ذوالفقار کی ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
نیوز ڈیسک
جموں//نو شہرہ کے بیوپار منڈل کے ایک وفد نے رکن اسمبلی رویندر رینہ اور سریندر کمار چودھری کی قیادت میں خوراک و شہر ی رسدات کے وزیر چودھری ذوالفقار علی کی ساتھ ملاقات کی اور انہیں نو شہرہ کو نئے ضلع کے طو ر پر قائم کرنے سے جڑے معاملات کے بارے میں آگاہ کیا ۔وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ اس معاملے کو وزیر اعلیٰ کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔ انہوں نے وفد کو سرحدی علاقوں میں تنائو کی صورتحال اور جاری امتحانات کے تناظر میں ہڑتا ل ختم کرنے کی تلقین کی ۔
کالا کوٹ کے وفد کی کوہلی سے ملاقات
نیوز ڈیسک
جموں//پشو و بھیڑ پالن کے وزیر عبدالغنی کوہلی ہے کہ حکومت نوشہرہ ، کالاکوٹ اور سندر بنی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مسائل سے پوری طرح واقف ہے۔ وزیر بی جے پی کالا کوٹ کے ایک وفد جس کی قیادت ڈاکٹر اشوک شرما کر رہے تھے ،سے گفت شنید کر رہے تھے جو ان سے ملنے کے لئے آیاہواتھا ۔وفد نے حلقہ انتخاب کالاکوٹ سے متعلق کئی ترقیاتی معاملات وزیر کے سامنے اُبھارے ۔وفد میں سردوری لال ، ایڈوکیٹ ٹھاکر سریندر سنگھ بھارتی ، یشپال شرما ، ایم خان ، وکرم شرما ، جنید کھاری اور محمد شبیر شامل تھے۔
سنئی کاوفد وزیر اعلیٰ سے ملاقی
سڑک کی تعمیر ، لفٹ سکیم اور آر بی اے درجہ دینے کی مانگ کی
بختیار حسین
سرنکوٹ // وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے سنئی گائوں کے ایک وفد نے ملاقات کرکے گائوںسے جڑے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ وفد کی قیادت سینئر پی ڈی پی لیڈراقبال کاظمی کررہے تھے۔اس موقعہ پر سابق سرپنچ وحید حسین شاہ نے وزیر اعلیٰ کو بتایاکہ سنئی گائوں پسماندگی کاشکار ہے جس کو آر بی آے کادرجہ دیاجائے ۔ان کاکہناتھاسنئی گاوں کو ہر محاذ پر نظر انداز کیا گیا ہے اور ابھی تک آر بی اے کا درجہ نہیں دیا گیا جبکہ یہ گائوں اس کا مستحق ہے ۔انہوںنے کہاکہ گائوں کو سڑک روابط سے بھی محروم رکھاگیاہے اور پی ایم جی ایس وائی کے تحت دھندلی والا محلہ تک ہی سڑک تعمیر کی گئی ہے جس کو پنیالی سے شاہستار تک توسیع دی جائے تاکہ پوری آبادی کو فائدہ ہوسکے ۔انہوںنے دیگر لنک سڑکوں کی تعمیر کی بھی مانگ کی۔انہوں نے مڈل اسکول تکیہ کو ہائی اسکول کا درجہ دینے کی مانگ کی اوروزیر اعلیٰ کو بتایاکہ وسیع علاقے پر پھیلے ہوئے اس گائوں کے اندر ایک بھی ہائی سکول نہیں ہے ۔انہوں نے سنئی نالے پر پل کی بھی مانگ کی ۔انہوں نے سنئی پنیالی کے لئے لفٹ اسکیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں کو پانی کی عدم دستیابی سے سخت مشکلات کاسامناہے ۔ان کاکہناتھاکہ پنیالی کیلئے لفٹ سکیم کی منظوری بھی ہوئی لیکن اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں اور نہ جانے محکمہ نے اس سکیم کا کیا کیاہے ۔
شوپیاں شہری ہلاکتوں کی مذمت
پونچھ //کشمیر کے ضلع شوپیاں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی سنی یوتھ ونگ جموں وکشمیر نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔پریس کے نام جاری ایک بیان میں سنی یوتھ ونگ کے ریاستی صدر اعجاز احمد مدنی نے کہا کہ آخر کب تک بے گناہ لوگوں کا قتلِ عام کیا جاتا رہے گا۔ان کاکہناتھاکہ ایسے عام شہریوں کا بے دردی سے قتل کیا جانا ناقابلِ برداشت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سیاستدان اپنے ذاتی مفاد کی خاطر عام لوگوں کی قربانیاں لگانا بند کریں،لوگ اِن سیاستدانوں کو ایوانوں میں اس لئے نہیں بھیجتے کہ انہی کا قتلِ عام کیا جائے۔ مدنی نے کہا کہ ایک طرف حکومت لوگوں کی فلاح و بہبود کی بات کرتی ہے تودوسری طرف عام لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جارہا ہے ،کیا ان کی یہی فلاح ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں ہر بار مسئلہ کشمیر کے حل کے نام پہ معرضِ وجود میں آتی ہیں لیکن جب اختیارات مل جاتے ہیں تو انہیں مسئلہ کشمیر بھول جاتا ہے اور بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارنا شروع کردیا جاتا ہے ۔انہوںنے مزید کہا کہ شام ،فلسطین ،یمن یا کشمیر ہو،ہر جگہ بے گناہ لوگوں کا قتلِ عام کیا جارہاہے اور اس پر افسوس کرنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی ۔ان کاکہناہے کہ وہ بھی ایک جمہوری ملک کے باشندے ہیں اور جمہوریت میں کم از کم اتنا حق تو ایک بھائی کو ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کے لئے مذمتی الفاظ کہہ سکے ۔
سابق زونل ایجوکیشن افسر محمد عزیز بھٹی رحمت ِحق
جاوید اقبال
مینڈھر//سابق زونل ایجوکیشن افسر محمد عزیزبھٹی اتوارکی شام اپنے آبائی گائوں کانڈی گلہوتہ میں انتقال کر گئے ۔ان کی نماز ِ جنازہ سوموار کو بعد دوپہر اد کی گئی جس میں ضلع پونچھ اور ضلع راجوری سے بڑی تعداد میں لوگوںنے شرکت کی ۔ان کی موت پر سیا سی و سماجی شخصیات نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ غمزدہ کنبے کیساتھ وہ برابرکے شریک ہیں ۔ ایم ایل اے مینڈھر جاوید احمد رانا ، سابق ایم ایل اے رفیق حسین خان ، سابق ایم ایل اے نثار احمد خان ، سابق ایم ایل سی مرتضیٰ خان ،سابق ایم ایل سی رحیم داد ، سابق ایم ایل سی محمد رشید قریشی ،سائیں ناتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد ملک ، سینئر پی ڈی پی لیڈر ایڈووکیٹ معروف خان، سینئر پی ڈی پی لیڈر وسیم احمد خان ، سینئر نیشنل کانگریس لیڈر چوہدری ولی داد ، حاجی محمداعظم ساگر،کانگریس کی ریاستی سیکریٹری پروین سرور خان، ماسٹر عنایت اللہ خان، محمد اعظم فانی، جاوید گلشن ، چوہدری محمد صادق، محمد شوکت چوہدری، ماسٹر محمد دین پسوال ، زاہدہ چوہدری ، ایڈووکیٹ شوکت چوہدری، ایڈووکیٹ نذیر چوہدری، حاجی محمد رشید، حاجی محمد صادق خان ، خورشید احمد خان ، طلعت سرور خان، ہمایوں سرور خان ، محمد فضل خان ، ماسٹر نذیر حسین شاہ وغیرہ نے کہا کہ مرحوم عزیز بھٹی ایک بہترین استاد تھے جنہوںنے اپنی زندگی میں بہت سے سماجی کام کر کے لوگوں کی خدمت کی ۔انہوںنے کہاکہ وہ مرحوم کی روح کی تسکین کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا ۔
محکمہ صحت کے 9ملازم غیر حاضر پائے گئے
سمت بھارگو
راجوری //پرائمری ہیلتھ سنٹر جمولہ میں ڈاکٹر سمیت محکمہ کے نو ملازم غیر حاضر پائے گئے ۔ بلاک میڈیکل افسر کنڈی ڈاکٹر اقبال ملک نے اس طبی مرکز کا اچانک معائنہ کیاجس دوران نو ملازم غیر حاضر پائے گئے ۔اقبال ملک نے بتایاکہ دن کے ڈھائی بجے اچانک دورہ کیاگیا جس دوران پندرہ میںسے نو ملازم ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے ۔انہوںنے ان ملازمین کے خلاف اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے چارج شیٹ کیاہے جبکہ ان کی تنخواہیں بھی روک دی گئی ہیں ۔ غیر حاضر پائے گئے ملازمین میں میڈیکل افسر ڈاکٹر عامر سی ایچ او چنچل کماری ، فرماسسٹ محمد شریف ، ایف ایم پی ایچ ڈبلیو دندنا کماری ، بی ایچ ڈبلیو محمد حفیظ و نرسنگ اردلی محمد اعظم ، محمد امین اور محمد زمان شامل ہیں ۔بلاک میڈیکل افسر نے محکمہ کے ملازمین پر زور دیاکہ وہ ڈیوٹی کے پابند رہیں اور اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں تاکہ لوگوں کو بہتر سے بہتر طبی خدمات میسر ہوسکیں۔
ہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ افسران
راجوری میں 11میںسے 5اسامیاں خالی
طارق شال
تھنہ منڈی //ریاستی حکومت نے محکمہ ہارٹی کلچر کو اس قدر عدم توجہی کاشکار بنادیاہے کہ راجوری میں تعینات ڈسٹرکٹ ہارٹی کلچر آفیسر کو تین عہدوں پر کام کرناپڑرہاہے اورافسران کی 5اسامیاں خالی پڑی ہیں ۔ذرائع کے مطابق ضلع راجوری کے 11ہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ افسران میںسے چھ تعینات ہیں اور 5 اسامیا ں خالی پڑی ہیں۔لگ بھگ ڈیڑھ برس قبل سرکارکی طرف سے تین درجن سے زائد ہارٹی کلچر افسران کو صوبہ جموں سے تبدیل کر کے کشمیرتعینات کیا گیا تھا جن میں راجوری ضلع سے تعلق رکھنے والے HDO ارشد جمیل تھنہ منڈی،شفقت خان منجا کوٹ اور ارون کمار سندر بنی بھی شامل تھے ۔ذرائع کے مطابق اس وقت تھنہ منڈی، منجا کوٹ، درہال، بدھل اور تریاٹھ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ مخلوط سرکار راجوری کو نظرانداز کررہی ہے اور جب افسران ہی تعینات نہیں تو پھر شعبے کے فروغ کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔ڈسٹرکٹ ہارٹی کلچرافسرراجوری محمد اقبال ملک کاکہناہے کہ چیف ہارٹی کلچرافسر کے تبادلہ کے بعد یہ اسامی خالی یت جسکا چارج انہی کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع راجوری میںہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ افسران کی پانچ اسامیاں خالی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تھنہ منڈی میں خالی اسامی کو دیکھتے ہوئے ایک مقامی ملازم ٹیکنیشن کو زبانی دیکھ ریکھ کے لئے کہا گیاہے جبکہ چارج دینے کیلئے گزیٹیڈ افسر چاہئے ۔انہوںنے امید ظاہر کی کہ مارچ کے بعد اسامیاں پُر کرلی جائیںگی ۔
بالاکوٹ اور منکوٹ میںدہشت برقرار
جاوید اقبال
مینڈھر//سرحدی علاقہ بالا کوٹ اور منکوٹ میں اگرچہ دو دن سے ماحول پر امن رہا اور راجوری پونچھ میں کسی بھی سیکٹر میں فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ نہیں ہوا لیکن لوگوں میں دہشت بدستور برقرار ہے ۔ اس سلسلہ میں سوموار کے روز سرحدی علاقہ بالاکوٹ سے کئی وفود نے پونچھ جا کر ریاستی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے حالات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ بات چیت کر کے بند کروایا جائے ۔ان کاکہناتھاکہ ان کا بے تحاشہ نقصان ہورہاہے اورکئی قیمتی جانیں بھی چلی گئیں ۔ گزشتہ دو دنوں سے سرحدیں اگرچہ خاموش ہیں لیکن دہشت سے لوگ گھروں سے باہر نکلتے وقت پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں کیونکہ سنیچروار کی درمیانی شب کو بالاکوٹ سیکٹر میں اتنی زوردارفائرنگ اور گولہ باری کی گئی کہ لوگ ساری رات جاگتے رہے جبکہ اتوار اور سوموار کو بھی لوگ گھروں محصور رہے۔لوگوں کاکہناہے کہ بچوں کو امتحانات دینے ہیں لیکن نہ ہی وہ پڑھائی کرپارہے ہیں اور نہ ہی ان کا سکول جانا محفوظ ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک بھی فائر ہو جانے کے بعد لوگ رات کو نیند سے جاگ جاتے ہیں اور نہ ہی لوگوںکو دن میں چین ہے اور نہ ہی رات کو ۔ ان کاکہناہے کہ گزشتہ دنوں لگاتا ر فائرگ سے شدید خوف پایا جا رہا ہے۔
سرحدی کشیدگی ختم کی جائے : شبیرخان
طلباء کی پڑھائی متاثرہونا فکر مندی کا باعث
پرویز خان
منجاکوٹ //کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق ریاستی وزیر شبیر احمد خان نے سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ روزروز کی فائرنگ اور گولہ باری سے بچوں کی پڑھائی بری طرح سے متاثر ہورہی ہے لیکن حکومت کو ٹس سے مس نہیں ۔ شبیر خان نے منجاکوٹ کے سرحدی علاقوں کادورہ کرکے لوگوں کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔اس دوران انہوںنے کہاکہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہورہی ہے جس سے ان کے مستقبل پر اثر پڑے گا۔ ان کاکہناتھاکہ اس کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن حکومت کو کوئی پرواہ ہی نہیں ۔ ان کاکہناتھاکہ یہاں لوگوں کو بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں اور ایک طرف وہ گولہ باری کا سامنا کررہے ہیں تو دوسری طرف سہولیات نہ ہونے پر پریشان ہیں ۔ انہوںنے مقامی لوگوں کو یقین دلایاکہ وہ مسائل کے حل کیلئے انتظامیہ سے بات کریںگے ۔شبیر کو مقامی لوگوںنے بتایاکہ سرحدی کشیدگی نے ان کا جینا حرام کردیاہے ۔ انہوںنے کہاکہ قیمتی جانیں تلف ہورہی ہیں اور لوگ اجڑرہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اگر کوئی زخمی ہوجائے تو اسے وقت پر ایمبولینس بھی نہیں ملتی لہٰذا ان علاقوں کیلئے ایمبولینس خدمات میسر رکھی جائیں اور دیگر مسائل بھی حل کئے جائیں ۔اس موقعہ پر فاروق خان،،محمد لطیف و دیگران بھی تھے ۔
ملٹی لنگول سوسائٹی کی ماہانہ نشست
اردو کونسل کے قیام کی سراہنا
حسین محتشم
پونچھ//پونچھ کی ادبی تنظیم ملٹی لنگول سوسائٹی کی ماہانہ نشست زیر صدارت حافظ شہزاد انوری علامہ انور شاہ کشمیری اکیڈمی کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی ۔اس موقعہ تلاوت کلام پاک کے بعد نعت رسول مقبول ؐ محتشم احتشام نے پڑھی اورپھر ڈگری کالج پونچھ کے طالب علم ضیاء صدام حسین نے افسانہ پڑھا۔ دیگر شعرائے کرام نے اپنا اپنا کلام پیش کیا ۔اس دوران شعرا ئے کرام کے اشعار پر جہاں داد تحسین پیش کی گئی وہی اساتذہ نے اشعار کی اصلاح بھی کی۔نشست کے دوران جن شعرائے کرام نے اپنے کلام پیش کئے ان میںپروفیسر اعظم مغل، احتشام حسین محتشم ، پروفیسر امجد علی بابر، پروفیسر مجاہد مغل، ڈاکٹر عزیز چوہان، صدیقی احمد صدیقی قابل ذکر ہیں۔اپنے خطاب میں حافظ شہزاد انوری نے تمام شعرائے کرام کی جانب سے پیش کئے گئے اشعار کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ شعرو ادب کسی بھی معاشرے کی پہچان ہوا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پونچھ کی دھرتی نہایت ی زرخیز ہے جس نے ہمیشہ زمانے کو اچھے ادیب دیئے۔انہوں نے تمام شرکاء اور شعرا کا شکریہ ادکیا۔اس دوران ریاست میں اردو کونسل کے قیام کی سراہنا کی گئی ۔ تنظیم کے ارکان نے کہاکہ اس بات پر خوشی ہے کہ ریاست کی سرکاری زبان کو فروغ دینے کے لئے یہاں باالآخر اردو کونسل کے قیام کا باضابطہ حکم جاری کیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں وزیر تعلیم الطاف بخاری کی سربراہی میں 39ارکان پر مشتمل کونسل کے قیام کا حکم اعلیٰ تعلیم کے محکمہ کے پرنسپل سکریٹری اصغر سامون کی طرف سے جاری ہوتے ہی پوری ریاست میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میںاردو فقط نام کیلئے ریاست کی سرکاری زبان ہے اور محکمہ مال اور پولس تھانوں میں روزنامچہ نویسی کے علاوہ اسکا کہیں استعمال نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ریاست کی سرکاری زبان کو جو یہاں کے تمام خطوں میں بولی جاتی ہے بلکہ جو برصغیر ہند کے ثقافتی ورثہ کا ایک وسیع خزانہ ہے ،کو انصاف دیئے جانے کی یہ کوشش قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو داں طبقہ ایک عرصہ سے ریاست میں اردو کونسل کے قیام کا مطالبہ کرتا آرہا تھا جوبا الآخر پورا کیاگیا ۔انہوںنے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ کا بھی شکریہ اد اکیا ۔انہوں نے اردو کونسل میں شامل 39ممبران کو مبارک باد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اردو زبان کو اس کا حق دلانے میں کونسل کے تمام ممبران اہم رول ادا کریں گے۔
ٹھیکیدار ایسو سی ایشن کا احتجاج
تعمیرات عامہ کے دفاتر کو تالے لگادیئے
منیر خان
راجوری //کنٹریکٹر ایسوسی ایشن راجوری نے احتجاج کرتے ہوئے محکمہ تعمیرات عامہ اور محکمہ فلڈ کنٹرول کے دفاتر پر تالے لگادئیے ۔ان کا مطالبہ تھا کہ ان کے بقایاجات ادا کرنے کے بعد ای پے منٹ نظام شروع کیاجائے ۔ انہوںنے اس دوران ایگزیکٹوانجینئر محکمہ تعمیرات عامہ اور ایگزیکٹوانجینئر فلڈکنٹرول کے دفاتر پر تالے لگادیئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ ٹھیکیداروں نے کہا کہ نئے قانون کا وضع کیاجانا خوش آئند بات ہے لیکن اس سے قبل ان کے واجبات ادا کئے جائیں ۔انہوںنے کہاکہ نہیں تو ان کے ساتھ یہ زیادتی ہوگی ۔