مرٹ گام لنگیٹ جہاں ووٹ دے کر بھی بھلا نہ ہوا

لنگیٹ// ووٹ کا استعمال کرنے کے باوجود بھی مرٹگام لنگیٹ کا 70سالہ عبدالعزیز پولنگ بوتھ کے باہر ناخوش دکھائی دے رہا تھااُس شہری کا کہنا تھا کہ لیڈران نے پچھلی بار بھی وعدے کئے لیکن اُن وعدوں پر کبھی کھرے نہیں اُترے۔شہری کے مطابق اُس نے 70برس کی عمر میں ہر ایک انتخابات کے دوران لیڈران کے حق میں ووٹ ڈالے لیکن ہر بار اُس کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا ۔یہ عمر رسیدہ شہری جمعرات کو بھی پولنگ پوتھ نمبر 42میں اپنے ووٹ کا استعمال کر چکا تھا ،اُس کا کہنا تھا کہ ووٹ مانگنے سب آتے ہیں لیکن جب ہم ووٹ دے دیتے ہیں پھر یہ لیڈر بھی غائب ہو جاتے ہیں ،عبدعزیز کے مطابق اس گائوں میں امیر اور زیادہ امیر ہو رہے ہیں غریبوں کی حالت ویسی ہے جیسی کئی سال قبل تھی نہ مکان بنانے کیلئے اندااواس یوچنا کے تحت پیسہ ملا نہ دیگر تعمیراتی کام ہوئے ایسا لگ رہا ہے جیسے انہیں سرکاریں نظر انداز کر رہی ہیں ،اُس کا کہنا تھا کہ گرلز مڈل سکول مرٹگام 1950میں بنایا گیا کئی بار اُس کا درجہ بڑھانے کی مانگ کی گئی لیکن ہر بار سرکاروں نے جھوٹی تسلیاں دیں اس سکول کی حالت ایسی ہے کہ یہ سکول نہیں بلکہ ایک کائو شیڈ بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی اپنا ووٹ اسی لیئے ڈالا تاکہ علاقے کی ترقی ہو سڑکیں بنیں ، سکولوں کا درجہ بڑھایا جائے مستحق افراد کو معاوضہ ملے ،نوجوانوں کیلئے نوکریاں ہوں ،اور اُس اُمید کے ساتھ اُس بار بھی ووٹ ڈالنے نکلا ہوں ،شہری نے کہا ہم نے سب جماعتوں کے لیڈران کو ازمایاہے لیکن اُن کی اُمیدوں پر کوئی کھرا نہیں اُترا ۔ گرلز مڈل سکول کے باہر بیٹھے دیگر لوگوں نے بتایا کہ شاید ہمیں اُس بات کی سزا مل رہی ہے کہ ہم انجینئر رشید کے ساتھ ہیں ۔انہوں نے کہا ہم نے پھر اُن کے ہی حق میں ووٹ ڈالا اور اُمید ہے کہ کوئی نہ کوئی سرکار ایسی آئے گئی جو ہمارا ساتھ دے گی۔