موت بر حق ہے اور اس سے کسی کو مفر نہیں ۔ اس دنیا میں کسی بھی شئے کو ثبات حاصل نہیں ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ملک الموت نے اللہ کے امر سے کیسے کیسوں کو دبوچ لیا ۔ جب تک اس دنیاکا نظام قائم ہے، اس وقت تک اس فرشتے کا یہ عمل جاری رہے گا ۔ موت کا نام سنتے ہی انسان کی ذات میں ایک خاص طرح کا تغیر آنے لگتا ہے ، اس کا دل نرم پڑ جاتا ہے ، اس میں عاجزی اور انکساری پیدا ہوتی ہے ، اس پر ایک دم سکوت سا چھا جاتا ہے اور سب سے بڑ کریہ کہ اس لفظ کا نام سنتے ہی ہر کوئی حساس اور سنجیدہ ہو نے لگتا ہے ۔ اب جب ہمارے آس پاس کے ماحول میں کوئی موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے تو پتھر دل انسان بھی خوف سے دو چار ہو تا ہے ۔ اسی طرح کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہماری نظر اچانک کسی ایسے جنازے پر پڑتی جس کو قبرستان کی اور لے جا یا جاتا ہو ہمارا وجود اس جنازے کو دیکھ کر چند لمحوں کے لیے سکتے میں پڑ جاتا ہے اور اس طرح کا منظر ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ بہر حال موت ایک نہ ایک دن طے ہے ۔ دنیا اور اس کی مختلف رونقیں ہر کسی کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اور ہر ایک اس کی رعنائیوں پر فریفتہ ہوجاتا ہے ۔ کوئی یہ نہیں چاہتا ہے کہ دنیا کے اس حسین ، دلکش اور خوب صورت نقشے سے اس کا سفر ختم ہو۔ مر نا کسی کو پسند نہیں لیکن مرنا ہر کسی کو ہے ۔ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر، اولیااللہ اور مقرب بندے اس سے مستثنیٰ نہیں ۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی جب موت کے فرشتے کی پکڑ میں آ گئے تو اس وقت ان کی خدائی بے بس نظر آ گئی ۔ موت کے وار سے آج تک نہ جانے کتنے حسین اور خوب صورت لوگ منوں خاک میں سما گئے اور آئندہ بھی یہ عمل تواتر کے ساتھ جاری رہے گا : ؎
موت لے جائے گی مہ پاروں کو
ہائے یہ لوگ بھی مر جائیں گے
ڈاکٹر ریاض عالمؔکو میںمرحوم و مغفور کہتے ہوئے سہم جاتا ہوں ۔ یقین ہی نہیں ہوتا ہے کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے ۔ ان کے ساتھ مجھے دلی لگاؤ تھا۔ ۵جون ۲۰۲۰ میرے لیے اب ایک خاص اور غم زدہ کرنے والا دن ہوگا۔ میں ڈاکٹر ریاض عالمؔ کو اس وقت سے جانتا تھا، جب ہم دونوں گورنمنٹ ڈگری کالج پلوامہ میں کام کر رہے تھے ۔ یہ زمانہ غالباً ۲۰۱۶ء کاہے ۔ پہلے پہل ہم دونوں ایک دوسرے سے اتنے شناسا نہیں تھے، تاہم جوں جوں وقت گزرتا گیا اسی قدر ہم ایک دوسرے کے قریب ہوتے گئے اور اس طرح سے ہمارا آپسی تعلق اچھی خاصی دوستی میں تبدیل ہو گیا ۔ اس کالج میں مجھے مرحوم کو قریب سے سمجھنے کا خوب موقع ملا ۔ ان کی زندگی کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جو میں شاید ہی کبھی بلا پاؤں گا۔مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب وہ ڈیوٹی پہنچ جایا کرتے تھے تو سب سے پہلے میری تلاش میں رہتے تھے اور جب کالج نہیں آنا ہوتا تھا تو وہ مجھے بار بار فون پرکہتے تھے کہ آج میں نہیں آؤں گا اس لیے میری پہلی کلاس لینا۔ اس طرح اگر کبھی کالج آنے میں انھیں دیر ہوتی تو فون پر بتایا کرتے تھے کہ میری کلاس کا خیال رکھیں ۔ وہ اپنے کام کے معاملے میں بے حد فکر مند رہتے تھے۔جب کبھی انھیں بچوں کو پڑھانے کے سلسلے میں کوئی مسئلہ درپیش آتا تھا تو بے جھجک مجھ سے اس بارے میں کہہ دیا کرتے تھے۔انھون نے کبھی بھی بچوں کو پڑھانے کے معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی ۔ کالج کے ابتدائی دنوں میں ان کی صحت تھوڑی ناساز تھی جس کی وجہ سے وہ اکثر ماسک کا استعمال کرتے تھے ، لیکن آہستہ سے وہ ماسک بھی اس کے منہ سے اتر گئی ۔ ڈاکٹر ریاض کے درجات اللہ بلند فرمائے ۔ ان کی ایک عجیب عادت یہ بھی تھی کہ وہ بعض اوقات تیز قدمی سے چلتے تھے اور میں بار بارانھیں ٹوکتا تھا کہ آہستہ سے چلیں ، پھر وہ آہستہ سے چلنے لگتے تھے اور ابھی آدھا منٹ بھی نہیں گزرتا تھا کہ وہ پھر سے تیز چلنے لگتے تھے ۔ انھیں کون سی جلدی ہوتی تھی اس بھید کو میں سمجھ نہ پاتا تھا ۔اب ان کی اچانک موت سے جیسے میں یہ سمجھ پایا ہوں کہ وہ اپنے کام تیزی کے ساتھ سمیٹ لینا چاہتے تھے اور اس کی خبر انھیں شاید خود بھی نہ تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے مجھے عید کے شاید دوسرے روز فون پر عید کی مبارک باد دی ۔ فون پر ہماری گفتگو اس وقت پانچ منٹ یا اس سے کم رہی اس لیے کہ اس وقت بھی ڈاکٹر صاحب کو جلدی تھی۔ اس کے بعد میں نے عید کے قریباً پانچ دن بعد انھیں فون کیا ۔ فون پر انھوں نے مجھے سے کچھ ادھر ادھر کی باتیں کیں ۔ جب میں بیوی بچوں کی خیریت پوچھی تو انھوں نے جواب دیا کہ اس بارے میںمجھے آپ سے بہت سی باتیں کرنی ہیں ،لیکن اس وقت میرے پاس اتنی فر صت نہیں ہے ۔ اسی طرح ان کی موت جس رات میںواقع ہوئی اسی رات کو میں نے انھیں فون کرنا چاہا لیکن یہ سوچ کر میں نے انھیں فون نہیں کہ کہ ایک تو ان کا فون اکثر بند آتا تھا اوردوسرا کہ کافی دیر ہو چکی تھی۔صبح سویرے میرا فون بجنے لگتا ہے اور میرا قریبی دوست مجھے ڈاکٹر صاحب کی موت کی خبر سناتا ہے ۔ پہلے مجھے یقین ہی نہیں آیا میں نے فوراً ان کے گاؤں میں رہ رہے اپنے دوسرے دوست ڈاکٹر مشتاق عالمؔ کو فون کیا ۔ انھیں بھی مرحوم کی موت کے بارے میںکچھ علم نہ تھا ۔ جب ڈاکٹر مشتاق عالمؔ نے اس کی تصدیق کی تو مجھ پر کیا کچھ گزری اس کا بیان میرے بس سے باہر ہے ۔ یہ میرا پہلا قریبی دوست تھا، جس کی موت نے میرے وجود کو ہلا کے رکھ دیا ۔ جب میں اپنے مرحوم دوست کے گاؤں پہنچ گیا تو اس وقت ان کے جنازے کی نماز ادا ہو رہی تھی ۔جوں ہی میں تیز قدمی کے ساتھ جنازے میں شامل ہونے لگا تو نمازِ جنازہ کی سلام پھیر لی گئی اور اس طرح میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کرنے سے محروم رہا ۔ میں نے دل ہی دل میں مروحوم سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب جاتے جاتے بھی اتنی جلدی کیوں کی ، اتنی جلدی کہ نہ دیدار دیااور نہ ہی نمازِ جنازہ میں شامل ہونے دیا ۔
ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میں نے جتنا بھی وقت گزارا اس میں مجھے ان کی جو باتیں یاد آئیں وہ آپ تک پہنچائی ہیں اور جو حافظے سے نکل گئیں ہیں اب وہ جوں ہی یاد آئیں گی تو دل خون کے آنسو روئے گا ۔ اللہ آپ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔
یہی اک ہے دعا تیرے لیے اب
ہو نازل رحمتیں تیری لحد پر
رابطہ : آزاد کالونی وشہ بگ پلوامہ،9858667464