جموں// ضلع پونچھ کی تحصیل مینڈھر کے گلوتہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے 26سالہ مرفد شاہ جس کو 4اگست 2018 کو سی آر پی ایف اہلکاروں نے نیشنل کانفرنس صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر گولی مار کر ہلاک کر دیاتھا، کے لواحقین اوررشتہ داروں نے گذشتہ روزکینڈل مارچ نکال کر سی آر پی ایف اور پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری طور ایف آئی آر درج کرنے اورغیرجانبدارانہ تحقیقات کامطالبہ کیا۔اس دوران لواحقین ورشتہ داروںنے کہاکہ مرفد شاہ کا ایک منصوبہ بند طریقہ سے قتل کیاگیا، اس حوالہ سے پولیس نے جوکہانی تیار کی ہے وہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ گاڑی، فائرنگ ، پولیس اہلکاروں وغیرہ سبھی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں پھر بھی پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ ماجدنامی رشتہ دار نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ سی آر پی ایف نے مقتول مرفد شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کر الی ہے لیکن پولیس مرفد شاہ کے اہل خانہ کو صرف جھوٹی تسلیاں دے رہی ہے اور ٹال مٹول سے کام لیاجارہا ہے،ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی۔انہوں نے کہاکہ گیٹ اتنا بڑا ہے کہ وہ گاڑی کی ٹکر سے کھل سکتا ہی نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کیا گیٹ پہلے سے کھلا تھا؟، کیا فاروق عبداللہ اپنا پورا گھر کھلا رکھتے ہیں؟، گولی چھاتی میں ہی کیوں ماری گئی؟؟۔ آئی جی پی جموں، ایس ایس پی جموں اور ضلع مجسٹریٹ ان سوالات کے جلد جواب دینے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ مجسٹریل انکوائری سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں یہ صرف وقت گذاری مشق ہے۔