۔10 سال تک کے 30فیصد بچے زیادہ تر شکار،45فیصد کو علاج تک رسائی نہیں
پرویز احمد
سرینگر //مرگی بیماری کا عالمی دن آج یعنی 9فروری کو ہر سال منایا جاتا ہے۔ بھارت میں مرگی کے مریضوں کی تعداد 12ملین سے زیادہ ہے جو 2فیصد مجموعی شرح بنتی ہے اور جموں و کشمیر میں اسکی شرح 3فیصد ہے۔ جموں و کشمیر میں مختلف وجوہات کی وجہ سے مرگی کے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مرگی اعصابی خلیوں کے دائمی مرض کو کہتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور اعصابی نظام کا ڈھانچہ اور حیاتیاتی خلیات ہمیشہ کیلئے کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ اعصابی نسوں میں چلنے والے کرنٹ سے ہی انسانی جسم کام کرتا ہے اور مرگی کے شکار مریضوں میں اعصابی نسوں میں چلنے والی کرنٹ یا سگنل رُک جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ مرگی کے دیگر اسباب میںسٹروک ،ٹیومر پیدا ہونا، انفیکشن اورجسمانی نشوونما شامل ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کی جانب سے جنوری 2026میں مکمل کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وادی میں مرگی سے متاثرین کی تعداد میں 45.6فیصد خواتین شامل ہیں۔ان میں 36فیصد میں دماغ کے سامنے کے حصے میں غیر ضروری حرکت شروع ہوجاتی ہے جس سے مریض کے چہرے ، ہاتھوں اور پیروںمیں جھٹکے لگنا اورتھرتھراہٹ شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ 10فیصد سٹروک کی وجہ سے مرگی سے متاثر ہوجاتے ہیں جس میں سٹروک کے بعد دماغ کا کچھ حصہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور مریض ہمیشہ کیلئے اپاہج ہوجاتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 10سال سے کم عمر کے بچوں میں مرگی کی شرح سب سے زیادہ 30فیصد پائی گئی ہے ۔ دس سال تک کے 30فیصد، 11سے 19سال کے 18ف یصد، 20سے 65سال کے4فیصد اور 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں 13 فیصد لوگ اعصابی امراض کے شکار ہوکر مرگی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اعصابی امرض کے ماہر ڈاکٹرمقصود احمد نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ 45فیصد مریضوں کو صحیح اور بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ ماغ میں چوٹ لگنا ، انفیکشن اور جینیات اس بیماری کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیماری موروثی بھی ہوتی ہے لیکن دماغ میں چوٹ اور سٹروک ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی مرگی کا شکار ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر مقصود نے بتایا کہ وائرس اور دیگر متعدی بیماری کی وجہ سے دماغ میں ہونے والی سوزش سے بھی مریض مرگی بیماری کا شکار ہوسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ مرگی سے بچنے کا بہترین طریقہ بروقت علاج اور ہمیشہ وائرس انفیکشن دور رہنے کی کوشش کے علاوہ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا لازمی ہے۔