مدرسے کی تعمیر کے لئےجذبۂ استقلال تجربات اور مشاہدات پر مبنی ایک تحریر

شبیر احمد مصباحی
ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے سائبریا کے بعد دوسرے سرد ترین مقام دراسؔ میں دور دور تک کسی مدرسے کا تذکرہ بھی نہ تھا اور تذکرہ ہو بھی کیسے؟ یہاں کی زمینی و جغرافیائی صورت حال کو دیکھتے ہوئے کسی بھی بڑے پروجیکٹ کو ہاتھ میں لینا ہی اپنے آپ میں ایک جوکھم بھرا کام ہے ۔ یہاں کی آبادی اتنی کم ہے کہ کوئی بڑا کام کرنا ایک دشوار طلب امر ہے۔لیکن کہتے ہیں نا کہ ہمت مرداں مدد خدا است۔ایک مرد آہن ثقافی ہیں ،جنہوں نے اس کام کی ٹھان لی اور قوم کی بچیوں کے لیے مدرسہ بنانے کی مہم شروع کی۔لوگوں کے دلوں میں ایک امنگ سی بیدار ہوئی لیکن دل ہی دل میںیہ سوچنے پر مجبور بھی تھے کہ آخریہ کام کیسے مکمل ہوگا؟ثقافی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے سب سے پہلے عبد الحمید نام کے ایک جوان نے اپنی زمین مذکورہ مدرسے کے لیےوقف کردی ،پھر کہانی شروع ہوئی  اس مدرسے کے لیے دراس کے لوگوں کی ناقابل فراموش خدمات اور ناقابل ِ تسخیر جذبات و محبت کی۔
مدرسے کی بنیاد جب سے رکھی گئی ہےتو یہاں کے لوگوں میں علم دین اور علماء کرام کےتئیں محبت اور عقیدت کے  ایسےجلوے دیکھنے کو ملے کہ ان کو بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ کی کمی پڑ رہی ہے۔خصوصاً خواتین میں اس مدرسے کے لئے ایک الگ قسم کی دیوانگی نظر آرہی ہے ۔سب لوگ اپنی آنکھوں سے جلد از جلد اس مدرسے کو بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔گویادراسؔ میںایک الگ قسم کا ماحول بنا ہوا ہے ،ہر کوئی اس مدرسے کے لئے درمے،قدمے سخنے ، مدد کے لئے بے چین نظر آرہے ہیں۔چند جوان علمائے کرام کے ساتھ نومبرمہینےکے اس ٹھنڈ بھرے مائنس ڈگری درجہ حرارت میں بھی دن و رات گاؤں گاؤں جا کر مدرسے کے لئے چندہ اکھٹا کررہے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ ایسے موسم میں رات کو نکلنا کتنا مشکل ہے، یہ صرف یہاں کے باشندے ہی جانتے ہیں۔ لیکن لوگوں کی حوصلہ افزائی و فراخدلی نے ان جوانوں و علماء کرام کے حوصلوں کو زبردست گرمی بخشی ہے۔ مرد پیسوں کی شکل میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں تو خواتین نہ صرف پیسے بلکہ اپنے قیمتی زیوارات ودوسری کئی چیزیں بطور عطیہ پیش کررہی ہیں ۔اللہ ایسی خواتین کو سلامت رکھے۔اس ی طرح مرد حضرات بھی آدھی روٹی کھائیں گے مدرسہ بنائیں گے کی عملی تفسیر پیش کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔اگرچہ ان میں سے بہت سے بھائی بے روزگاری کے شکار ہیں مگر اس نیک کام میں بازی لے جانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ۔بہت سارے لوگوں نے تو اپنے قیمتی جانور بیچ کر مدرسہ کو امداد پیش کی ہے۔جن ٹھیکہ دار بھائیوں کو سال بھر کی محنت و مشقت کے بعد بڑی مشکل سے تھوڑا بہت بچتا ہے ،وہ بھی اس کام کے لئے پیش پیش نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے سیمنٹ،لوہا اور بجری کی شکل میں مدد کرنے کی پیشکش کی ہے ۔غرض ہر کوئی مدد کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ہر کوئی چاہتا ہے کہ بس مدرسہ بنے اور ہماری بچیوں کو دینی تعلیم کے حصول کے لئے باہر نہ جا نا پڑیں۔
لوگوں کے جذبات اور محبت کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اب یہ مدرسہ بہت جلد بن جائے گا اور سر زمین دراس میں یہ تاریخی کام بہتپایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا،کیونکہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں نے تویہ ثابت کر دیا کہ وہ اس کام میں کسی سے پیچھے نہیں  بلکہ ہر ممکن قربانی کیلئے تیار ہیں، بس کمی تھی تو کسی قائد و رہبر کی ۔اب لگتا ہے کہ ثقانی صاحب کی شکل میں شاید انہیں وہ رہبر مل گیا ہے جو نہ صرف جامع مسجد سے ’’ایک قدم خود کے لئے ‘‘پروگرام چلا کر لوگوں کی اصلاح کرنے میں لگے ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے فرائض منصبی کو محسوس کرتے ہوئے علاقائی مساجد کا دورہ کرکے علاقے کی دینی صورت حال کو بھی دیکھا ہے، باالخصوص خواتین کی اصلاح کے لئے دو تین عظیم الشان جلسےکروانے کے علاوہ ہر گائوں میں اپنی متعدد طلبات وعالمات سے اصلاحی و تربیتی پروگرامس بھی کروایےہیں۔ثقافی کی ان کاوشوں سے محسوس ہوتا ہے کہ بحیثیت امام جامع مسجدوہ علاقے میں دینی بیداری لانے کے لیے کتنے پُرعزم ہیں ۔اب انہوں نے یہاں کی بچیوں کی دینی تعلیم کے لیے ایک مدرسے کی ٹھانی ہے تو عوام انہیں تنہا کیسے چھوڑ سکتے ہیں ۔ اس لئے علاقے میں بدلائو کی ایک لہرپھیل گئی ہے۔
 اب ثقافی صاحب اور دیگر علماء کرام کی اہم ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے جذبات کو مجروح ہونے نہ دیں ،لوگوں نے اُن پر جو اعتماد دکھایا ہے ،اُسے عملی طور پر کرکے دکھانا ہوگا۔یہاں پر میں اپنی قوم سے بھی عرض کروں گا کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں مزید قربانیوں کے لیے آپ کو تیاررہنا ہوگا۔یہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے۔ہوسکتا ہے کہ علمائے کرام پھر سے تمہیں آواز دیں لیکن تم مایوس نہ ہونا،گھبرانا نہیں بس تھوڑی سی ہمت اور کرنی ہوگی۔ علماء کرام اور ان جوانوں سے بھی میں عرض کروں کہ سردی ہو یاگرمی، برف باری ہو یا طوفان،آپ کو تواتر کے ساتھ دینی کاموں کے لیے سرگرم رہنا ہے تب جاکر یہاں کےلوگوں کے کا یہ خواب حقیقت میں بدلے گا۔ ہاں! جو ہمارے بہن بھائی اس دینی کام کیلئے اپنا سب کچھ لٹا رہے ہیں ،اس کا اجراُنہیں اللہ تعالیٰ دے گا۔ بہرحال دراسی قوم نے  اس عظیم الشان کام کی ٹھان لی ہےاور اپنے ناقابلِ فراموش تعاون سے عنقریب ہی اس تاریخی کام کی تکمیل دیکھکر ایک تاریخ رقم کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔
رابطہ ۔دراس کرگل ،لداخ
فون نمبر۔ 8081713692
ای میل۔[email protected]