ماحولیات کو زہر آلودہ بنانے کا ذمہ دار کون؟

سرینگر //ریاستی سرکار نے پالی تھین لفافوںپر  بہت پہلے پابندی لگائی تھی اور عدالت عالیہ کے احکامات پر کافی حد تک پالی ٹھین کے لفافے بازاروں سے غائب بھی ہوئے تھے لیکن اس کے بعد نہ قانون پر اور نہ ہی عدالت عالیہ کے احکامات پرعمل درآمد کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔وادی میں ہر روز سینکڑوں ٹن پالی تھین لفافے کیسے پہنچ رہے ہیں، اسکا جواب نہ ٹریفک پولیس کے پاس ہے، جو جموں سے آرہی گاڑیوں کی چیکنگ کرنے پر مامور ہیں اور نہ ریاستی حکومت کے ان اداروں کے پاس، جو ریاست کے ماحولیات کو بچانے کیلئے قائم کئے گئے ہیں۔محکمہ پولیشن کنٹرول بورڈ نے یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کئے ہیں کہ اوپن مارکیٹ میں استعمال ہو رہے پیکٹ بند اشیاء پر پابندی عائد نہیں ہو سکتی، کیونکہ ملک بھر میں اسکا کوئی بھی متبادل موجود نہیں ہے۔بازاروں  میں موجودپالی تھین لفافوں کو ضبط کرنے کیلئے محکمہ کی روزانہ کی کارروائیاں نہیں ہو رہی ہیں کیونکہ سرینگر شہر میں محکمہ کے صرف 2ہی ملازم ہیں جو کلرک بھی ہیں اور مارکیٹ چیکنگ کا کام انجام بھی دیتے ہیں۔سرینگر میونسپل کارپوریشن اور محکمہ امور صارفین و تقسیم کاری بھی ہاتھ پی ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پالی تھین کے لفافوں پر پابندی عائد کرنے سے ماحولیات کو نہیں بچایا جا سکتا بلکہ وادی کو پیکٹ بند اشیاء کیلئے استعمال ہونے والے لفافوں پر بھی پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیات کو مکمل طور پر بچایا جا سکے ۔محکمہ پولیشن کنٹرول بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ اس وقت صرف پالی تھین لفافوں کو ہی ضبط کرنے تک ہی محدود ہے اور اوپن مارکیٹ میں آنے والے بے تحاشہ پالیتھین پیکنگ پر کنٹرول کرنے میں محکمہ مکمل طور پر ناکام ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں ایسی اشیاء کی پیکنگ کو روکنا تب تک ناممکن ہے جب تک نہ اشیاء کی پیکنگ کیلئے کوئی متبادل نہیں ہو گا۔محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ نے سال2018 میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 2ہزار کلوپالی تھین ضبط کیا اور پچھلے برسوں کے دوران کل 55ٹن پالی تھین لفافے ابھی تک محکمہ نے ضبط کئے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں اشیاء کیلئے استعمال ہورہے پالی تھین کو لوگ گھروں میں استعمال کر کے نہ صرف ندی نالوں میں پھینک دیتے ہیں بلکہ گلی کوچوں میں بھی ڈال دیتے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر گھر میں اوسطاٗٗ تقریباً 5پالی تھین کی تھیلیاں آ ہی جاتی ہیں۔کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ شکیل رامشو نے وادی میں پالی تھین کی وبا ہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ پالیتھن کا استعمال وادی میں ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ اس وقت پالی تھین کے تھیلوں پر پابندی ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو وادی میں سب سے زیادہ اس کا استعمال سرعام ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر تھیلوں پر مکمل پابندی نہیں تو پیکٹ بند اشیاء پر استعمال ہونے والے پالی تھین پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سبزی والے سے لیکر کپڑے والے کے پاس بھی اگر جائیں تو پالی تھین عام ہے اور اس کے مضر اثرات ہمارے ماحول کو دھیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ پالی تھین سے ہمارے آبی ذخائر آلودہ ہو رہے ہیں، جہلم میں اس قدر پالی تھین ڈالا جاتا ہے کہ اس کا اثر پانی پر اور مچھلیوں پر پڑ رہا ہے۔ رامشو نے کہا کہ اس پر پابندی کیلئے ہم جتنے بھی قانون بنائے، تب تک اُس کا خاتمہ نہیں ہو سکتا جب تک اس پر سختی سے عمل نہیں کیا جائے ۔