مختصرافسانہ۔۔۔۔۔؟

    افسانہ ہے تو ادب ہے ‘ادب ہے تو افسانہ ہے۔ادب کو جسم سے تعبیر کیا جائے تو افسانہ اِس کی روح ہے۔جسم روح کے بغیر بے جان ہے اور روح جسم کے بغیر بے نام۔افسانہ ادب کی واحد صنف ہے جس کے ساتھ ایک عام قاری جوعلم وادب سے کچھ خاص واقف نہ ہو‘بھی اتنا انصاف کرپاتا ہے کہ وہ ادب کی روح کو محسوس کرسکے۔شائد اس لئے کہ افسانہ میں وہ پیچیدگیاں اور مشکل تراکیب نہیں پائی جاتی جن کا سامنا قاری کو دوسری اصناف ‘خاص کر شاعری میں کرنا پڑتا ہے۔اور شائد اس لئے بھی کہ افسانہ زندگی کے عام معاملات سے سروکار رکھتاہے۔یہ خصائص اگرچہ داستان اور ناول میں بھی پائے جاتے ہیں ‘لیکن قدرے طویل ہونے کے باعث عام قاری داستان یا ناول میں کم ہی دلچسپی لیتا ہے۔جبکہ افسانہ اس کے برعکس مختصر ہوتا ہے ایک عام قاری کے مزاج کے عین مطابق۔یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ افسانہ‘ ناول اور داستان میں اصل اوربنیادی فرق یہی ہے کہ’’ افسانہ‘ ‘داستان اور ناول کے مقابلے میں قدرے مختصر لکھا جاتاہے۔وگرنہ ان کے اجزئے ترکیبی اور اسلوبِ بیاں میں کچھ زیادہ فرق نہیں:۔
A short story is a brief work of fiction ,and most of the terms for analyzing the component elements , the types and the narrative  techniques of the novel are aplicable to the short story as well.             
           (MH Abram/GG Harpahm…..p82 )                      
چنانچہ پروفیسرنورالحسن نقویؔ کی رائے بھی اس ضمن میں اہمیت کی حامل ہے۔وہ لکھتے ہیں :۔
’’داستان ‘ناول اور افسانہ دراصل ایک ہی نثری صنف کے مختلف نام ہیں ۔ان تینوں کو ملاکرافسانوی ادب یا فکشن کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔ان تینوں کی بنیادی خصوصیت ایک ہے اوروہ ہے قصہ پن یعنی ہر قدم پر یہ جاننے کی خواہش کہ آگے کیا ہوا اوراس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔یہ کہانی پن یا قصہ پن ہی فکشن کی جان ہے۔
(تاریخِ اردوادب۔337)
    افسانہ کے لغوی معنی اردو کی مشہور لغت فیروز الغات کے مطابق ’’جھوٹی بات‘‘ کے ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ادب میں صنفِ افسانہ سے مراد ایسا جھوٹ ہے جو سماج کو سچائی کے عین سامنے لاکر کھڑا کرتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ پریم چندؔ کے پہلے افسانوی مجموعہ’’ سوزِوطن‘‘ کو انگریزوں نے نذرِ آتش کردیا۔اسی جھوٹ کے سہارے سعادت حسن منٹوؔ نے سماج کی چند تلخ حقیقتوں کوزیرِبحث لاکر عوام کو سچائی سے روشناس کیا۔ یہ وہ جھوٹ ہے جسے بول کر ہی سلطان حیدر جوشؔ نے اپنے ہم وطنوں کو یورپ کی اندھی تقلید سے باز رکھا۔کرشن چندرؔ نے وکالت کی وہ دنیا جہاں جھوٹ ہی کو اوڑھنا بچھونابنایا جاتاہے‘چھوڑکر صنف افسانہ جیسا جھوٹ اختیار کرکے علم وادب کی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جو عدالت میں سچ بول کر بھی شائدحاصل نہ کر تے۔
 افسانہ سے متعلق مختلف ادبی تشریحات ملتی ہیں:۔
(1)۔داستان‘ناول اور افسانہ دراصل ایک ہی نثری صنف کے مختلف نام ہیں……(پروفیسر نورالحسن نقویؔ)
(2)۔افسانہ ایک ایسی نثری داستان ہے جس کے پڑھنے میں ہمیں آدھے گھنٹے سے دوگھنٹے تک کا وقت لگے گا….(ایڈگرایلن پوئیؔ)
(3)۔اس کو پڑھ کر قاری کے دل پر ایک خاص کیفیت گزرجاتی ہے…….(واشنگٹن اِروِنگؔ)
   مختصر افسانہ سے متعلق اگر چہ مختلف تشریحات ملتی ہیں تاہم اس صنف کی کوئی مخصوص اور حتمی تعریف نہیں ملتی۔داستان کا رجحان چونکہ سرے سے ہی ختم ہوچکا ہے اور ناول سے بھی عام قاری قدرے بے زار ہے ایسے میں اگر یہ کہا جائے کہ افسانہ ہی اب فکشن کی عزت اور آبرو ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔اور فکشن کی اس آبرو کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ صنفِ افسانہ کو Fashionable بنایاجائے۔
 
سیر جاگیر سوپور‘کشمیر
فون؛8825090545