جموں// جموں وکشمیر میں دار العلوم دیوبند کے ماتحت چل رہے مدارس کی نمائندہ تنظیم ’رابطہ مدارس اسلامیہ جموں وکشمیر‘نے ریاست میں مدرسہ بورڈ کے قیام کے لئے حکومتی سطح پر تیار کئے گئے مسودہ کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ رابطہ مدارس اسلامیہ نے اس کوشش کو ’مداخلت فی الدین‘قرار دیتے ہوئے واضح کیاہے کہ اگر مدرسہ بورڈ قائم کیابھی جاتاہے تو وہ اس کے طابع ہرگز نہ ہوں گے اور نہ ہی ان پر ایسا کرنے کے لئے کوئی دباؤ قائم کیاجائے۔جموں وکشمیر سٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن ایکٹ کے تحت کشمیر اور جموں کے لئے الگ الگ بورڈ قائم کرنے کی تجویز کا مسودہ تیار کئے جانے کے بعد سے رابطہ مدارس اسلامیہ نے ریاست بھر میں اس کے خلاف مہم چھیڑ دی ہے۔ اس سلسلہ میں حال ہی ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں رابطہ مدارس دارالعلوم دیو بند سے مربوط ساڑے تین سو سے زائد مدارس نے زعماء نے شرکت کی اور موقف کو دوہرایاکہ ’’ہم رابطہ مدارس دارالعلوم دیو بند کے رابطہ بورڈ کے ساتھ منسلک ہیں لہٰذا ہمیں کسی بھی بورڈ کی ضرورت نہیں‘‘۔ ذرائع کے مطابق مدرسہ بورڈ کے لئے بل کا مسودہ تیار کئے جانے کی رپورٹ شائع ہونے پر صدر رابطہ مدارس جموں وکشمیر مفتی رحمت اللہ قاسمی ،صوبائی صدور مولانا غلام قادر، مولانا محمد اقبال اندرابی، جنرل سیکریٹری مفتی نذیر احمد قاسمی، نائب ناظم صوبہ جموںمفتی محمد عنایت اللہ قاسمی، ناظم امتحانات مولانا مفتی محمد یعقوب، مولانا مفتی محمد اسحاق، مولانا احمد سعید وغیرہ نے مدرسہ بورڈ کے متعلق جاری ایک مشترکہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ’’ دار العلوم دیوبند اور اس کے نہج کے دوسرے مدارس کا اپنا مضبوط اور متفقہ بورڈ قائم ہے جو تعلیم، تربیت، انتظامات، نگرانی، ہدایات اور تمام ضروری امور سے متعلق تفصیلی احکامات جاری کرتا ہے لہٰذا اِن مدارس کو دوسرے کسی بورڈ کی حاجت نہیں ہے۔ سرکاری مدرسہ بورڈ سے متعلق جو تفصیلات سامنے آئی ہیںاس کی بنیاد پر مدارس اسلامیہ کا نظام تعلیم وتربیت، نظام مالیات اور نظام اشاعت دین سب کچھ نہ صرف متاثر ہوگا بلکہ ان مدارس کا تشخص وتقدس پوری طرح بدل جانے کا خدشہ ہی نہیں تجربہ ہے۔ اس لئے جب بھی اور جہاں بھی یہ دینی مدارس کسی سرکاری بورڈ سے منسلک ہوئے وہ اپنے مشن سے بھی دورہوئے اور جوخدمات وہ انجام دے رہے تھے وہ سب آہستہ آہستہ ختم ہوگئیں۔ اس سلسلہ میں مختلف علاقوں مغربی بنگال، بہار، اڑیسہ اور اترپردیش میں اس طرح کے مدارس کا حال ہمارے سامنے ہے‘‘۔رابطہ مدارس اسلامیہ کے ذمہ دارانہ کا کہنا ہے کہ’’ ہمارے ان مدارس اسلامیہ میں صدقات وزکوۃ کی رقوم شرعی ضوابط کے مطابق خرچ ہوگی ہیں جبکہ بورڈ سے وابستہ ہونے کے بعدصدقات وزکوۃ کے مصارف کا شرعی سلسلہ بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کئی نقصانات ہیں جو ان مدارس کے لئے ہونا متوقع ہی نہیں یقینی ہیں۔ رابطہ مدارس کے ذمہ داران نے کہاکہ کسی بھی جانب سے جومفید اور بہتر تجاویز ان کے سامنے آتی ہیں وہ ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے وسائل کے مطابق عملانے کے اقدامات کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے، مگر اپنی خود مختیار ی کو قائم رکھ کر کسی بھی مداخلت سے بچاکر اپنا کام کرنا ، ان مدارس کے منتظمین کی حکمت عملی رہی ہے جس کے نتیجہ میں اسلام کی حفاظت واشاعت میں یکسوئی کے ساتھ یہ مدارس سرگرم عمل ہیں، برصغیر میں انگریزی دور میں بھی یہی حکمت عملی رہی ہے اور غیر ملکی اقتدار کے خاتمہ کے بعد بھی پورے برصغیر کے تمام علاقوں اور خطوں کے مدارس اسی نہج پر قائم ہیں کہ وہ ہر قسم کی سرکار(چاہئے کسی بھی قسم حتیٰ کہ مسلم سرکار ہو)کی مداخلت سے بھی اپنے آپ کو الگ رکھتے ہیں اور آئندہ بھی رکھیں گے۔ لہٰذا ہمارے دینی مدارس کے لئے کسی سرکاری بورڈ کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ مدرسہ بورڈ کی طرف سے ان دنوں ریاست بھر کے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کے ذریعہ گورنر انتظامیہ کواس متعلق تفصیلی میمورنڈم پیش کئے جارہے ہیں۔گذشتہ دنوں نائب ناظم عمومی رابطہ دارس دارالعلوم دیو بند شاخ جموں وکشمیر مفتی عنایت اللہ قاسمی اور مسلم ایکشن کمیٹی جموں کے جنرل سیکریٹری شیخ ظہور کی قیادت میں علماء نے ڈپٹی کمشنر جموں کو میمورنڈم پیش کیا۔ یاد رہے کہ جموں وکشمیر میںایک عرصہ سے اہلسنت والجماعت مسلک کے علماء مدرسہ بورڈ کے قیام کا مطالبہ کر تے آرہے ہیں۔ اس غرض سے سال 2010میں ’’آل جموں وکشمیر مدرسہ بورسہ کارڈی نیشن کمیٹی ‘‘تشکیل دیکر منظم تحریک شروع کی گئی جس کے سرپرست اعلیٰ مفتی سعید بشارت حسین برکاتی اور چیئرمین میاں شہراز احمد اظہری مغل ہیں۔یو این آئی