مزید خبرں

پردھان منتری آواس یوجناکیمپ شیرگڑھی میں رکھنے کا مطالبہ

زاہد ملک

مہور//سب ڈویژن مہور کی تحصیل چسانہ کے شیرگڑھی کے لوگوں کا کہنا ہے381 کنبے شیر گڑھی پنچایت میں رہتے ہیں اور بی ڈی او نے پردھان منتری آواس یوجناکا کیمپ چسانہ ہیڈکوٹر پر رکھا ہے جہاں پر سب لوگوں کا پہنچنا ممکن نہیں ہے۔لوگوں کا کہنا ہے اگر گاؤں میں پنچایت گھر بنا ہے تو پھر لوگوں کو کئی کلومیٹر کی دوری پر کیوںبلا یایا جارہا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے اس علاقہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو پردھان منتری آواس یوجناکا حق رکھتے ہیں لیکن فہرست میں ان کا نام ہی موجود نہیں ہے۔فہرست میں پکے گھر وں میں رہنے والوں کے نام موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی ڈی او موقعہ پر آئیں اور سچائی دیکھیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کچھ سیاسی لوگوں کی چال ہے کہ غریب لوگ چسانہ میں نہیں پہنچ پائیں اور وہ اپنی مرضی سے لوگوں کے نام بیچ دیں گے۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مانگ کی ہے یہ کیمپ شیرگڑھی میں لگایا جائے۔
 
 
 

 وادی چناب میں نام نہاد جانکاری کیمپوں کا انعقاد شباب پر

 عام لوگ سرکاری سکیموں اور پروگراموں سے نا واقف

محمد تسکین  
بانہال// مالی سال کا آخری مہینہ جہاں اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے وہیں مختلف سرکاری محکمے سال بھر لوگوں کے پاس جانے اور اْنکے کام انے کے بجائے مارچ کے آخری دنوں میں نام نہاد جانکاری کیمپوں اور کسان میلوں کے انعقاد کے ساتھ وادی چناب کے دیگر علاقوں کی طرح ضلع رام بن میں بھی سرگرم ہیں جو ان کیلئے سرکاری رقومات کی بندر بانٹ کیلئے ایک آسان اور فائدہ مند طریقہ ثابت ہوتا ہے۔ مارچ فائنل کرنے کے ان ایام میں وزراء سے لیکر ضلع اور تحصیل افسران تک سبھی ان کیمپوں میں شرکت کو یقینی بناتے ہیں اور گنے چنے لوگوں اور شخصیات کو ان کیمپوں میں بلاکر ان محکموں کی تقریبا تمام سرگرمیاں دوسرے سال مارچ تک کیلئے ٹھنڈے بستے ہیں چلی جاتی ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مالی سال کے اختتامی مہینے مارچ سے کئی ماہ پہلے ہی مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین کو مختلف ہوٹلوں ، کرایہ کے  کمروں اور دفتروں میں فراڈ کاغذی لوازمات تیار کرتے دیکھا جا سکتا ہے ۔ مارچ کا مہینہ شروع ہوتے ہی محکمہ ایگریکلچر ، محکمہ ہارٹیکلچر ، دیہی ترقیات ، لیبر ڈیپارٹمنٹ، دسٹرکٹ انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ یا ڈائٹ ، سروا شکھشا ابھیان وغیرہ ان عوامی جانکاری کیمپوں کے ساتھ سرگرم ہیں اور اب تک وادی چناب کے شہر وگام میں ان بے نفع جانکاری کیمپوں کا انعقاد جاری ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سال بھر غائب رہنے والے مختلف محکموں کے ملازمین مارچ کے آخری ایام میں لوگوں کو اْن سکیموں اور سرکاری پروگراموں کے سبز باغ دکھاتے ہیں ، جن کا انہیں اس سے پہلے کبھی علم نہیں ہوتا ہے اور ناہی اس میں عام اور مستحق لوگوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے ان محکموں کے ملازمین کوئی دلچسپی دکھاتے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگ ، زمیندار اور باغ مالکان ان سکیموں اور پروگراموں سے محروم رہ جاتے ہیں اور وہ اپنے باپ دادا کے روایتی طرز پر اپنی زمینداری اور کاشت کاری جاری رکھے ہوئے ہیں اور جدید زرعی طریقوں سے یہ غریب زمیندار ابھی بھی نا آشانا اور محروم ہیں۔ کھڑی کے آڑپنچلہ سے تعلق رکھنے والے غلام محمد نائیک کا کہنا ہے کہ وہ ایک زمیندار اور مالدار شخص ہے اور اسی پر اس کی گھر گرہستی چلتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ ایگریکلچر اور محکمہ ہارٹیکلچر کا کوئی بھی ملازم سال بھر کھڑی تحصیل میں نظر نہیں آتا ہے اور تو اور وہ گاڑی میں بیٹھ کر کھڑی قصبے کا بھی رخ نہیں کرتے ہیں جبکہ دور دراز کے زمینداروں کے پاس پہنچنا اور انہیں سرکاری سکیموں اور کاشت کاری کیلئے جدید تقاضوں سے جانکاری فراہم کرنا تو دور کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کے ملازمین سال بھر کوئی مدد ، جانکاری اور رہبری کرنے کے بجائے مارچ کے مہینے میں ہی زمینداروں کے پاس نموادار ہوتے ہیں اور تحصیل اور ضلع سطح پر قائم ہونے والے جانکاری کمیپوں میں شمولیت کیلئے کچھ گاوں اور علاقوں سے ایک دو گنے چنے کھڑپنچوں اور پنچوں سرپنچوں کو بلایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش زمینداروں کو جانکاری اور نمائشی کمیپوں اور نام نہاد کسان میلو ں میں بلاکر  دو دو۔ تین تین سو روپئے انعام کے طور ہاتھ میں تھما دیتے ہیں جس سے یہ زمینداروں اور کھڑ پنچ سال بھر کیلئے چپ ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سال کی طرح پچھلے سال بھی مارچ کے مہینے میں وزیر زراعت غلام نبی لون ہانجورہ رام بن تشریف لائے تھے اور کسان میلہ میں زمینداروں سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی وزیر موصوف نے زراعت کے شعبے کیلئے جدید ٹیکنالوجی ، مشینوں ، ہل ، پانی کے پمپوں اور دیگر سرکاری سکیموں کی باتیں کیں لیکن انہوں نے پورے سال کے دوران محکمہ ایگریکلچر ضلع رام بن کے ان ملازمین کی جوابدہی اور ذمہ داری کا کوئی سوال نہیں اٹھایا، جو سرکاری ملازمین اپنے فرض سے مسلسل کوتاہی برت رہے ہیں اور کبھی بھی اپنا فرض ادا ہی نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی مٹی کی جانچ کیلئے جدید لیباٹری لگانے کا عزم دھرایا گیا اور جانکاری کیمپ اپنے اختتام کو پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب محض باتیں اور دعوے ثابت ہو رہے ہیں اورعوام کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سکیموں کی تشہیر اور نشر  واشاعت کیلئے سالانہ کروڑوں روپئے کی رقومات پھونک دی جاتی ہیں لیکن زمینی سطح پر ملازمین کی ناقص کارکردگی اور کوئی چیک نہ ہونے کی وجہ سے ان سرکاری سکیموں اور پروگراموں کا عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ پارہا ہے۔ یوں تو محکمہ ایگریکلچر ضلع رام بن نے زرعی شعبے کو فعال اور متحرک بنانے کیلئے ضلع رام بن میں ایک درجن ایگریکلچر زون قائم کر رکھے ہیں جن میں بانہال ، کسکوٹ ، ڈولیگام ، چملواس ، کھڑی ، النباس ، پوگل، پرستان ، رام بن ، چندرکوٹ ،راجگڑھ ، ہالہ، دھندراٹھ، بٹوٹ ، گول ، سنگلدان وغیرہ کے علاقے شامل ہیں۔ ضلع رام بن  میں ایگریکلچر زون آلنباس کو چھوڑ کر باقی تمام علاقوں میں ایگریکلچر ایکسٹینشن آفیسر تعینات ہیں جبکہ ان کے ماتحت ہر زون میں جونیئر ایگلریکلچر ایکسٹنشن آفیسر اور دیگر ملازمین بھی تعینات ہیں لیکن پچاس ہزار سے اسی ہزار روپئے کی ماہانہ تنخواہ خزانہ عامرہ سے واگذار کرنے والے اِن ملازمین کو عام زمیندار اور لوگ جانتے تک نہیں ہیں جن کیلئے انہیں یہ خطیر رقم بطور تنخواہ دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بات کرنے پر چیف ایگریکلچر آفیسر رام بن کے۔ کے گپتا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان کی کچھ دن پہلے ہی رام بن ضلع میں تعیناتی ہوئی ہے اور وہ زمینی سطح پر کئے جانے والے کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سرکاری تنخواہ وصولنے والے محکمہ ایگریکلچر کے تمام ملازمین کا احتساب کرینگے اور انہیں عوام کے سامنے جوابدہ بنائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ ملازمین کی بگڑی عادتوں کو درست  کرنے کیلئے انہیں مزید دو مہینے کا وقت لگے گا اور وہ محکمہ وہ راہ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دفتر سے باہر نکل کر زمینی سطح پر اپنا فرض انجام دینے کو ترجیحی دیتے ہیں اور اسی سلسلے میں وہ پچھلے دو ورز سے بٹوٹ زون میں محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے پہنچے ہیں اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رکھا جائے گا۔دریں اثنا منگل کی شام موصولہ اطلاعات کے مطابق چیف ایگریکلچر افیسر رام بن کے کے گپتا نے محکمہ ایگریکلچر ضلع رام بن کے ماتحت افسروں جن ڈسٹرکت ایگریکلچر آفیسر ، سب ڈویژنل ایگریکلچر آفیسروں اور اسسٹنٹ سائیل کنزرویشن آفیسر اور ایپیکلچر ڈیولپمنٹ آفیسر، انچارج ایس ٹی ایل رام بن کو حکم دیا ہے کہ وہ ضلع رام بن میں محکمہ ایگریکلچر کی طرف سے چلائی جارہی مختلف سرکاری سکیمیں کی فزیکل اینڈ فائنانشنل پراگرس رپورٹ، سی ڈی ایف پراگرسس رپورٹ ، کے سی سی پراگرس رپورٹ ، سائیل ہیلتھ کارڈ رپورٹ ، مشروم پیداوار ، چیف منسٹر پروجیکٹ برائے ایپیکلچر رپورٹ ، کیپیکس سکیم کی عمل اوری ، مختلف سرکاری سکیموں کا فائدہ لینے اور آمدنی پانے والے افراد کی فہرست اور محکمہ میں ملازمین کے دورانیہ اور تعداد کے بارے میں اپنی رپورٹ اس ماہ کے آخر تک ان کے دفتر میں پیش کریں۔  
 
 

ہانجور ہ کا سہ روزہ دورۂ خطہ چناب مکمل

 محکمہ کی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت پر زور 

 ڈوڈہ//زراعت کے وزیر غلام نبی لون ہانجورہ نے رام بن ڈوڈہ اور کشتواڑ کا دورہ کر کے محکمہ زراعت ، سریکلچر اور سی اے ڈی کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ۔اس دوران انہوں نے مختلف محکموں کی طرف سے ہاتھ میںلئے گئے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔انہوںنے افسروں پر زور دیا کہ وہ مرکزی اور ریاستی معاونت والی سکیموں کی عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے کوششیں تیز کریں۔دورے کے آخری دن انہوں نے ڈوڈہ میں ایک کسان میلے کا افتتاح کیا۔ ایم ایل اے ڈوڈہ شکتی راج پریہار ، ڈی سی ڈوڈہ اور کئی دیگر افسران بھی ا س موقعہ پر موجود تھے۔کسان میلے کے دوران مختلف محکموں نے اپنے اپنے سٹال لگائے تھے جن میں سکیموں کی عکاسی کی گئی تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ کاشتکاری کے جدید طور طریقے عام کسانوں تک پہنچانے کے لئے مزید بیداری پروگراموں کا انعقاد کیا جانا چاہے ۔بھدرواہ میں کئی عوامی وفود وزیر سے ملاقی ہوئے اور اپنے اپنے مسائل ان کی نوٹس میں لائے ۔وزیر نے یہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ہانجورہ نے کشتواڑ میں محکمہ زراعت کے افسروں کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی اور محکمہ کے کام کاج کا جائزہ لیا۔
 
 

رام بن پبلک ٹرانسپورٹ میں بے ضابطگیاں عروج پر 

متعدد کے پاس دستاویزات کا فقدان، ائور لوڈنگ روز کا معمول

 ایم ایم پرویز
رام بن//ضلع میں چل رہے مختلف روٹوں پرٹاٹا سومو، ٹیکسیاں اور آٹو رکھشا بغیر جائز دستاویزات کے ہیں اور بعض کے پاس جائز ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ہے۔مسافروں نے شکایت کی ہے کہ ضلع کے مختلف علاقوں جیسے کہ راجگڑھ، چندر کوٹ، گبڈھاری، سمبر۔ اُکھڑال، گول، رام بن، ٹھٹرکا،کھاری علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی جانب سے ٹریفک قوانین کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیںکیونکہ میٹا ڈاروں و دیگر وہیکلز میں مقررہ اجازت سے دوگنا سواریاں ہوتی ہیں۔سرکاری ملازمین، طلاب کی شکایت ہے کہ ضلع میں چل رہے میجک آٹو، ٹاٹا سومو اور تویرا وہیکلز بغیر جائز دستاویزات کے ہیں،انکی یہ بھی شکایت ہے کہ بہت سے ڈرائیوروں کے پاس جائز لائسنس بھی نہیں ہیں۔ان کی یہ بھی شکایت ہے کہ ایسی گاڑیوں میں سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے اور سڑک حادثات کا خدشہ رہتا ہے۔انکی شکایت ہے کہ آپریٹروں اور موٹر وہیکل ڈیپارٹمنٹ کے درمیان ساز و باز ہے جسکی وجہ سے ڈرائیور بغیرکسی خوف کے گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ان مسافروں کی یہ بھی شکایت ہے کہ ٹرانسپورٹ افسر اپنے دفتر سے باہر آکر گاڑیوں کی چیکنگ کرنے کی زحمت نہیں اُٹھاتے ہیںکیونکہ دلال اسے ذاتی مفاد کے لئے گمراہ کر رہے ہیں۔لوگوں نے ٹرانسپورٹ کمشنر سے اس معاملہ کی ترجیحی بنیادوں پر نوٹس لینے کی اپیل کی ہے،تاکہ پبلک ٹرانسپورٹ کو دوبارہ پٹری پر لایا جا سکے۔
 
 
 

 ریاسی میںمنشیات ضبط ،2گرفتار

 زاہد ملک
ریاسی//ریاسی کالا موڑ کے مقام پر پولیس کی ناکہ پارٹی نے کٹرہ سے ریاسی آر ہی ایک گاڑی زیر رجسٹریشن نمبرJK02 BQ 9199 کو روکنے کے لئے اشارہ کیا لیکن گاڑی نے ناکہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی ۔پولیس نے گاڑی کا تعاقب کرکے اس میں سوار دونوں افراد کو حراست میں لیا۔ دوران تحقیقات انن افراد نے اپنا نام ارون شرما ولد پرشوتم شرما ساکنہ وارڈ نمبر 3 ،ریاسی اور محمد عارف ولد حسن دین ساکنہ بگا،مہور حال وارڈ نمبر7 ،ریاسی کے بطور کی گئی ہے۔پولیس نے انکی جامہ تلاشی کے دوران ہیروئن جیسی سفید شئے برآمد کی ،جسے سلور فوئل میں لپیٹ کر رکھا گیا تھا ۔پولیس اسٹیشن ریاسی میں اس سلسلہ میں ایک معاملہ درج کرکے مزید کاروائی شروع کر دی ہے
 
 
 

ڈوڈہ کے بزرگ سماجی کارکن رحمت حق

محمد اسحٰق عارف

ڈوڈہ//ڈوڈہ سے تعلق رکھنے والے عبدالکریم شیخ منگل وار صبح مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے اُن کی عمر 90برس تھی مرحوم کا نماز جنازہ بعد نماز ظہر پرھا گیا جس کے بعد اُن کو آبائی قبر آستان میں دفن کردیا گیا مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ ایک دُختر و دو پسران عبدالحمید شیخ اور مشتاق علی شیخ شامل ہیں ۔سماج کے مختلف طبقوں نے مرحوم کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار اور مرحوم کے لئے دُعائے مغفرت کی ہے اور لوگوں کے علاوہ ڈاکٹر محمد ظفراللہ ، محمد ایوب دیو، غلام حسن پانپوری، پی ڈی پی رہنما مرزا مظفر حُسین بیگ، صدر ضلع شہاب الحق بٹ، عبدالمنان بانڈے، ارشاد احمد مسگر شاد، اشتیاق احمد دیو ، منظور احمد بٹ، فیضان علی ترمبو اور ایڈوکیٹ حسان بابرنہرو نے مرحوم کی سماجی خدمات کے لئے اور قربانی کے لئے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ 
 
 
 

خانپورہ حادثے پر سروڑی کا اظہار رنج

کشتواڑ//جموں وکشمیرپردیش کانگریس کمیٹی کے نایب صدر ورکن اسمبلی اندروال غلام محمد سروڑی نے ڈوڈہ ضلع کے خانپورہ ٹھاٹھرہ علاقے
 میںپیش آئے سڑک حادثے میں قیمتی جانوں کے زیاں پرگہرے رنج والم کااِظہارکیاہے۔ سروڑی نے ریاستی سرکارسے مانگ کی ہے کہ وہ لواحقین کے حق میں ایکس گریشیاریلیف واگزار کرے اور زخمیوں کوبہترعلاج ومعالجہ فراہم کرے۔اُنہوں نے مہلوکین کی روح کی تسکین کیلئے اورغمزدگان کوصبرِ جمیل کیلئے دعاکی نیز زخمیوں کوبہترطبی سہولیات بہم پہنچانے اور جلدجلدان کی صحت یابی پرزودیتے ہوئے حکومت سے مانگ کی کہ وہ لواحقین کے حق میں فوری طورپرایکس گریشیاریلیف واگذار کرے۔ بلاک کانگریس کمیٹی ٹھاٹھری اصغرحسین کھانگی، محمد اقبال تیلی، عبدالرزاق، مشتاق احمد،وسیم احمد،نور محمد، غلام حسین بٹ، نیک عالم،منصور احمد بٹ، غلام حسین بٹ، محمد مقبول بٹ، غلام حیدرماگرے، عابد بٹ، اوم پرکاش بھگت، محمد رفیع، عابدحسین، رشید مغل، چوہدری عبدالکریم، بلال احمد شیخ ،نذیر احمد ، پرویز احمد، الطاف احمد بٹ، چمن لال، بلال احمد، محمد اشرف شیخ، رفیق تیلی، محمد رفیع ، حسین بٹ، محمد امین زرگر، افتخار احمد ، چن سنگھ نے بھی سڑک حادثے پر گہرے رنج و غم کااظہار کیا ہے ۔