مزاحمتی قیادت کو مشاورت کرنے سے روکا گیا

سرینگر// انتظامیہ نے سوموار کو علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی چھاپہ مار کارروائیوں کے تناظر میں بلائے گئے اجلاس اور پریس کانفرنس کو تحریک حریت کے مرکزی دفتر کو مکمل طور پر سیل اور شرکائے اجلاس کو تھانہ یا خانہ نظر بند کرکے ناکام بنادیا۔ خیال رہے کہ علیحدگی پسند قیادت نے این آئی اے کی جانب سے علیحدگی پسند قائدین ، کشمیر تاجر برادری اور ان کے رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپوں اور مبینہ طور پر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کے تناظر میں  دن کے گیارہ بجے ایک مشترکہ اجلاس کے علاوہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم انتظامیہ نے اس مشترکہ اجلاس اور پریس کانفرنس کو جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ چیئرمین یاسین ملک کو تھانہ اور حریت کے دونوں دھڑوں کے سربراہان گیلانی و میرواعظ کو خانہ نظربند کرکے ناکام بنادیا۔ میٹنگ شروع ہونے سے قبل ہی سید علی گیلانی کی رہائش گاہ و دفتر کے باہر پہرے کو مزید سخت کیا گیا اور کسی بھی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ گیلانی چونکہ عرصہ درازسے گھر میں نظر بند ہیں، کے گھر کے باہر پولیس اور فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ گلی کوچوں پرخاردارتاربچھادی گئی تھی۔میٹنگ اورپریس کانفرنس پرقدغن لگاتے ہوئے پولیس نے میرواعظ عمرفاروق کواتوارکی شام سے ہی  نگین حضرتبل میں خانہ نظربندکردیاجبکہ محمدیاسین ملک کوپولیس نے سوموارکی صبح مائسمہ رہائش گاہ سے حراست میں لیکرپولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا۔اس دوران تحریک حریت جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی، پیر سیف اللہ، ایاز اکبر، محمد الطاف شاہ، راجہ معراج الدین، محمد اشرف لایا، عمر عادل ڈار کو گھروں اور تھانوں میں نظربند کردیا گیا۔ گیلانی، میرواعظ اور ملک نے کہا ہے کہ انکی مشترکہ میٹنگ، جس میں یہاں کی تاجر برادری کو بھی مدعو کیا گیا تھا کو ناکام بنانے کے لئے قد غن لگائی گئی۔مزاحمتی قائدین نے کہا ہے کہ انکو میٹنگ کرنے سے روکنا حکمران طبقے کا معمول بن گیا ہے کیونکہ یہ لوگ دلی میں بیٹھے اپنے آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے اور کشمیر میں ’’نار ملسی‘‘کا جھوٹا بھرم قائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں کیونکہ بصورت دیگر انہیں اپنے آقائوں کی جانب سے حکمرانی سے برخاست کرنے کا خطرہ ہے۔ آزادی پسند قیادت اور کارکنوں کو ہراساں کرنے کا عمل حکومت ہندوستان کا کشمیری عوام کی تحریک آزادی کے آگے اعتراف شکست ہے۔ مزاحمتی قائدین نے کہا کہ ہندوستان کی بیشتر الیکٹرانک میڈیا چینلوں جنکی پشت پناہی حکومت ہندوستان اور انکی ایجنسیوں کے تنخواہوں پر معمور افراد کر رہے ہیں کی جانب سے کشمیر کے حریت پسند عوام یہاں کی قیادت ، تاجربرادری، طالب علموں اور زندگی کے باقی شعبوں سے وابستہ افراد کے خلاف زہر افشانی غلط بیانی اور انکے خلاف مکارانہ پروپگنڈا اس جارحیت پر مبنی لائحہ عمل کا حصہ ہے جسکا مقصد یہاں کی مقبول عوامی تحریک کو بدنام اور اسکی ہیت و حیثیت کو بگاڑ کر پیش کرکے دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ مزاحمتی لیڈروںنے حکومت ہندوستان کی جانب سے مزاحمتی قیادت، کارکنوں اور تاجر برادری کیخلاف’’ انتقام گیرانہ کارروائیوں اور انہیںچن چن کر ہراساں کرنے اور بھارت کے الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے تحریک مزاحمت کو بدنام کرنے ‘‘کیخلاف جمعہ9 جون کو نماز جمعہ کے موقعہ پر وادی کے طول و عرض میں پُر امن احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔