محکمہ جنگلات کی انسداد تجاوزات مہم میں تیزی کے بیچ گوجر بکروال مایوس

جموں// محکمہ جنگلات کی جانب سے جموں و کشمیر میں جنگلات کی زمین پر تجاوزات کے خلاف مہم تیز کرنے کے بیچ 5 اگست 2019 کو آئینی تبدیلیوں کے بعد یونین ٹریٹری میں حقوق جنگلات ایکٹ کے نفاذ کے باوجود گوجر بکروال میں محرومی کا احساس پایا جارہا ہے۔خانہ بدوشوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے دیہی علاقوں میں متعلقہ گرام سبھائوں اور جموں و کشمیر کے شہری علاقوں میں کمیٹیوں کے سامنے اپنے دعوے جمع کروائے ہیں۔اگرچہ جنگلات کی اراضی پر ہونے والے دعووں کا فیصلہ ابھی باقی ہے لیکن محکمہ بے دخلی کی مہموں کے ساتھ آگے بڑھ گیا ہے اور اس نے مبینہ طور پر ’انتخابی نقطہ نظر‘ کے لئے سیاسی رد عمل کو بھی راغب کیا ہے۔حاجی فیاض احمد،روپ نگر علاقہ کے رہائشی نے بتایا"روپ نگر میں 18 مئی 2021 کو محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے ایک کوٹھارکونقصان پہنچایا اور مبینہ طور پر اس سرزمین سے گھاس کی کلووں کو بھی تباہ کر دیا جہاں ہم گذشتہ تین نسلوں سے رہ رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا "ان کے پاس محصول کے دستاویزات موجود ہیں جو ایف آر اے کے تحت زمین پر اپنے دعووں کی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ وہ گذشتہ 70 سال سے وہاں مقیم ہیں۔ ہم نے ایف آر اے کے تحت ایس ڈی ایم نارتھ (ضلع جموں) کے دفتر میں بھی محصول کے دستاویزات جمع کروائے تھے ، لیکن محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے ہماری گھاس کی کوٹھاروں کو ہٹانے پر ان کی بات نہیں مانی‘‘۔انہوں نے کہا کہ کم از کم 20 بکروال خاندان روپ نگر میں رہ رہے ہیں۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ حال ہی میں ایک اعلی سطحی اجلاس کے انعقاد کے بعد انخلا کی مہموں میں شدت آگئی ہے جس میں ہائی کورٹ کی ہدایت کی بنیاد پر تجاوزات کو ختم کرنے کے لئے ہدایات منظور کی گئیں۔فرائض کی عدم ادائیگی اور عدالت کی ہدایت پر عمل کرنے میں ناکامی کے سبب ڈی ایف او جموں فاریسٹ ڈویڑن آلوک کمار موریہ کی معطلی کے بعد ان تجاوزات سے متعلق جنگلات کی سرزمین کو دوبارہ حاصل کرنے کا عمل تیز ہوگیا ہے۔محکمہ جنگلات کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا "ہم گذشتہ سال سے انسداد تجاوزات مہم چلا رہے ہیں۔""سینئر عہدیدار نے" انتخابی نقطہ نظر "کے الزامات کو رد کرتے ہوئے مزید کہا"ہم جنگل حقوق ایکٹ کے تحت دعووں پر غور کرتے ہیں جب تک کہ وہ طے نہیں ہوجاتے۔ اگر ان کے دعوے طے نہیں ہوئے تو انہیں جنگل کی سرزمین سے بے دخل ہونا پڑے گا‘‘۔ایک مشہور قبائلی محقق اور قبائلی ریسرچ اینڈ کلچرل فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر جاوید راہی نے کہا "مزید ، سب ڈویڑنل ، ضلع ، اور ریاستی سطح کی کمیٹیوں میں غیر سرکاری ممبروں کی نامزدگیوں کا انتظار رہے گا تاکہ ایف آر اے کے دعووں پر حتمی فیصلہ لیا جاسکے۔"دعووں کے ذریعہ بکر وال کو بے دخل کرنے کے سلسلے میں ، راہی نے کہا: "میں نے یہ معاملہ جنگلات کے حقوق کے قانون کے نفاذ کے پس منظر میں جنگلات جموں وکشمیر کے پرنسپل چیف کنزرویٹر ڈاکٹر موہت گیرا کے ساتھ اٹھایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے قبائلی اور جنگل میں رہنے والی دیگر کمیونٹیوں کے دعوؤں کے ایکٹ کے مطابق فیصلہ آنے تک انخلا کی مہموں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ محکمہ جنگلات جموں و کشمیر میں جنگلات کے حقوق ایکٹ کو نافذ کرنے کے لئے ایک نوڈل ایجنسی ہے اور وہ جنگل پر قبائلی ممبروں کے حقوق کے تحفظ کے پابند ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ"لاکھوں افراد / قبائلی جنگل کے وسائل پر انحصار کرتے ہیں اور اس طرح کی مہمیں انہیں بڑے پیمانے پر غربت اور افلاس کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔"