پہلے ہی ہڑتالوں سے معاشی طو ر خستہ حالی کا شکار ہوچکے غریب طبقہ کو اب کورونا وائرس لاک ڈائون نے بھکمری کاشکا ربنادیاہے جن کے گھروں میں روزگار چھن جانے کے بعد اب بھوک اور افلاس نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں ۔تاہم سرکاریں بھوک کے خلاف جنگ لڑنے کے بجائے دیگر مسائل میں الجھی ہوئی ہیں اور غذائی اجناس کی اشیا کی قیمت غریب کی قوت خرید سے بہت عرصہ سے بلند سطح پر ہے۔ ایسے میں محنت و مزدور ی پر گزاراکرنے والے کیا کھائیں گے جو دن میں تنکا تنکا جمع کر کے اپنے اہل خانہ کا پیٹ بھرتے تھے ۔کورونا لاک ڈائون کے بیچ حکومت کی طرف سے جس طرح سے معاشی پیکیجز کے اعلانات کئے گئے، اس سے غریب کنبوں ومحنت کشوں میں یہ اُمید جاگی تھی کہ شائد ان کیلئے بھی کسی بڑے پیکیج کا علان کیا جائے گا لیکن جب اعلان ہوا تو کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق چند ہی افراد کو ایک ایک ہزار روپے ماہانہ ملے جس سے آج کے اس دورمیں تیل کا ایک ڈبہ تک نہیں خرید اجاسکتا۔اس صورتحال میں ان لوگوں کا گھر کیسے چلے اوران کے اہل وعیال کے پیٹ کی بھوک کیسے مٹے جو گذشتہ 9ماہ یعنی 5اگست سے مزدوری سے محروم ہیں۔
غریب کے پہلے سے ہی حالات خراب تھے اور رہی سہی کسر کرونا نے پوری کردی ہے۔ نہ جانے کتنے کنبے رات کو بھوکھے پیٹ سوتے ہوں گے اور پیٹ کو بھرنے کیلئے جدوجہد کرتے ہوں گے لیکن ان کی طرف کسی کو کوئی دھیان نہیں۔ کشمیر وادی میں اس وقت اقتصادی سرگرمیاں پوری طرح سے تباہی کے دہانے پر ہیں جبکہ تعمیراتی کام بھی ٹھپ پڑے ہیںاور ٹرانسپورٹ بند ہے۔دکانوں پر الو بول رہے ہیں جبکہ سڑکیں سنسان ہیں اوراگرگھروں میں محصور رہنے والاکوئی شخص باہر نکلتاہے تو اسے پولیس اسٹیشن پہنچناپڑجاتا ہے۔ بنا ماسک کے چلے تو جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ایسے میں کہاں سے روزی روٹی کی تلاش ہو سکتی ہے۔
اس ترقی یافتہ دور میں غریبی کا نام نشان نہیں ہونا چاہئے تھا اورلاک ڈائون میں ان کنبوں کی تلاش کی جانی تھی جن کے پاس دو وقت کی روزی روٹی نہیں ۔انتظامیہ کے افسر اگر ہر جگہ تعینات ہیں چالان اور جرمانے وصول کرتے ہیں تو وہ غریب کا پیٹ کیوں نہیں بھر سکتے۔ ابھی تک ایسی خبر کہیں سے نہیں آئی کہ انتظامیہ یا پھر سرکار نے کسی بھوکے شہری کا پیٹ بھرا ہو۔خاص طور پر ٹرانسپورٹ سیکٹر سے وابستہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر فاقہ کشی کا شکار ہو کر بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق کشمیر وادی کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے ساتھ 3 لاکھ ڈرائیور اور کنڈیکٹر منسلک ہیں لیکن یہ سب کے سب دانے دانے کے محتاج ہوکر بھیک مانگنے پر مجبور ہیں ۔ 9ماہ سے گاڑیاں گھروں میں بند ہیں اورکام نہ ملنے کی وجہ سے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کسی دوسرے کام کی تلاش میںہیں۔حکام نے ان کی دادرسی کیلئے بھی کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے ۔خطرہ اب اس بات کاہے کہ ان لوگوں کیلئے کورونا سے زیادہ بھوک اور افلاس خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ مالکان بنک قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دب کر رہ گئے ہیں۔لاک ڈائون کے کھلنے کے بعد اندشیہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرانسپورٹ شعبہ کے ساتھ منسلک ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی ایک بڑی تعداد اپنے پیشہ وارانہ کام سے محروم ہو جائے گی تو پھر یہ لوگ کیسے اپنے پیٹ بھر سکیں گے۔ کشمیر وادی کی ہی اگر بات کریں تو یہاں 70ہزار چھوٹی بڑی گاڑیاں ہیں جن کے ساتھ 1لاکھ 40ہزار ڈرائیور اور کنڈیکٹر منسلک ہیں ۔یہی نہیں بلکہ گاڑیوں کی مرمت کے ورکشاپوں میں بھی لاکھوں محنت کش ہیں جو دن کو کماتے تھے اور رات کو کھاتے تھے تاہم وہ بھی گھروں میں بند ہو کر حکومت پر اپنی نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد اس حال تک پہنچ گئی ہے جس کا دن بھر کام کی تلاش میں گزر جاتاہے اور رات کو بھوکے پیٹ سونا پڑتاہے تاہم ان کا کوئی سہارا نہیں ہے۔
اسی طرح سے ہوٹلوں ، ریستورانوں ، ہائوس بوٹوں ، شکاروں ،دکانوں،شو روموں وغیرہ پر کام کرنے والی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد بھی روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے ۔سرکاری شعبہ میں نوکری کی تلاش کیلئے تگ ودواور سرکاری دفاترکے طواف کرنے کے باوجود ناکام نوجوانوں نے نجی سیکٹروں میں کام کی تلاش شروع کی اورکئی ایک کو خوش قسمتی سے کام ملا لیکن پچھلی کئی دہائیوں سے چلے آرہے نامساعد حالات کی وجہ سے وہ کبھی چین سے کام نہیں کر سکے ۔کبھی ان کی تنخواہوں میں کٹوتی ہوئی تو کبھی مہینوں تنخواہ سے محرومی ان کا مقدر بنی ۔جیسے تیسے کر کے یہ لوگ پھر بھی بڑی ہمت سے کام کرتے تھے لیکن 5اگست کو مرکزی سرکار نے جب ریاستی کی خصوصی پوزیشن ختم کی تو اس کے بعد یہ لوگ مکمل طور پر بیروزگار ہو گئے اور اب لگتا نہیں کہ ا ن میں سے دو تہائی مزدور پھر سے کام پر لوٹ سکیں گے کیونکہ یہاں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور ٹھپ ہیںاور سیاحتی شعبہ زوال پذیر ، دستکاری صنعت کے حالات قابل رحم ہیں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر تباہ حالی کاشکا رہے۔ مالک خود پائی پائی کو ترس رہے ہیں تو ایسے میں وہ ملازمین کو کیا دیں گے ۔تنخواہوں سے محروم یہ لوگ پچھلے تین ماہ سے بے حد پریشانی کے عالم میں ہیں۔
5اگست سے قبل ان محنت کشوں میں کئی ایک شادی کی تیاروں میں مصروف تھے توکئی بہن بھائیوں کی شادی کیلئے پیسے جمع کر رہے تھے ،کوئی اپنے اہل خانہ کا پیٹ بھرنے کیلئے دن بھر پسینہ نکالتا تھا،تو کئی ایک بچوں کی فیس بھرنے کیلئے لگن او ر ایمانداری سے کام انجام دے رہے تھے لیکن کورونا ان کیلئے بے رحم ثابت ہوا اور انہیں روزگار سے ہی فارغ کردیاگیا۔اعدادوشمار کے مطابق اس وقت کشمیر وادی میں 1لاکھ 50ہزار کے قریب دکانیں بند ہیں اور ان دکانوں کے ساتھ منسلک قریب پونے تین لاکھ سیلزمین کام کر رہے تھے جو حالات کے رحم و کرم پر ہیں ۔دیہاڑی پر کام کرنے والے9لاکھ 67 ہزار مزدور بھی فاقہ کشی کے شکار ہیں ۔ان محنت کشوں میں سے صرف 3لاکھ 82ہزار ہی حکام کے پاس رجسٹرڈہیں مگر ان کی بدقسمتی کہ ان میں سے بھی 1لاکھ 60ہزار کے قریب مزدوروں کو سرکار کی طرف سے صرف ایک ایک ہزار روپے ماہانہ ملا اورباقی سب کسی حقیر جیسی امداد سے بھی محروم رہے۔
ماہرین اقصادیات کا ماننا ہے کہ اگر لاک ڈائون کھل بھی گیا تو 65فیصد شعبہ جات متاثر رہیں گے اور ایسے میں 16لاکھ محنت کشوں کے روزگار پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔جب یہ لوگ بیروزگار ہو جائیں گے تو صورتحال بدترین ہوسکتی ہے ۔کشمیر وادی میں پہلے ہی 15لاکھ کے قریب پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار ہیںجو کام کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ اب کورونا نے بھی اپنا کام کردیاہے ۔ان میں سے زیادہ تر تعداد ان نوجوانوں کی ہے جو وادی کے مختلف علاقوں سے روزی روٹی کی تلاش میں سرینگر آئے تھے لیکن ان کو پھر سے لاک ڈائون نے اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ آج آپ کسی بھی سڑک ، کوچے ، گلی سے گرزیں تو صرف ایک ہی صورت دکھائی دیتی ہے اوروہ صورت روٹی کی تلاش میں بھٹکتے چہروں کی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کورونا اس وقت پوری دنیا کے لئے ایک آفت بن کر آیا ہے لیکن اس سے نمٹتے وقت سرکار کی طرف سے سنجیدگی سے دھیان نہیں دیاگیا ۔وزیر اعظم آج کل ملک کے واسیوں کو آتم نربھر کا پیغام دے رہے ہیں لیکن انہیں کیا معلوم کہ رات کو بھوکے سوجانے والے کس پر نربھر کریں گے ۔