فیاض بخاری
بارہمولہ//پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بارہمولہ میں ایک عوامی جلسے کے دوران موجودہ حکومت بالخصوص نیشنل کانفرنس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، نوجوان ذہنی دبا ئوکا شکار ہیں جبکہ بزرگ بھی مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ آج حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ مذہبی رہنمائوں کو بھی سرکاری سطح پر ہدایات دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ’’ ہمیں ایران کی طرح ثابت قدم رہنا چاہیے اور اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا‘‘۔ این سی پر تنقید کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے کہا کہ عوام نے انہیں بھاری مینڈیٹ دیا، لیکن وہ توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔اپنے دورِ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگرچہ ان کا وقت مشکل تھا، لیکن انہوں نے زمینی سطح پر کام کرنے کی کوشش کی جبکہ این سی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مفتی محمد سعید کی کتاب سے سبق حاصل کرے۔انہوں نے مظفرآباد روڈ کو تجارت کے لیے کھولنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی تھی لیکن اسے منشیات کے راستے کا بہانہ بنا کر بند کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ایسے معاملات پر نظر رکھیں۔سیاحتی مقامات کی بندش پر بھی انہوں نے تشویش ظاہر کی اور کہا کہ پہلگام سمیت کئی مقامات بند ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ گلمرگ کے بار بار دورے کر رہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی پی نے چھ ماہ میں وہ کام کیے جو این سی پچاس سال میں بھی نہ کر سکی، جن میں میڈیکل کالج جیسے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اپنے وسائل کا سودا نہیں کیا، جیسا کہ این سی حکومت نے کیا۔انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سعید نے دو مرتبہ حکومت بنا کر بارہمولہ کو ترقی دی، جس میں مظفر بیگ بطور نائب وزیر اعلیٰ شامل تھے، لیکن آج صرف باتیں ہو رہی ہیں، عملی کام نظر نہیں آتا۔زمین سے متعلق حالیہ قانون پر انہوں نے کہا کہ وہ اس کا خیرمقدم کرتی ہیں کیونکہ اس سے ہوٹل انڈسٹری کو فائدہ ہوا، تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ غریبوں اور مزدوروں کو بھی چند مرلہ زمین پر لیز دی جائے۔انہوں نے سکھ برادری کے لیے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں کا ساتھ دیا ہے، اس لیے ان کے لیے بھی کشمیری پنڈتوں کی طرح سہولیات فراہم کی جائیں۔محبوبہ مفتی نے سوپور کو ضلع اور اوڑی کو ہِل ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ مستقبل میں اوڑی کشمیر کا گیٹ وے بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مظفرآباد روڈ ایک دن ضرور کھلے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے نہ صرف دفعہ 370 کو ختم کیا بلکہ پی ڈی پی کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ صرف پی ڈی پی ہی ان کا مقابلہ کر سکتی ہے۔