ماضی کو فراموش کر کے قوم کی تقدیر سازی نہیں ہوسکتی

سرینگر//’تحریک کشمیر‘ میں جدوجہد کرنے والے اشخاص کی گراں قدر خدمات پر مبنی کتاب’’گمشدہ ستارے‘‘ کو سرینگر میں ایک تقریب کے دوران منظر عام پر لایا گیا،جس کے دوران مقررین نے واضح کیا کہ ماضی کو فراموش کر کے کسی بھی قوم کی تقدیر سازی نہیں ہوتی۔پیر کو معروف صحافی ظہیر الدین کی اس کتاب کی رسم رونمائی کی گئی،جبکہ تقریب میں مزاحمتی اور بشری حقوق کارکنوں کے علاوہ صحافیوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔’’گمشدہ ستارے‘‘ نامی یہ تصنیف کشمیرکی’’تحریک‘‘ میں جدوجہد کرنے والے ان افراد پر مبنی ہے،جن کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے۔اس موقعہ پر مقرین نے کتاب کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں جہاں مسلم مزاحمتی کارکنوں کا ذکر کیا گیا ہے وہیں پنڈتوں کو بھی فراموش نہیں کیا گیا جنہوں نے ’کشمیر کی تحریک‘‘ میں گراں قدر خدمات انجام دئیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کتاب میں شعیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور خواتین مزاحمتی کارکنوں کو بھی جگہ دی گئی ہے۔اس موقعہ پر مقررین نے ماضی کے درخشندہ ستاروں کو یاد رکھنے  پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا طرز عمل  اپنے اسلاف کو فراموش کرنے کا رہا ہے۔انہوں نے کہا’’ماضی کے یہ نشان راہ،ہمارے مستقبل کے راستوں کا تعین کرتے ہیںاور اگر انہیں فراموش کیا جائے تو یہ آئندہ نسل کے ساتھ بڑی نا انصافی ہوتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جو قوم اپنے محسنوں کو فراموش کرتی ہے،ناکامی اس قوم کی مقدر بن جاتی ہے۔ مقررین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اکثر لوگ منفی کرداروں کو یاد رکھتے ہیں اور مثبت کرداروں کو فراموش کیا جاتا ہے۔کتاب کے مصنف اور معروف صحافی ظہیر الدین نے کہا کہ کوئی بھی قوم اپنے ماضی کو فراموش کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا’’ ہماری قوم کس طرح 1931کے شہداء، موئے مقدس کی پراسرار گمشدگی،کن پوشہ پورہ کی سیاح و دہشت ناک رات،گائو کدل،سوپور،کپوارہ،ہندوارہ،بجبہاڑہ،زکورہ،خانیار اور حول سانحات کو فراموش کرسکتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یاد دہانی کسی بھی’’تحریک کا وجود‘‘ ہوتی ہے،اور اس سے مستقبل کی حکمت عملی کا تعین بھی کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری قوم کا ضمیر نہ ہی مردہ ہے اور نہ  ہی کشمیری لوگ بزدل ہیں،بلکہ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری قوم  گزشتہ400برسوں سے یہ قوم اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے لڑ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا’’ جب جنوبی ایشائی خطے میں مغلوں کی طوطی بھول رہی تھی،کشمیریوں نے نہ صرف ان سے مزاحمت کی،بلکہ انہیں تسلیم بھی نہیں کیا،جس کے بعد افغانوں،سکھوں،ڈوگروں سے نبرد آزما ہوئے اور اب بھارت کے قبضے کے خلاف حقوق کی بازیابی کیلئے برسر پیکار ہیں۔‘‘تقریب میں کولیشن آف سیول سوسائٹی کے چیئرمین ایڈوکیٹ پرویز امروز، ڈی پی ایم کے سربراہ فردوس احمد شاہ،بشری حقوق کارکن روف خان،خرم پرویز،صحافی پرویز بخاری اور راشد مقبول بھی موجود تھے۔