محبوسین جیلوں میں بھی محفوظ نہیں : صحرائی

سرینگر// تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے سینٹرل جیل سرینگر میں جیل انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے نظر بندوں کی مارپیٹ کرنے اور گولیاں چلانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ اب ہمارے جوان جیلوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ دہلی کے تہاڑ جیل سے لے کر جموں اور سرینگر تک بار بار قیدیوں کی مارپیٹ کے معاملات سامنے آتے رہتے ہیں ،لیکن ان واقعات کو روکنے کے بجائے روز افزوں اضافہ ہورہا ہے ۔صحرائی نے کہا کہ عالمی انسانی حقوق کے چارٹر کے مطابق قیدیوں کے حقوق متعین کئے گئے ہیں اور اس چارٹر کو بھارت نے بھی تسلیم کیا ہے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ بھارت نے جموں کشمیر کے قیدیوں کو ان تمام سہولیات اور حقوق سے محروم کررکھا  ہے اور بھارت کے حکمران جموں کشمیر کے سیاسی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی اور غیر اخلاقی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو اپنے جائز مطالبات کا تقاضا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ سنٹرل جیل سرینگر میں جیل انتظامیہ نے بیجا طاقت کا استعمال کیا ۔صحرائی نے کہا کہ بنیادی طور انتظامیہ سینٹرل جیل میں مقید نظر بندوں کو وادی سے باہر کی جیلوں میں منتقل کرنے کے لئے بارکوں سے شفٹ کرنے کے بہانے نظربندوں کو جبری طور وادی سے باہر کی جیلوں میں منتقل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ،اسی وجہ سے عدالتوں میں ان کیسوں کی سماعت میں تاخیر کی جاتی ہے اور ریاستی انتظامیہ قیدیوں کو عدالت میں پیش کرنے سے حالات کا بہانہ بناکرکتراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جیل انتظامیہ کی یہ دھونس دبائو کی پالیسی ،ریاستی عوام کے لئے ناقابل قبول ہے۔صحرائی نے عالمی انسانی حقوق تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مختلف جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لے کر نظر بندوں کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا رول ادا کریں ۔