این سی 2024 میں اقتدار ملنے کے وقت مسئلہ پر خاموش رہی
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے دہلی کے جنتر منتر پر این سی کے مجوزہ دھرنے کو ’’ایک سیاسی ڈرامہ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ جمعرات کو پونچھ کے ڈاک بنگلہ میںپارٹی کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اگر نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے واقعی سنجیدہ ہوتی تو گزشتہ چھ برسوں کے دوران اس کا مطالبہ کرتی، خاص طور پر 2024 میں حکومت کی تشکیل کے وقت، جب اسے عوام کی جانب سے بھاری مینڈیٹ ملا تھا۔ انہیں انتخابی کامیابی کے فوراً بعد یہ معاملہ اٹھانا چاہیے تھا، مگر اس وقت وہ خاموش رہے۔ اب وہ صرف اس لیے یہ مسئلہ اٹھا رہے ہیں تاکہ اپنی حکومت کو مضبوط کر سکیں۔ انہیں نہ عوام کے حقوق کی فکر ہے اور نہ ہی ریاستی حیثیت جیسے اہم مسئلے کی۔ ان کا مقصد صرف اقتدار اور اختیار حاصل کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ریاستی حیثیت کی بحالی اور دیگر اہم مسائل کے حل کے لیے مرکزی حکومت کے ساتھ بامعنی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ناگزیر ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ جہاں تک اپنی پارٹی کے مؤقف کا تعلق ہے، پارٹی اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی یہاں کے عوام کی عزت اور وقار کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا، ’’درحقیقت اپنی پارٹی کا قیام ہی ریاستی حیثیت کی بحالی اور دیگر عوامی مسائل کے حل کے لیے عمل میں آیا۔ تاہم ہمارا یقین ہے کہ اپنے مقاصد جمہوری اور سیاسی ذرائع سے حاصل کیے جائیں، نہ کہ تصادم کے ذریعے۔‘‘ بخاری نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ تمام اہم مسائل کے حل کے لیے مرکز کے ساتھ بامعنی مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’احتجاج اور تصادم آگے بڑھنے کا راستہ نہیں ہیں۔ صرف مذاکرات ہی ہمیں ہمارے حقوق، بشمول ریاستی حیثیت، واپس دلا سکتے ہیں۔ ہم کسی بھی قسم کے تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے پونچھ اور راجوری کے عوام کو درپیش اہم مسائل حل کرنے میں حکومت کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مقامی نوجوانوں کی بھرتی کے ذریعے ایک خصوصی پولیس بٹالین قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے کہا، ’’پونچھ، راجوری، اوڑی، کرناہ، سانبہ اور دیگر سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دور دراز علاقوں کے باشندوں کی مدد کے لیے ہر وقت موجود رہے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ حاجی پیر کے مقام پر پیر پنجال کے آرپار ایک سرنگ تعمیر کی جائے تاکہ اوڑی اور پونچھ کے درمیان رابطہ قائم ہو سکے۔پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے پونچھ۔اوڑی اور پونچھ کو ٹنگمرگ سے تاریخی راستوں کی بحالی کے ذریعے دوبارہ جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’تقسیمِ ہند سے قبل پونچھ کو جموں و کشمیر میں غیر معمولی تاریخی اہمیت حاصل تھی، مگر تقسیم کے بعد یہ علاقہ اپنی تاریخی شان و شوکت سے بڑی حد تک محروم ہو گیا۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’75 برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر کسی بھی حکومت نے پونچھ کی کھوئی ہوئی اہمیت بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی پارٹی چاہتی ہے کہ تاریخی پونچھ۔اوڑی اور پونچھ۔ٹنگمرگ شاہراہوں کی تعمیرِ نو جلد از جلد شروع کی جائے۔اس موقع پر پارٹی کے صوبائی صدر جموں، منجیت سنگھ کے جموں صوبہ کے سینئر نائب صدر شاہ محمد تانترے، ایس سی ونگ کے ریاستی صدر بودھ راج بھگت، جموں صوبہ کے نائب صدر اور ایس ٹی ونگ جموں صوبہ کے نائب چیئرمین سلیم چوہدری، کسان ونگ کے ریاستی صدر بدری ناتھ شرما، پارٹی کے ترجمان رفیق احمد خان، پونچھ کے سینئر ضلع نائب صدر کیپٹن دتہ، پونچھ کے جنرل سیکریٹری سرجن سنگھ، چوہدری جاوید، چوہدری اعظم، چوہدری شفیع میلو، راشد زرگر، ڈاکٹر ملک، بشیر میر، اکرم میر، حاجی اکبر دائی، حاجی عبدالجبار، اشرف تانترے، ماسٹر محمد ایوب، عمران خان، راشد صوفی، محمود تانترے، پیرزادہ محمد اشرف، فاروق ٹکھر اور دیگر اشخاص موجود تھے۔