مدرسہ احیاء العلوم والبنات الطاہرات میں 62 لڑکیوں سمیت 100 امدادی بچے زیر تعلیم

بانہال // دریائے چناب اور سابقہ جموں سرینگر شاہراہ کے کنارے رام بن کے میترہ ، بھتی علاقے میں قائم مدرسہ احیاء العلوم والبنات الطاہرات ایک قدیم دینی ادارہ ہے اور رام بن کے علاقے میں دینی علم وادب کی روشنی سے آنے والی نسلوں کو فیضیاب کرنے کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاکر محنت کر رہے ہیں۔ یہاں طالبات کیلئے الگ سے بنات کا ادارہ بھی چل رہا ہے جہاں عربی سوم و مومنہ کورس پڑھایا جاتا ہے اور حفظ قران ،ناظرہ اور دینیات کے شعبے بھی چلائے جا رہے ہیں۔ یہ مدرسہ رام بن کے اْس علاقے میں قائم ہے جہاں کی آس پاس کی آبادی غریب اور مفلوک الحال ہے اور بچوں کو دینی تعلیم دینے کیلئے اس ادارے کا قیام مقامی لوگوں کے بھر پور تعاون اور مدد سے ممکن ہو سکا ہے۔اس مدرسے میں کل ملاکر ایک سو کے قریب امدادی بچے زیر تعلیم ہیں جن میں 62 لڑکیاں اور 27 لڑکے شامل ہیں اور اْن کی کفالت ، قیام ، طعام اور کتب وغیرہ کا انتظام مدرسہ کے ذمہ ہے۔ ان بچوں کی تعلیم وتربیت کیلئے سات اساتذہ اور دو ملازم تعینات ہیں جو دن رات محنت کرکے قران وسنت کی تعلیمات کو فروغ دینے اور بچوں اور بچیوں کو دین حق سے آشنا کرنے میں پیش پیش ہیں۔ قاری فاروق احمد سوہل مہتمم مدرسہ احیاء العلوم و البنات الطاہرات میترہ رام بن کا کہنا ہے کہ ان کی اور مدرسہ کی انتطامیہ کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد تک دینی تعلیم پہنچائی جائے اور نئی نسل کو قران اور نبی اکرم صلہ اللہ وعلیہ وسلم کی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے میں صیح عقائید کی ترجمانی کی جاتی ہے اور رسم بد اور دیگر خرافات کی بیخ کنی کیلئے قران وسنت کی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ کے ابھی بہت سارے کام چل رہے ہیں اور مدرسہ ہذا پہلے ہی سے مقروض ہے اور اہل خیر حضرات سے استدعاء ہے کہ وہ آپ اپنے عطیات زکواۃ ، صدقات ،فطرات اور امداد سے بھرپور تعاون فرمائیں اور اس مدد کیلئے اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آپ مدرسہ کیلئے کسی بھی قسم کی معاونت کیلئے  9858046135/ 9622114046  فون نمبرات پر رابطہ کرسکتے ہیں۔