مزاحمتی قائدین کی کال،وادی میں مکمل ہڑتال، ریل سروس بھی بند

 سرینگر//وادی میں جمعرات کو پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے موقع پر مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کشمیر بندکی کال دی تھی۔ ہڑتال کے پیش نظر وادی بھر میں ریل خدمات معطل رکھی گئیں۔ اس کے علاوہ بارہمولہ پارلیمانی حلقہ انتخاب کے تحت آنے والے تین اضلاع بارہمولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ کے علاوہ جنوبی کشمیر میں بھی موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع رکھی گئیں۔سرینگر اور ضلع و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند جبکہ سڑکیں سنسان نظر آئیں۔ تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔تاہم وادی میں حکام کی طرف سے کسی قسم کی پابندیاں نافذ نہیں رہیں۔گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سبھی علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سیول لائنز اور بالائی شہر کے حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات نظر آئی۔ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، کولگام، شوپیان اور پلوامہ قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ تمام تعلیمی ادارے اور دفاتر بند رہے۔شمالی کشمیرمیں بارہمولہ،سوپور،بانڈی پورہ اور کپوارہ کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔