سرینگر// سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کی اہلیہ مبینہ منی لانڈرنگ معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے دفتر میں تقریباً 3 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کیلئے موجودرہیں۔محبوبہ مفتی نے والدہ سے پوچھ تاچھ پرسخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایاکہ سیاسی انتقام گیری کیلئے تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال ہورہا ہے۔ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی والدہ گلشن نذیر بدھ کی صبح تقریباًساڑھے 11بجے ،انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے راج باغ دفتر پر مبینہ منی لانڈرنگ معاملے میں حاضر ہوئیں۔ ان کے ہمراہ ان کی دختر محبوبہ مفتی اورکچھ دوسرے لوگ بھی تھے۔ ای ڈی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ ایکٹ2020 کے تحت گلشن نذیر کو طلب کیا جارہا ہے۔مرحوم مفتی محمدسعیدکی اہلیہ گلشن نذیر سے ای ڈی دفترمیں تقریباًتین گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی گئی ۔اس سے قبل اپریل اور جولائی میں ای ڈی نے محبوبہ مفتی کی والدہ کو طلب کیا تھا لیکن وہ پوچھ گچھ کے لیے ای ڈی کے دفتر میں حاضر نہیں ہوئی تھیں۔اپریل میں گلشن نذیر نے ای ڈی کو کورونا وائرس کا حوالہ دیا تھا جب کہ جولائی میں پی ڈی پی نے ای ڈی کو گلشن نذیر کو طلب کرنے کی وجوہات یا الزامات واضح کرنے کو کہا تھا۔اس حوالے سے محبوبہ مفتی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ ہند سیاسی مخالفین کو ڈرانے کیلئے ایجنسیوں کا غلط استعمال کررہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ’’ یہ واقعات کی تاریخ اور ترتیب ہے کہ جب میں نے حد بندی کمیشن میں شرکت کرنے میں ہچکچاہٹ اور5اگست کیخلاف احتجاج کیا، تو دوسرے دن سمن جاری کی گئی‘‘۔ انہوںنے کہاکہ جو بھی بھاجپا کی تقسیمی پالیسی کیخلاف بات کرتا ہے، جو بھی جموں وکشمیر کو لے کر ، جو انہوںنے ایک ایک جھوٹا بیانیہ بنایا ہے، کیخلاف بات کرتا ہے، تواس کو یہ سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ جب ذرائع ابلاغ کے افراد منگلوار کو اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، کس طرح سے آپ کی پٹائی گئی، اسی طرح جو نیا کشمیر بنایا گیا ہے، جو بھی صحیح بات کرتا ہے، سچی بات کرتا ہے، اس کو سزا دی جاتی ہے۔