموں ۔پونچھ سے الیکشن لڑا ہے، آج ایک بیان جاری کرکے کہا کہ ہندستان سمیت دنیا کے انتخابی نظام میں ایسا پہلی بار ہے جب پارلیمنٹ (سب سے بڑی جمہوریت )کے انتخابات تقریباًً دو مہینے تک چلیں گے۔ مشرق سے مغرب تک دنیا کے کسی بھی ملک میں جہاں جمہوریت ہے کسی بھی جگہ ملک/جمہوریت/آمریت کے انتخابات کا عمل دو مہینے سے زیادہ نہیں چلا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندستان کی پارلیمنٹ کا انتخابی عمل اپریل کے پہلے ہفتہ سے شروع ہوکر 19مئی 2019تک چلے گا اگر باقی انتخابی عمل میں غیر قدرتی رکاوٹ نہیں پڑی تو ۔ 1951میں جب ہندستانی پارلیمنٹ کے پہلے انتخابات ہوئے تھے تب صورتحال یہ تھی کہ انتخابات ایک یاود دن کا وقفہ سے ایک ساتھ سب جگہ کرالئے جاتے تھے۔ایسا پہلی بار ہوا ہے ایک قومی اور جمہوری پارٹی کے جمہوری نظام میں لوک سبھا انتخابات سات مراحل میں  (11اپریل، 2019سے 19مئی ۔2019 تک) ہورہے ہیں۔ انہوں کہاکہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک ہی ریاست میں کئی مراحل میں انتخابات ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہندستان کے صدر  پر زور دیا کہ وہ اس معاملہ کو پارلیمنٹ کے سامنے اٹھائیں کہ اس انتخابی عمل میں کتنا پیسہ خرچ ہوا اور قومی دولت کو ضائع کیا گیا؟ وزیراعظم نے انتخابی عمل میں ریاست کے خرچ پر کتنے انتخابی عملہ کا استعمال کیا؟ سیاسی جماعتوں نے ریکارڈ پر سرکاری اشتہار ات کے لئے اخبارات کو کتنا پیسہ دیا؟ اگر لداخ سے لیکر کنیا کماری تک اور منی پور سے گجرات تک ایک دفعہ میں انتخابات کرائے جاتے تو انتخابی خرچ میں کتنا فرق آتا؟پنتھرس سربراہ نے اعلان کیاکہ اگر انہیں راشٹرپتی بھون سے انصاف اور برابری نہیں ملی تو اس معاملہ کو عدالت میں اٹھائیں گے۔
 
 

جے کے میڈسٹی میں نازک کینسر سرجری انجام دی گئی 

جموں //جے کے میڈسٹی میں ایک نامور لیپروسکوپک اور کینسر سرجن ڈاکٹر سندیپ بھٹ نے ایک نازک caecal (ایک بڑی انتڑی کا ایک حصہ) کی کینسر سرجری انجام دی۔ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مریض خون کی کمی (anaemia) میں مبتلا تھا ،جس پر تحقیق کے بعد پایا گیا کہ اسکی بڑی انتڑی میں ایک بھاری tumor تھا ۔جب مریض نے مذکورہ ڈاکٹر سے رابطہ کیا ،تو انہوںنے laparoscopic سرجری سے یہ بھاری tumor ہٹانے کی رائے دی ،جسکے بعد مریض کا آپریشن کیا گیا ،حالانکہ بیشتر ہسپتالوں میں اس کیلئے laparoscopic سرجری سے اباکر کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر سندیپ بھٹ نے یہ چلینجنگ اور مشکل ترین سرجری تقریباً5گھنٹوں تک انجام دی ۔سرجکل ٹیم میں ڈاکٹر سندیپ بھٹ، ڈاکٹر نیرج کول، کلجیت جی، مانو اور دیگ رتھیٹر عملہ بھی شامل تھے۔اینستھیسیا ڈاکٹر گورمیت سنگھ کی ٹیم نے مہیا کیا۔آپریشن کے بعد مریض قدے ٹھیک محسوس کر رہا ہے
 
 

بی جے پی نے جی ایم سی کے غلط منجیمنٹ کا سنجیدہ نوٹس لیا

جموں //بھارتیہ جنتا پارٹی نے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہسپتال،جموں میں مبینہ طور سے گولڈ کارڈ آیوشمان بھارت سکیم کے تحت کینسر مریضوں کو حیات بخش ادویات فراہم کرنے سے انکار کرنے کا سنگین نوٹس لیا ہے۔ایک بیان میں پارٹی کے ریاستی یونٹ نے گورنر انتظامیہ سے اس سلسلہ میں فوری طورع سے مداخلت کرنے اورا نسانیت کے خلاف ایسے جرائم میںملوث اہلکاروں کے خلاف سنگین کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک پریس بیان میں پارٹی کے ترجمان بلبیر رام رتن نے اسے کینسر مریضوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ جی ایم سی میں کینسر مریضوں کیلئے حیات بخش ادویات کی عدم دستیابی ایک سنگین معاملہ ہے جسکی فوری طور سے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ترجمان نے مزید کہا ہے کہ حیات بخش ادویات فراہم کرنا ہسپتال انتظامیہ کا اولین فرض ہے اور اس میں کوتاہی کا سنگین نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی شخض کی زندگی کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ ایسی مہلک بیماری میں مبتلا مریضوں کے تئیں نرم رویہ اپنانے کے خلاف سنگین کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ایم سی کاایسا رویہ آیوشمان بھارت سکیم کے برعکس ہے ،جس کا ملک بھر میںہزاروں کی تعداد میں مریض استفادہ لیتے ہیں لیکن بد قسمتی سے جموں و کشمیر میں ایسے عناصر ہیں ،جو مفاد خصوصی کو فروغ دے رہے ہیں۔
 
 

 ویشنو دیوی یونیورسٹی کا ویدانتا پر ورکشاپ منعقد کرنے کا منصوبہ

جموں//شری ماتا ویشنو دیوی کٹرہ کے سکول آف فلاسفی اینڈ کلچر کا 20سے30مئی 2019 تک دس روزہ ایف ڈی پی و ٹیکسچول ورکشاپ منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ورکشاپ کو اندا گاندھی نیشنل سنٹر برائے آرٹس نئی دہلی کی جانب سے سپانسر کیا جا رہا ہے۔پروگرام اعلیٰ تعلیمی اداروں کے فیکلٹی ممبران،طلاب اور عام لرنروں کے لئے کھلا ہے اور اس سلسلہ میں درخواست گُذاری کی آخری تاریخ 10 مئی 2019 ہے۔پروگرام کیلئے موضوع بیلامکونڈا رم آریہ کا ویدانتا ساگرہ  (1875-1914) ہے۔ ورکشاپ کے ریسورس پرسن سنسکرت یونیورسٹی پونے کی سنٹر فار ایڈوانس سٹڈی کے سابقہ ڈائریکٹرس پروفیسر وی این جھا اور پروفیسر اوجھولا جھا ہیں۔دنوں بھارتی فلاسفی اور سنسکرت کے جانے مانے عالم ہیںاور بھارتی دانشوری ررواعیت کے پیغام کو پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔
 
 

کشمیر میں موجودہ صورتحال کیلئے کانگریس۔ این سی اور پی ڈی پی ذمہ درا ـ : این سی پی 

جموں //محبوبہ مفتی کے مودی کے خلاف ریمارکس اور مرحوم راجیو گاندھی کی تعریف سے یہ عیاں ہے کہ راجیو گاندھی ریاست جموں و کشمیر میں ملی ٹینسی کے بانی اور کشمیر کو نہایت ہی رشوت خور ریاست بنانے میں ذمہ وار ہے۔ ان باتوں کا اظہار سابقہ وزیر و نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر ٹھاکور رندھیر سنگھ نے جاری ایک پریس بیان میں کیا ہے۔انہوں نے بیان میں کہا ہے کہ راجیو گاندھی ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور مفتی محمد سعید نے ایک انتخابی اتحاد میں ایک چھوٹے مولوی مسعود اظہر کو ایک بڑا ہیرو بنایااور انتخابات میں اسکو باہر کردیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بخشی غلام محمد کے دورمیں سب سے نوجوان اور اعلیٰ قابلیت کے ایک دیانتدار قانون ساز یہ ممبر اور سیکولر کردار کے مالک جی ایم صادق ،جو کہ بعد میں ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے ،کانگریس کو ریاست میں لانے کا ذمہ وار ہیاور ریاست میں آئینی بدلائو لایا جیسے کہ وزیر اعظم کے عہدہ کو وزیر اعلیٰ ،صدر ریاست کو گورنر بنانے اور ریاست کو عدالت اعظمیٰ اور اکوٹنٹ جنرل کے دائرہ اختیار میں لایا۔انہوں نے گُذشتہ دنوں ویری ناگ میں بی جے پی کے ایک لیڈر گل محمد میر کی ملیٹنٹوں کے ہاتھوں ہلاکت کی مذمت کی ۔ انہوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ریاست میں جائز لیڈروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گُذشتہ پانچ مہینوں نے نا معلوم ملی ٹینٹوں نے کئی اہم سیاسی شخصیات بشمول اجیت پریہار کا قتل کیا ہے اور وزیر داخلہ سے ریاست میں سیکورٹی فراہم کرنے کے معاملہ کا سر نو جائزہ لیں۔
 
 
 

KV سنٹرل یونیورسٹی جموںمیں یوم تاسیس اورانعامات تقسیم کاری تقریب 

جموں //کیندریہ ودیالیہ سنٹرل یونیورسٹی جموں کی جانب سے یوم تاسیس اور انعامات کی تقسیم کاری کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔ سکلو کے طلاب ،ے اساتذہ اور سکول پرنسپل کے ہمراہ مہمان خصوصی کمپیوٹر سائنسز کے ڈین دیوآنند کا خیر مقدم کیا۔جس کے بعد پرگرام کا آغاز کرنے کے لئے روایتی شمع روشن کیا گیا ۔سکول کے ایک گروپ نے دعائیہ گیت پیش کیا جس سے سامعین محظوظ ہو گئے۔مہمان خصوصی نے سکول کے یوم قیام پر شاندار پروگرام منعقد کرنے کی ستائش کی اور سکول کی تاریخ بیان کی۔طلاب کی ترغیب کیلئے مہمان خصوصی نے طلاب میں انعامات تقسیم کئے۔علاقائی ڈانس نے تقریب میں موجود ہر ایک کو مسرور کیا ۔مہمان خصوصی نے بہترین پروگرام پیش کرنے کی کاوشوں کیلئے عملہ اور طلاب کی سراہنا کی۔سکول کے پرنسپل ڈاکٹر جے سی ملہوترہ نے تعلیمی سال کے دوران جائزہ پیش کیا۔پروگرام کا اختتام ایل ڈی کی جانب سے شکریہ کا ووٹ پیش کرنے اور قومی ترانہ گانے کے ساتھ کیا گیا ۔
 
 

سوامی ہری چیتنیہ پوری کے اعزاز میں شاندار استقبالیہ 

جموں //شری ہری کرپا پیٹھ آدیشور شری شری 1008 سوامی شری ہری چیتنیہ پوری جی مہاراج کا یہان پہنچنے پر پیر کے روز شاندار استقبال کیاگیا۔ جموں پہنچنے پر انہوں نے برہمن سبھا میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم زندگی میں آگے چلنا چاہتے ہیں ،تو تب ہمیں دریائوں سے سیکھ لینی چاہیے۔انہوںنے کہا کہ زندگی میں روکاوٹیں آتی ہیں لیکن دریا کی طرح ان روکاوٹوں کو پار کرنے کی ضرورت ہے اور جتنا ممکن ہو تضاد سے دور رہنے کی کوشش کی جائے۔کسی کو بھی چھوٹا یا کمتر نہیں سمجھنا چاہے۔آپ جو دیکتھے ہو او سنتے ہو ،اس پر سوچنے کی ضرورت ہے ۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ایک انسان کو فراخدل ہونا چاہیے،انہوں نے کہا کہ آکل کے دور میں انسان کا دل بڑا ہے لیکن اسکا دل سکڑ رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ہمیں گھمنڈی نہیں بننا چاہیے ۔سری کے درشنن کے خطبہ کو سننے کے لئے عقیدت مندوں کی بھاری بھیڑ امڑ پڑی تھی ۔
۔
 

کشتواڑمیں سڑک حادثے میں 6افرادزخمی 

حاملہ خاتون معجزاتی طور محفوظ رہیں ،ہسپتال میں بچے کوجنم دیا 

عاصف بٹ
 قصبہ کشتواڑسے چند کلومیٹر دورشالیمار کے قریب ایک نجی گاڑی زیر نمبر  JK02S 5691  حادثے کاشکارہوگئی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوارایک حاملہ خاتون سمیت  6 افراد سوارتھے تاہم حاملہ خاتون اوراس کابچہ معجزاتی طورمحفوظ رہا۔حادثے کے بعدزخمیوں کوہسپتال پہنچایاگیاجہاں پرڈیوٹی پرمامور ڈاکڑصائمہ نے نمایندہ کو بتایا کہ حاملہ خاتون ختیجہ بیگم نے بچہ کو جنم دیا ہے جبکہ ماں اور بچہ دونوں سلامت رہے ۔انچارج پولیس پوسٹ شالیمار نے بتایاکہ پولیس و مقامی لوگوں نے زخمی افراد کو نکال کر ضلع ہسپتال منتقل کیا جن میں ایک ہی کنبے کے افراد جن کا نام حاکم دین عمر 65 سال ،اسکا بیٹا  نظام دین عمر 37 سال  اس کی بہو ختیجہ بیگم ،عمر 33 سال و لڑکی ختیجہ بانو عمر30 سال اور پوتا محمد اسلم عمر 7 ساکنہ بونجواہ کے طور پرہوئی  جبکہ ڈرائیور موقعہ سے فرار ہوگیا ہے۔