مزید خبرں

پونچھ میں 1388بنکروں کی تعمیر جاری 

۔146مکمل ،دیگر جلداز جلد مکمل کرنے کی ہدایت

پونچھ //سرحدی ضلع پونچھ میں اس وقت 1388انفردی اور کمیونٹی بنکروں کی تعمیر جاری ہے جن میں سے 146بنکروں کو مکمل کر لیا گیا ہے ۔ان خیالا ت کا اظہار متعلقہ آفیسران نے ضلع ترقیاتی کمشنر کی زیر صدرات منعقدہ اجلاس کے دوران کیا ۔اس اجلاس کے دوران ضلع کے سرحدی علا قوں میں زیر تعمیر بنکروں کی موجودہ صورتحال اور تعمیر اتی کام کی رفتار کے سلسلہ میں جانکاری حاصل کی گئی ۔میٹنگ کے دوران جانکاری فراہم کی گئی کہ سرحدی ضلع پونچھ میں اس وقت 1388بنکر تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں سے 680 انفرادی اور 708 کمیونٹی بنکر ہیں ۔ان بنکروں میں سے 146بنکر وں کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے ۔یہا ں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان بنکروں میں سے 577 بنکروںکی تعمیر محکمہ دیہی ترقی جبکہ 811بنکروں کی تعمیر محکمہ پی ڈبلیو ڈی کے تحت کروائی جارہی ہے ۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے آفیسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بنکروں کی تعمیر ان علا قوں میں کی جائے جہاں پر لوگوں کیلئے پہنچانا آسان ہو ۔انہوں نے مزید کہا کہ ان بنکروں کی تعمیر جلداز جلد مکمل کی جائے تاکہ مقامی لوگوں کو سہولیات دستیاب کی جاسکیں ۔اس اجلاس میں اے ڈی ڈی سی پونچھ کے علا قہ ،اے سی ڈی ،سی پی او ودیگر اعلیٰ آفیسران بھی موجود تھے ۔
 

گندہ پانی پینے سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا 

محمد بشارت 
 
کوٹرنکہ //سب ڈویژن کوٹرنکہ کے متعدد علا قوں میں گندہ پانی پینے کی وجہ سے لوگ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔مقامی لوگوں نے محکمہ پی ایچ ای اور مقامی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ پانی سپلائی اور جمع کرنے والی ٹینکوں میں مٹی اور دیگر کوڑا کرکٹ جمع ہو ا ہے لیکن انتظامیہ کی طرف سے ان ٹینکوں کو صاف کرنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھا یا جارہاہے جبکہ جمع شدہ پانی ہی عوام لو لگا تار سپلائی کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ایک برس قبل پتلی قلعہ کنڈی میں انتظامیہ کی جانب سے ایک فلٹریشن پلانٹ تیار کیا گیا تھا تاہم ابھی تک مذکورہ پلانٹ سے کوٹرنکہ میں پانی سپلائی نہیں کیا گیا اور عوام انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے ایک گندے نالے کا پانی استعمال کر نے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکمہ کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ عوام کو ٹینکوں کی صفائی کر کے عوام کو پینے کا صاف پانی سپلائی کیا جائے۔
 
 

مغل شاہراہ پر سڑک حادثہ 

خطہ پیر پنچال میں غم و غصہ ،مقدمہ درج کر کے تحقیقات کرنے کا مطالبہ 

بختیار حسین
 
سرنکوٹ//گزشتہ روز مغل شاہراہ پر ہوئے سڑک حادثے کو لے کر خطہ پیر پنچال میں غم و غصہ پایا جارہاہے ۔متاثرین و عام لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا سنٹر کے مالک پر قتل کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کرئے ۔عبدالصمد نامی ایک متاثر شخص نے کہاکہ مذکورہ سنٹر انتظامیہ کی جانب سے ضلع و تحصیل انتظامیہ کی اجازت کے بغیر نوجوانوں بچیوں کو کہاں لے جارہے تھے ؟۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ برس اسی طرح کی ایک افواہ جس میں سڑک حادثے کے دوران چالیس سے زائد سکولی بچوں کے مارے جانے کی غلط اطلاع دی گئی تھی ،کے بعد ضلع انتظامیہ راجوری اور پونچھ نے مغل شاہراہ پر کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری ادارے کی طرف سے بچوں کو لے کر جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم اس کے باوجود بھی سنٹر کی جانب سے بچوں کو مغل شاہراہ پر لے جایا گیا ۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مغل شاہراہ پر سخت چیکنگ اور قوانین کو لا گو کرنے کے بیان دئیے جارتھے تاہماس کے دوران ہی گاڑی میں اور لوڈنگ کی گئی لیکن ٹریفک اور پولیس انتظامیہ نے مذکورہ غیر قانونی عمل کی طرف کو ئی توجہ نہیں دی ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مغل شاہراہ پر ٹریفک اور پولیس کی جانب سے مشترکہ طور پر کئی جگہوں پر ناکے لگائے گئے ہیں جو کہ مبینہ طورپر مویشی اسمگلروں سے پیسے جمع کرنے میں مصروف ہیں ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ مغل شاہراہ کے کئی مقامات پر مواصلاتی نظام پوری طرح سے ٹھپ ہے لیکن انتظامیہ کی طرف سے اس معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہاہے ۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مغل شاہراہ پر تعینات اہلکاروں اور سنٹر مالک کیخلاف مقدمہ درج کرنے کے علاوہ مغل شاہراہ پر مواصلاتی نظام کو یقینی بنایا جائے ۔
 

مغل روڈ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اظہار افسوس 

مسافروں اورمریضوں کی سہولیت کیلئے ٹر اما ہسپتال قائم کرنے کی اپیل

طارق شال
 
تھنہ منڈی //تاریخی مغل شاہراہ کے لال غلام علاقے میں دلدوز سڑک حادثے پر مغل روڈ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی گورنر انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مغل روڈ پر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے فوری طور پر ٹراما ہسپتا ل کھولے جائیں۔جاری بیان میں کمیٹی نے کہا ہے کہ 84کلو میٹر لمبی شاہراہ خطہ پیر پنچال اور وادی کو آپس میں ملانے کیلئے کا فی اہمیت کی حامل ہے تاہم مسافروں کو بہترین طبی و دیگر بنیادی سہولیات فراہم ہی نہیں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے مسافروں کو دوران سفر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مغل شاہراہ پرشو پیان سے بفلیاز اور تھنہ منڈی کے مقام تک محکمہ صحت کی طرف سے کوئی طب سہولت میسرنہیں کی گئی ہے اور تاریخی شاہراہ پر سڑک حادثات میں زخمی ہو نے والوں کی نگہداشت اور قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کے ان دشوار گزار مقا مات میں بے یارو مدد گار پڑے رہنے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔تاریخی مغل روڈ سال 2005 میں شروع ہوئی تھی اسکو تکمیل ہوئے کئی کئی برس گزر چکے ہیں شاہراہ پر مواصلاتی نظام کیساتھ ساتھ دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔مغل روڈ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے زخمیوں کی جلد صحت یابی اور مرنے والو ں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مغل شاہراہ پر ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مسافروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جبکہ تھنہ منڈی اور پونچھ کے چندی مڑ ھ علا قہ میں ٹراما ہسپتالوں کا قیام عمل میں لا یا جائے۔
 

 حادثہ انتظامیہ کی ناکامی :والی داد 

جاوید اقبال    
 
مینڈھر //نیشنل کانفر نس سنیئر لیڈر چوہدری ولی داد نے گذشتہ روز تاریخی مغل شاہراہ پر پیر گلی کے نزدیک پیش آئے حادثہ پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ ٹریفک کے آفیسران کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔انہوں نے کہاکہ حادثہ انتظامیہ کی مکمل ناکامی او نا اہلی کی وجہ سے ہوا ہے ۔مرنے والوں کے لواحقین کیساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ایس سی لیڈر نے ریاستی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سلسلہ میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ان لوگوںکیخلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے جن کی لاپرواہی کی وجہ سے مذکورہ حادثہ پیش آیا ۔موصوف نے کہاکہ ریاستی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ جلداز جلد مرنے والوں کے لواحقین کو دس دس لاکھ روپے بطور ریلیف دے۔
 

المناک حادثے کیلئے انتظامیہ ذمہ دار :اکرم چوہدری 

سرنکوٹ//کانگریس لیڈر اور سابقہ رکن اسمبلی سرنکوٹ چوہدری محمد اکرم نے مغل شاہراہ پر گزشتہ روز پیش آئے دلدوز سڑک حادثہ پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ موصوف نے لواحقین سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس حادثہ کے لئے ٹریفک پولیس اور انتظامیہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ یہاں جاری ایک پریس بیان میں چوہدری اکرم نے کہا ہے کہ مغل شاہراہ پر تعینات پولیس اور ٹریفک پولیس ہفتہ وصولی کرکے ڈروئیوروں کو قانون کی کھلم کھلا دھجیاں اڑانے کی اجازت دے رہا ہے۔پولیس رشوت لیکر کسی بھی حد تک چلی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ نہیں ہوتی اور پیسے لیکر محکمہ ٹرانسپورٹ عملہ انتہائی خستہ گاڑیوں کو بھی فٹنس دے دیتا ہے۔ انہوں نے حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ گاڑیوں کی فٹنس چیک کی جاتی ہے اور نہ ہی لائسنسوں کے اجراء کا عمل۔ انہوں نے کہاکہ حادثے کاشکار ہونے والا ٹیمپو کئی سال پراناہے اورحکام کی عدم توجہی کی بدولت ایسی ہی پرانی گاڑیاں حادثات کا موجب بنتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹریفک کے نظام میں سدھار لانے کی ضرورت ہے اور ان حادثات پر روک لگائی جائے جنہوں نے کئی گھروں کو برباد کردیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے حادثات پر روک لگائی جاسکتی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایاجائے۔