۔35اے اور دفعہ 370 کامعاملہ
فریڈم موومنٹ کی 5اور 6اگست کو ہڑتال کرنے کی اپیل
جموں// جموں کشمیرفریڈم موومنٹ کی مجلس شوریٰ کا ایک خصوصی اجلاس زیر صدارت جموں کشمیرفریڈم موومنٹ چیرمین محمدشریف سرتاج منعقد ہوا۔اجلاس میںممبران مجلس شوریٰ کے اراکین نے ہندستان کی سپریم کورٹ میں ریاست جموں کشمیر کے پُشتنی باشندوں کی اسٹیٹ سبجیکٹ حیثیت کو کالعدم قرار دئے جانے کے لئے آئین ہند میں درج دفعہ 35-Aکو منسوخ کرنے کی تیاریوں سے پیدا شدہ خطر ناک صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محسوس کیا گیا کہ مودی کی فرقہ پرست سرکار یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کے لئے آئینی رُکاوٹوں کو دُور کرنے کی اسرائیلی پالیسی پر گامزن ہے۔ ممبران مجلس شوریٰ نے مودی سرکار کی طرف سے ریاست جموں کشمیر پر اپنی تہذیبی، سیاسی اور معاشی جارحیت کو عملانے کے خلاف اپنا زور دار صدائے احتجاج بلند کرنے کے لئے مورخہ 5اور 6؍اگست کو مکمل ہڑتال حمایت کا فیصلہ کیا گیاہے۔ممبران مجلس شوریٰ نے اپنی مظلوم قوم کے ہر طبقے سے وابستہ ذی عزت شہریوں اور انجمنوں کو مودی سرکار کی اس عوام دشمن پالیسی کے ذریعے یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کے ساتھ چھیڑ خوانی کے خلاف اپنے اپنے دائروں میں رہتے ہوئے مزاحمتی قیادت کے پُرامن احتجاجی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی دردمندانہ اپیل کی ہے۔ممبران مجلس شوریٰ کے اراکین نے عام لوگوں سے مودبانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 35-Aاور دفعہ 370کو منسوخ کئے جانے سے یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا آر ایس ایس کا خواب پورا تو نہیں ہوسکتا ہے۔مگر اس دفعہ کے ختم ہونے سے وہ لاکھوں مظلوم مسلمان جو ہندوستان کی مختلف ریاستوں میںموجودہ سرکار کی سرپرستی میں آر ایس ایس اوراُس کی ذیلی تنظیموںکی طرف سے ستایا جارہا ہے۔وہ پہلے ہی سے یہاں آنے کے لئے تیارہیں ۔ان کو یہاں آنے کا موقع ملے گا۔اور اس کا زیادہ اثر جموں خطے میں پڑے گا کیونکہ ایک تو موسم اور پھر زبان کی وجہ سے ہندستان بھر سے آنے والے مظلوم مسلمانوں کا یہاںسیلاب آجائے گا ۔ یہ مسئلہ سب ہی ریاستی باشندگان کے سیاسی، تہذیبی اور معاشی طور موت وحیات سے جُڑا ہوا ایک حساس مسئلہ ہے۔ جس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ فریڈم موومنٹ کی مجلس شوریٰ نے مودی سرکار کو وارننگ دی ہے کہ اگر سپریم کوٹ نے دفعہ 35-Aکی منسوخی کے حوالے سے کوئی بھی کوشش کی تو اس صورت میں پوری قوم ایک زوردار عوامی تحریک شروع کرنے کیلئے ہی مکمل تیار ہیں۔ اس عوامی تحریک میں ریاست کے ہرخطے سے عوام کی شرک کودنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ہے۔
دفعہ 35اے سے متعلق لیگل ایڈکمیٹی کااجلاس
جموں//آرٹیکل 35اے کے اثرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے لیگل ایڈ کمیٹی کی یہاں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں 1954میں صدر جمہوریہ کے ذریعہ لگائی گئی آرٹیکل 35 (A) کے مضر اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ قانونی ماہرین نے محسوس کیا کہ صدر جمہوریہ نے ہندستانی آئین میں آرٹیکل 35 کے ساتھ A شامل کرکے جموں وکشمیر کے لوگوں کے بنیادی حقوق پر حملہ کیا ہے۔ میٹنگ میں یہ بھی محسوس کیا گیا کہ اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں نے آرٹیکل 35(A)کے تعلق سے جموں وکشمیر کے لوگوں کو گمراہ کیا ہے جس سے وہ بغیرکسی قانون کے جموں وکشمیر کے لوگوں پر حکمرانی کرسکیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے وکلاکو بتایا کہ جموں وکشمیر کے ہزاروں لوگوں کو بغیر کسی قانون کے جیلوں میں ڈال دیا گیا جن میں شیخ عبداللہ اور ان کے ساتھی بھی شامل ہیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ میں نے خود بغیر کسی قصور کے تقریباًً آٹھ برس جیلوں میں کاٹے ہیں اور یہ سب آرٹیکل 35(A)کی وجہ سے ہے جسے صدر جمہوریہ نے بغیر کسی قانونی اختیار کے نافذ کیا تھا جس کی وجہ سے جموں وکشمیر کے لوگ 1954سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔انہوں نے مرکزی اور ریاستی قیادت پر آرٹیکل 35(A)کے مضر اثرات کے تعلق سے جموں وکشمیر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے آج بھی جموں وکشمیر میں اقتدار کے بھوکے سیاستداں اور ان کے حامی جموں وکشمیر کے لوگوں کو آرٹیکل 35(A)کے تعلق سے گمراہ کررہے ہیں جس نے جموں وکشمیر کے لوگوگوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم کردیا جن کی ضمانت ہندستانی آئین میں ہندستان کے تمام شہریوں کو دی گئی ہے۔پروفیسر بیم سنگھ نے کہا کہ آرٹیکل 35(A)کے خطرناک چہرے کو جموں وکشمیر کے لوگوں کے سامنے لائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں ہندستانی آئین میں دیئے گئے بنیادی حقو ق حاصل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 35میں Aجموں وکشمیر کے لوگوں کے مفادات ، شہری حقوق اور سیاسی حقوق کے خلاف ہے جو وگ اس کا دفاع کررہے ہیں اصل میں وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے خلاف ہیں۔
بجرنگ دل کارکنان کا روہنگیاؤں کے خلاف جموں میں احتجاج
یو این آئی
جموں//روہنگیا مسلمانوں کو جموں وکشمیر ریاست اور ملک سے باہر نکالنے کے لئے جموں میں مہم زوروں پر جاری ہے۔ جمعرات کے روز بجرنگ دل کے کارکنان نے مرکزی اور ریاستی سرکار کے خلاف زور دار احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرین نے ’روہنگیا کو بھگانا ہے، دیش کو بچانا ہے‘،مرکزی سرکار ہوش میں آؤ ، ہوش میں آؤ کے نعرے بلند کئے۔مظاہرین نے کہاکہ مرکزی سرکار نے عدالت عظمیٰ میں یہ بیان حلفی دائر کی تھی جس میں اعتراف کیاتھاکہ روہنگیا ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرہ ہیں، متعدد سیکورٹی ایجنسیاں بھی اس بات کو مانتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ابھی تک ان روہنگیا ؤں کو باہر نہیں نکالاجارہا۔بجرنگ دل کارکنان کا کہنا تھاکہ این سی آر جوآسام ریاست میں لاگو کیاگیاہے، اس کو پورے ملک کے اندر نافذ کیاجاناچاہئے تاکہ غیر قانونی طور یہاں رہ رہے غیر ملکیوں کو ملک بدر کیاجاسکے۔
سالانہ امرناتھ یاترا کا36واں دن
جموں سے671یاتری وادی روانہ
یو ا ین آئی
جموں// سالانہ امرناتھ یاتر ا2018میں اب تک 2لاکھ 65ہزار937عقیدتمند پوتر گپھا کے درشن کر چکے ہیں۔ جمعرات کے روز جموں سے 603یاتریوں پر مشتمل قافلہ بیس کیمپ یاتری نواس سے سے وادی کشمیر کے لئے روانہ ہوا۔ پولیس حکام نے یو این آئی کو بتایاکہ 603یاتریوں کا قافلہ 16چھوٹی وبڑی گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ان یاتریوں کا اگلہ پڑھاؤ بال تل اور پہلگام ہوگا ۔ اس دوران بال تل اور پہلگام کے راستے یاتری گپھا کے درشن کے لئے روانہ ہوئے۔28جون کو شروع یاترا 26اگست کو شرون پورنیما فیسٹیول کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوگی۔یو این آئی
شام لال شرمااورنرمل سنگھ گورنر سے ملاقی
سری نگر /سابق وزیر شام لال شرما نے آج راج بھون سرینگر میں گورنر این این ووہرا سے ملاقات کی۔شرما نے جموں خطے کے ترقیاتی معاملات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پنچایتوں اور میونسپلٹیوں کے انتخابات کے نتائج سے وابستہ لوگوں کے توقعات کے بارے میں بھی گورنر کو آگاہ کیا۔گورنر نے شرما پر زور دیا کہ وہ شہری و دیہی علاقوںمیں رہائش پذیر لوگوں کو ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لئے ترغیب دیں۔علاوہ ازیںجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر ڈاکٹر نرمل کمار سنگھ نے آج یہاں راج بھون سری نگر میں گورنر این این ووہر اکے ساتھ ملاقات کی۔ڈاکٹر سنگھ نے گورنرکے ساتھ اسمبلی سیکرٹریٹ کی کارکردگی سے متعلق کئی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اسمبلی کی کارکردگی میں جدیدیت لانے کے لئے آئی ٹی اپلیکیشن کو متعارف کرنے کی سفارش کی۔انہوں نے سری نگر اور جموںمیں ایم ایل ہوسٹلوں کی اَپ گریڈیشن اور ارکان قانون سازیہ کی بہبودی سے متعلق کئی معاملات سے گورنر کو آگاہ کیا۔
غیرریاستی باشندوں کو ملک بدرکرنے سے متعلق وزیرداخلہ کا بیان خوش آئند: پنونن کشمیر
وادی کشمیرمیںاقلیتی طبقہ کے مقدس مقامات کے تحفظ کیلئے شرائن بورڈ بل پاس کرنے کا مطالبہ کیا
جموں// پنونن کشمیر نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ کے اس بیان کی تائید کرتے ہوئے اطمینان کااظہار کیاہے جس میں انہوں نے ملک میں غیرقانونی طورپر رہ رہے روہنگیائی اور غیر ملکی باشندوں کو ملک سے مبذول کرنے کیلئے ا ٹھوس اقدامات کرنے کا یقین دلایا ہے۔پنونن کشمیرنے یہاں پرنامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کو واضح کردیاہے کہ ملک کے کئی ریاستوں جن میں خصوصا جموں وکشمیر بھی شامل ہے میں غیرقانونی طورپر رہ رہے روہنگیائی اور دیگر غیررملکی باشندوں سے ملک کی حفاظت اورعام شہریوں کیلئے خطرے کا لاحق پیدا ہوچکاہے۔نامہ نگاروں سے مخاطب ہوتے پنونن کشمیر کے لیڈران نے کہا ہے کہ ہم کبھی بھی ان سیاسی ذمہ داران لیڈران کو نہیں بھول سکتے جن کی بدولت آج پورا ملک پریشان ہے اورگزشتہ 15سالوں سے غیرریاستی باشندوں کے حق میں سیاست کر تے آئے ہیں ۔ تفصیل کے ساتھ جانکاری فراہم کرتے ہوئے پنونن کشمیر کے لیڈران نے کہاہے کہ غیرملکی باشندوں میں کئی بنگلہ دیشی بھی شامل ہیں جوکہ جموں ڈویژن میں بغیر کسی خوف یا روک ٹوک مسلسل سے اپنا کاروبار یا دھندہ چلا رہے ہیں اوروقت اب ایسا آیا ہوا ہے ان کی بدولت آج ریاست میں فرقہ وارانہ رنگت کے دورسے گذر رہا ہے۔ پنونن کشمیرنے مطالبہ کیاہے کہ ہمیں بھائی چارہ اورہم آہنگی کو برقرارکھنے کیلئے غیرریاستی باشندوں کی نشاندہی کرنے میںمل کرکام کرنا ہوگا تاکہ انہیں ملک سے فوری طورپر مبذول کیاجائے ۔ یہاں تک کہ دفعہ 35 اے اوردفعہ370پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوںنے صاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو دوہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے دونو ں دفعات کے باعث ریاستی عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیاگیا ہے اورریاستی عوام کے بھائی چارے میںخلفشار پیدا کیا گیا۔ پارٹی کے لیڈران نے کہا ہے کہ کشمیر ی پنڈتوںکو وادی کشمیر سے مفرورہونے پرمجبورکردیاہے جبکہ کشمیری پنڈت کشمیر اورکشمیریت کاحصہ اورشریک ہے انہوںنے مزید کہا ہے کہ دفعہ35کے باعث کشمیری پنڈت طبقہ بری طرح سے متاثرہوچکاہے جوکہ1954ء میںبغیرپارلیمانی امورکی دخل اندازی کو ریاست میں نافذ ہوچکاہے ۔لہذا دفعہ35 اے اوردفعہ370کو ہٹائے جانے کی پنونن کشمیرنے وکالت کی ہے۔ پریس کانفرنس میں ا پارٹی کے قومی ترجمان ویریندرنے بوتے ہوئے ریاستی گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ وادی کشمیرمیں اقلیتی طبقہ کشمیر ی پنڈتوںکے مقدس مقامات کی تقدس کی پامالی سے بچانے کیلئے ہرممکن اقدامات کرے اور کافی دیر سے زیرالتواء میںپڑے شرائن بل کو پاس کرنے میں طبقہ کے تئیں بھرپورتعاون کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہرممکن طبقہ کی مدد کرے۔
ہرش دیوکا ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے میں تاخیرپراظہارتشویش
جموں//جموںوکشمیرنیشنل پینتھرس پارٹی کے چیئرمین ہردیوسنگھ نے گورنر این این ووہرا سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے میں مزید وقت نہ لگائے ۔یہاں جاری پریس کے نام اپنے پیغام میں پارٹی کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ نے واضح کردیاہے کہ ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے میں تاخیرلگانا سراسرناانصافی اورقانون سے دھوکہ ہے۔ انہوںنے آئین کے قدروں کو پامالی سے بچانے کیلئے اسمبلی کو تحلیل کرنے میں تاخیر کی صورتحال اختیار پیداکرنے پر متعلقہ انتظامیہ سے ناراضگی کااظہار کیاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ گورنرراج نافذ ہونے کے باوجود بھی معطل شدہ ایم ایل اے اور عوامی نمائندگان کا غیرمعمولی طریقہ سے کام انجام دینے کا خدشہ بدستورجاری ہے اور 44دن تک قانون ساز اسمبلی بدستور معطل رکھنے کی کوئی جوازیت نہیں ہے، انہوں نے ریاستی اسمبلی کو فوری طور تحلیل نہ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس دوران انہوںنے مزید کہا ہے کہتمام سیاسی پارٹی اب تک سرکار بنانے میں پوری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں لہذا اب ایک ہی متبادل بچ گیا ہے کہ ریاستی اسمبلی کوتحلیل کیاجائے ۔ انہوں نے مزید کہاہے کہ سرکار یہ کمیشن نے بھی وقت وقت پر بھی ہدایت جاری کئے ہیں کہ اگرعوامی نمائندگان سرکار بنانے میں مقرر وقت تک ناکام ثابت ہوچکے ہیں تو اس صورت میں اسمبلی کو فوری طورپر تحلیل کیا جانا لازمی بن جاتا ہے۔ انہوںنے الزام لگایاہے کہ ریاستی عوام کو جمہوری اعتقاد پریقین ہے اور اس یقین کو برقراررکھنے کیلئے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا ہی واحد حل بچا ہوا ہے
جنرل لائن ٹیچرس فورم کاوفدڈائریکٹرایجوکیشن سے ملاقی
جموں//اپیکس باڈی جنرل لائن ٹیچرس فورم کے ریاستی صدر نیرج شرما کی قیادت میں وفود نے ڈائریکٹرسکول ایجوکیشن جموں سے ملاقات کی اوراس موقع پر تعلیمی شعبہ میں اساتذہ اورطالب علموں کو پیش آرہے مسائل کو فوری طورپر ازالہ کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ ریاستی گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی کی جانب سے دی گئی ہدایت پرعمل پیرا کرنے کیلئے وفود نے پیش کردہ میمورنڈم بھی اس موقع پر ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کو سونپ دیا ۔ موصوف ڈائریکٹرایجوکیشن کے ساتھ کافی دیر تک بات چیت کرتے ہوئے فورم کے صدر نیرج شرما نے مطالبہ کیاہے کہ لیبارٹری اسسٹنٹوںں اور جونیئراسسٹنوں کی ترقیوںکیلئے ڈیپارٹمنٹل کمیٹی کوتشکیل دیاجائے اورملازمین کے تنخواہوںمیںتمام تفاوتوں کو دورکرتے ہوئے تادم تشکیل کمیٹی خصوصی الاؤنس واگذار کیاجائے ۔ا نہوںنے اپنے مانگوں کو دوہراتے ہوئے کہاہے کہ ٹیچرس کے فہرست میں شامل لیبارٹری اسسٹنٹوں جن کے نام چھوڑ دیئے گئے تھے کافہرست کو بھی ترجیح بنیادوں پر جاری کیاجائے ۔علاوہ ازیں انہوںنے راجوری کے دورافتادہ علاقوںمیںمشکلاتوں کے دور سے گذر رہے اساتذہ کی منتقلی اوربحالی کی فہرست جاری کرنے پرزوردیاہے جو کسی غیروجوہات کے بناء پر آج تک محفوظ رکھاگیا ہے۔اس موقع پرکئی اورجانے مانے فورم کے لیڈران اوراساتذہ موجود رہے ۔