مریضوں،طلاب،سیاحوں اور ایمرجنسی معاملات کی جانچ ہوگی، شاہراہ کی بندش کا اطلاق کل سے

سرینگر// سرینگر جموں شاہراہ پر بندشوں کا اطلاق کل اتوار سے ہونے جارہا ہے۔ تاہم ہفتے میں2دنوں کی پابندی کے احکامات پر عام لوگوں کے سراپااحتجاج کے بعد صوبائی کمشنر کشمیر نے کہا ہے کہ مریضوں، طلاب،سیاحوں اور دیگر ایمرجنسی کے معاملات سے متعلق جانچ کے بعد انہیں شاہراہ پر آمدرفت کی اجازت دی جائے گی۔ ڈویژنل کمشنر کشمیر نے ہنگامی طور پر طلب کی گئی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اچانک پیداہ شدہ ایمرجنسی کیلئے ضلعی سطح پر فون نمبرات کا اشتراک کیا جائے گا،تاکہ لوگ نوڈل افسران کے ساتھ فوری طور پر بات کریں،اور شاہراہ پر سفر کر سکیں۔ بصیر احمد خان نے کہا کہ سیاحوں کی گاڑیوں کو جانچ پڑتال کے بعد شاہراہ پر چلنے کی اجازت دی جائے گی،جبکہ ائر پورٹ جانے والے مسافروں کی ٹکٹوں کی جانچ کے بعد انہیں سرینگر جموں شاہراہ پر نقل  و حرکت کی اجازت دی جائے گی۔ آئی جی پی کشمیر ایس پی پانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بصیر احمد خان نے کہا کہ متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ شاہراہ پر قائم متعلقہ اسکولوں،اسپتالوں اور نرسنگ ہوموں کی تفصیلات جمع کریں۔انہوں نے کہا’ طلاب،اساتذہ،ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو خصوصی کارڈ فرہم کئے جائیں گے،تاکہ انکی گاڑیوں کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت ہو۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز دفاتر اور اسکولوں میں تعطیل ہوتی ہے۔اس دوران آئی جی پی ٹریفک الوک کمار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کل اتوار کو بارہمولہ سے ادھمپور تک شاہراہ کو سیول گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند رکھا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے یہ فیصلہ لیا ہے اور اُس پر عمل درآمد کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ صبح 4بجے سے شام کے 5بجے تک سڑک سیول گاڑیوں کیلئے بند رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور مریضوں کیلئے شاہرا ہ پر مجسٹریٹ تعینات کئے گئے ہیں جبکہ ٹریفک محکمہ کے ڈی ایس پیز بھی وہاں پر موجود ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ حادثات اور مریضوں یا پھر مجبوری کی حالت میں جو لوگ ہوں گے اُس کیلئے گنجائش رکھی گئی ہے اور اس پر ورک اوٹ کر کے اُن کو اجازت د ی جا سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے اتوار کا دن اس لئے چنا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس وجہ سے کوئی پریشانی نہ ہو کیونکہ اتوار کو گاڑیوں کی تعداد کم ہی شاہرائوں پر چلتی ہے ۔انہوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اس دوران شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں ۔
 
 
 
کشمیر جیل خانہ میں تبدیل: پی ڈی پی
سرینگر//سرینگرجموں شاہراہ پر ہفتے میں دودن سول گاڑیوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کئے جانے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے پی ڈی پی نے کہا کہ اس پابندی سے واقعی کشمیر ایک جیل خانے میں تبدیل ہوا ہے ۔پارٹی دفترپر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی  جنرل سیکریٹری عبدالحق خان اورقانون سازکونسل ممبر و ضلع صدر سرینگر محمدخورشیدعالم نے کہا کہ پابندی کا یہ حکم جلدبازی میں جاری کیاگیا ہے اوراس بات کی طرف دھیان ہی نہیں دیاگیا کہ چاروں اطراف سے گھری وادی کشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطے کاواحد ذریعہ یہی شاہراہ ہے ۔ایسا حکم نامہ کشمیر کی جدیدتاریخ کیلئے نیا ہے  حتی کہ 1999میں کرگل جنگ کے دوران بھی ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی ۔پی ڈی پی رہنمائوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ اس حکم سے حکومت ہندکیاپیغام دینا چاہتی ہے ۔زمینی سطح پر اس پابندی کو بے قانونی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور یہ نوآبادیاتی زمانے کی یادوں کوتازہ کرتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ ایذاپسندی کے تحت پی ڈی پی کے رہنمائوں اور  چنائومیں حصہ لینے والے امیدواروں کو کم سیکورٹی اور خستہ حال ٹوٹی پھوٹی گاڑیا ں دے کر نشانہ بنارہی ہے۔ایساجانبدارانہ اورغیرآئینی رویہ ہمیں قبول نہیں ہے اورحکومت جان بوجھ کر پی ڈی پی رہنمائوں کی سیکورٹی کوخطرے میں ڈال رہی ہے ۔